ENGLISH | اردو | Roman | Azerbaijani
🏠 🔍
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِهِ
خدایا محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَ هَبْ لِيَ الْغَدَاةَ رِضَاكَ
اور آج کی صبح مجھے اپنی رضا عطا فرمادے،
وَ اَسْكِنْ قَلْبِيْ خَوْفَكَ
میرے دل میں اپنا خوف پیدا کردے
وَ اقْطَعْهُ عَمَّنْ سِوَاكَ
اور اسے ہر ایک طرف سے قطع کردے
حَتّٰى لَاۤ اَرْجُوْ وَ لَاۤ اَخَافَ اِلَّاۤ اِيَّاكَ
تا کہ میں تیرے علاوہ نہ کسی کا امیدوار بنوں اور نہ کسی سے خوفزدہ ہوں
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِهِ
خدایا محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَ هَبْ لِيْ ثَبَاتَ الْيَقِيْنِ
اور مجھے یقین کا ثبات
وَ مَحْضَ الْاِخْلَاصِ
اور اخلاصِ کامل عطا فرما۔
وَ شَرَفَ التَّوْحِيْدِ
توحید کا شرف
وَ دَوَامَ الْاِسْتِقَامَةِ
ہمیشہ کی استقامت،
وَ مَعْدِنَ الصَّبْرِ
صبر کا معدن،
وَ الرِّضَا بِالْقَضَاۤءِ وَ الْقَدَرِ
قضا و قدر پر راضی رہنے کی توفیق عطا فرما۔
يَا قَاضِيَ حَوَاۤئِجِ السَّاۤئِلِيْنَ
اے ساری حاجتوں کے پورا کرنے والے
يَا مَنْ يَعْلَمُ مَا فِيْ ضَمِيْرِ الصَّامِتِيْنَ
اور خاموش لوگوں کے حال دل کے جاننے والے
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهِ،
محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَ اسْتَجِبْ دُعَاۤئِي
اور ہماری دعا کو قبول فرمالے
وَ اغْفِرْ ذَنْبِيْ
ہمارے گناہوں کو معاف کردے
وَ اَوْسِعْ رِزْقِيْ
ہمارے رزق میں وسعت عطا فرما
وَ اقْضِ حَوَاۤئِجِيْ فِي نَفْسِيْ
اور ہماری ذات کے بارے میں
وَ اِخْوَانِيْ فِيْ دِيْنِيْ وَ اَهْلِيْ
اور برادرانِ دینی اور اہل و عیال کے بارے میں حاجتوں کو قبول فرمالے۔
اِلٰهِيْ طُمُوْحُ الْاٰمَالِ قَدْ خَابَتْ اِلَّا لَدَيْكَ
خدایا تمام امیدیں تیرے علاوہ ہر ایک کے سامنے ناکام ہوجاتی ہیں
وَ مَعَاكِفُ الْهِمَمِ قَدْ تَعَطَّلَتْ اِلَّا عَلَيْكَ
اور تمام ہمّتیں تیری بارگاہ کے علاوہ معطّل
وَ مَذَاهِبُ الْعُقُوْلِ قَدْ سَمَتْ اِلَّاۤ اِلَيْكَ
اور بے کار ہوجاتی ہیں عقل کے سارے راستے
فَاَنْتَ الرَّجَاۤءُ وَ اِلَيْكَ الْمُلْتَجَاُ
سوائے تیرے بند ہوجاتے ہیں کہ تو ہی امیدوں کا مرکز ہے اور توہی پناہ گاہ ہے
يَاۤ اَكْرَمَ مَقْصُوْدٍ وَ اَجْوَدَ مَسْئُوْلٍ
اے کریم ترین مقصود اور کریم ترین مسئول
هَرَبْتُ اِلَيْكَ بِنَفْسِيْ
میں تیری بارگاہ میں بھاگ کر آیا ہوں کہ
يَا مَلْجَاَ الْهَارِبِيْنَ، بِاَثْقَالِ الذُّنُوْبِ
تو ہربھاگ کر آنے والے کی پناہ گاہ ہے۔ اپنے گناہوں کا بوجھ
اَحْمِلُهَا عَلٰى ظَهْرِيْ
اپنی پشت پر لادکر لایا ہوں۔
لَاۤ اَجِدُ لِيْ اِلَيْكَ شَافِعًا
میرا کوئی سفارش کرنے والا نہیں ہے
سِوٰى مَعْرِفَتِيْ بِاَنَّكَ اَقْرَبُ مَنْ رَجَاهُ الطَّالِبُوْنَ
سوائے اس معرفت کے کہ تو سب سے زیادہ قریب ہے جس سے طلبگار امیدیں وابستہ کرتے ہیں
وَ اَمَّلَ مَا لَدَيْهِ الرَّاغِبُوْنَ
یا رغبت رکھنے والے اس کا اشتیاق رکھتے ہیں۔
يَا مَنْ فَتَقَ الْعُقُوْلَ بِمَعْرِفَتِهِ
اے وہ پروردگار جس نے عقلوں کو معرفت کے ذریعہ کشادہ کیا ہے
وَ اَطْلَقَ الْاَلْسُنَ بِحَمْدِهِ
اور زبانوں کو اپنی حمد سے رواں کیا ہے
وَ جَعَلَ مَا امْتَنَّ بِهِ عَلٰى عِبَادِهِ فِي كِفَاۤءٍ لِتَأْدِيَةِ حَقِّهِ [اَنَالَ بِهِ حَقَّهُ‏]
اور جو کچھ بھی اپنے بندوں پر احسان کیا ہے۔ اس کو اپنے حق کو ادا کرنے کے لیے کافی قرار دیا ہے
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِهِ
محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَ لَا تَجْعَلْ لِّلشَّيْطَانِ عَلٰى عَقْلِيْ سَبِيْلًا
اور شیطان کو ہماری عقل پر راستہ نہ دینا
وَ لَا لِلْبَاطِلِ عَلٰى عَمَلِيْ دَلِيْلًا۔
اور نہ باطل کا گذر ہمارے اعمال پر ہونے پائے۔