ENGLISH | اردو | Roman | Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ يٰشُعَيْبُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِىْ مِلَّتِنَا‌ ؕ قَالَ اَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِيْنَ ۚ‏(88)
(88) ان کی قوم کے مستکبرین نے کہا کہ اے شعیب علیھ السّلام ہم تم کو اور تمہارے ساتھ ایمان لانے والوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے یا تم بھی پلٹ کر ہمارے مذہب پر آجاؤ .... انہوں نے جواب دیا کہ چاہے ہم تمہارے مذہب سے بیزار ہی کیوں نہ ہوں
قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِىْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰٮنَا اللّٰهُ مِنْهَا‌ ؕ وَمَا يَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِيْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا‌ ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًا‌ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا‌ ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفٰتِحِيْنَ‏(89)
(89) یہ اللہ پر بڑا بہتان ہوگا اگر ہم تمہارے مذہب پرآجائیں جب کہ اس نے ہم کو اس مذہب سے نجات دے دی ہے اور ہمیں حق نہیں ہے کہ ہم تمہارے مذہب پر آجائیں جب تک خدا خود نہ چاہے .ہمارے پروردگار کا علم ہر شے پر حاوی ہے اور ہمارا اعتماد اسی کے اوپر ہے -خدایا تو ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق سے فیصلہ فرمادے کہ تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے
وَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ‏(90)
(90) تو ان کی قوم کے کفاّر نے کہا کہ اگر تم لوگ شعیب علیھ السّلام کا اتباع کرلو گے تو تمہارا شمار خسارہ والوں میں ہوجائے گا
فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِىْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ‌ ۛۙ  ۚ   ۖ‏(91)
(91) نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں زلزلہ نے اپنی گرفت میں لے لیا اور اپنے گھر میں سربہ زانو ہوگئے
الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا شُعَيْبًا كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا‌‌ ۛۚ اَ لَّذِيْنَ كَذَّبُوْا شُعَيْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِيْنَ‌‌‏(92)
(92) جن لوگوں نے شعیب علیھ السّلام کی تکذیب کی وہ ایسے برباد ہوئے گویا اس بستی میں بسے ہی نہیں تھے -جن لوگوں نے شعیب علیھ السّلام کو جھٹلایا وہی خسارہ والے قرار پائے
فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَقَالَ يٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّىْ وَنَصَحْتُ لَكُمْ‌ۚ فَكَيْفَ اٰسٰی عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِيْنَ‏(93)
(93) اس کے بعد شعیب علیھ السّلام نے ان سے منہ پھیر لیا اور کہا کہ اے قوم میں نے اپنے پروردگار کے پیغامات کو پہنچادیا اور تمہیں نصیحت بھی کی تو اب کفر اختیار کرنے والوں کے حال پر کس طرح افسوس کروں
وَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِىْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّبِىٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُوْنَ‏(94)
(94) اور ہم نے جب بھی کسی قریہ میں کوئی نبی بھیجا تو اہل قریہ کو نافرمانی پر سختی اور پریشانی میں ضرور مبتلا کیا کہ شاید وہ لوگ ہماری بارگاہ میں تضرع و زاری کریں
ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّقَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَالسَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ‏(95)
(95) پھر ہم نے برائی کی جگہ اچھائی دے دی یہاں تک کہ وہ لوگ بڑھ نکلے اور کہنے لگے کہ یہ تکلیف و راحت تو ہمارے بزرگوں تک بھی آچکی ہے تو ہم نے اچانک انہیں اپنی گرفت میں لے لیا اور انہیں اس کا شعور بھی نہ ہوسکا
وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓى اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ‏(96)
(96) اور اگر اہل قریہ ایمان لے آتے اور تقوٰی اختیار کرلیتے تو ہم ان کے لئے زمین اور آسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کو ان کے اعمال کی گرفت میں لے لیا
اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰٓى اَنْ يَّاْتِيَهُمْ بَاْسُنَا بَيَاتًا وَّهُمْ نَآئِمُوْنَؕ‏(97)
(97) کیا اہلِ قریہ اس بات سے مامون ہیں کہ یہ سوتے ہی رہیں اور ہمارا عذاب راتوں رات نازل ہوجائے
اَوَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰٓى اَنْ يَّاْتِيَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّهُمْ يَلْعَبُوْنَ‏(98)
(98) یا اس بات سے مطمئن ہیں کہ یہ کھیل کود میں مصروف رہیں اور ہمارا عذاب دن دھاڑے نازل ہوجائے
اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ‌ ۚ فَلَا يَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ‏(99)
(99) کیا یہ لوگ خدائی تدبیر کی طرف سے مطمئن ہوگئے ہیں جب کہ ایسا اطمینان صرف گھاٹے میں رہنے والوں کو ہوتا ہے
اَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ‌ ۚ وَنَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ‏(100)
(100) کیا ایک قوم کے بعد دوسرے زمین کے وارث ہونے والوں کو یہ ہدایت نہیں ملتی کہ اگر ہم چاہتے تو ان کے گناہوں کی بنا پر انہیں بھی مبتلائے مصیبت کردیتے اور ان کے دلوں پر مہرلگادیتے اور پھر انہیں کچھ سنائی نہ دیتا
تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا‌ ۚ وَلَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ‌ ۚ فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ‌ ؕ كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ‏(101)
(101) یہ وہ بستیاں ہیں جن کی خبریں ہم آپ سے بیان کررہے ہیں کہ ہمارے پیغمبران کے پاس معجزاءت لے کر آئے مگر پہلے سے تکذیب کرنے کی بنا پر یہ ایمان نہ لاسکے .ہم اسی طرح کافروں کے دلوں پر مہر لگادیا کرتے ہیں
وَمَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ‌ۚ وَاِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِيْنَ‏(102)
(102) ہم نے ان کی اکثریت میں عہدو پیمان کی پاسداری نہیں پائی اور ان کی اکثریت کو فاسق اور حدود اطاعت سے خارج ہی پایا
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰيٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا‌ ۚ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ‏(103)
(103) پھر ان سب کے بعد ہم نے موسٰی علیھ السّلام کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا تو ان لوگوں نے بھی ظلم کیا تو اب دیکھو کہ فساد کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے
وَ قَالَ مُوْسٰى يٰفِرْعَوْنُ اِنِّىْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَۙ‏(104)
(104) اور موسٰی علیھ السّلام نے فرعون سے کہا کہ میں رب العالمین کی طرف سے فرستادہ پیغمبر ہوں
حَقِيْقٌ عَلٰٓى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ‌ ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِىَ بَنِىْۤ اِسْرَآءِيْلَ ؕ‏(105)
(105) میرے لئے لازم ہے کہ میں خدا کے بارے میں حق کے علاوہ کچھ نہ کہوں -میں تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے معجزہ لے کر آیا ہوں لہٰذا بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے
قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰيَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ‏(106)
(106) اس نے کہا کہ اگر تم معجزہ لائے ہو اور اپنی بات میں سچےّ ہو تو وہ معجزہ پیش کرو
فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌ‌ ‌ ۖ ‌ۚ‏(107)
(107) موسٰی علیھ السّلام نے اپنا عصا پھینک دیا اور وہ اچھا خاصا سانپ بن گیا
وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنّٰظِرِيْنَ‏(108)
(108) اور پھر اپنے ہاتھ کو نکالا تو وہ دیکھنے والوں کے لئے انتہائی روشن اور چمکدار تھا
قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌ ۙ‏(109)
(109) فرعون کی قوم کے رؤسا نے کہا کہ یہ تو سمجھدار جادوگر ہے
يُّرِيْدُ اَنْ يُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ‌ ۚ فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ‏(110)
(110) جو تم لوگوں کو تمہاری سرزمین سے نکالنا چاہتاہے اب تم لوگوں کا کیا خیال ہے
قَالُوْآ اَرْجِهْ وَاَخَاہُ وَاَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَ ۙ‏(111)
(111) لوگوں نے کہا کہ ان کو اور ان کے بھائی کو روک لیجئے اور مختلف شہروں میں جمع کرنے والوں کو بھیجئے
يَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِيْمٍ‏(112)
(112) جو تمام ماہر جادوگروں کو بلا کر لے آئیں
وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِيْنَ‏(113)
(113) جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ اگر ہم غالب آگئے تو کیا ہمیں اس کی اجرت ملے گی
قَالَ نَعَمْ وَاِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ‏(114)
(114) . فرعون نے کہا بیشک تم میرے دربار میں مقرب ہوجاؤ گے
قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِىَ وَاِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِيْنَ‏(115)
(115) ان لوگوں نے کہا کہ موسٰی علیھ السّلام آپ عصاپھینکیں گے یا ہم اپنے کام کا آغاز کریں
قَالَ اَلْقُوْا‌ ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوْهُمْ وَجَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِيْمٍ‏(116)
(116) موسٰی علیھ السّلام نے کہا کہ تم ابتدا کرو -ان لوگوں نے رسیاں پھینکیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہیں خوفزدہ کردیا اور بہت بڑے جادو کا مظاہرہ کیا
وَاَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰٓى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ‌ ۚ فَاِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَ ‌ۚ‏(117)
(117) اور ہم نے موسٰی علیھ السّلام کو اشارہ کیا کہ اب تم بھی اپنا عصا ڈال دو وہ ان کے تمام جادو کے سانپوں کو نگل جائے گا
فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ‌ۚ‏(118)
(118) نتیجہ یہ ہوا کہ حق ثابت ہوگیا اور ان کا کاروبار باطل ہوگیا
فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوْا صٰغِرِيْنَ‌ۚ‏(119)
(119) وہ سب مغلوب ہوگئے اور ذلیل ہوکر واپس ہوگئے
وَ اُلْقِىَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَ ۙ‏(120)
(120) اور جادوگر سب کے سب سجدہ میں گر پڑے
قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۙ‏(121)
(121) ان لوگوں نے کہا کہ ہم عالمین کے پروردگار پر ایمان لے آئے
رَبِّ مُوْسٰى وَهٰرُوْنَ‏(122)
(122) یعنی موسٰی علیھ السّلام اور ہارون علیھ السّلام کے رب پر
قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ‌ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِى الْمَدِيْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا‌ ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ‏(123)
(123) فرعون نے کہا کہ تم میری اجازت سے پہلے کیسے ایمان لے آئے .... یہ تمہارا مکر ہے جو تم شہر میں پھیلارہے ہو تاکہ لوگوں کو شہر سے باہر نکال سکو تو عنقریب تمہیں اس کا انجام معلوم ہوجائے گا
لَاُقَطِّعَنَّ اَيْدِيَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِيْنَ‏(124)
(124) میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مختلف سمتوں سے کاٹ دوں گا اور اس کے بعد تم سب کو سولی پر لٹکادوں گا
قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ‌ۚ‏(125)
(125) ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ بہرحال اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پلٹ کر جانے والے ہیں
وَمَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا‌ ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّتَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ‏(126)
(126) اور تو ہم سے صرف اس بات پر ناراض ہے کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لے آئے ہیں .... خدایا ہم پر صبر کی بارش فرما اور ہمیں مسلمان دنیا سے اٹھانا
وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَقَوْمَهٗ لِيُفْسِدُوْا فِى الْاَرْضِ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ‌ ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَنَسْتَحْىٖ نِسَآءَهُمْ‌ ۚ وَاِنَّا فَوْقَهُمْ قَاهِرُوْنَ‏(127)
(127) اور فرعون کی قوم کے ایک گروہ نے کہا کہ کیا تو موسٰی علیھ السّلام اور ان کی قوم کو یوں ہی چھوڑ دے گا کہ یہ زمین میں فساد برپا کریں اور تجھے اور تیرے خداؤں کو چھوڑ دیں -اس نے کہا کہ میں عنقریب ان کے لڑکوں کو قتل کر ڈالوں گا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھوں گا .میں ان پر قوت اور غلبہ رکھتا ہوں
قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِيْنُوْا بِاللّٰهِ وَاصْبِرُوْا‌ ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ۙ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ‌ ؕ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ‏(128)
(128) موسٰی علیھ السّلام نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو -زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں جس کو چاہتا ہے وارث بناتا ہے اور انجام کار بہرحال صاحبان تقوٰی کے لئے ہے
قَالُوْۤا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا‌ ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ‏(129)
(129) قوم نے کہا کہ ہم تمہارے آنے سے پہلے بھی ستائے گئے اور تمہارے آنے کے بعد بھی ستائے گئے -موسٰی علیھ السّلام نے جواب دیا کہ عنقریب تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا اور تمہیں زمین میں اس کا جانشین بنادے گا اور پھر دیکھے گا تمہارا طرز عمل کیسا ہوتا ہے
وَلَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِيْنَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ‏(130)
(130) اور ہم نے آل فرعون کو قحط اور ثمرات کی کمی کی گرفت میں لے لیا کہ شاید وہ اسی طرح نصیحت حاصل کرسکیں
فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ‌ ۚ وَاِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَّطَّيَّرُوْا بِمُوْسٰى وَمَنْ مَّعَهٗ‌ ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ‏(131)
(131) اس کے بعد جب ان کے پاس کوئی نیکی آئی تو انہوں نے کہا کہ یہ تو ہمارا حق ہے اور جب برائی آئی تو کہنے لگے کہ یہ موسٰی علیھ السّلام اور ان کے ساتھیوں کا اثر ہے -آگاہ ہوجاؤ کہ ان کی بدشگونی کے اسباب خدا کے یہاں معلوم ہیں لیکن ان کی اکثریت اس رازسے بے خبر ہے
وَقَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰيَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِيْنَ‏(132)
(132) اور قوم والوں نے کہاکہ موسٰی علیھ السّلام تم کتنی ہی نشانیاں جادو کرنے کے لئے لاؤ ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں
فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ‏(133)
(133) پھر ہم نے ان پر طوفان ,ٹڈی ,جوں ,مینڈک اور خون کو مفصل نشانی بناکر بھیجا لیکن ان لوگوں نے استکبار اور انکار سے کام لیا اور یہ لوگ واقعا مجرم لوگ تھے
وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا يٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ‌ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِىْۤ اِسْرَآءِيْلَ‌ۚ‏(134)
(134) اور جب ان پر عذاب نازل ہوگیا تو کہنے لگے کہ موسٰی علیھ السّلام اپنے رب سے دعا کرو جس بات کا اس نے وعدہ کیا ہے اگر تم نے اس عذاب کو دور کرادیاتو ہم تم پر ایمان بھی لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے حوالے بھی کردیں گے
فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰٓى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ يَنْكُثُوْنَ‏(135)
(135) اس کے بعد جب ہم نے ایک مّدت کے لئے عذاب کو برطرف کردیا تو پھر اپنے عہد کو توڑنے والوں میں شامل ہوگئے
فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِى الْيَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِيْنَ‏(136)
(136) پھر ہم نے ان سے انتقام لیا اور انہیں دریا میں غرق کردیا کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا اور ان کی طرف سے غفلت برتنے والے تھے
وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِىْ بٰرَكْنَا فِيْهَا‌ ؕ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِىْۤ اِسْرَاۤءِيْلَۙ بِمَا صَبَرُوْا‌ ؕ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهٗ وَمَا كَانُوْا يَعْرِشُوْنَ‏(137)
(137) اور ہم نے مستضعفین کو شرق و غرب زمین کا وارث بنادیااور اس میں برکت عطا کردی اور اس طرح بنی اسرائیل پر اللہ کی بہترین بات تمام ہوگئی کہ انہوں نے صبر کیاتھا اور جو کچھ فرعون اور اس کی قوم والے بنارہے تھے ہم نے سب کو برباد کردیا اور ان کی اونچی اونچی عمارتوں کو مسمار کردیا
وَجَاوَزْنَا بِبَنِىْۤ اِسْرَاۤءِيْلَ الْبَحْرَ فَاَ تَوْا عَلٰى قَوْمٍ يَّعْكُفُوْنَ عَلٰٓى اَصْنَامٍ لَّهُمْ‌ ۚ قَالُوْا يٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ‌  ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ‏(138)
(138) اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا پار پہنچا دیا تو وہ ایک ایسی قوم کے پاس پہنچے جو اپنے بتوں کے گرد مجمع لگائے بیٹھی تھی -ان لوگوں نے موسٰی علیھ السّلام سے کہا کہ موسٰی علیھ السّلام ہمارے لئے بھی ایسا ہی خدا بنادو جیسا کہ ان کا خدا ہے انہوں نے کہا کہ تم لوگ بالکل جاہل ہو
اِنَّ هٰٓؤُلَۤاءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيْهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ‏(139)
(139) ان لوگوں کا نظام برباد ہونے والا اور ان کے اعمال باطل ہیں
قَالَ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِيْكُمْ اِلٰهًا وَّهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِيْنَ‏(140)
(140) کیا میں خدا کے علاوہ تمہارے لئے دوسرا خدا تلاش کروں جب کہ اس نے تمہیں عالمین پر فضیلت دی ہے
وَاِذْ اَنْجَيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ‌ ۚ يُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ يَسْتَحْيُوْنَ نِسَآءَكُمْ‌ ؕ وَفِىْ ذٰ لِكُمْ بَلَاۤ ءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ‏(141)
(141) اور جب ہم نے تم کو فرعون والوں سے نجات دی جو تمہیں بدترین عذاب میں مبتلا کررہے تھے تمہارے لڑکوں کو قتل کررہے تھے اور لڑکیوں کو خدمت کے لئے باقی رکھ رہے تھے اور اس میں تمہارے لئے پروردگار کی طرف سے سخت ترین امتحان تھا
وَوٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِيْنَ لَيْلَةً وَّاَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً ‌ ۚ وَقَالَ مُوْسٰى لِاَخِيْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِىْ فِىْ قَوْمِىْ وَاَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيْلَ الْمُفْسِدِيْنَ‏(142)
(142) اور ہم نے موسٰی علیھ السّلام سے تیس راتوں کا وعدہ لیا اور اسے دس مزید راتوں سے مکمل کردیا کہ اس طرح ان کے رب کا وعدہ چالیس راتوں کا وعدہ ہوگیا اور انہوں نے اپنے بھائی ہارون علیھ السّلام سے کہا کہ تم قوم میں میری نیابت کرو اور اصلاح کرتے رہو اور خبردار مفسدوں کے راستہ کا اتباع نہ کرنا
وَلَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِيْقَاتِنَا وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِىْۤ اَنْظُرْ اِلَيْكَ‌ ؕ قَالَ لَنْ تَرٰٮنِىْ وَلٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰٮنِىْ‌ ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّخَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا‌ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَيْكَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ‏(143)
(143) تو اس کے بعد جب موسٰی علیھ السّلام ہمارا وعدہ پورا کرنے کے لئے آئے اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا تو انہوں نے کہا کہ پروردگار مجھے اپنا جلوہ دکھادے ارشاد ہوا تم ہرگز مجھے نہیں دیکھ سکتے ہو البتہ پہاڑ کی طرف دیکھو اگر یہ اپنی جگہ پر قائم رہ گیا تو پھر مجھے دیکھ سکتے ہو .اس کے بعد جب پہاڑ پر پروردگار کی تجلی ہوئی تو پہاڑ چور چور ہوگیا اور موسٰی علیھ السّلام بیہوش ہوکر گر پڑے پھر جب انہیں ہوش آیا تو کہنے لگے کہ پروردگار تو پاک و پاکیزہ ہے میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں
قَالَ يٰمُوْسٰٓى اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِىْ وَ بِكَلَامِىْ ‌ۖ  فَخُذْ مَاۤ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ‏(144)
(144) ارشاد ہوا کہ موسٰی علیھ السّلام ہم نے تمام انسانوں میں اپنی رسالت اور اپنے کلام کے لئے تمہارا انتخاب کیا ہے لہذا اب اس کتاب کو لے لو اور اللہ کے شکر گذار بندوں میں ہوجاؤ
وَكَتَبْنَا لَهٗ فِى الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَىْءٍ‌ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا‌ ؕ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ‏(145)
(145) اور ہم نے توریت کی تختیوں میں ہر شے میں سے نصیحت کاحصہ اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی ہے لہذا اسے مضبوطی کے ساتھ پکڑلو اور اپنی قوم کوحکم دو کہ اس کی اچھی اچھی باتوں کو لے لیں. میں عنقریب تمہیں فاسقین کے گھردکھلادوں گا
سَاَصْرِفُ عَنْ اٰيٰتِىَ الَّذِيْنَ يَتَكَبَّرُوْنَ فِى الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ؕ وَاِنْ يَّرَوْا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوْا بِهَا‌ ۚ وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا‌ ۚ وَّاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الْغَىِّ يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا‌ ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِيْنَ‏(146)
(146) میں عنقریب اپنی آیتوں کی طرف سے ان لوگوں کو پھیر دوں گا جو روئے زمین میں ناحق اکڑتے پھرتے ہیں اور یہ کسی بھی نشانی کو دیکھ لیں ایمان لانے والے نہیں ہیں -ان کا حال یہ ہے کہ ہدایت کا راستہ دیکھیں گے تو اسے اپنا راستہ نہ بنائیں گے اور گمراہی کا راستہ دیکھیں گے تو اسے فورا اختیار کرلیں گے یہ سب اس لئے ہے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا ہے اوران کی طرف سے غافل تھے
وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ‌ؕ هَلْ يُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ‏(147)
(147) اور جن لوگوں نے ہماری نشانیوں اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ہے ان کے اعمال برباد ہیں اور ظاہر ہے کہ انھیں ویساہی بدلہ تو دیا جائے گا جیسے اعمال کررہے ہیں
وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ‌ ؕ اَلَمْ يَرَوْا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيْهِمْ سَبِيْلًا ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَكَانُوْا ظٰلِمِيْنَ‏(148)
(148) اور موسٰی علیھ السّلام کی قوم نے ان کے بعد اپنے زیورات سے گوسالہ کا مجسمہ بنایا جس میں آواز بھی تھی کیاان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ وہ نہ بات کرنے کے لائق ہے اور نہ کوئی راستہ دکھا سکتا ہے انہوں نے اسے خدا بنالیا اور وہ لوگ واقعاظلم کرنے والے تھے
وَلَمَّا سُقِطَ فِىْۤ اَيْدِيْهِمْ وَرَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ‏(149)
(149) اور جب وہ پچھتائے اور انہوں نے دیکھ لیا کہ وہ بہک گئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہمارے او پر رحم نہ کرے گا اور ہمیں معاف نہ کرے گا تو ہم خسارہ والوں میں شامل ہوجائیں گے
وَلَمَّا رَجَعَ مُوْسٰٓى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِىْ مِنْۢ بَعْدِىْ ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ‌ ۚ وَاَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَاَخَذَ بِرَاْسِ اَخِيْهِ يَجُرُّهٗۤ اِلَيْهِ‌ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِىْ وَكَادُوْا يَقْتُلُوْنَنِىْ ‌ۖ  فَلَا تُشْمِتْ بِىَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِىْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ‏(150)
(150) اورجب موسٰی علیھ السّلام آپ نی قوم کی طرف واپس آئے تو غیظ و غضب کے عالم میں کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بہت بری حرکت کی ہے -تم نے حکم خدا کے آنے میں کس قدر عجلت سے کام لیا ہے اور پھر انہوں نے توریت کی تختیوں کو ڈال دیا اور اپنے بھائی کا سرپکڑ کر کھینچنے لگے -ہارون علیھ السّلام نے کہا بھائی قوم نے مجھے کمزور بنادیا تھا اور قریب تھاکہ مجھے قتل کردیتے تو میں کیا کرتا -آپ دشمنوں کو طعنہ کا موقع نہ دیجئے اور میرا شمار ظالمین کے ساتھ نہ کیجئے
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِىْ وَلِاَخِىْ وَ اَدْخِلْنَا فِىْ رَحْمَتِكَ ‌ۖ  وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ‏(151)
(151) موسٰی علیھ السّلام نے کہا کہ پروردگار مجھے اور میرے بھائی کو معاف کردے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کرلے کہ تو سب سے زیادہ رحم کرنے والاہے
اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِى الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا‌ ؕ وَكَذٰلِكَ نَجْزِىْ الْمُفْتَرِيْنَ‏(152)
(152) بیشک جن لوگوں نے گوسالہ کو اختیار کیا ہے عنقریب ان پر غضب پروردُگار نازل ہوگا اور ان کے لئے زندگانی دنیا میں بھی ذلّت ہے اور ہم اسی طرح افترا کرنے والوں کوسزا دیا کرتے ہیں
وَالَّذِيْنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَاٰمَنُوْۤا اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ‏(153)
(153) اور جن لوگوں نے برے اعمال کئے اور پھر توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو توبہ کے بعد تمھارا پروردگار بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے
وَلَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ ‌ۖ  وَفِىْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلَّذِيْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُوْنَ‏(154)
(154) اس کے بعد جب موسٰی کا غّصہ ٹھنڈا پڑگیا تو انہوں نے تختیوں کو اٹھالیا اور اس کے نسخہ میں ہدایت اور رحمت کی باتیں تھیں ان لوگوں کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرنے والے تھے
وَاخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِيْنَ رَجُلًا لِّمِيْقَاتِنَا‌ ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَاِيَّاىَ‌ ؕ اَ تُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا ۚ اِنْ هِىَ اِلَّا فِتْنَتُكَ ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَتَهْدِىْ مَنْ تَشَآءُ ‌ؕ اَنْتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا‌ وَاَنْتَ خَيْرُ الْغَافِرِيْنَ‏(155)
(155) اور موسٰی علیھ السّلام نے ہمارے وعدہ کے لئے اپنی قوم کے ستر ّ افراد کا انتخاب کیا پھر اس کے بعد جب ایک جھٹکے نے انھیں اپنی لپیٹ میں لے لیا تو کہنے لگے کہ پرودگار اگر تو چاہتا تو انھیں پہلے ہی ہلاک کردیتا اور مجھے بھی -کیا اب احمقوں کی حرکت کی بناپرہمیں بھی ہلاک کردے گا یہ تو صرف تیرا امتحان ہے جس سے جس کو چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑدیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے تو ہمارا ولی ہے -ہمیں معاف کردے اورہم پر رحم فرما کہ تو بڑا بخشنے والا ہے
وَاكْتُبْ لَنَا فِىْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِى الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَيْكَ ‌ؕ قَالَ عَذَابِىْۤ اُصِيْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ‌ ۚ وَرَحْمَتِىْ وَسِعَتْ كُلَّ شَىْءٍ‌ ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ ‌ۚ‏(156)
(156) اور ہمارے لئے اس دار دنیا اور آخرت میں نیکی لکھ دے -ہم تیری ہی طرف رجوع کررہے ہیں -ارشاد ہوا کہ میرا عذاب جسے میں چاہوں گا اس تک پہنچے گا اور میری رحمت ہر شے پر وسیع ہے جسے میں عنقریب ان لوگوں کے لئے لکھ دوں گا جو خوف خدا رکھنے والے زکوٰۃ ادا کرنے والے اور ہماری نشانیوں پر ایمان لانے والے ہیں
اَ لَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِىَّ الْاُمِّىَّ الَّذِىْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِى التَّوْرٰٮةِ وَالْاِنْجِيْلِ يَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهٰٮهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰۤئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِىْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ‌ ؕ فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَعَزَّرُوْهُ وَنَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِىْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗ ۤ‌ ۙ اُولٰۤئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ‏(157)
(157) جو لوگ کہ رسولِ نبی امّی کا اتباع کرتے ہیں جس کا ذکر اپنے پاس توریت اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں کہ وہ نیکیوں کا حکم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے اور پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دیتاہے اور خبیث چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے اور ان پر سے احکام کے سنگین بوجھ اور قیدوبند کو اٹھا دیتا ہے پس جو لوگ اس پر ایمان لائے اس کا احترام کیا اس کی امداد کی اور اس نور کا اتباع کیا جو اس کے ساتھ نازل ہوا ہے وہی درحقیقت فلاح یافتہ اور کامیاب ہیں
قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَاْ ۟الَّذِىْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‌ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُحْىٖ وَيُمِيْتُ‌ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِىِّ الْاُمِّىِّ الَّذِىْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ‏(158)
(158) پیغمبر -- کہہ دو کہ میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول اور نمائندہ ہوں جس کے لئے زمین وآسمان کی مملکت ہے-اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے -وہی حیات دیتا ہے اور وہی موت دیتاہے لہٰذا اللہ اور اس کے پیغمبرامی ّپر ایمان لے آؤ جو اللہ اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے اور اسی کا اتباع کرو کہ شاید اسی طرح ہدایت یافتہ ہوجاؤ
وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓى اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ‏(159)
(159) اور موسٰی علیھ السّلام کی قوم میں سے ایک ایسی جماعت بھی ہے جو حق کے ساتھ ہدایت کرتی ہے اور معاملات میں حق وانصاف کے ساتھ کام کرتی ہے
وَقَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَىْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا‌ ؕ وَاَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰٓى اِذِ اسْتَسْقٰٮهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ‌ ۚ فَاْنۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا‌ ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ‌ؕ وَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَيْهِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰىؕ كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ‌ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَلٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ‏(160)
(160) اور ہم نے بنی اسرائیل کو یعقوب علیھ السّلام کی بارہ اولاد کے بارہ حصّو ں پر تقسیم کردیا اور موسٰی علیھ السّلام کی طرف وحی کی جب ان کی قوم نے پانی کا مطالبہ کیا کہ زمین پر عصا ماردو -انہوں نے عصا ماراتو بارہ چشمے جاری ہوگئے اس طرح کہ ہر گردہ نے اپنے گھاٹ کو پہچان لیا اور ہم نے ان کے سروں پر ابر کا سایہ کیااور ان پر من و سلوٰی جیسی نعمت نازل کی کہ ہمارے دیئے ہوئے پاکیزہ رزق کو کھاؤ اور ان لوگوں نے مخالفت کرکے ہمارے اوپر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ اپنے ہی نفس پر ظلم کررہے تھے
وَاِذْ قِيْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْيَةَ وَكُلُوْا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِيْٓئٰتِكُمْ‌ ؕ سَنَزِيْدُ الْمُحْسِنِيْنَ‏(161)
(161) اور اس وقت کو یاد کرو جب ان سے کہاگیا کہ اس قریہ میں داخل ہوجاؤ اور جو چاہو کھاؤ لیکن حطّہ کہہ کر داخل ہونا اور داخل ہوتے وقت سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا تاکہ ہم تمھاری خطاؤں کو معاف کردیں کہ ہم عنقریب نیک عمل والوں کے اجر میں اضافہ بھی کردیں گے
فَبَدَّلَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِىْ قِيْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ‏(162)
(162) لیکن ظالموں نے جو انھیں بتایا گیا تھا اس کو بدل کرکچھ اور کہنا شروع کردیا تو ہم نے ان کے اوپر آسمان سے عذاب نازل کردیا کہ یہ فسق اور نافرمانی کررہے تھے
وَسْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِىْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ‌ۘ اِذْ يَعْدُوْنَ فِى السَّبْتِ اِذْ تَاْتِيْهِمْ حِيْتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّيَوْمَ لَا يَسْبِتُوْنَ‌ ۙ لَا تَاْتِيْهِمْ‌‌ ۛۚ كَذٰلِكَ ‌ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ‏(163)
(163) اور ان سے اس قریہ کے بارے میں پوچھو جو سمندر کے کنارے تھا اور جس کے باشندے شنبہ کے بارے میں زیادتی سے کام لیتے تھے کہ ان کی مچھلیاں شنبہ کے دن سطح آب تک آجاتی تھیں اور دوسرے دن نہیں آتی تھیں تو انہوں نے حیلہ گری کرنا شروع کردی -ہم اسی طرح ان کا امتحان لیتے تھے کہ یہ لوگ فسق اور نافرمانی سے کام لے رہے تھے
وَاِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَاْ ‌ ۙ ۟اللّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا‌ ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ‏(164)
(164) اور جب ان کی ایک جماعت نے مصلحین سے کہا کہ تم کیوں ایسی قوم کو نصیحت کرتے ہو جسے اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا اس پرشدید عذاب کرنے والا ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم پروردگار کی بارگاہ میں عذرچاہتے ہیں اور شاید یہ لوگ متقی بن ہی جائیں
فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَيْنَا الَّذِيْنَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْۤءِ وَاَخَذْنَا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِيْسٍۭ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ‏(165)
(165) اس کے بعد جب انہوں نے یاد دہانی کو فراموش کردیا تو ہم نے برائیوں سے روکنے والوں کو بچالیا اور ظالموں کو ان کے فسق اور بدکرداری کی بنا پرسخت ترین عذاب کی گرفت میں لے لیا
فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ‏(166)
(166) پھر جب دوبارہ ممانعت کے باوجود سرکشی کی تو ہم نے حکم دے دیا کہ اب ذلّت کے ساتھ بندر بن جاؤ
وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ‌ ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيْعُ الْعِقَابِ ‌ ‌ۖۚ وَاِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ‏(167)
(167) اور اس وقت کو یاد کرو جب تمھارے پروردگار نے علی الاعلان کہہ دیا کہ قیامت تک ان پر ایسے افراد مسلّط کئے جائیں گے جو انھیں بدترین سختیوں میں مبتلا کریں گے کہ تمھارا پروردگار جلدی عذاب کرنے والا بھی ہے اور بہت زیادہ بخشنے والا مہربان بھی ہے
وَقَطَّعْنٰهُمْ فِى الْاَرْضِ اُمَمًا‌ ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَمِنْهُمْ دُوْنَ ذٰ لِكَ‌ وَبَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ‏(168)
(168) اورہم نے بنی اسرائیل کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کردیا بعض نیک کردار تھے اور بعض اس کے خلاف -اور ہم نے انھیں آرام اور سختی کے ذریعہ آزمایا کہ شاید راستہ پر آجائیں
فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ يَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَيَقُوْلُوْنَ سَيُغْفَرُ لَنَا‌ ۚ وَاِنْ يَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ يَاْخُذُوْهُ‌ ؕ اَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِّيْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا يَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَدَرَسُوْا مَا فِيْهِ‌ ؕ وَالدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ‌ ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ‏(169)
(169) اس کے بعد ان میں ایک نسل پیدا ہوئی جو کتاب کی وراث تو بنی لیکن دنیا کا ہر مال لیتی رہی اور یہ کہتی رہی کہ عنقریب ہمیں بخش دیا جائے گا اور پھر ویسا ہی مال مل گیا تو پھر لے لیا تو کیا ان سے کتاب کا عہد نہیں لیا گیا کہ خبردار خدا کے بارے میں حق کے علاوہ کچھ نہ کہیں اور انہوں نے کتاب کو پڑھا بھی ہے اور دار آخرت ہی صاحبان تقویٰ کے لئے بہترین ہے کیا تمھاری سمجھ میں نہیں آتا ہے
وَالَّذِيْنَ يُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ؕ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِيْنَ‏(170)
(170) اور جو لوگ کتاب سے تمسک کرتے ہیں اور انہوں نے نماز قائم کی ہے توہم صالح اورنیک کردار لوگوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے ہیں
وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌ ۢ بِهِمْ‌ ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّاذْكُرُوْا مَا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ‏(171)
(171) اور اس وقت کو یاد دلِاؤ جب ہم نے پہاڑ کو ایک سائبان کی طرح ان کے سروں پر معلّق کردیا اور انہوں نے گمان کرلیا کہ یہ اب گرنے والا ہے تو ہم نے کہا کہ توریت کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد کرو شاید اس طرح متقی اور پرہیزگار بن جاؤ
وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِىْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰٓى اَنْفُسِهِمْ‌ ۚ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ‌ ؕ قَالُوْا بَلٰى‌ ۛۚ شَهِدْنَا ‌ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَ ۙ‏(172)
(172) اور جب تمھارے پروردگار نے فرزند ان آدم علیھ السّلام کی پشتوں سے انکی ذرّیت کو لے کر انھیں خود ان کے اوپر گواہ بناکر سوال کیا کہ کیا میں تمھارا خدا نہیں ہوں تو سب نے کہا بیشک ہم اس کے گواہ ہیں -یہ عہد اس لئے لیا کہ روز قیامت یہ نہ کہہ سکو کہ ہم اس عہد سے غافل تھے
اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ‌ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ‏(173)
(173) یا یہ کہہ دو کہ ہم سے پہلے ہمارے بزرگوں نے شرک کیا تھا اور ہم صرف ان کی اولاد میں تھے تو کیا اہل باطل کے اعمال کی بنا پر ہم کو ہلاک کردے گا
وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ‏(174)
(174) اور اسی طرح ہم آیتوں کو مفّصل بیان کرتے ہیں اور شاید یہ لوگ پلٹ کرآجائیں
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِىْۤ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ‏(175)
(175) اور انھیں اس شخص کی خبر سنائیے جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا کیں پھر وہ ان سے بالکل الگ ہوگیا اور شیطان نے اس کا پیچھا پکڑلیا تو وہ گمراہوں میں ہوگیا
وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَلٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوٰٮهُ‌ ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ‌ ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَث ‌ؕ ذٰ لِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا‌ ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ‏(176)
(176) اور اگر ہم چاہتے تو اسے ان ہی آیتوں کے سبب بلند کردیتے لیکن وہ خود زمین کی طرف جھک گیا اور اس نے خواہشات کی پیروی اختیار کرلی تو اب اس کی مثال کِتّے جیسی ہے کہ اس پر حملہ کرو توبھی زبان نکالے رہے اور چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے -یہ اس قوم کی مثال ہے جس نے ہماری آیات کی تکذیب کی تو اب آپ ان قصّوں کو بیان کریں کہ شاید یہ غور وفکر کرنے لگیں
سَآءَ مَثَلَاْ ۟الْقَوْمُ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاَنْفُسَهُمْ كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ‏(177)
(177) کس قدر بری مثال ہے اس قوم کی جس نے ہماری آیات کی تکذیب کی اور وہ لوگ اپنے ہی نفس پرظلم کررہے تھے
مَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِىْ‌ۚ وَمَنْ يُّضْلِلْ فَاُولٰۤئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ‏(178)
(178) جس کو خدا ہدایت دے دے ہدایت یافتہ ہے اور جس کو گمراہی میں چھوڑدے وہی خسارہ والوں میں ہے
وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ‌ ‌ۖ  لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا  وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا  وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ؕ اُولٰۤئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ‌ ؕ اُولٰۤئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ‏(179)
(179) اور یقینا ہم نے انسان و جنات کی ایک کثیر تعداد کو گویا جہّنم کے لئے پیدا کیا ہے کہ ان کے پاس دل ہیں مگر سمجھتے نہیں ہیں اور آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں ہیں اور کان ہیں مگر سنتے نہیں ہیں -یہ چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں اور یہی لوگ اصل میں غافل ہیں
وَلِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا‌ وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِىْۤ اَسْمَآئِهٖ‌ ؕ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ‏(180)
(180) اور اللہ ہی کے لئے بہترین نام ہیں لہذا اسے ان ہی کے ذریعہ پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں بے دینی سے کام لیتے ہیں عنقریب انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا
وَمِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ‏(181)
(181) اور ہماری مخلوقات ہی میں سے وہ قوم بھی ہے جو حق کے ساتھ ہدایت کرتی ہے اور حق ہی کے ساتھ انصاف کرتی ہے
وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ ‌ۖ ‌ ۚ‏(182)
(182) اور جن لوگوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہم انہیں عنقریب اس طرح لپیٹ لیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہوگا
وَاُمْلِىْ لَهُمْ ‌ؕ اِنَّ كَيْدِىْ مَتِيْنٌ‏(183)
(183) اور ہم تو انہیں ڈھیل دے رہے ہیں کہ ہماری تدبیر بہت مستحکم ہوتی ہے
اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا‌ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ‌ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ‏(184)
(184) اور کیا ان لوگوں نے یہ غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی پیغمبر میں کسی طرح کا جنون نہیں ہے -وہ صرف واضح طور سے عذاب الٰہی سے ڈرانے والا ہے
اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِىْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَىْءٍ ۙ وَّاَنْ عَسٰٓى اَنْ يَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ‌ ۚ فَبِاَىِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ‏(185)
(185) اور کیا ان لوگوں نے زمین و آسمان کی حکومت اور خدا کی تمام مخلوقات میں غور نہیں کیا اور یہ کہ شاید ان کی اجل قریب آگئی ہو تو یہ اس کے بعد کس بات پر ایمان لے آئیں گے
مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِىَ لَهٗ ‌ؕ وَ يَذَرُهُمْ فِىْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ‏(186)
(186) جسے خدا ہی گمراہی میں چھوڑ دے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے اور وہ انہیں سرکشی میں چھوڑ دیتا ہے کہ ٹھوکریں کھاتے پھریں
يَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰٮهَا ‌ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّىْ‌ ۚ لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَۘ ‌ؕؔ ثَقُلَتْ فِى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‌ؕ لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً ‌ ؕ يَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِىٌّ عَنْهَا ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ‏(187)
(187) پیغمبر !یہ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ اس کا ٹھکانا کب ہے تو کہہ دیجئے کہ اس کا علم میرے پروردگار کے پاس ہے وہی اس کو بروقت ظاہر کرے گا یہ قیامت زمین و آسمان دونوں کے لئے بہت گراں ہے اور تمہارے پاس اچانک آنے والی ہے یہ لوگ آپ سے اس طرح سوال کرتے ہیں گویا آپ کو اس کی مکمل فکر ہے تو کہہ دیجئے کہ اس کا علم اللہ کے پاس ہے لیکن اکثر لوگوں کو اس کا علم بھی نہیں ہے
قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِىْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ‌ ؕ وَلَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ ۖ ‌ۛۚ وَمَا مَسَّنِىَ السُّۤوْءُ‌ ‌ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ‏(188)
(188) آپ کہہ دیجئے کہ میں خود بھی اپنے نفس کے نفع و نقصان کا اختیارنہیں رکھتا ہوں مگر جو خد اچاہے اور اگر میں غیب سے باخبر ہوتا تو بہت زیادہ خیر انجام دیتا اور کوئی برائی مجھ تک نہ آسکتی -میں تو صرف صاحبان ایمان کے لئے بشارت دینے والا اور عذاب الٰہی سے ڈرنے والا ہوں
هُوَ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا‌ ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰٮهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ‌ ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ‏(189)
(189) وہی خد اہے جس نے تم سب کو ایک نفس سے پیدا کیا ہے اور پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا ہے تاکہ اس سے سکون حاصل ہو اس کے بعد شوہر نے زوجہ سے مقاربت کی تو ہلکا سا حمل پید اہوا جسے وہ لئے پھرتی رہی پھر حمل بھاری ہوا اور وقت ولادت قریب آیا تو دونوں نے پروردگار سے دعا کی کہ اگر ہم کو صالح اولاد دے دے گا تو ہم تیرے شکر گزار بندوں میں ہوں گے
فَلَمَّاۤ اٰتٰٮهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِيْمَاۤ اٰتٰٮهُمَا‌ ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ‏(190)
(190) اس کے بعد جب اس نے صُالح فرزند دے دیا تو اللہ کی عطا میں اس کا شریک قرار دے دیا جب کہ خدا ان شریکوں سے کہیں زیادہ بلند و برتر ہے
اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ‌ ‌ۖ ‏(191)
(191) کیا یہ لوگ انہیں شریک بناتے ہیں جو کوئی شے خلق نہیں کرسکتے اور خود بھی مخلوق ہیں
وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَاۤ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ‏(192)
(192) اور ان کے اختیار میں خود اپنی مدد بھی نہیں ہے اور وہ کسی کی نصرت بھی نہیں کرسکتے ہیں
وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ‌ ؕ سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صٰمِتُوْنَ‏(193)
(193) اور اگر آپ انہیں ہدایت کی طرف دعوت دیں تو ساتھ بھی نہ آئیں گے ان کے لئے سب برابر ہے انہیں بلائیں یا چپ رہ جائیں
اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ‌ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ‏(194)
(194) تم لوگ جن لوگوں کو اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو سب تم ہی جیسے بندے ہیں لہذا تم انہیں بلاؤ اور وہ تمہاری آواز پر لبیک کہیں اگر تم اپنے خیال میں سچےّ ہو
اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا‌ ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ‏(195)
(195) کیا ان کے پاس چلنے کے قابل پیر -حملہ کرنے کے قابل ہاتھ ,دیکھنے کے قابل آنکھیں اور سننے کے لائق کان ہیں جن سے کام لے سکیں -آپ کہہ دیجئے کہ تم لوگ اپنے شرکاء کو بلاؤ اور جو مکر کرنا چاہتے ہو کرو اور ہرگز مجھے مہلت نہ دو ) دیکھوں تم کیا کرسکتے ہو
اِنَّ وَلىِّۦَ اللّٰهُ الَّذِىْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ‌ۖ  وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ‏(196)
(196) بیشک میرا مالک و مختار وہ خداہے جس نے کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک بندوں کا والی و وارث ہے
وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَاۤ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ‏(197)
(197) اور اسے چھوڑ کر تم جنہیں پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنے ہی کام آسکتے ہیں
وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا‌ ؕ وَتَرٰٮهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ‏(198)
(198) اگر تم ان کو ہدایت کی دعوت دو گے تو سن بھی نہ سکیں گے اور دیکھو گے تو ایسالگے گا جیسے تمہاری ہی طرف دیکھ رہے ہیں حالانکہ دیکھنے کے لائق بھی نہیں ہیں
خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ‏(199)
(199) آپ عفو کا راستہ اختیار کریں نیکی کا حکم دیں اور جاہلوں سے کنارہ کشی کریں
وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ‌ؕ اِنَّهٗ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ‏(200)
(200) اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی غلط خیال پیدا کیا جائے تو خدا کی پناہ مانگیں کہ وہ ہر شے کا سننے والا اور جاننے والا ہے
اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۤئِفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا هُمْ مُّبْصِرُوْنَ‌ۚ‏(201)
(201) جو لوگ صاحبان تقویٰ ہیں جب شیطان کی طرف سے کوئی خیال چھونا بھی چاہتا ہے تو خدا کو یاد کرتے ہیں اور حقائق کو دیکھنے لگتے ہیں
وَاِخْوَانُهُمْ يَمُدُّوْنَهُمْ فِى الْغَىِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُوْنَ‏(202)
(202) اور مشرکین کے برادران شیاطین انہیں گمراہی میں کھینچ رہے ہیں اور اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے ہیں
وَاِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰيَةٍ قَالُوْا لَوْلَا اجْتَبَيْتَهَا‌ ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا يُوْحٰٓى اِلَىَّ مِنْ رَّبِّىْ ‌ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ‏(203)
(203) اور اگر آپ ان کے پاس کوئی نشانی نہ لائیں تو کہتے ہیں کہ خود آپ کیوں نہیں منتخب کرلیتے تو کہہ دیجئے کہ میں تو صرف وحی پروردگار کا اتباع کرتا ہوں -یہ قران تمہارے پروردگار کی طرف سے دلائل ہدایت اور صاحبان ایمان کے لئے رحمت کی حیثیت رکھتا ہے
وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ‏(204)
(204) اور جب قرآن کی تلاوت کی جائے تو خاموش ہوکر غور سے سنو کہ شاید تم پر رحمت نازل ہوجائے
وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِىْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيْفَةً وَّدُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ‏(205)
(205) اور خدا کو اپنے دل ہی دل میں تضرع اور خوف کے ساتھ یاد کرو اور قول کے اعتبار سے بھی اسے کم بلند آواز سے صبح و شام یاد کرو اور خبردار غافلوں میں نہ ہوجاؤ
اِنَّ الَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَيُسَبِّحُوْنَهٗ وَلَهٗ يَسْجُدُوْنَ۩‏(206)
(206) جو لوگ اللہ کی بارگاہ میں مقرب ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں سجدہ ریز رہتے ہیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ‌ ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ‌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ‌ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ‏(1)
(1) پیغمبر یہ لوگ آپ سے انفال کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ انفال سب اللہ اور رسول کے لئے ہیں لہٰذا تم لوگ اللہ سے ڈرو اور آپس میں اصلاح کرو اور اللہ و رسول کی اطاعت کرو اگر تم اس پر ایمان رکھنے والے ہو
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ ‌‌ۖ ‌ۚ‏(2)
(2) صاحبان ایمان درحقیقت وہ لوگ ہیں جن کے سامنے ذکر خدا کیا جائے تو ان کے دلوں میں خوفِ خدا پیدا ہو اور اس کی آیتوں کی تلاوت کی جائے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوجائے اور وہ لوگ اللہ ہی پر توکل کرتے ہیں
الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَؕ‏(3)
(3) وہ لوگ نماز قائم کرتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے انفاق بھی کرتے ہیں
اُولٰۤئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ‌ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ‌ۚ‏(4)
(4) یہی لوگ حقیقتاصاحب ایمان ہیں اور ان ہی کے لئے پروردگار کے یہاں درجات اور مغفرت اور باعزّت روزی ہے
كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ‏(5)
(5) جس طرح تمہارے رب نے تمہیں تمہارے گھر سے حق کے ساتھ برآمد کیا اگرچہ مومنین کی ایک جماعت اسے ناپسند کررہی تھی
يُجَادِلُوْنَكَ فِى الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُوْنَؕ‏(6)
(6) یہ لوگ آپ سے حق کے واضح ہوجانے کے بعد بھی اس کے بارے میں بحث کرتے ہیں جیسے کہ موت کی طرف ہنکائے جارہے ہوں اور حسرت سے دیکھ رہے ہوں
وَاِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَيُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَۙ‏(7)
(7) اور اس وقت کو یاد کرو جب کہ خدا تم سے وعدہ کررہا تھا کہ دو گروہوں میں سے ایک تمہارے لئے بہرحال ہے اور تم چاہتے تھے کہ وہ طاقت والا گروہ نہ ہو اور اللہ اپنے کلمات کے ذریعہ حق کو ثابت کرنا چاہتا ہے اور کفاّر کے سلسلہ کو قطع کردینا چاہتا ہے
لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ‌ۚ‏(8)
(8) تاکہ حق ثابت ہوجائے اور باطل فنا ہوجائے چاہے مجرمین اسے کسی قدر برا کیوں نہ سمجھیں
اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۤئِكَةِ مُرْدِفِيْنَ‏(9)
(9) جب تم پروردگار سے فریاد کررہے تھے تو اس نے تمہاری فریاد سن لی کہ میں ایک ہزار ملائکہ سے تمہاری مدد کررہا ہوں جو برابر ایک کے پیچھے ایک آرہے ہیں
وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَلِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ‌ۚ وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ‏(10)
(10) اور اسے ہم نے صرف ایک بشارت قرار دیا تاکہ تمہارے دل مطمئن ہوجائیں اور مدد تو صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے -اللہ ہی صاحب عزّت اور صاحب حکمت ہے
اِذْ يُغَشِّيْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّيُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطٰنِ وَلِيَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ‏(11)
(11) جس وقت خدا تم پر نیند غالب کررہا تھا جو تمہارے لئے باعث سکون تھی اور آسمان سے پانی نازل کررہا تھا تاکہ تمہیں پاکیزہ بنادے اور تم سے شیطان کی کثافت کو دور کردے اور تمہارے دلوں کو مطمئن بنادے اور تمہارے قدموں کو ثبات عطا کردے
اِذْ يُوْحِىْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰۤئِكَةِ اَنِّىْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا‌ ؕ سَاُلْقِىْ فِىْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ‏(12)
(12) جب تمہارا پروردگار ملائکہ کو وحی کررہاتھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں لہٰذا تم صاحبان ایمان کو ثبات قدم عطا کرو میں عنقریب کفاّ رکے دلوں میں رعب پیداکردوں گا لہذا تم کفاّر کی گردن کو مار دو اور ان کی تمام انگلیوں کے پُور پُور کاٹ دو
ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمْ شَآ قُّوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ‌ ۚ وَمَنْ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ‏(13)
(13) یہ اس لئے ہے کہ ان لوگوں نے خدا و رسول کی مخالفت کی ہے اور جو خدا و رسول کی مخالفت کرے گا تو خدا اس کے لئے سخت عذاب کرنے والا ہے
ذٰ لِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَاَنَّ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابَ النَّارِ‏(14)
(14) یہ تو دنیا کی سزا ہے جسے یہاں چکھو اور اس کے بعد کافروں کے لئے جہّنمکا عذاب بھی ہے
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَ‌ۚ‏(15)
(15) اے ایمان والو جب کفاّر سے میدان جنگ میں ملاقات کرو تو خبردار انہیں پیٹھ نہ دکھانا
وَمَنْ يُّوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَمَاْوٰٮهُ جَهَنَّمُ‌ؕ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ‏(16)
(16) اور جو آج کے دن پیٹھ دکھائے گا وہ غضب الٰہی کا حق دار ہوگا اور اس کا ٹھکانا جہّنم ّہوگا جو بدترین انجام ہے علاوہ ان لوگوں کے جو جنگی حکمت علمی کی بنا پر پیچھے ہٹ جائیں یا کسی دوسرے گروہ کی پناہ لینے کے لئے اپنی جگہ چھوڑ دیں
فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى‌ ۚ وَلِيُبْلِىَ الْمُؤْمِنِيْنَ مِنْهُ بَلَاۤءً حَسَنًا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ‏(17)
(17) پس تم لوگوں نے ان کفاّر کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے قتل کیا ہے اور پیغمبرآپ نے سنگریزے نہیں پھینکے ہیں بلکہ خدا نے پھینکے ہیں تاکہ صاحبان ایمان پر خوب اچھی طرح احسان کردے کہ وہ سب کی سننے والا اور سب کا حال جاننے والا ہے
ذٰ لِكُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَيْدِ الْكٰفِرِيْنَ‏(18)
(18) یہ تو یہ احسان ہے اور خدا کفاّر کے مکر کو کمزور بنانے والا ہے
اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ‌ۚ وَاِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ‌ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ‌ۚ وَلَنْ تُغْنِىَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْئًا وَّلَوْ كَثُرَتْۙ وَاَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَ‏(19)
(19) اگر تم لوگ فتح چاہتے ہو تو یہ فتح آگئی اور اگر تم جنگ سے باز آجاؤ تو اس میں تمہارے لئے بھلائی ہے اور اگر دوبارہ ایسا کرو گے تو ہم بھی پلٹ کر آرہے ہیں اور تمہارا گروہ کتنا ہی بڑ اکیوں نہ ہو کام آنے والا نہیں ہے اور اللہ ہمیشہ صاحبان ایمان کے ساتھ ہے
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ‌ ۖ‌ ۚ‏(20)
(20) ایمان والو اللہ و رسول کی اطاعت کرو اور اس سے رو گردانی نہ کرو جب کہ تم سن بھی رہے ہو
وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ‌‏(21)
(21) اور ان لوگوں جیسے نہ ہوجاؤ جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا حالانکہ وہ کچھ نہیں سن رہے ہیں
اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ‏(22)
(22) اللہ کے نزدیک بد ترین زمین پر چلنے والے وہ بہرے اور گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے ہیں
وَلَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِيْهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ‌ؕ وَلَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ‏(23)
(23) اور اگر خدا ان میں کسی خیر کو دیکھتا تو انہیں ضرور سناتا اور اگر سنا بھی دیتا تو یہ منہ پھرا لیتے اور اعراض سے کام لیتے
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ‌ۚ وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗۤ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ‏(24)
(24) اے ایمان والو اللہ و رسول کی آواز پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس امر کی طرف دعوت دیں جس میں تمہاری زندگی ہے اور یاد رکھو کہ خدا انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور تم سب اسی کی طرف حاضر کئے جاؤ گے
وَاتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً‌ ۚ وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ‏(25)
(25) اور اس فتنہ سے بچو جو صرف ظالمین کو پہنچنے والا نہیں ہے اور یاد رکھو کہ اللہ سخت ترین عذاب کا مالک ہے
وَاذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِى الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰٮكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ‏(26)
(26) مسلمانو !اس وقت کو یاد کرو جب تم مکّہ میں قلیل تعداد میں اور کمزور تھے -تم ہر آن ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک لے جائیں گے کہ خد انے تمہیں پناہ دی اور اپنی مدد سے تمہاری تائید کی -تمہیں پاکیزہ روزی عطا کی تاکہ تم اس کا شکریہ ادا کرو
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ‏(27)
(27) ایمان والو خدا و رسول اور اپنی امانتوں کے بارے میں خیانت نہ کرو جب کہ تم جانتے بھی ہو
وَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ  ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِيْمٌ‏(28)
(28) اور جان لو کہ یہ تمہاری اولاد اور تمہارے اموال ایک آزمائش ہیں اور خدا کے پاس اجر عظیم ہے
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ‌ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ‏(29)
(29) ایمان والو اگر تم تقوٰی الٰہی اختیار کرو گے تو وہ تمہیں حق و باطل میں تفرقہ کی صلاحیت عطا کردے گا -تمہاری برائیوں کی پردہ پوشی کرے گا -تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا کہ وہ بڑا فضل کرنے والا ہے
وَاِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْكَ اَوْ يَقْتُلُوْكَ اَوْ يُخْرِجُوْكَ‌ؕ وَيَمْكُرُوْنَ وَيَمْكُرُ اللّٰهُ‌ؕ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ‏(30)
(30) اور پیغمبرآپ اس وقت کو یاد کریں جب کفار تدبیریں کرتے تھے کہ آپ کو قید کرلیں یا شہر بدر کردیں یا قتل کردیں اور ان کی تدبیروں کے ساتھ خدا بھی اس کے خلاف انتظام کررہا تھا اور وہ بہترین انتظام کرنے والا ہے
وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَٓا‌ ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ‏(31)
(31) اور ان کا یہ حال ہے کہ جب ہماری آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ سن لیا -ہم خود بھی چاہیں تو ایسا ہی کہہ سکتے ہیں یہ تو صرف پچھلے لوگوں کی داستانیں ہیں
وَاِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَ لِيْمٍ‏(32)
(32) اور اس وقت کو یاد کرو جب انہوں نے کہا کہ خدایا اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے یا عذاب الیم نازل کردے
وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ‌ؕ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ‏(33)
(33) حالانکہ اللہ ان پر اس وقت تک عذاب نہ کرے گا جب تک« پیغمبر مِ آپ ان کے درمیان ہیں اور خدا ان پر عذاب کرنے والا نہیں ہے اگر یہ توبہ اور استغفار کرنے والے ہوجائیں
وَمَا لَهُمْ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَهُمْ يَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَا كَانُوْۤا اَوْلِيَآءَهٗ‌ ؕ اِنْ اَوْلِيَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ‏(34)
(34) اور ان کے لئے کون سی بات ہے کہ خدا ان پر عذاب نہ کرے جب کہ یہ لوگوں کو مسجد الحرام سے روکتے ہیں اور اس کے متولی بھی نہیں ہیں -اس کے ولی صرف متقی اور پرہیزگار افراد ہیں لیکن ان کی اکثریت اس سے بھی بے خبر ہے
وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَيْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّتَصْدِيَةً‌  ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ‏(35)
(35) ان کی تو نماز بھی مسجد الحرام کے پاس صرف تالی اور سیٹی ہے لہذا اب تم لوگ اپنے کفر کی بنا پر عذاب کا مزہ چکھو
اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ‌ ؕ فَسَيُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُوْنَ ؕ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ يُحْشَرُوْنَۙ‏(36)
(36) جن لوگوں نے کفر اختیار کیا یہ اپنے اموال کو صرف اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ لوگوں کو راہ خدا سے روکیں تو یہ خرچ بھی کریں گے اور اس کے بعدیہ بات ان کے لئے حسرت بھی بنے گی اور آخر میں مغلوب بھی ہوجائیں گے اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا یہ سب جہّنم کی طرف لے جائے جائیں گے
لِيَمِيْزَ اللّٰهُ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَ يَجْعَلَ الْخَبِيْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَيَرْكُمَهٗ جَمِيْعًا فَيَجْعَلَهٗ فِىْ جَهَنَّمَ‌ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ‏(37)
(37) تاکہ خدا خبیث کو پاکیزہ سے الگ کردے اور پھر خبیث کو ایک پر ایک رکھ کر ڈھیر بنادے اور سب کو اکٹھا جہّنم میں جھونک دے کہ یہی لوگ خسارہ اور گھاٹے والے ہیں
قُلْ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ يَّنْتَهُوْا يُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَۚ وَاِنْ يَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِيْنَ‏(38)
(38) پیغمبر آپ کافروں سے کہہ دیجئے کہ اگر یہ لوگ اپنے کفر سے باز آجائیں تو ان کے گزشتہ گناہ معاف کردئیے جائیں گے لیکن اگر پھر پلٹ گئے تو گزشتہ لوگوں کا طریقہ بھی گزر چکا ہے
وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ‌ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ‏(39)
(39) اور تم لوگ ان کفاّر سے جہاد کرو یہاں تک کہ فتنہ کا وجود نہ رہ جائے اور سارا دین صرف اللہ کے لئے رہ جائے پھر اگر یہ لوگ باز آجائیں تو اللہ ان کے اعمال کا خوب دیکھنے والا ہے
وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰٮكُمْ‌ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ‏(40)
(40) اور اگر دوبارہ پلٹ جائیں تو یاد رکھو کہ خدا تمہارا مولا اور سرپرست ہے اور وہ بہترین مولا و مالک اور بہترین مددگار ہے