ENGLISH | اردو | Roman | Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
وَاِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰٓى اَعْيُنَهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ‌ۚ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ‏(83)
(83) اور جب اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر نازل ہوا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسو جاری ہوجاتے ہیں کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا ہے اور کہتے ہیں کہ پروردگار ہم ایمان لے آئے ہیں لہذا ہمارا نام بھی تصدیق کرنے والوں میں درج کرلے
وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَمَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّۙ وَنَطْمَعُ اَنْ يُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِيْنَ‏(84)
(84) بھلا ہم اللہ اور اپنے پاس آنے والے حق پر کس طرح ایمان نہ لائیں گے جب کہ ہماری خواہش ہے کہ پروردگار ہمیں نیک کردار بندوں میں شامل کرلے
فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا‌ ؕ وَذٰ لِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِيْنَ‏(85)
(85) تو اس قول کی بنا پر پروردگار نے انہیں وہ باغات دے دئیے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور وہ انہی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں کہ یہی نیک کردار لوگوں کی جزاء ہے
وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ‏(86)
(86) اور جن لوگوں نے کفر اختیار کرلیا اور ہماری آیات کو جھٹلا دیا تو وہ لوگ جہنّمی ہیں
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ‏(87)
(87) ایمان والو جن چیزوں کو خدا نے تمہارے لئے حلال کیا ہے انہیں حرام نہ بناؤ اور حد سے تجاوز نہ کرو کہ خدا تجاوز کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے
وَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا‌ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ‏(88)
(88) اور جو اس نے رزق حلال و پاکیزہ دیا ہے اس کو کھاؤ اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس پر ایمان رکھنے والے ہو
لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِىْۤ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ‌ ۚ فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِيْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ‌ ؕ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ‌ ؕ ذٰ لِكَ كَفَّارَةُ اَيْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ‌ ؕ وَاحْفَظُوْۤا اَيْمَانَكُمْ‌ ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ‏(89)
(89) خدا تم سے بے مقصد قسمیں کھانے پر مواخذہ نہیں کرتا ہے لیکن جن قسموں کی گرہ دل نے باندھ لی ہے ان کی مخالفت کا کفارہ دس مسکینوں کے لئے اوسط درجہ کا کھانا ہے جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کا کپڑا یا ایک غلام کی آزادی ہے .... پھر اگر یہ سب ناممکن ہو تو تین روزے رکھو ...._ کہ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب بھی تم قسم کھا کر اس کی مخالفت کرو اپنی قسموں کا تحفظ کرو کہ خدا اس طرح اپنی آیات کو واضح کرکے بیان کرتا ہے کہ شاید تم اس کے شکر گزار بندے بن جاؤ
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ‏(90)
(90) ایمان والو! شرابً جوا ,بت ,پانسہ یہ سب گندے شیطانی اعمال ہیں لہذا ان سے پرہیز کرو تاکہ کامیابی حاصل کرسکو
اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَآءَ فِى الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ‌ ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ‏(91)
(91) شیطان تو بس یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کے بارے میں تمہارے درمیان بغض اور عداوت پیدا کردے اور تمہیں یاد خدا اور نماز سے روک دے تو کیا تم واقعا رک جاؤ گے
وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا‌ ۚ فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ‏(92)
(92) اور دیکھو اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور نافرمانی سے بچتے رہو ورنہ اگر تم نے روگردانی کی توجان لو کہ رسول کی ذمہ داری صرف واضح پیغام کا پہنچادینا ہے
لَيْسَ عَلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوا وَّاَحْسَنُوْا‌ ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ‏(93)
(93) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لئے اس میں کوئی حرج نہیں ہے جو کچھ کھا پی چکے ہیں جب کہ وہ متقی بن گئے اور ایمان لے آئے اور نیک اعمال کئے اور پرہیز کیااور ایمان لے آئے اور پھر پرہیز کیا اور نیک عمل کیا اور نیک اعمال کرنے والوں ہی کو دوست رکھتا ہے
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَىْءٍ مِّنَ الصَّيْدِ تَنَالُهٗۤ اَيْدِيْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ يَّخَافُهٗ بِالْغَيْبِ‌ ۚ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰ لِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَ لِيْمٌ‏(94)
(94) ایمان والو !اللہ ان شکاروں کے ذریعہ تمہارا امتحان ضرور لے گا جن تک تمہارے ہاتھ اور نیزے پہنچ جاتے ہیں تاکہ وہ یہ دیکھے کہ اس سے لوگوں کے غائبانہ میں بھی کون کون ڈرتا ہے پھر جو اس کے بعد بھی زیادتی کرے گا اس کے لئے دردناک عذاب ہے
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ‌ ؕ وَمَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْيًاۢ بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِيْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰ لِكَ صِيَامًا لِّيَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِهٖ‌ ؕ عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ‌ ؕ وَمَنْ عَادَ فَيَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ ذُو انْتِقَامٍ‏(95)
(95) ایمان والو حالت احرام میں شکار کو نہ مارو اور جو تم میں قصدآ ایسا کرے گا اس کی سزا انہی جانوروں کے برابر ہے جنہیں قتل کیا ہے جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل افراد کریں اور اس قربانی کو کعبہ تک جانا چاہئے یا مساکین کے کھانے کی شکل میں کفارہ دیا جائے یا اس کے برابر روزے رکھے جائیں تاکہ اپنے کام کے انجام کا مزہ چکھیں -اللہ نے گزشتہ معاملات کو معاف کردیا ہے لیکن اب جو دوبارہ شکار کرے گا تو اس سے انتقام لے گا اور وہ سب پر غالب آنے والا اور بدلہ لینے والا ہے
اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ‌ ۚ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا‌ ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىْۤ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ‏(96)
(96) تمہارے لئے دریائی جانور کا شکار کرنا اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا ہے کہ تمہارے لئے اور قافلوں کے لئے فائدہ کا ذریعہ ہے اور تمہارے لئے خشکی کا شکار حرام کردیا گیا ہے جب تک حالت احرام میں رہو اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے
جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيٰمًا لِّلنَّاسِ وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ وَالْهَدْىَ وَالْقَلَاۤئِدَ‌ ؕ ذٰ لِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ وَاَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمٌ‏(97)
(97) اللہ نے کعبہ کو جو بیت الحرام ہے اور محترم مہینے کو اور قربانی کے عام جانوروں کو اور جن جانوروں کے گلے میں پٹہ ڈال دیا گیا ہے سب کو لوگوں کے قیام و صلاح کا ذریعہ قرار دیا ہے تاکہ تمہیں یہ معلوم رہے کہ اللہ زمین و آسمان کی ہر شے سے باخبر ہے اور وہ کائنات کی ہر شے کا جاننے والا ہے
اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ وَاَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ؕ‏(98)
(98) یاد رکھو خدا سخت عذاب کرنے والا بھی ہے اور غفور و رحیم بھی ہے
مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ‌ ؕ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَكْتُمُوْنَ‏(99)
(99) اور رسول پر تبلیغ کے علاوہ کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور اللہ سے جن باتوں کا تم اظہار کرتے ہو یا چھپاتے ہو سب سے باخبر ہے
قُلْ لَّا يَسْتَوِى الْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيْثِ‌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰۤاُولِى الْاَ لْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ‏(100)
(100) پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ خبیث اور پاکیزہ برابر نہیں ہوسکتے ,چاہے خبیث کی کثرت اچھی ہی کیوں نہ لگے صاحبان عقل اللہ سے ڈرتے رہو شاید کہ تم اس طرح کامیاب ہوجاؤ
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْيَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ‌ۚ وَاِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِيْنَ يُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا‌ ؕ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ‏(101)
(101) ایمان والو ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جو تم پر ظاہر ہوجائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر نزول قرآن کے وقت دریافت کرلو گے تو ظاہر بھی کردی جائیں گی اور اب تک کی باتوں کواللہ نے معاف کردیا ہے کہ وہ بڑا بخشنے والا اور برداشت کرنے والا ہے
قَدْ سَاَ لَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِيْنَ‏(102)
(102) تم سے سے پہلے والی قوموں نے بھی ایسے ہی سوالات کئے اور اس کے بعد پھر کافر ہوگئے
مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِيْرَةٍ وَّلَا سَآئِبَةٍ وَّلَا وَصِيْلَةٍ وَّلَا حَامٍ‌ ۙ وَّلٰكِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ‌ ؕ وَاَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ‏(103)
(103) اللہ نے بحیرہ ,سائبہ ,وصیلہ اور ہام کا کوئی قانون نہیں بنایا یہ جو لوگ کافر ہوگئے ہیں وہ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں اور ان میں کے اکثر بے عقل ہیں
وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَاِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا‌ ؕ اَوَلَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ شَيْئًا وَّلَا يَهْتَدُوْنَ‏(104)
(104) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خد اکے نازل کئے ہوئے احکام اور اس کے رسول کی طرف آؤ تو کہتے ہیں کہ ہمارے لئے وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے آباؤ و اجداد کو پایا ہے چاہے ان کے آباؤ و اجداد نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ کسی طرح کی ہدایت کرتے ہوں
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ‌ۚ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ‌ ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ‏(105)
(105) ایمان والو اپنے نفس کی فکر کرو -اگر تم ہدایت یافتہ رہے تو گمراہوں کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتی -تم سب کی بازگشت خدا کی طرف ہے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے باخبر کرے گا
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِيْنَ الْوَصِيَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِى الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَةُ الْمَوْتِ‌ ؕ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَيُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِىْ بِهٖ ثَمَنًا وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى‌ ۙ وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِيْنَ‏(106)
(106) ایمان والو جب تم میں سے کسی کی موت سامنے آجائے تو گواہی کا خیال رکھنا کہ وصیت کے وقت دو عادل گواہ تم میں سے ہوں یا پھر تمہارے غیر میں سے ہوں اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور وہیں موت کی مصیبت نازل ہوجائے ان دونوں کو نماز کے بعد روک کر رکھو پھر اگر تمہیں شک ہو تو یہ خدا کی قسم کھائیں کہ ہم اس گواہی سے کسی طرح کا فائدہ نہیں چاہتے ہیں چاہے قرابتدار ہی کا معاملہ کیوں نہ ہو اور نہ خدائی شہادت کو چھپاتے ہیں کہ اس طرح ہم یقینا گناہگاروں میں شمار ہوجائیں گے
فَاِنْ عُثِرَ عَلٰٓى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ يَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِيْنَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْاَوْلَيٰنِ فَيُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَيْنَاۤ‌ ‌ۖ  اِنَّاۤ‌ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ‏(107)
(107) پھر اگر معلوم ہوجائے کہ وہ دونوں گناہ کے حقدار ہوگئے ہیں تو ان کی جگہ دو دوسرے آدمی کھڑے ہوں گے ان افراد میں سے جو میت سے قریب تر ہیں اور وہ قسم کھائیں گے کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے زیادہ صحیح ہے اور ہم نے کسی طرح کی زیادتی نہیں کی ہے کہ اس طرح ظالمین میں شمار ہوجائیں گے
ذٰ لِكَ اَدْنٰٓى اَنْ يَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ يَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَيْمَانٌۢ بَعْدَ اَيْمَانِهِمْ‌ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاسْمَعُوْا‌ ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ‏(108)
(108) یہ بہترین طریقہ ہے کہ شہادت کو صحیح طریقہ سے پیش کریں یا اس بات سے ڈریں کہ کہیں ہماری گواہی دوسروں کی گواہی کے بعد رد نہ کردی جائے اوراللہ سے ڈرتے رہو اور اس کی سنو کہ وہ فاسق قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے
يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَاۤ اُجِبْتُمْ‌ ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ‏(109)
(109) جس دن خدا تمام مرسلین کو جمع کرکے سوال کرے گا کہ تمہیں قوم کی طرف سے تبلیغ کا کیا جواب ملا تو وہ کہیں گے کہ ہم کیا بتائیں تو خود ہی غیب کا جاننے والا ہے
‌اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِىْ عَلَيْكَ وَعَلٰى وَالِدَتِكَ‌ ۘ اِذْ اَيَّدتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِىْ الْمَهْدِ وَكَهْلًا ‌ ۚوَاِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرٰٮةَ وَالْاِنْجِيْلَ‌ ۚ وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِاِذْنِىْ فَتَنْفُخُ فِيْهَا فَتَكُوْنُ طَيْرًۢا بِاِذْنِىْ‌ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَالْاَبْرَصَ بِاِذْنِىْ‌ ۚ وَاِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِىْ‌ ۚ وَاِذْ كَفَفْتُ بَنِىْۤ اِسْرَآءِيْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ‏(110)
(110) اور جب اللہ نے کہا کہ اے عیسٰی بن مریم کیا تم نے لوگوں سے یہ کہہ دیا ہے کہ اللہ کو چھوڑ کو مجھے اور میری ماں کو خدا مان لو .... تو عیسٰی نے عرض کی کہ تیری ذات بے نیاز ہے میں ایسی بات کیسے کہوں گا جس کا مجھے کوئی حق نہیں ہے اور اگر میں نے کہا تھا تو تجھے تو معلوم ہی ہے کہ تو میرے دل کا حال جانتا ہے اور میں تیرے اسرار نہیں جانتا ہوں -تو ,تو غیب کا جاننے والا بھی ہے
وَ اِذْ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِىْ وَبِرَسُوْلِىْ‌ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَاشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ‏(111)
(111) اور جب ہم نے حواریین کی طرف الہام کیا کہ ہم پر اور ہمارے رسولوں پر ایمان لے آؤ تو انہوں نے کہا کہ ہم ایمان لے آئے اور تو گواہ رہنا کہ ہم مسلمان ہیں
اِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيْعُ رَبُّكَ اَنْ يُّنَزِّلَ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ‌ ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ‏(112)
(112) اور جب حواریین نے کہا کہ اے عیسٰی بن مریم کیا تمہارے رب میں یہ طاقت بھی ہے کہ ہمارے اوپر آسمان سے دسترخوان نازل کردے تو انہوں نے جواب دیا کہ تم اگر مومن ہو تو اللہ سے ڈرو
قَالُوْا نُرِيْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَنَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَكُوْنَ عَلَيْهَا مِنَ الشّٰهِدِيْنَ‏(113)
(113) ان لوگوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم اس میں سے کھائیں اور اطمینان قلب پیدا کریں اور یہ جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے اور ہم خود بھی اس کے گواہوں میں شامل ہوجائیں
قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِيْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّنْكَ‌ۚ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ‏(114)
(114) عیسٰی بن مریم نے کہا خدایا پروردگار !ہمارے اوپر آسمان سے دستر خوان نازل کردے کہ ہمارے اول و آخر کے لئے عید ہوجائے اور تیری قدرت کی نشانی بن جائے اور ہمیں رزق دے کہ تو بہترین رزق دینے والا ہے
قَالَ اللّٰهُ اِنِّىْ مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ‌ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّىْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ‏(115)
(115) پروردگار نے کہا کہ ہم نازل تو کررہے ہیں لیکن اس کے بعد جو تم میں سے انکار کرے گا اس پر ایسا عذاب نازل کریں گے کہ عالمین میں کسی پر نہیں کیا ہے
وَاِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِىْ وَاُمِّىَ اِلٰهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ‌ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا يَكُوْنُ لِىْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَيْسَ لِىْ بِحَقٍّ‌ؕؔ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ‌ؕ تَعْلَمُ مَا فِىْ نَفْسِىْ وَلَاۤ اَعْلَمُ مَا فِىْ نَفْسِكَ‌ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ‏(116)
(116) اور جب اللہ نے کہا کہ اے عیسٰی بن مریم کیا تم نے لوگوں سے یہ کہہ دیا ہے کہ اللہ کو چھوڑ کو مجھے اور میری ماں کو خدا مان لو .... تو عیسٰی نے عرض کی کہ تیری ذات بے نیاز ہے میں ایسی بات کیسے کہوں گا جس کا مجھے کوئی حق نہیں ہے اور اگر میں نے کہا تھا تو تجھے تو معلوم ہی ہے کہ تو میرے دل کا حال جانتا ہے اور میں تیرے اسرار نہیں جانتا ہوں -تو ,تو غیب کا جاننے والا بھی ہے
مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِىْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّىْ وَرَبَّكُمْ‌ۚ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ‌ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِىْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ‌ؕ وَاَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ شَهِيْدٌ‏(117)
(117) میں نے ان سے صرف وہی کہا ہے جس کا تو نے حکم دیا تھا کہ میری اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور میں جب تک ان کے درمیان رہا ان کا گواہ اور نگراں رہا -پھر جب تو نے مجھے اٹھالیا تو تو ان کا نگہبان ہے اور تو ہر شے کا گواہ اور نگراں ہے
اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ‌ۚ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ‏(118)
(118) اگر تو ان پر عذاب کرے گا تو وہ تیرے ہی بندے ہیں اور اگر معاف کردے گا تو صاحب عزت بھی ہے اور صاحب حکمت بھی ہے
قَالَ اللّٰهُ هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ‌ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا‌ ؕ رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ‌ ؕ ذٰ لِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ‏(119)
(119) اللہ نے کہا کہ یہ قیامت کا دن ہے جب صادقین کو ان کا سچ فائدہ پہنچائے گا کہ ان کے لئے باغات ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے -خدا ان سے راضی ہوگا اور وہ خدا سے اور یہی ایک عظیم کامیابی ہے
لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا فِيْهِنَّ‌ ؕ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ‏(120)
(120) اللہ کے لئے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی کل حکومت ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ  ؕ ثُمَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ‏(1)
(1) ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور تاریکیوں اور نور کو مقرر کیا ہے اس کے بعد بھی کفر اختیار کرنے والے دوسروں کو اس کے برابر قرار دیتے ہیں
هُوَ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا  ؕ وَاَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ‌ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ‏(2)
(2) وہ خدا وہ ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے پھر ایک مدت کا فیصلہ کیا ہے اور ایک مقررہ مدت اس کے پاس اور بھی ہے لیکن اس کے بعد بھی تم شک کرتے ہو
وَهُوَ اللّٰهُ فِى السَّمٰوٰتِ وَفِى الْاَرْضِ‌ؕ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ‏(3)
(3) وہ آسمانوں اور زمین ہرجگہ کا خدا ہے وہ تمہارے باطن اور ظاہر اور جو تم کاروبار کرتے ہو سب کو جانتا ہے
وَمَا تَاْتِيْهِمْ مِّنْ اٰيَةٍ مِّنْ اٰيٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِيْنَ‏(4)
(4) ان لوگوں کے پاس ان کے پروردگار کی کوئی نشانی نہیں آتی مگر یہ کہ یہ اس سے کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں
فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ‌ؕ فَسَوْفَ يَاْتِيْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ‏(5)
(5) ان لوگوں نے اس کے پہلے بھی حق کے آنے کے بعد حق کا انکار کیا ہے عنقریب ان کے پاس جن چیزوں کا مذاق اڑاتے تھے ان کی خبریں آنے والی ہیں
اَلَمْ يَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِى الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَاَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَيْهِمْ مِّدْرَارًا وَّجَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَاَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِيْنَ‏(6)
(6) کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی نسلوں کو تباہ کردیا ہے جنہیں تم سے زیادہ زمین میں اقتدار دیا تھا اور ان پر موسلادھار پانی بھی برسایا تھا -ان کے قدموں میں نہریں بھی جاری تھیں پھر ان کے گناہوں کی بنا پر انہیں ہلاک کردیا اور ان کے بعد دوسری نسل جاری کردی
وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا فِىْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَيْدِيْهِمْ لَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ‏(7)
(7) اور اگر ہم آپ پر کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب بھی نازل کردیتے اور یہ اپنے ہاتھ سے چھو بھی لیتے تو بھی ان کے کافر یہی کہتے کہ یہ کھلا ہوا جادو ہے
وَقَالُوْا لَوْلَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ‌ ؕ وَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِىَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا يُنْظَرُوْنَ‏(8)
(8) اور یہ کہتے ہیں کہ ان پر مُلکُ کیوں نہیں نازل ہوتا حالانکہ ہم ملُک نازل کردیتے تو کام کا فیصلہ ہوجاتا اور پھر انہیں کسی طرح کی مہلت نہ دی جاتی
وَلَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّلَلَبَسْنَا عَلَيْهِمْ مَّا يَلْبِسُوْنَ‏(9)
(9) اگر ہم پیغمبر کو فرشتہ بھی بناتے تو بھی مرد ہی بناتے اور وہی لباس پہنچاتے جو مرد پہنا کرتے ہیں
وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ‏(10)
(10) پیغمبر آپ سے پہلے بہت سے رسولوں کا مذاق اُڑایا گیا ہے جس کے نتیجہ میں مذاق اُڑانے والوں کے لئے ان کا مذاق ہی ان کے گلے پڑ گیا اور وہ اس میں گھر گئے
قُلْ سِيْرُوْا فِى الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ‏(11)
(11) آپ ان سے کہہ دیجئے کہ زمین میں سیر کریں پھر اس کے بعد دیکھیں کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے
قُلْ لِّمَنْ مَّا فِى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‌ؕ قُلْ لِّلّٰهِ‌ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ‌ ؕ لَيَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ‌ ؕ اَلَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ‏(12)
(12) ان سے کہئے کہ زمین و آسمان میں جو کچھ بھی ہے وہ سب کس کے لئے ہے؟ پھر بتائیے کہ سب اللہ ہی کے لئے ہے اس نے اپنے اوپر رحمت کو لازم قرار دے لیا ہے وہ تم سب کو قیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے -جن لوگوں نے اپنے نفس کو خسارہ میں ڈال دیا ہے وہ اب ایمان نہ لائیں گے
وَلَهٗ مَا سَكَنَ فِى الَّيْلِ وَالنَّهَارِ‌ؕ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ‏(13)
(13) اور اس خدا کے لئے وہ تمام چیزیں ہیں جو رات اور دن میں ثابت ہیں اور وہ سب کی سننے والا اور سب کا جاننے والا ہے
قُلْ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِيًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ‌ؕ قُلْ اِنِّىْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ‌ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ‏(14)
(14) آپ کہئے کہ کیا میں خدا کے علاوہ کسی اور کو اپنا ولی بنالوں جب کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا وہی ہے اور وہی سب کو کھلاتا ہے اس کو کوئی نہیں کھلاتا ہے. کہئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا اطاعت گزار بنوں اور خبردار تم لوگ مشرک نہ ہوجانا
قُلْ اِنِّىْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّىْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ‏(15)
(15) کہئے کہ میں اپنے خدا کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے سنگین دن کے عذاب کا خطرہ ہے
مَنْ يُّصْرَفْ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ‌ؕ وَ ذٰ لِكَ الْفَوْزُ الْمُبِيْنُ‏(16)
(16) اس دن جس سے عذاب ٹال دیا جائے اس پر خدا نے بڑا رحم کیا اور یہ ایک کھلی ہوئی کامیابی ہے
وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ‌ؕ وَاِنْ يَّمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ‏(17)
(17) اگر خدا کی طرف سے تم کو کوئی نقصان پہنچ جائے تو اس کے علاوہ کوئی ٹالنے والا بھی نہیں ہے اور اگر وہ خیر دے دے تو وہی ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے
وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ‌ ؕ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ‏(18)
(18) اور اپنے تمام بندوں پر غالب اور صاحب حکمت اور باخبر رہنے والا ہے
قُلْ اَىُّ شَىْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً ؕ قُلِ اللّٰهُ ‌ۙ شَهِيْدٌ ۢ بَيْنِىْ وَبَيْنَكُمْ‌ وَاُوْحِىَ اِلَىَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ‌ ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى‌ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ‌ ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّاِنَّنِىْ بَرِىْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ‌ۘ‏(19)
(19) آپ کہہ دیجئے کہ گواہی کے لئے سب سے بڑی چیز کیا ہے اور بتادیجئے کہ خدا ہمارے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور میری طرف اس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ اس کے ذریعہ میں تمہیں اور جہاں تک یہ پیغام پہنچے سب کو ڈراؤں کیا تم لوگ گواہی دیتے ہو کہ خدا کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہے تو آپ کہہ دیجئے کہ میں اس کی گواہی نہیں دے سکتا اور بتادیجئے کہ خدا صرف خدائے واحد ہے اور میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں
اَ لَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمُ‌ۘ اَ لَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ‏(20)
(20) جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ پیغمبر کو اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو پہنچاتے ہیں لیکن جن لوگوں نے اپنے نفس کو خسارہ میں ڈال دیا ہے وہ ایمان نہیں لاسکتے
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖؕ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ‏(21)
(21) اس سے زیادہ ظالم کون ہوسکتا ہے جو خدا پر بہتان باندھے اور اس کی آیات کی تکذیب کرے -یقینا ان ظالمین کے لئے نجات نہیں ہے
وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْۤا اَيْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ‏(22)
(22) قیامت کے دن ہم سب کو ایک ساتھ اُٹھائیں گے پھر مشرکین سے کہیں گے کہ تمہارے وہ شرکاء کہاں ہیں جو تمہارے خیال میں خدا کے شریک تھے
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ‏(23)
(23) اس کے بعد ان کا کوئی فتنہ نہ ہوگا سوائے اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ خدا کی قسم ہم مشرک نہیں تھے
اُنْظُرْ كَيْفَ كَذَبُوْا عَلٰٓى اَنْفُسِهِمْ‌ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ‏(24)
(24) دیکھئے انہوں نے کس طرح اپنے آپ کو جھٹلایا اور کس طرح ان کا افترا حقیقت سے دور نکلا
وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُ اِلَيْكَ‌‌ ۚ وَجَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِىْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا ‌ؕ وَاِنْ يَّرَوْا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوْا بِهَا‌ ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ يُجَادِلُوْنَكَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ‏(25)
(25) اور ان میں سے بعض لوگ کان لگا کر آپ کی بات سنتے ہیں لیکن ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دئیے ہیں ... یہ سمجھ نہیں سکتے ہیں اور ان کے کانوں میں بھی بہراپن ہے -یہ اگر تمام نشانیوں کو دیکھ لیں تو بھی ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ جب آپ کے پاس آئیں گے تو بھی بحث کریں گے اور کفار کہیں گے کہ یہ قرآن تو صرف اگلے لوگوں کی کہانی ہے
وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْئَوْنَ عَنْهُ‌ۚ وَاِنْ يُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ‏(26)
(26) یہ لوگ دوسروں کو قرآن سے روکتے ہیں اور خود بھی دور بھاگتے ہیں حالانکہ یہ اپنے ہی کو ہلاک کررہے ہیں اور انہیں شعور تک نہیں ہے
وَلَوْ تَرٰٓى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ‏(27)
(27) اگر آپ دیکھتے کہ یہ کس طرح جہنّم کے سامنے کھڑے کئے گئے اور کہنے لگے کہ کاش ہم پلٹا دئیے جاتے اور پروردگار کی نشانیوں کی تکذیب نہ کرتے اور مومنین میں شامل ہوجاتے
بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا يُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ‌ؕ وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ‏(28)
(28) بلکہ ان کے لئے وہ سب واضح ہوگیا جسے پہلے سے چھپارہے تھے اور اگر یہ پلٹا بھی دئیے جائیں تو وہی کریں گے جس سے یہ روکے گئے ہیں اور یہ سب جھوٹے ہیں
وَقَالُوْۤا اِنْ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ‏(29)
(29) اور یہ کہتے ہیں کہ یہ صرف زندگانی دنیا ہے اور ہم دوبارہ نہیں اُٹھائے جائیں گے
وَلَوْ تَرٰٓى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ‌ ؕ قَالَ اَلَيْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ‌ ؕ قَالُوْا بَلٰى وَرَبِّنَا‌ ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ‏(30)
(30) اور اگر آپ اس وقت دیکھتے جب انہیں پروردگار کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور ان سے خطاب ہوگا کہ کیا یہ سب حق نہیں ہے تو وہ لوگ کہیں گے کہ بیشک ہمارے پروردگار کی قسم یہ سب حق ہے تو ارشاد ہوگا کہ اب اپنے کفر کے عذاب کا مزہ چکھو
قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ‌ؕ حَتّٰٓى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا يٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِيْهَا ۙ وَهُمْ يَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ‌ؕ اَلَا سَآءَ مَا يَزِرُوْنَ‏(31)
(31) بیشک وہ لوگ خسارہ میں ہیں جنہوں نے اللہ کی ملاقات کا انکار کیا یہاں تک کہ جب اچانک قیامت آگئی تو کہنے لگے کہ ہائے افسوس ہم نے قیامت کے بارے میں بہت کوتاہی کی ہے -اس وقت وہ اپنے گناہوں کا بوجھ اپنی پشت پر لادے ہوں گے اور یہ بدترین بوجھ ہوگا
وَ مَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ‌ ؕ وَلَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ‌ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ‏(32)
(32) اور یہ زندگانی دنیا صرف کھیل تماشہ ہے اور دار آخرت صاحبان تقوٰی کے لئے سب سے بہتر ہے ... کیا تمہاری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے
قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَيَحْزُنُكَ الَّذِىْ يَقُوْلُوْنَ‌ فَاِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ‏(33)
(33) ہمیں معلوم ہے کہ آپ کو ان کے اقوال سے دکھ ہوتا ہے لیکن یہ آپ کی تکذیب نہیں کررہے ہیں بلکہ یہ ظالمین آیات الٰہی کا انکار کررہے ہیں
وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰٓى اَتٰٮهُمْ نَصْرُنَا‌ ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ‌ ۚ وَلَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ‏(34)
(34) اور آپ سے پہلے والے رسولوں کو بھی جھٹلایا گیا ہے تو انہوں نے اس تکذیب اور اذیت پر صبر کیا ہے یہاں تک کہ ہماری مدد آگئی اور اللہ کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں ہے اور آپ کے پاس تو مرسلین کی خبریں آچکی ہیں
وَاِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِىَ نَفَقًا فِى الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِى السَّمَآءِ فَتَاْتِيَهُمْ بِاٰيَةٍ‌ ؕ وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ‏(35)
(35) اور اگر ان کا اعراض و انحراف آپ پر گراں گزرتا ہے تو اگر آپ کے بس میں ہے کہ زمین میں سرنگ بنادیں یا آسمان میں سیڑھی لگا کر کوئی نشانی لے آئیں تو لے آئیں ....بیشک اگر خدا چاہتا تو جبرا سب کو ہدایت پر جمع ہی کردیتا لہذا آپ اپنا شمار ناواقف لوگوں میں نہ ہونے دیں
اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ‌ ؕؔ وَالْمَوْتٰى يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَؔ‏(36)
(36) بس بات کو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں اور مردوں کو تو خدا ہی اُٹھائے گا اور پھر اس کی بارگاہ میں پلٹائے جائیں گے
وَ قَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ‌ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰٓى اَنْ يُّنَزِّلَ اٰيَةً وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ‏(37)
(37) اور یہ کہتے ہیں کہ ان کے اوپر کوئی نشانی کیوں نہیں نازل ہوتی تو کہہ دیجئے کہ خدا تمہاری پسندیدہ نشانی بھی نازل کرسکتا ہے لیکن اکثریت اس بات کو بھی نہیں جانتی ہے
وَمَا مِنْ دَآبَّةٍ فِى الْاَرْضِ وَلَا طٰۤئِرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ‌ؕ مَا فَرَّطْنَا فِى الْكِتٰبِ مِنْ شَىْءٍ‌ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ‏(38)
(38) اور زمین میں کوئی بھی رینگنے والا یا دونوں پروں سے پرواز کرنے والا طائر ایسا نہیں ہے جو اپنی جگہ پر تمہاری طرح کی جماعت نہ رکھتا ہو -ہم نے کتاب میں کسی شے کے بیان میں کوئی کمی نہیں کی ہے اس کے بعد سب اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پیش ہوں گے
وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا صُمٌّ وَّبُكْمٌ فِى الظُّلُمٰتِ‌ؕ مَنْ يَّشَاِ اللّٰهُ يُضْلِلْهُ ؕ وَمَنْ يَّشَاْ يَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ‏(39)
(39) اور جن لوگوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی وہ بہرے گونگے تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں اور خدا جسے چاہتا ہے یوں ہی گمراہی میں رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے صراط مستقیم پر لگا دیتا ہے
قُلْ اَرَءَيْتَكُمْ اِنْ اَتٰٮكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَ تَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَيْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ‌ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ‏(40)
(40) آپ ان سے کہئے کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تمہارے پاس عذاب یا قیامت آجائے تو کیا تم اپنے دعوے کی صداقت میں غیر خدا کو بلاؤ گے
بَلْ اِيَّاهُ تَدْعُوْنَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَيْهِ اِنْ شَآءَ وَتَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ‏(41)
(41) نہیں تم خدا ہی کو پکارو گے اور وہی اگر چاہے گا تو اس مصیبت کو رفع کرسکتا ہے ....اور تم اپنے مشرکانہ خداؤں کو بھول جاؤ گے
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُوْنَ‏(42)
(42) ہم نے تم سے پہلے والی اُمتوں کی طرف بھی رسول بھیجے ہیں اس کے بعد انہیں سختی اور تکلیف میں مبتلا کیا کہ شاید ہم سے گڑ گڑائیں
فَلَوْلَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ‏(43)
(43) پھر ان سختیوں کے بعد انہوں نے کیوں فریاد نہیں کی بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہوگئے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لئے آراستہ کردیا ہے
فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ ؕ حَتّٰٓى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ‏(44)
(44) پھر جب ان نصیحتوں کو بھول گئے جو انہیں یاد دلائی گئی تھیں تو ہم نے امتحان کے طور پر ان کے لئے ہر چیز کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب وہ ان نعمتوں سے خوشحال ہوگئے تو ہم نے اچانک انہیں اپنی گرفت میں لے لیا اور وہ مایوس ہوکر رہ گئے
فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا‌ ؕ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ‏(45)
(45) پھر ظالمین کا سلسلہ منقطع کردیا گیا اور ساری تعریف اس خد اکے لئے ہے جو رب العالمین ہے
قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَيْرُ اللّٰهِ يَاْتِيْكُمْ بِهؕ اُنْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُوْنَ‏(46)
(46) آپ ان سے پوچھئے کہ اگر خد انے ان کی سماعت و بصارت کو لے لیا اور ان کے دل پر مہر لگادی تو خدا کے علاوہ دوسرا کون ہے جو دوبارہ انہیں یہ نعمتیں دے سکے گا دیکھو ہم اپنی نشانیوں کو کس طرح الٹ پلٹ کر دکھلاتے ہیں اور پھر بھی یہ منہ موڑ لیتے ہیں
قُلْ اَرَءَيْتَكُمْ اِنْ اَتٰٮكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ يُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ‏(47)
(47) آپ ان سے کہئے کہ کیا تمہارا خیال ہے کہ اگر اچانک یا علی الاعلان عذاب آجائے تو کیا ظالمین کے علاوہ کوئی اور ہلاک کیا جائے گا
وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّا مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ‌ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ‏(48)
(48) اور ہم تو مرسلین کو صرف بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجتے ہیں اس کے بعد جو ایمان لے آئے اور اپنی اصلاح کرلے اس کے لئے نہ خوف ہے اور نہ حزن
وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ‏(49)
(49) اور جن لوگوں نے تکذیب کی انہیں ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا
قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِىْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَلَاۤ اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّىْ مَلَكٌ‌ ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَىَّ‌ ؕ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ‌ ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ‏(50)
(50) آپ کہئے کہ ہمارا دعو ٰی یہ نہیں ہے کہ ہمارے پاس خدائی خزانے ہیں یا ہم عالم الغیب ہیں اور نہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم مُلک ہیں. ہم تو صرف وحی پروردگار کا اتباع کرتے ہیں اور پوچھئے کہ کیا اندھے اور بینا برابر ہوسکتے ہیں آخر تم کیوں نہیں سوچتے ہو
وَاَنْذِرْ بِهِ الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ اَنْ يُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ‌ لَيْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِىٌّ وَّلَا شَفِيْعٌ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ‏(51)
(51) اور آپ اس کتاب کے ذریعہ انہیں ڈرائیں جنہیں یہ خوف ہے کہ خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے اور اس کے علاوہ کوئی سفارش کرنے والا یا مددگار نہ ہوگا شاید ان میں خوف خدا پیدا ہوجائے
وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَالْعَشِىِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ‌ ؕ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَىْءٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِّنْ شَىْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ‏(52)
(52) اور خبردار جو لوگ صبح و شام اپنے خدا کو پکارتے ہیں اور خدا ہی کو مقصود بنائے ہوئے ہیں انہیں اپنی بزم سے الگ نہ کیجئے گا. نہ آپ کے ذمہ ان کا حساب ہے اور نہ ان کے ذمہ آپ کا حساب ہے کہ آپ انہیں دھتکار دیں اور اس طرح ظالموں میں شمارہوجائیں
وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْۤا اَهٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْۢ بَيْنِنَا ؕ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِيْنَ‏(53)
(53) اور اسی طرح ہم نے بعض کو بعض کے ذریعہ آزمایا ہے تاکہ وہ یہ کہیں کہ یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے ہمارے درمیان فضل و کرم کیا ہے اور کیا وہ اپنے شکر گزار بندوں کو بھی نہیں جانتا
وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ‌ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ‌ ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَاَصْلَحَۙ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ‏(54)
(54) اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں تو ان سے کہئے السلام علیکم ...._ تمہارے پروردگار نے اپنے اوپر رحمت لازم قرر دے لی ہے کہ تم میں جو بھی ازروئے جہالت برائی کرے گا اور اس کے بعد توبہ کرکے اپنی اصلاح کرلے گا تو خدا بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربان ہے
وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِيْنَ‏(55)
(55) اور ہم اسی طرح اپنی نشانیوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں تاکہ مجرمین کا راستہ ان پر واضح ہوجائے
قُلْ اِنِّىْ نُهِيْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ‌ؕ قُلْ لَّاۤ اَ تَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ‌ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ‏(56)
(56) آپ کہہ دیجئے کہ مجھے اس بات سے روکا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو کہہ دیجئے کہ میں تمہاری خواہشات کا اتباع نہیں کرسکتا کہ اس طرح گمراہ ہوجاؤں گا اور ہدایت یافتہ نہ رہ سکوں گا
قُلْ اِنِّىْ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّىْ وَكَذَّبْتُمْ بِهٖ‌ؕ مَا عِنْدِىْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ‌ؕ يَقُصُّ الْحَقَّ‌ وَهُوَ خَيْرُ الْفٰصِلِيْنَ‏(57)
(57) کہہ دیجئے کہ میں پروردگار کی طرف سے کھلی ہوئی دلیل رکھتا ہوں اور تم نے اسے جھٹلایا ہے تو میرے پاس وہ عذاب نہیں ہے جس کی تمہیں جلدی ہے حکم صرف اللہ کے اختیار میں ہے وہی حق کو بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے
قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِىْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِىَ الْاَمْرُ بَيْنِىْ وَبَيْنَكُمْ‌ؕ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِيْنَ‏(58)
(58) کہہ دیجئے کہ اگر میرے اختیار میں وہ عذاب ہوتا جس کی تمہیں جلدی ہے تو اب تک ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا اور خدا ظالمین کو خوب جانتا ہے
وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ‌ؕ وَيَعْلَمُ مَا فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ‌ؕ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِىْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِىْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ‏(59)
(59) اور اس کے پاس غیب کے خزانے ہیں جنہیں اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے اور وہ خشک و تر سب کا جاننے والا ہے -کوئی پتہ بھی گرتا ہے تو اسے اس کا علم ہے زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ یا کوئی خشک و تر ایسا نہیں ہے جو کتاب مبین کے اندر محفوظ نہ ہو
وَهُوَ الَّذِىْ يَتَوَفّٰٮكُمْ بِالَّيْلِ وَ يَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى‌ۚ ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ‏(60)
(60) اور وہی خدا ہے جو تمہیں رات میں گویا کہ ایک طرح کی موت دے دیتا ہے اور دن میں تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے اور پھر دن میں تمہیں اُٹھادیتا ہے تاکہ مقررہ مدت حیات پوری کی جاسکے -اس کے بعد تم سب کی باز گشت اسی کی بارگاہ میں ہے اور پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال کے بارے میں باخبر کرے گا
وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ‌ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً ؕ حَتّٰٓى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَ‏(61)
(61) اور وہی خدا ہے جو اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم سب پر محافظ فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے نمائندے اسے اُٹھالیتے ہیں اور کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے
ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰٮهُمُ الْحَقِّ‌ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ اَسْرَعُ الْحَاسِبِيْنَ‏(62)
(62) پھر سب اپنے مولائے برحق پروردگار کی طرف پلٹا دئیے جاتے ہیں .... آگاہ ہوجاؤ کہ فیصلہ کا حق صرف اسی کو ہے اور وہ بہت جلدی حساب کرنے والا ہے
قُلْ مَنْ يُّنَجِّيْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةًۚ لَئِنْ اَنْجٰٮنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ‏(63)
(63) ان سے کہئے کہ خشکی اور تری کی تاریکیوں سے کون نجات دیتا ہے جسے تم گڑگڑا کر اور خفیہ طریقہ سے آواز دیتے ہو کہ اگر اس مصیبت سے نجات دے دے گا تو ہم شکر گزار بن جائیں گے
قُلِ اللّٰهُ يُنَجِّيْكُمْ مِّنْهَا وَمِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ‏(64)
(64) کہہ دیجئے کہ خد اہی تمہیں ان تمام ظلمات سے اور ہر کرب و بے چینی سے نجات دینے والا ہے اس کے بعد تم لوگ شرک اختیار کرلیتے ہو
قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓى اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ‌ؕ اُنْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُوْنَ‏(65)
(65) کہہ دیجئے کہ وہی اس بات پر بھی قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے یا پیروں کے نیچے سے عذاب بھیج دے یا ایک گروہ کو دوسرے سے ٹکرادے اور ایک کے ذریعہ دوسرے کو عذاب کا مزہ چکھادے -دیکھو ہم کس طرح آیات کو پلٹ پلٹ کر بیان کرتے ہیں کہ شاید ان کی سمجھ میں آجائے
وَكَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ‌ ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍؕ‏(66)
(66) اور آپ کی قوم نے اس قرآن کی تکذیب کی حالانکہ وہ بالکل حق ہے تو آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں
لِّكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ‌ وَّسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ‏(67)
(67) ہر خبر کے لئے ایک وقت مقررہے اور عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا
وَاِذَا رَاَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوْضُوْنَ فِىْۤ اٰيٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى يَخُوْضُوْا فِىْ حَدِيْثٍ غَيْرِهٖ‌ ؕ وَاِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ‏(68)
(68) اور جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری نشانیوں کے بارے میں بے ربط بحث کررہے ہیں تو ان سے کنارہ کش ہوجاؤ یہاں تک کہ وہ دوسری بات میں مصروف ہوجائیں اور اگر شیطان غافل کردے تو یاد آنے کے بعد پھر ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھنا
وَمَا عَلَى الَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَىْءٍ وَّلٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ‏(69)
(69) اور صاحبان تقویٰ پر ان کے حساب کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے لیکن یہ ایک یاددہانی ہے کہ شاید یہ لوگ بھی تقوٰی اختیار کرلیں
وَذَرِ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ لَعِبًا وَّلَهْوًا وَّغَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا‌ وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ ۢ بِمَا كَسَبَتْ‌ۖ لَيْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِىٌّ وَّلَا شَفِيْعٌ‌ ۚ وَاِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا يُؤْخَذْ مِنْهَا‌ ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا‌ ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيْمٍ وَّعَذَابٌ اَ لِيْمٌۢ بِمَا كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ‏(70)
(70) اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ بنا رکھا ہے اور انہیں زندگانی دنیا نے دھوکہ میں مبتلا کردیا ہے اور ان کو یاد دہانی کراتے رہو کہ مبادا کوئی شخص اپنے کئے کی بنا پر ایسے عذاب میں مبتلا ہوجائے کہ اللہ کے علاوہ کوئی سفارش کرنے والا اور مدد کرنے والا نہ ہو اور سارے معاوضے اکٹھا بھی کردے تو اسے قبول نہ کیا جائے یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے کرتوت کی بنا پر بلاؤں میں مبتلا کیا گیا ہے کہ اب ان کے لئے گرم پانی کا مشروب ہے اور ان کے کفر کی بنا پر دردناک عذاب ہے
قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنْفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلٰٓى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰٮنَا اللّٰهُ كَالَّذِى اسْتَهْوَتْهُ الشَّيٰطِيْنُ فِى الْاَرْضِ حَيْرَانَ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ يَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا ‌ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى‌ؕ وَاُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَۙ‏(71)
(71) پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ ہم خدا کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو نہ فائدہ پہنچاسکتے ہیں اور نہ نقصان اور اس طرح اللہ کے ہدایت دینے کے بعد اُلٹے پاؤں پلٹ جائیں جس طرح کہ کسی شخص کو شیطان نے روئے زمین پر بہکا دیا ہو اور وہ حیران و سرگرداں مارا مارا پھر رہا ہو اور اس کے کچھ اصحاب اسے ہدایت کی طرف پکار رہے ہوں کہ ادھر آجاؤ .... آپ کہہ دیجئے کہ ہدایت صرف اللہ کی ہدایت ہے اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم رب العالمین کی بارگاہ میں سراپا تسلیم رہیں
وَاَنْ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ‌ ؕ وَهُوَ الَّذِىْۤ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ‏(72)
(72) اور دیکھو نماز قائم کرواور اللہ سے ڈرو کہ وہی وہ ہے جس کی بارگاہ میں حاضر کئے جاؤ گے
وَهُوَ الَّذِىْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ‌ؕ وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُؕ قَوْلُهُ الْحَقُّ‌ ؕ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِى الصُّوْرِ‌ ؕ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ‌ ؕ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ‏(73)
(73) وہی وہ ہے جس نے آسمان و زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور وہ جب بھی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ چیز ہوجاتی ہے اس کا قول برحق ہے اور جس دن صور پھونکا جائے گا اس دن سارا اختیار اسی کے ہاتھ میں ہوگا وہ غائب اور حاضر سب کا جاننے والا صاحب حکمت اور ہر شے سے باخبر ہے
وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ لِاَبِيْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً ‌ ۚ اِنِّىْۤ اَرٰٮكَ وَقَوْمَكَ فِىْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ‏(74)
(74) اور اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم علیھ السّلام نے اپنے مربی باپ آزر سے کہا کہ کیا تو ان بتوں کو خدا بنائے ہوئے ہے .میں تو تجھے اور تیری قوم کو کُھلی ہوئی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں
وَكَذٰلِكَ نُرِىْۤ اِبْرٰهِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِيَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِيْنَ‏(75)
(75) اور اسی طرح ہم ابراہیم علیھ السّلام کو آسمان و زمین کے اختیارات دکھلاتے ہیں اور اس لئے کہ وہ یقین کرنے والوں میں شامل ہوجائیں
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ رَاٰ كَوْكَبًا ‌ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّىْ‌ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِيْنَ‏(76)
(76) پس جب ان پر رات کی تاریکی چھائی اور انہوں نے ستارہ کو دیکھا تو کہا کہ کیا یہ میرا رب ہے . پھر جب وہ غروب ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ میں ڈوب جانے والوں کو دوست نہیں رکھتا
فَلَمَّا رَاَالْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّىْ ‌ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ يَهْدِنِىْ رَبِّىْ لَاَ كُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآ لِّيْنَ‏(77)
(77) پھر جب چاند کو چمکتا دیکھا تو کہا کہ پھر یہ رب ہوگا .پھر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا کہ اگر پروردگار ہی ہدایت نہ دے گا تو میں گمراہوں میں ہوجاؤں گا
فَلَمَّا رَاٰ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّىْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ‌ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ يٰقَوْمِ اِنِّىْ بَرِىْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ‏(78)
(78) پھر جب چمکتے ہوئے سورج کو دیکھا تو کہا کہ پھر یہ خدا ہوگا کہ یہ زیادہ بڑا ہے لیکن جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہا کہ اے قوم میں تمہارے شِرک سے بری اور بیزار ہوں
اِنِّىْ وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِىْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِيْفًا‌ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ‌ۚ‏(79)
(79) میرا رخ تمام تر اس خدا کی طرف ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں باطل سے کنارہ کش ہوں اور مشرکوں میں سے نہیں ہوں
وَحَآجَّهٗ قَوْمُهٗ ‌ؕ قَالَ اَتُحَآجُّٓونِّىْ فِى اللّٰهِ وَقَدْ هَدٰٮنِ‌ؕ وَلَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ رَبِّىْ شَيْئًا ‌ؕ وَسِعَ رَبِّىْ كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًا‌ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ‏(80)
(80) اور جب ان کی قوم نے ان سے کٹ حجتی کی تو کہا کہ کیا مجھ سے خدا کے بارے میں بحث کررہے ہو جس نے مجھے ہدایت دے دی ہے اور میں تمہارے شریک کردہ خداؤں سے بالکل نہیں ڈرتا ہوں .مگر یہ کہ خود میرا خدا کوئی بات چاہے کہ اس کا علم ہر شے سے وسیع تر ہے کیا یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی ہے
وَكَيْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ عَلَيْكُمْ سُلْطٰنًا ‌ؕ فَاَىُّ الْفَرِيْقَيْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ‌ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ‌ۘ‏(81)
(81) اور میں کس طرح تمہارے خداؤں سے ڈر سکتا ہوں جب کہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے ہو کہ تم نے ان کو خدا کا شریک بنادیا ہے جس کے بارے میں خدا کی طرف سے کوئی دلیل نہیں نازل ہوئی ہے تو اب دونوں فریقوں میں کون زیادہ امن و سکون کا حقدار ہے اگر تم جاننے والے ہو تو بتاؤ
اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْۤا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۤئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ‏(82)
(82) جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہیں کیا ان ہی کے لئے امن وسکون ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں
وَتِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَيْنٰهَاۤ اِبْرٰهِيْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ‌ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ ‌ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ‏(83)
(83) یہ ہماری دلیل ہے جسے ہم نے ابراہیم علیھ السّلام کو ان کی قوم کے مقابلہ میں عطا کی اور ہم جس کو چاہتے ہیں اس کے درجات کو بلند کردیتے ہیں . بیشک تمہارا پروردگار صاحب حکمت بھی ہے اور باخبر بھی ہے
وَوَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ‌ؕ كُلًّا هَدَيْنَا ‌ۚ وَنُوْحًا هَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ‌ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ‌ؕ وَكَذٰلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِيْنَۙ‏(84)
(84) اور ہم نے ابراہیم علیھ السّلام کو اسحاق علیھ السّلام و یعقوب علیھ السّلام دئیے اور سب کو ہدایت بھی دی اور اس کے پہلے نوح علیھ السّلام کو ہدایت دی اور پھر ابراہیم علیھ السّلام کی اولاد میں داؤد علیھ السّلام ,سلیمان علیھ السّلامً ایوب علیھ السّلامً یوسف علیھ السّلام,موسٰی علیھ السّلام ,اور ہارون علیھ السّلام قرار دئیے اور ہم ِسی طرح نیک عمل کرنے والوں کو جزاء دیتے ہیں
وَزَكَرِيَّا وَيَحْيٰى وَعِيْسٰى وَاِلْيَاسَ‌ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَۙ‏(85)
(85) اور ذکریا علیھ السّلام,یحیٰی علیھ السّلام,عیسٰی علیھ السّلام اور الیاس علیھ السّلام کو بھی رکھا جو سب کے سب نیک کرداروں میں تھے
وَاِسْمٰعِيْلَ وَالْيَسَعَ وَيُوْنُسَ وَلُوْطًا‌ ؕ وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِيْنَۙ‏(86)
(86) اور اسماعیل علیھ السّلام, الیسع علیھ السّلام ,یونس علیھ السّلام اور لوط علیھ السّلام بھی بنائے اور سب کو عالمین سے افضل و بہتر بنایا
وَمِنْ اٰبَآئِهِمْ وَذُرِّيّٰتِهِمْ وَاِخْوَانِهِمْ‌ۚ وَاجْتَبَيْنٰهُمْ وَهَدَيْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ‏(87)
(87) اور پھر ان کے باپ دادا ,اولاد اور برادری میں سے اور خود انہیں بھی منتخب کیا اور سب کو سیدھے راستہ کی ہدایت کردی
ذٰ لِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِىْ بِهٖ مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ‌ؕ وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ‏(88)
(88) یہی خدا کی ہدایت ہے جسے جس بندے کو چاہتا ہے عطا کردیتاہے اور اگر یہ لوگ شرک اختیار کرلیتے تو ان کے بھی سارے اعمال برباد ہوجاتے
اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ‌ ؕ فَاِنْ يَّكْفُرْ بِهَا هٰٓؤُلَۤاءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِيْنَ‏(89)
(89) یہی وہ افراد ہیں جنہیں ہم نے کتاب ,حکومت اور نبوت عطا کی ہے . اب اگر یہ لوگ ان باتوں کا بھی انکار کرتے ہیں تو ہم نے ان باتوں کا ذمہ دار ایک ایسی قوم کو بنایا ہے جو انکار کرنے والی نہیں ہے
اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ‌ فَبِهُدٰٮهُمُ اقْتَدِهْ ‌ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا‌ ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِيْنَ‏(90)
(90) یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے لہذا آپ بھی اسی ہدایت کے راستہ پر چلیں اور کہہ دیجئے کہ ہم تم سے اس کار تبلیغ و ہدایت کا کوئی اجر نہیں چاہتے ہیں یہ قرآن تو عالمین کی یاددہانی کا ذریعہ ہے
وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَىْءٍ ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِىْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ‌ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِيْسَ تُبْدُوْنَهَا وَتُخْفُوْنَ كَثِيْرًا‌ ۚ وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَلَاۤ اٰبَآؤُكُمْ‌ؕ قُلِ اللّٰهُ‌ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِىْ خَوْضِهِمْ يَلْعَبُوْنَ‏(91)
(91) اور ان لوگوں نے واقعی خدا کی قدر نہیں کی جب کہ یہ کہہ دیا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نہیں نازل کیا ہے تو ان سے پوچھئے کہ یہ کتاب جو موسٰی علیھ السّلام لے کر آئے تھے جو نور اور لوگوں کے لئے ہدایت تھی اور جسے تم نے چند کاغذات بنادیا ہے اور کچھ حصّہ ظاہر کیا اور کچھ چھپادیا حالانکہ اس کے ذریعہ تمہیں وہ سب بتادیا گیا تھا جو تمہارے باپ دادا کو بھی نہیں معلوم تھا یہ سب کس نے نازل کیا ہے اب آپ کہہ دیجئے کہ وہ وہی اللہ ہے اور پھر انہیں چھوڑ دیجئے یہ اپنی بکواس میں کھیلتے پھریں
وَهٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِىْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَمَنْ حَوْلَهَا‌ ؕ وَالَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ‌ وَهُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ‏(92)
(92) اور یہ کتاب جو ہم نے نازل کی ہے یہ بابرکت ہے اور اپنے پہلے والی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور یہ اس لئے ہے کہ آپ مکّہ اور اس کے اطراف والوں کو ڈرائیں اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنی نماز کی پابندی کرتے ہیں
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِىَ اِلَىَّ وَلَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَىْءٌ وَّمَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ‌ؕ وَلَوْ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِىْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَيْدِيْهِمْ‌ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمُ‌ؕ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ‏(93)
(93) اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹا الزام لگائے یا اس کے نازل کئے بغیر یہ کہہ دے کہ مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے اور جو یہ کہہ دے کہ میں بھی خدا کی طرح باتیں نازل کرسکتا ہوں اور اگر آپ دیکھتے کہ ظالم موت کی سختیوں میں ہیں اور ملائکہ اپنے ہاتھ بڑھائے ہوئے آواز دے رہے ہیں کہ اب اپنی جان نکال دو کہ آج تمہیں تمہارے جھوٹے بیانات اور الزامات پر رسوائی کا عذاب دیا جائے گا کہ تم آیات خدا سے انکار اور استکبار کررہے تھے
وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ‌ۚ وَمَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِيْكُمْ شُرَكٰٓؤُا‌ ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ‏(94)
(94) اور بالآخر تم اسی طرح ہمارے پاس تنہا آئے جس طرح ہم نے تم کو پیدا کیا تھا اور جو کچھ تمہیں دیا تھا سب اپنے پیچھے چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارش کرنے والوں کو بھی نہیں دیکھتے جنہیں تم نے اپنے لئے خدا کا شریک بنایا تھا. تمہارے ان کے تعلقات قطع ہوگئے اور تمہارا خیال تم سے غائب ہوگیا
اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰى‌ؕ يُخْرِجُ الْحَىَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَىِّ ‌ؕ ذٰ لِكُمُ اللّٰهُ‌ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ‏(95)
(95) خدا ہی وہ ہے جو گٹھلی اور دانے کا شگافتہ کرنے والا ہے -وہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے. یہی تمہارا خدا ہے تو تم کدھر بہکے جارہے ہو
فَالِقُ الْاِصْبَاحِ‌ۚ وَ جَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا‌ ؕ ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ‏(96)
(96) وہ نور سحر کا شگافتہ کرنے والا ہے اور اس نے رات کو وجہ سکون اور شمس و قمر کو ذریعہ حساب بنایا ہے . یہ اس صاحب عزّت و حکمت کی مقرر کردہ تقدیر ہے
وَهُوَ الَّذِىْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِىْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ‌ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ‏(97)
(97) وہی وہ ہے جس نے تمہارے لئے ستارے مقرر کئے ہیں کہ ان کے ذریعہ خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرسکو -ہم نے تمام نشانیوں کو اس قوم کے لئے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے جو جاننے والی ہے
وَ هُوَ الَّذِىْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّمُسْتَوْدَعٌ‌ ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّفْقَهُوْنَ‏(98)
(98) وہی وہ ہے جس نے تم سب کو ایک نفس سے پیدا کیا ہے پھر سب کے لئے قرار گاہ اور منزلِ ودیعت مقرر کی ہے. ہم نے صاحبانِ فہم کے لئے تمام نشانیوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے
وَهُوَ الَّذِىْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً‌ ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَىْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا‌ ۚ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ وَّجَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّالزَّيْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّغَيْرَ مُتَشَابِهٍ‌ ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَيَنْعِهٖ ؕ اِنَّ فِىْ ذٰ لِكُمْ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ‏(99)
(99) وہی خدا وہ ہے جس نے آسمان سے پانی نازل کیا ہے پھر ہم نے ہر شے کے کوئے نکالے پھر ہری بھری شاخیں نکالیں جس سے ہم گتھے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے شگوفے سے لٹکتے ہوئے گچھےّ پیدا کئے اور انگور و زیتون اور انار کے باغات پیدا کئے جو شکل میں ملتے جلتے اور مزہ میں بالکل الگ الگ ہیں -ذرا اس کے پھل اور اس کے پکنے کی طرف غور سے دیکھو کہ اس میں صاحبان ایمان کے لئے کتنی نشانیاں پائی جاتی ہیں
وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ‌ وَخَرَقُوْا لَهٗ بَنِيْنَ وَبَنٰتٍۢ بِغَيْرِ عِلْمٍ‌ؕ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يَصِفُوْنَ‏(100)
(100) اور ان لوگوں نے جنّات کو خدا کا شریک بنادیا ہے حالانکہ خدا نے انہیں پیدا کیا ہے پھر اس کے لئے بغیر جانے بوجھے بیٹے اور بیٹیاں بھی تیار کردی ہیں .جب کہ وہ بے نیاز اور ان کے بیان کردہ اوصاف سے کہیں زیادہ بلند وبالا ہے
بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‌ؕ اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ‌ ؕ وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ‌ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمٌ‏(101)
(101) وہ زمین و آسمان کا ایجاد کرنے والا ہے -اس کے اولاد کس طرح ہوسکتی ہے اس کی تو کوئی بیوی بھی نہیں ہے اور وہ ہر شے کا خالق ہے اور ہرچیز کا جاننے والا ہے
ذٰ لِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ‌ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ۚ خَالِقُ كُلِّ شَىْءٍ فَاعْبُدُوْهُ‌ۚ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ وَّكِيْلٌ‏(102)
(102) وہی اللہ تمہارا پروردگار ہے جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں -وہ ہر شے کا خالق ہے اسی کی عبادت کرو .وہی ہر شے کا نگہبان ہے
لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ‌ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ‏(103)
(103) نگاہیں اسے پا نہیں سکتیں اور وہ نگاہوں کا برابر ادراک رکھتا ہے کہ وہ لطیف بھی ہے اور خبیر بھی ہے
قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ‌ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ‌ ۚ وَمَنْ عَمِىَ فَعَلَيْهَا‌ ؕ وَمَاۤ اَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيْظٍ‏(104)
(104) تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے دلائل آچکے ہیں اب جو بصیرت سے کام لے گا وہ اپنے لئے اور جو اندھا بن جائے گا وہ بھی اپنا ہی نقصان کرے گا اور میں تم لوگوں کا نگہبان نہیں ہوں
وَكَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ وَلِيَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَلِنُبَيِّنَهٗ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ‏(105)
(105) اور اسی طرح ہم پلٹ پلٹ کر آیتیں پیش کرتے ہیں اور تاکہ وہ یہ کہیں کہ آپ نے قرآن پڑھ لیا ہے اور ہم جاننے والوں کے لئے قرآن کو واضح کردیں
اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِىَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ‌‌ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ۚ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ‏(106)
(106) آپ اپنی طرف آنے والی وحی الٰہی کا اتباع کریں کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور مشرکین سے کنارہ کشی کرلیں
وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا ‌ؕ وَمَا جَعَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا‌ ۚ وَمَاۤ اَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيْلٍ‏(107)
(107) اور اگر خدا چاہتا تو یہ شرک ہی نہ کرسکتے اور ہم نے آپ کو ان کا نگہبان نہیں بنایا ہے اور نہ آپ ان کے ذمہ دار ہیں
وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًاۢ بِغَيْرِ عِلْمٍ ‌ؕ كَذٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ‏(108)
(108) اور خبردار تم لوگ انہیں برا بھلا نہ کہو جن کو یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہیں کہ اس طرح یہ دشمنی میں بغیر سمجھے بوجھے خدا کو برا بھلا کہیں گے ہم نے اسی طرح ہر قوم کے لئے اس کے عمل کو آراستہ کردیا ہے اس کے بعد سب کی بازگشت پروردگار ہی کی بارگاہ میں ہے اور وہی سب کو ان کے اعمال کے بارے میں باخبر کرے گا
وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا‌ ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ‌ وَمَا يُشْعِرُكُمْۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ‏(109)
(109) اور ان لوگوں نے اللہ کی سخت قسمیں کھائیں کہ ان کی مرضی کی نشانی آئی تو ضرور ایمان لے آئیں گے تو آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں تو سب خدا ہی کے پاس ہیں اور تم لوگ کیا جانو کہ وہ آبھی جائیں گی تو یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے
وَنُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَاَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمْ فِىْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ‏(110)
(110) اور ہم ان کے قلب و نظر کو اس طرح پلٹ دیں گے جس طرح یہ پہلے ایمان نہیں لائے تھے اور ان کو گمراہی میں ٹھوکر کھانے کے لئے چھوڑ دیں گے