زیارت وداع ائمہ علیہم السَّلام
۵؎: (ذکر زیارت وداع جس سے ہر امام کو رخصت کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ وہ تمام آداب زیارت جو اپنی جگہ پر ذکر ہو چکے ہیں انھیں میں سے ایک وداع بھی ہے کہ جب شہر سے باہر جانے لگے تو معصومؑ کو رخصت کرے جیسا کہ عام زیارتوں میں بھی اس کاذکر پایا جاتا ہے اور ہم نے مفاتیح میں ابواب زیارات ائمہ میں ہر ایک کے لئے ایک صلوات وداعی بھی نقل کی ہے اور وداع سید الشہداءؑ میں اکتفاء کی ہے اس زیارت وداع پر جو آداب زائرِ حضرت کے ذیل میں ادب نمبر ۲۰ کے عنوان سے نقل کی ہے اور یہاں بھی ہم زیارت وداع کا ذکر کر رہے ہیں جس کو شیخ محمد بن مشہدیؒ نے باب وداع مزار کبیر میں نقل کیا ہے اور سید بن طاؤسؒ نے زیارت جامعہ کے بعد نقل کیا ہے۔ ہم اس وقت اس کو مصباح الزائر سے نقل کر رہے ہیں کہ جب کسی بھی معصومؑ کے روضہ سے رخصت ہونے لگے تو اس طرح کہے)
سلام ہو آپ پر اے نبوت کے اہلبیتؑ اور رسالت کےمعدن۔ یہ اس رخصت ہونے والے کا سلام ہے کو نہ خستہ حالی ہے نہ بیزار ہے اللہ کی رحمت و برکت آپ سب پر اے اہلبیتؑ اطہار وہ حمید بھی ہے اور مجید بھی ہے یہ سلام اس چاہنے والا کا ہے جو آپ سے کنارہ کش ہے اور نہ منحرف اور نہ آپ کے علاوہ کسی کو چاہتا ہے نہ کسی کو آپ پر مقدم کرتا ہے نہ آپ کی قربت سے بیزار ہے۔ اللہ آپ کی زیارت اور آپ کے مشاہد پر اس حاضری کو اس زندگی میں آخری نہ قرار دے۔ سلام ہو آپ پر۔ اللہ ہم سب کو آپ کے زمرہ میں محشور کرے اور آپ کے حوض کو ثر پر وارد کرے اور آپ کو ہم سے راضی کر دے اور ہمیں آپ کی حکومت میں قدرت عطا فرمائے اور آپ کی رجعت میں زندہ کرے اور آپ کے زمانہ میں ہم کو اختیارات دے اور ہماری سعی کو قبول فرمائے اور آپ کی شفاعت سے ہمارے گناہوں کو معاف کر دے اور آپ کی محبت سے ہمیں لغزشوں سے بچا لے اور آپ کی ولایت سے ہمارے مرتبہ کو بلند کر دے اور آپ کی اطاعت سے ہمیں شرف دےدےاور آپ کی ہدایت سے ہمیں عزت دےدے اور ان لوگوں میں قرار دےدے جو یہاں سے کامیاب صحیح و سالم، عافیت کے ساتھ غنی، رضوان فضلِ خدا پر فائز واپس ہوں۔ وہ بہترین واپسی جو کسی بھی زائر کو یا موالی اور محب اور شیعہ کو حاصل ہوئی ہو۔ اللہ ہم کو دوبارہ پھر دوبارہ پھر دوبارہ آنے کی توفیق دے جب تک زندہ رکھے سچی نیت ایمان، تقویٰ، خضوع اور وسیع و حلال طیب رزق کے ساتھ۔ خدایا ان حضرات کی زیارت ان کے ذکر اور ان پر صلوات کے اس مرحلہ کوآخری نہ قرار دینااور میرے لئے مغفرت و رحمت۔ خیر و برکت، نور و ایمان، بہترین قبولیت کو لازم قرار دےدیناجس طرح تو نے ان اولیاء کے لئے لازم قرار دیا ہے جو ان کے حق کو پہچانتے ہیں ان کی اطاعت کو لازم جانتے تھے ان کی زیارت میں راغب ہیں اور ان کی اور تیری طرف تقرب چاہتے ہیں۔ آپ پر میرے ماں باپ، میرا نفس، میرا مال اور میرے اہل سب قربان۔ مجھے اپنے قابل اہتمام اور میں شامل کر لیجئے اور اپنی حزب میں داخل کر لیجئے۔ اپنی شفاعت میں لے لیجئے اور اپنے پروردگار کے یہاں مجھے یاد رکھیئے گا۔ خدایا رحمت نازل فرما محمدؐ و آل محمدؐ پر اور ان کے ارواح و اجسام تک میری تحیت وسلام کو پہنچا دے۔ سلام ہو آپ سب پر اور اللہ کی رحمت و برکت آپ سب کے لئےہو۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا اَهْلَ بَيْتِ النُّبُوَّةِ وَ مَعْدِنَ الرِّسَالَةِ سَلَامَ مُوَدِّعٍ لَا سَئِمٍ وَ لَا قَالٍ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ اِنَّهُ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ سَلَامَ وَلِيٍّ غَيْرِ رَاغِبٍ عَنْكُمْ وَ لَا مُنْحَرِفٍ عَنْكُمْ وَ لَا مُسْتَبْدِلٍ بِكُمْ وَ لَا مُؤْثِرٍ عَلَيْكُمْ وَ لَا زَاهِدٍ فِيْ قُرْبِكُمْ لَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اٰخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِيَارَةِ قُبُوْرِكُمْ وَ اِتْيَانِ مَشَاهِدِكُمْ وَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ حَشَرَنِيَ اللّٰهُ فِي زُمْرَتِكُمْ وَ اَوْرَدَنِيْ حَوْضَكُمْ وَ اَرْضَاكُمْ عَنِّيْ وَ مَكَّنَنِيْ فِيْ دَوْلَتِكُمْ وَ اَحْيَانِيْ فِيْ رَجْعَتِكُمْ وَ مَلَّكَنِيْ فِيْۤ اَيَّامِكُمْ وَ شَكَرَ سَعْيِيْ لَكُمْ وَ غَفَرَ ذُنُوْبِيْ بِشَفَاعَتِكُمْ وَ اَقَالَ عَثْرَتِيْ بِحُبِّكُمْ وَ اَعْلٰى كَعْبِيْ بِمُوَالَاتِكُمْ وَ شَرَّفَنِيْ بِطَاعَتِكُمْ وَ اَعَزَّنِيْ
بِهُدٰئكُمْ وَ جَعَلَنِيْ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ مُفْلِحًا مُنْجِحًا سَالِمًا غَانِمًا مُعَافًا غَنِيًّا فَاۤئِزًا بِرِضْوَانِ اللّٰهِ وَ فَضْلِهِ وَ كِفَايَتِهِ، بِاَفْضَلِ مَا يَنْقَلِبُ بِهِ اَحَدٌ مِنْ زُوَّارِكُمْ وَ مَوَالِيْكُمْ وَ مُحِبِّيْكُمْ وَ شِيْعَتِكُمْ وَ رَزَقَنِيَ اللّٰهُ الْعَوْدَ ثُمَّ الْعَوْدَ ثُمَّ الْعَوْدَ مَاۤ اَبْقَانِيْ رَبِّيْ بِنِيَّةٍ صَادِقَةٍ وَ اِيْمَانٍ وَ تَقْوٰى وَ اِخْبَاتٍ وَ رِزْقٍ وَاسِعٍ حَلَالٍ طَيِّبٍ اَللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلْهُ اٰخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِيَارَتِهِمْ وَ ذِكْرِهِمْ وَ الصَّلٰوةِ عَلَيْهِمْ وَ اَوْجِبْ لِيَ الْمَغْفِرَةَ وَ الرَّحْمَةَ وَ الْخَيْرَ وَ الْبَرَكَةَ وَ النُّوْرَ وَ الْاِيْمَانَ وَ حُسْنَ الْاِجَابَةِ كَمَاۤ اَوْجَبْتَ لِاَوْلِيَاۤئِكَ الْعَارِفِيْنَ بِحَقِّهِمُ الْمُوْجِبِيْنَ طَاعَتَهُمْ وَ الرَّاغِبِيْنَ فِيْ زِيَارَتِهِمُ الْمُتَقَرِّبِيْنَ اِلَيْكَ وَ اِلَيْهِمْ بِاَبِيْۤ اَنْتُمْ وَ اُمِّيْ وَ نَفْسِيْ وَ مَالِيْ وَ اَهْلِيْۤ اِجْعَلُوْنِيْ مِنْ هَمِّكُمْ وَ صَيِّرُوْنِيْ فِيْ حِزْبِكُمْ وَ اَدْخِلُوْنِيْ فِيْ شَفَاعَتِكُمْ وَ اذْكُرُوْنِيْ عِنْدَ رَبِّكُمْ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَ اَبْلِغْ اَرْوَاحَهُمْ وَ اَجْسَادَهُمْ عَنِّيْ تَحِيَّةً كَثِيْرَةً وَ سَلَامًا وَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ