ENGLISH | اردو | Roman | Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
زیارت جامعہ کبیرہ
(شیخ صدوقؒ نے فقیہ وعیون میں موسیٰ بن عبداللہ نخعی سے روایت کی ہے کہ میں نے امام علی نقیؑؑ سے عرض کیا کہ فرزند رسولؐ مجھے وہ زیارت تعلیم فرمائیں جو مکمل ہو اور آپ میں سے کسی کی بھی زیارت کرنا چاہوں تو اسی زیارت کو پڑھ لوں۔فرمایا جب حرم کے پاس پہونچو توکلمہ شہادتین پڑھو۔)
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی خدانہیں ہے اور کا کوئی خدا نہیں ہے اور کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمدؐ اس کے بندہ اور سول ہیں۔
(اس کے بعد غسل کر کے حرم میں داخل ہو اور قبر کو دیکھنے کے بعد ٹھہر کر ۳۰ مرتبہ
اَشهَدُاَنْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الله
اَللهُ اَكْبَرُ
وَحْدَهُ لَا شَرِیْكَ لَهُ،
وَ اَشْهَدُاَنَّ مُحَمَّدًا
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ
عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ
اس کے بعد دو قدم آگے بڑھ کر پھر ٹھہرو اور ۳۰ مرتبہ اللہ اکبر کہو اور پھر قبر مطہر کے پاس پہنچ کر ۴۰ مرتبہ اللہ اکبر کہو تاکہ ۱۰۰ تکبیریں مکمل ہو جائیں اور شاید بقول مجلس اول اس تکبیر کی وجہ یہ ہو کہ اکثر طبیعتیں غلو میں طرف مائل ہوتی ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ اس زیارت کی عبارتوں کودیکھ کر غلو میں مبتلا ہو جائیں یا پروردگار کی بزرگی سے غافل ہو جائیں یا کوئی اور غلط تصور پیدا ہو جائے۔ لہٰذا پہلے اس کی کبریائی کا احساس پیدا کرے اس کے بعد یوں کہو:)
اَللهُ اَكْبَرُ
سلام ہو آپ پر اے اہلبؑیت نبوت اور مرکز رسالت اور منزل رفت و آمد ملائکہ اور مرکزنزول وحی و معدن رحمت و خزانہ دار علم و منتہائے حلم و اصول کرم و قائدین امت و اولیاء نعمت اور نیک کرداروں کی اصل،پسندیدہ لوگوں کے سہارے، بندوں کے منتظم،شہروں کے ارکان یمان کے دروازے۔ رحمان کے امین۔ انبیاء کا خلاصہ مرسلین کے منتخب منتخب رب العالمین کی عترت آپ پر اللہ کی رحمت و برکت ہو۔ سلام ہو ہدایت کے امام، تاریکیوں کے چراغ، تقویٰ کے پرچم، صاحبان خرد، ارباب عقل، مخلوق کی پناہ گاہ، انبیاء کے وارث خدا کی بلند ترین مثال، اس کی حسین ترین دعوت اور دنیا و آخرت میں اس کی حجتوں پر اور اللہ کی رحمت و برکت ان سب کے لئے۔ سلام ہو معرفت خدا کے محل، برکت الٰہی کے مسکن، حکمت خدا کے معدن، راز خدا کے محافظ،کتاب خدا کے حامل، رسول خدا کے اوصیاء اور پیغمبر اکرمؐ کی ذریت پر (اللہ کی رحمت و برکت ان سب کے لئے ہے)سلام ہو اللہ کی کی طرف دعوت دینے والے،مرضی خدا کے رہنما، امر الٰہی کے ثابت قدم، محبت خدامیں کامل، توحید خدا کے مخلص، امر ونہی کے ظاہر کرنے والے اور اللہ کے ان محترم بندوں پر جو اس کے حکم پر سبقت نہیں کرتے ہیں اور اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں اور اس کی رحمت انھیں کےلئے ہے۔ سلام ہو داعیان حق امام اور قائدین خلق ہادی حکام سردار حامیان دین حق صاحبان ذکر اور اولی الامر پر اور اللہ کی باقی نشانی اور اس کے منتخب، اس کے گروہ، اس کے علم کے مرکز،اس کی حجت، اس کے صراط مستقیم، اس کے نور اور اس کے برہان پر(اس کی رحمت و برکت انھیں سب کے لئے ہے)۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ جس طرح اس نے خود اپنے لئے گواہی دی ہے اور اس کے ملائکہ اور صاحبان علم نے گواہی دی ہے۔ خدائے عزیز و حکیم کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اس کے منتخب بندہ اور پسندیدہ رسول ہیں جن کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا گیا ہے تا کہ سارے ادیان پر دین خدا کو غالب بنائیں چاہے یہ بات مشرکین کو ناگوار ہی کیوں نہ ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ حضرات امام راشدِ مہدیِ معصوم و محترم و مقرب و متقی و صادق۔ اللہ کے مطیع، امر خدا کے قائم کرنے والے، اس کے ارادہ سے عمل کرنے والے، اس کی کرامت کی منزل پر فائز ہیں۔ اس نے اپنے علم سے آپ کو چُنا، اپنے غیب کے لئے منتخب کیا اور اپنے راز کے لئے اختیار کیا۔ اپنی قدرت سے مخصوص کیا۔ اپنی ہدایت سے عزت دی۔ اپنے برہان کے لئے خلافت کے لئے پسند کیا۔ مخلوقات پر اپنی حجت قرار دیا۔ دین کا مددگار بنایا۔ راز کا محافظ، علم کا خزانہ دار، حکمت کا امانت دار، وحی کا ترجمان توحید کا رکن، مخلوقات پر گواہ،بندوں کےلئے پرچم ہدایت، اپنے شہروں میں منارہ ٔ نور اور اپنے راستہ کے لئے راہ نما قرار دیا۔اللہ نے آپ کو لغزشوں سے بچایا۔ فتنوں سے محفوظ رکھا۔کثافتوں سے پاک کیا۔ رجس کو دور رکھا اور حق طہارت عطا کیا۔ تو آپ نے اس کی جلالت کی تعظیم کی۔ اس کی شان کی بزرگی کا اظہار کیا۔ اس کے کرم کی تمجید کی۔اس کے ذکر کو مسلسل رکھا۔ اس کے عہد کو مستحکم بنایا۔ اس کی اطاعت کے پیمان کو محکم کیا۔ ظاہر و باطن میں اس کے ساتھ اخلاص رکھا۔ اس کی راہ کی طرف حکمت اور موعظہ حسنہ کے ساتھ دعوت دی۔ اس کی مرضی میں جان قربان کی۔ اس کی راہ میں مصیبتوں پر صبر کیا۔ نماز قائم کی، زکوٰۃ ادا کی۔ نیکی کا حکم دیا۔ برائی سے روکا۔ راہ خدا میں حق جہاد ادا کیا یہاں تک کہ اس کی دعوت کا اعلان کر دیا۔ اس کے فرائض کو واضح کر دیااس کے حدود کا قائم کر دیا اس کے احکام کو نشر کیا اور اس کی سنتوں کو جاری کیا اور آخر منزلِ رضا تک پہونچ گئے اور اپنے کو اس کے فیصلہ کے حوالہ کر دیا۔ اور اس کے گذشتہ رسولوں کی تصدیق کر دی۔ لہٰذا جو آپ سے کنارہ کش ہوا وہ دین سے خارج ہے اور جو آپ سے وابستہ ہوا وہ حق سے وابستہ ہے۔ آپ کے حق میں کوتاہی کرنے والا ہلاک ہو گیا کہ حق آپ کے ساتھ، آپ میں، آپ سے اور آپ کی طرف ہے۔ آپ ہی اس کے اہل اور اس کے معدن ہیں۔ نبوت کی میراث آپ کے پاس ہے۔ مخلوقات کی برگشت آپ کی طرف ہے ان کے حساب کی ذمہ داری آپ پر ہے۔ بہترین حرف حق آپ کے پاس ہے۔ اللہ کی نشانیاں آپ کے پاس ہیں۔ اس کے عزائم آپ کے یہاں ہیں۔ اس کا نور، اس کا برہان آپ کے پاس ہے۔ اس کے امر کی بازگشت آپ کی طرف ہے۔ آپ کا دوست اللہ کا دوست اور آپ کا دشمن اللہ کا دشمن ہے۔ آپ کا محب اور آپ سے بیزار ہونے والا اللہ سے بیزار ہے اور آپ سے تمسک کرنے والا اللہ سےتمسک ہے کہ آپ ہی صراط مستقیم ہیں۔ دار فنا کے گواہ اور دار بقاء کے شفیع۔ اللہ کی مسلسل رحمت، اس کی مخزون آیت اور اس کی محفوظ امانت ہیں اور وہ درِ رحمت ہیں جس سے لوگوں کی آزمائش ہوتی ہےکہ جو آگیا وہ نجات پاگیا اور جو نہیں آیا وہ ہلاک ہو گیا۔ آپ خدا کی طرف داعی اور اس کی طرف رہنمائی کرنے والے ہیں۔ اس پر ایمان رکھتے ہیں اس کے لئے سراپا تسلیم ہیں اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔ اس کے راستہ کی ہدایت کرتے ہیں۔ اس کے قول سے فیصلہ کرتے ہیں۔ آپ کا چاہنے والا نیک بخت ہے اور آپ کا دشمن ہلاک ہے۔ آپ کا منکرناکام ہے اور آپ سے الگ ہونے والا گمراہ ہے۔ آپ سے متمسک کامیاب ہےاورآپ کی پناہ میں آنےوالا مامون ہے۔ آپ کی تصدیق کرنے والا سالم ہے اور آپ سے وابستہ ہونے والا ہدایت یافتہ ہے۔ جو آپ کا اتباع کرے جنت اس کی جگہ ہے اور جو آپ کی مخالفت کرے جہنم اس کا ٹھکانہ ہے۔ آپ، آپ کا منکر کافر، آپ سے جنگ کرنے والا مشرک، آپ کو رد کرنے والا جہنم کے آخری طبقہ میں ہو گا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ گذشتہ میں یہی آپ کا مرتبہ رہا ہے اور آئندہ بھی یہی سلسلہ رہنے والا ہے۔ آپ کے ارواح، آپ کا نور، آپ کی طینت سب ایک ہے۔ طیب و طاہر، پاک و پاکیزہ اور مسلسل ہے اللہ نے آپ کو نور مجسم بنایا اور اپنےعرش کے گرد رکھا یہاں تک کہ ہم پر احسان کیا اور آپ کو ان گھروں میں اتار دیا جن کی بلندی کا حکم دیا گیا ہے اورجن میں ان کا ذکر ہوتا رہتا ہے اور ہماری صلوات کو اور ہماری محبت کو، ہماری خلقت کی پاکیزگی، ہمارے نفس کی طہارت اور ہمارے گناہوں کا کفارہ قرار دےدیا۔ ہم اس کی بارگاہ میں آپ کے فضل کے معترف اور آپ کی تصدیق کے لئے معروف ہیں۔ اللہ آپ کو مقربین کی اعلیٰ منزل اور مرسلین کے بلند ترین درجات تک پہونچائے جہاں کوئی پہنچ نہ سکے اور جس سے کوئی اونچا نہ ہو سکے اور جس سے کوئی آگے نہ نکل سکے اور حاصل کرنے کی کسی میں طمع نہ ہو۔ یہاں تک کہ کوئی ملک مقرب، نبی مرسل، صدیق، شہید، عالم، جاہل، کمتر، فاضل، مومن صالح، فاجر بدکردار، جبار ظالم، شیطان سرکش، اور کوئی مخلوق ایسی نہ رہ جائے جس کو آپ کی جلالتِ امر بتا نہ دی جائے اور آپ کی عظمت، آپ کی شان کی بزرگی،آپ کے نور کی تمامیت،آپ کی منزل کی صداقت، آپ کے،آپ کی منزل کی صداقت، آپ کے مقام کا ثبات، آپ کے محلّ کا شرف اور آپ کی منزلت و کرامت وخصوصیت و قر ب الٰہی کا تعارف نہ کرا دیاجائے۔ میرے ماں باپ، میرے اہل و مال و خاندان سب آپ پر قربان۔ میں اللہ اور آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں آپ کی اور ہر اس چیز پر ایمان رکھتا ہوں جس پر آپ کا ایمان ہے۔ آپ کے دشمن اور جس کا آپ انکار کر دیں سب کا منکر ہوں۔ آپ کی شان کو اور آپ کے دشمن کی گمراہی کا جانتا ہوں۔ آپ کا اور آپ کے اولیاء کا دوست ہوں اور آپ کے دشمنوں کو دشمن ہوں۔ جس سے آپ کی صلح ہے اس سے میری صلح ہے اور جس سے آپ کی جنگ ہے اس سے میری جنگ ہے۔ جسے آپ حق کہیں وہ میری نظر میں بھی حق ہے اور جس کو آپ باطل کہیں وہ میری نظر میں بھی باطل ہے۔ میں آپ کا طاعت گذار، آپ کے حق کا عارف، آپ کے فضل کو معترف، آپ کے علم کا حامل، آپ کی ذمہ داری میں پناہ لینے والا، آپ کا معترف، آپ کی واپسی کا مومن، آپ کی رجعت کا تصدیق کرنے والا، آپ کے امر کا منتظرآپ کی حکومت کا امیدوار، آپ کے قول کو اختیار کرنے والا، آپ کے حکم پر عمل کرنے والا، آپ کی پناہ میں رہنے والا، آپ کا زائر، آپ کی قبر کی پناہ میں رہنے والا اور آپ کو شفیع قرار دینے والا، آپ کے ذریعہ قرب الٰہی تلاش کرنے والا، اپنی حاجتوں میں آپ کو حوالہ کر دینے والا، آپ کے لئے سراپا تسلیم ہوں۔ میرا دل آپ کے لئے تسلیم ہے اور میری رائے آپ کی تابع ہے۔ میری نصرت آپ کے لئے مہیا ہے یہاں تک کہ خدا اپنے دین کو آپ کے ذریعہ زندہ کر دے اور آپ کو اپنے دنوں میں واپس لے آئے اور آپ کو اپنے عدل کے لئے سامنے لے آئے اور آپ کو زمین میں غالب بنائے۔ میں آپ کے ساتھ ہوں۔ آپ کے ساتھ ہوں۔ غیر کے ساتھ نہیں ہوں۔ آپ پر میرا ایمان ہے آپ کے اول و آخر سے میری محبت ہے، اور آپ کے تمام دشمنوں سے، تمام طاغوتوں سے، شیاطین سے، ان ظالموں کے گروہوں سے، آپ کے حق کے منکروں سے، آپ کی ولایت سے نکل جانے والوں سے، آپ کی میراث کے غاصبوں سے، آپ کے بارے میں شک کرنے والے، آپ سے انحراف کرنے والے اور ایسے تمام لوگوں سے اور ایسے تمام حاکموں سے بیزار ہوں اور ان رہنماؤں سے بھی بیزار ہوں جو جہنم کی دعوت دینے والے ہیں۔ اللہ تا حیات مجھے آپ کی محبت، آپ کی موالات اور آپ کے دین پر ثابت رکھے۔ آپ کی اطاعت کو توفیق دے۔ آپ کی شفاعت نصیب کرے۔ آپ کی بہترین غلاموں میں، آپ کی دعوت کا اتباع کرنے والوں میں قرار دے اور ان میں قرار دے جو آپ کے آثار کا اتباع کریں۔ آپ کے راستہ پر چلیں۔ آپ سے ہدایت حاصل کریں۔ آپ کے زمرہ میں محشور ہوں۔ آپ کی رجعت میں واپس ہوں۔ آپ کی حکومت میں حاکم بنیں اور آپ کی عافیت کا شرف حاصل کریں۔ آ پ کے زمانہ میں اختیار حاصل کریں اور ان کی آنکھیں کل آپ کی زیارت سے ٹھنڈی ہوں۔ میرا نفس، میرے ماں باپ، میرے اہل اور میرا مال سب آپ پر قربان۔ جو اللہ کو چاہتا ہے وہ آپ سے شروع کرتا ہےاور جو توحید کا اقرار کرتا ہے وہ آپ سے سیکھتاہے۔ جو اللہ کا تصور کرتاہے وہ آپ کا رخ کرتا ہے۔ میرے آقا! میں آپ کی ثناء کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ آپ کی مدح کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔ آپ کے اوصاف کی منزل نہیں جانتا۔ آپ نیک کرداروں کے نور، شریفوں کے ہادی اور اللہ کی حجت ہیں۔ خدا نے آپ ہی کے ذریعہ آغاز بھی کیا اور اختتام بھی کرے گا۔ آپ ہی کے وسیلہ سے پانی برساتاہے آپ ہی کے ذریعہ آسمانوں کو زمین پر گرنے سے روکے ہوئے ہے اور آپ ہی کے ذریعہ رنج و غم کا علاج کرتا ہے اور آپ کے پاس وہ سب کچھ ہے جو مرسلین لائے اور جسے ملائکہ نے پہونچایا۔ آپ کے جد بزرگوار کی طرف
(اگرامیرالمومنین علیہ السلام کی زیارت ہو تو جَدِّکَ کے بجائے
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَاۤ اَهْلَ بَيْتِ النُّبُوَّةِ
وَ اِلٰى اَخِيْكَ
وَ مَوْضِعَ الرِّسَالَةِ
کہے)
وَ مُخْتَلَفَ الْمَلَاۤئِكَةِ
روح الامین کو بھیجا گیا۔ اللہ نے آپ کو وہ سب کچھ دیا جو عالمین میں کسی کو نہ دیا۔ ہر شریف آپ کے شرف کے سامنے سرنگوں ہے اور ہر متکبر آپ کی اطاعت کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہے۔ ہر جبار آپ کے فضل کے آگے خاضع ہے اور ہر سئے آپ کے سامنے خاکسار ہے۔ زمین آپ کے نور سے روشن ہے۔لوگ آپ کی محبت سے کامیاب ہوتے ہیں۔ آپ کے ذریعہ رضائے الٰہی تک پہونچا جاتا ہے۔ آپ کے منکر ولایت پر اللہ کا غضب ہے۔ میرے ماں باپ، میری جان و مال اور میرے اہل سب آپ پر قربان۔ آپ کا ذکر ذاکرین میں ہے۔ آپ کا نام ناموں میں نمایاں ہے۔ آپ کے اجساد جسموں میں۔آپ کی روحیں ارواح میں۔ آپ کے نفس نفوس میں۔ آپ کے آثار آثار میں۔ آپ کی قبریں قبروں میں نمایاں ہیں۔ کیا شیریں آپ کے نام ہیں اور کیا کریم آپ کا نفس ہے۔ کیا عظیم آپ کی شان ہے اور کیا بلند آپ کا مرتبہ ے۔ کیا باوفا آپ کا عہد ہے اور کیا سچا آپ کا وعدہ ہے۔ آپ کا کلام نور، آپ کا امر ہدایت، آپ کی وصیت تقویٰ، آپ کا کام خیر، آپ کی عادت احسان، آپ کی طبیعت کرم، آپ کی شان حق و صداقت و مہربانی، آپ کا قول حکم و عدل، آپ کی رائے علم وحلم و حزم، کسی خیر کاذکرآئے تو آپ ہی اول ہیں، اصل ہیں، فرع ہیں، معدن ہیں، ملجاء و ماویٰ اور منتہیٰ ہیں۔ میرے ماں باپ اور میری جان آپ پر قربان میں کیسے آپ کی ثنا کروں اور کیسے آپ کے احسانات کا شمار کروں۔ آپ کے ذریعہ خدا نے ہمیں ذلت سے نکالا ہے۔ رنج و غم کو دور کیا ہے۔ ہلاکتوں سے نجات دی ہے۔ جہنم سے بچایا ہے۔ آپ پر میری جان میرے ماں باپ قربان۔ آپ کی محبت سے خدا نے ہمیں دین کے احکام بتائے ہیں اور ہماری فاسد دنیا کی اصلاح کی ہے۔ آپ کی موالات سے کلمات تمام ہوئے ہیں نعمتیں عظیم ہوئی ہیں۔اختلاف دور ہوا ہے اور آپ ہی کی محبت سے اطاعت بول ہوئی ہے۔ آپ کے لئے محبت واجب کا حق ہے۔ آپ کے درجات بلند، مقام محمود، مکان معلوم، مرتبہ عظیم، شان کبیر، مقبول شفاعت ہے۔ خدایا! ہم تیری تنزیل پرایمان لائے۔ تیرے رسول کا تباع کیا۔ ہمیں بھی گواہوں میں درج کر لے۔ ہمارے دلوں کو ہدایت کے بعد گمراہ نہ ہونے دینا اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرماناکہ تو بہترین عطا کرنے والا ہے۔ پاکیزہ ہے میرا پروردگار کہ اس کا وعدہ یقیناً حتمی ہے۔ اے ولی خدا میرے اور اللہ کے درمیان کچھ گناہ ہیں جن کو آپ کی رضا کے علاوہ کوئی مٹا نہیں سکتا ہے۔ اس کے حق کا واسطہ جس نے آپ کو امین راز بنایا۔ مخلوقات کے امر کا نگراں بنایا اور اپنی اطاعت کو آپ کی اطاعت سے ملا دیا ہے۔ اگر آپ نے ہمارے گناہوںکو اپنی بخشش میں لے لیاہے اور ہمارے شفیع بن گئے ہیں تو ہم آپ کے مطیع ہیں کہ جس نے آپ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے آپ کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ہے۔ جو آپ سے محبت کرے اس نے اللہ سے محبت کی اور جو آپ سے نفرت کرے اس نے اللہ سے نفر ت کی ہے۔ خدایا اگر محمدؐ و آل محمدؐ کے نیک کردار ائمہ اطہار ؑ سے قریب تر کوئی وسیلہ پا جاتا تو انھیں کو شفیع بناتا لہٰذا اب ان کے اس حق کا واسطہ جو تو نے اپنے اوپر لازم قرار دیا ہے کہ مجھے ان کے حق کے عارفوں میں شامل کر لے اور اس زمرہ میں داخل کر لے جو ان کی شفاعت کی رحمت حاصل کر سکے کہ تو بہترین رحم کرنے والا ہے اور اللہ حضرت محمدؐ اور ان کی آل طاہرین پر صلوات اور سلام کثیر نازل کرے۔ ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین ذمہ دار ہے۔
وَ مَهْبِطَ الْوَحْيِ
(مؤلّف! اس زیارت کوشیخؒ نے تہذیب میں نقل کیا ہے اور اس کے بعد ایک دعاء وداع نقل کی ہے جس کو اختصار کی بنا پر ہم نے ترک کر دیا ہے۔ یہ زیارت بقول علامہ مجلسیؒ باعتبار عبارت و سند و فصاحت و بلاغت بہترین زیارت احسن و اکمل زیارت ہے اور میں جب تک عتبات عالیات میں رہا ائمہ کی یہی زیارت پڑھتا رہا۔)
وَ مَعْدِنَ الرَّحْمَةِ
وَ خُزَّانَ الْعِلْمِ
وَ مُنْتَهَى الْحِلْمِ
وَ اُصُوْلَ الْكَرَمِ
وَ قَادَةَ الْاُمَمِ
وَ اَوْلِيَاۤءَ النِّعَمِ
وَ عَنَاصِرَ الْاَبْرَارِ
وَ دَعَاۤئِمَ الْاَخْيَارِ
وَ سَاسَةَ الْعِبَادِ
وَ اَرْكَانَ الْبِلَادِ
وَ اَبْوَابَ الْاِيْمَانِ
وَ اُمَنَاۤءَ الرَّحْمٰنِ
وَ سُلَالَةَ النَّبِيِّيْنَ
وَ صَفْوَةَ الْمُرْسَلِيْنَ
وَ عِتْرَةَ خِيَرَةِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ
وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ
اَلسَّلَامُ عَلٰىۤ اَئِمَّةِ الْهُدٰى
وَ مَصَابِيْحِ الدُّجٰى
وَ اَعْلَامِ التُّقٰى
وَ ذَوِيْ النُّهٰى
وَ اُوْلِي الْحِجٰى
وَ كَهْفِ الْوَرٰى
وَ وَرَثَةِ الْاَنْبِيَاۤءِ
وَ الْمَثَلِ الْاَعْلٰى
وَ الدَّعْوَةِ الْحُسْنٰى
وَ حُجَجِ اللّٰهِ عَلٰىۤ اَهْلِ الدُّنْيَا
وَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰى
وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ
اَلسَّلَامُ عَلٰى مَحَآلِّ مَعْرِفَةِ اللّٰهِ
وَ مَسَاكِنِ بَرَكَةِ اللّٰهِ
وَ مَعَادِنِ حِكْمَةِ اللّٰهِ
وَ حَفَظَةِ سِرِّ اللّٰهِ
وَ حَمَلَةِ كِتَابِ اللّٰهِ
وَ اَوْصِيَاۤءِ نَبِيِّ اللّٰهِ
وَ ذُرِّيَّةِ رَسُوْلِ اللّٰهِ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ
وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ
اَلسَّلَامُ عَلَى الدُّعَاةِ اِلَى اللّٰهِ
وَ الْاَدِلَّاۤءِ عَلٰى مَرْضَاةِ اللّٰهِ
وَ الْمُسْتَقِرِّيْنَ [وَ الْمُسْتَوْفِرِيْنَ‏] فِيۤ اَمْرِ اللّٰهِ
وَ التَّآمِّيْنَ فِيْ مَحَبَّةِ اللّٰهِ
وَ الْمُخْلِصِيْنَ فِيْ تَوْحِيْدِ اللّٰهِ
وَ الْمُظْهِرِيْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ وَ نَهْيِهِ
وَ عِبَادِهِ الْمُكْرَمِيْنَ
الَّذِيْنَ لَا يَسْبِقُوْنَهُ بِالْقَوْلِ
وَ هُمْ بِاَمْرِهِ يَعْمَلُوْنَ
وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ
اَلسَّلَامُ عَلَى الْاَئِمَّةِ الدُّعَاةِ
وَ الْقَادَةِ الْهُدَاةِ
وَ السَّادَةِ الْوُلَاةِ
وَ الذَّادَةِ الْحُمَاةِ
وَ اَهْلِ الذِّكْرِ
وَ اُوْلِي الْاَمْرِ
وَ بَقِيَّةِ اللّٰهِ وَ خِيَرَتِهِ
وَ حِزْبِهِ وَ عَيْبَةِ عِلْمِهِ
وَ حُجَّتِهِ وَ صِرَاطِهِ
وَ نُوْرِهِ وَ بُرْهَانِهِ‏
وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ
اَشْهَدُ اَنْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ
كَمَا شَهِدَ اللّٰهُ لِنَفْسِهِ
وَ شَهِدَتْ لَهُ مَلَاۤئِكَتُهُ
وَ اُوْلُوْا الْعِلْمِ مِنْ خَلْقِهِ
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ
وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ الْمُنْتَجَبُ
وَ رَسُوْلُهُ الْمُرْتَضٰىۤ
اَرْسَلَهُ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ
لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهِ
وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ
وَ اَشْهَدُ اَنَّكُمُ الْاَئِمَّةُ الرَّاشِدُوْنَ
الْمَهْدِيُّوْنَ الْمَعْصُوْمُوْنَ
الْمُكَرَّمُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ
الْمُتَّقُوْنَ الصَّادِقُوْنَ
الْمُصْطَفَوْنَ الْمُطِيْعُوْنَ لِلّٰهِ
الْقَوَّامُوْنَ بِاَمْرِهِ
الْعَامِلُوْنَ بِاِرَادَتِهِ،
الْفَاۤئِزُوْنَ بِكَرَامَتِهِ
اصْطَفَاكُمْ بِعِلْمِهِ
وَ ارْتَضَاكُمْ لِغَيْبِهِ
وَ اخْتَارَكُمْ لِسِرِّهِ
وَ اجْتَبَاكُمْ بِقُدْرَتِهِ
وَ اَعَزَّكُمْ بِهُدَاهُ
وَ خَصَّكُمْ بِبُرْهَانِهِ
وَ انْتَجَبَكُمْ لِنُورِهِ [بِنُوْرِهِ‏]
وَ اَيَّدَكُمْ بِرُوْحِهِ
وَ رَضِيَكُمْ خُلَفَاۤءَ فِيۤ اَرْضِهِ
وَ حُجَجًا عَلٰى بَرِيَّتِهِ
وَ اَنْصَارًا لِدِيْنِهِ
وَ حَفَظَةً لِسِرِّهِ
وَ خَزَنَةً لِعِلْمِهِ
وَ مُسْتَوْدَعًا لِحِكْمَتِهِ
وَ تَرَاجِمَةً لِوَحْيِهِ
وَ اَرْكَانًا لِتَوْحِيْدِهِ
وَ شُهَدَاۤءَ عَلٰى خَلْقِهِ
وَ اَعْلَامًا لِعِبَادِهِ
وَ مَنَارًا فِيْ بِلَادِهِ
وَ اَدِلَّاۤءَ عَلٰى صِرَاطِهِ
عَصَمَكُمُ اللّٰهُ مِنَ الزَّلَلِ
وَ اٰمَنَكُمْ مِنَ الْفِتَنِ
وَ طَهَّرَكُمْ مِنَ الدَّنَسِ
وَ اَذْهَبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ
وَ طَهَّرَكُمْ تَطْهِيْرًا
فَعَظَّمْتُمْ جَلَالَهُ
وَ اَكْبَرْتُمْ شَأْنَهُ
وَ مَجَّدْتُمْ كَرَمَهُ
وَ اَدَمْتُمْ [اَدْمَنْتُمْ‏] ذِكْرَهُ
وَ وَكَّدْتُمْ [ذَكَّرْتُمْ‏] مِيْثَاقَهُ
وَ اَحْكَمْتُمْ عَقْدَ طَاعَتِهِ
وَ نَصَحْتُمْ لَهُ فِي السِّرِّ وَ الْعَلَانِيَةِ
وَ دَعَوْتُمْ اِلٰى سَبِيْلِهِ
بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ
وَ بَذَلْتُمْ اَنْفُسَكُمْ فِيْ مَرْضَاتِهِ
وَ صَبَرْتُمْ عَلٰى مَا اَصَابَكُمْ فِيْ جَنْبِهِ [حُبِّهِ‏]
وَ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ
وَ اٰتَيْتُمُ الزَّكَاةَ
وَ اَمَرْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ
وَ نَهَيْتُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ
وَ جَاهَدْتُمْ فِيْ اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهِ
حَتّٰىۤ اَعْلَنْتُمْ دَعْوَتَهُ
وَ بَيَّنْتُمْ فَرَاۤئِضَهُ
وَ اَقَمْتُمْ حُدُوْدَهُ
وَ نَشَرْتُمْ [وَ فَسَّرْتُمْ‏] شَرَاۤئِعَ اَحْكَامِهِ
وَ سَنَنْتُمْ سُنَّتَهُ
وَ صِرْتُمْ فِيْ ذٰلِكَ مِنْهُ اِلَى الرِّضَا
وَ سَلَّمْتُمْ لَهُ الْقَضَاۤءَ
وَ صَدَّقْتُمْ مِنْ رُسُلِهِ مَنْ مَضٰى
فَالرَّاغِبُ عَنْكُمْ مَارِقٌ
وَ اللَّازِمُ لَكُمْ لَاحِقٌ
وَ الْمُقَصِّرُ فِيْ حَقِّكُمْ زَاهِقٌ
وَ الْحَقُّ مَعَكُمْ وَ فِيْكُمْ
وَ مِنْكُمْ وَ اِلَيْكُمْ
وَ اَنْتُمْ اَهْلُهُ وَ مَعْدِنُهُ
وَ مِيْرَاثُ النُّبُوَّةِ عِنْدَكُمْ
وَ اِيَابُ الْخَلْقِ اِلَيْكُمْ
وَ حِسَابُهُمْ عَلَيْكُمْ
وَ فَصْلُ الْخِطَابِ عِنْدَكُمْ
وَ اٰيَاتُ اللّٰهِ لَدَيْكُمْ
وَ عَزَاۤئِمُهُ فِيْكُمْ
وَ نُوْرُهُ وَ بُرْهَانُهُ عِنْدَكُمْ
وَ اَمْرُهُ اِلَيْكُمْ
مَنْ وَالَاكُمْ فَقَدْ وَالَى اللّٰهَ
وَ مَنْ عَادَاكُمْ فَقَدْ عَادَى اللّٰهَ
وَ مَنْ اَحَبَّكُمْ فَقَدْ اَحَبَّ اللّٰهَ
وَ مَنْ اَبْغَضَكُمْ فَقَدْ اَبْغَضَ اللّٰهَ‏
وَ مَنِ اعْتَصَمَ بِكُمْ فَقَدِ اعْتَصَمَ بِاللّٰهِ
اَنْتُمُ الصِّرَاطُ الْاَقْوَمُ
وَ شُهَدَاۤءُ دَارِ الْفَنَاۤءِ
وَ شُفَعَاۤءُ دَارِ الْبَقَاۤءِ
وَ الرَّحْمَةُ الْمَوْصُوْلَةُ
وَ الْاٰيَةُ الْمَخْزُوْنَةُ
وَ الْاَمَانَةُ الْمَحْفُوْظَةُ
وَ الْبَابُ الْمُبْتَلٰى بِهِ النَّاسُ
مَنْ اَتَاكُمْ نَجَا
وَ مَنْ لَمْ يَأْتِكُمْ هَلَكَ
اِلَى اللّٰهِ تَدْعُوْنَ
وَ عَلَيْهِ تَدُلُّوْنَ
وَ بِهِ تُؤْمِنُونَ
وَ لَهُ تُسَلِّمُوْنَ
وَ بِاَمْرِهِ تَعْمَلُوْنَ
وَ اِلٰى سَبِيْلِهِ تُرْشِدُوْنَ
وَ بِقَوْلِهِ تَحْكُمُوْنَ
سَعَدَ مَنْ وَالَاكُمْ
وَ هَلَكَ مَنْ عَادَاكُمْ
وَ خَابَ مَنْ جَحَدَكُمْ
وَ ضَلَّ مَنْ فَارَقَكُمْ
وَ فَازَ مَنْ تَمَسَّكَ بِكُمْ
وَ اَمِنَ مَنْ لَجَاَ اِلَيْكُمْ
وَ سَلِمَ مَنْ صَدَّقَكُمْ
وَ هُدِيَ مَنِ اعْتَصَمَ بِكُمْ
مَنِ اتَّبَعَكُمْ فَالْجَنَّةُ مَأْوَاهُ
وَ مَنْ خَالَفَكُمْ فَالنَّارُ مَثْوَاهُ
وَ مَنْ جَحَدَكُمْ كَافِرٌ
وَ مَنْ حَارَبَكُمْ مُشْرِكٌ
وَ مَنْ رَدَّ عَلَيْكُمْ فِيۤ اَسْفَلِ دَرْكٍ مِنَ الْجَحِيْمِ
اَشْهَدُ اَنَّ هٰذَا سَابِقٌ لَكُمْ فِيْمَا مَضٰى
وَ جَارٍ لَكُمْ فِيْمَا بَقِيَ
وَ اَنَّ اَرْوَاحَكُمْ وَ نُوْرَكُمْ
وَ طِيْنَتَكُمْ وَاحِدَةٌ
طَابَتْ وَ طَهُرَتْ
بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ
خَلَقَكُمُ اللّٰهُ اَنْوَارًا
فَجَعَلَكُمْ بِعَرْشِهِ مُحْدِقِيْنَ
حَتّٰى مَنَّ عَلَيْنَا بِكُمْ
فَجَعَلَكُمْ فِيْ بُيُوْتٍ
اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ
وَ يُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهُ
وَ جَعَلَ صَلَاتَنَا [صَلَوَاتِنَا] عَلَيْكُمْ
وَ مَا خَصَّنَا بِهِ مِنْ وِلَايَتِكُمْ
طِيْبًا لِخَلْقِنَا [لِخُلُقِنَا]
وَ طَهَارَةً لِاَنْفُسِنَا
وَ تَزْكِيَةً [بَرَكَةً] لَنَا
وَ كَفَّارَةً لِذُنُوْبِنَا
فَكُنَّا عِنْدَهُ مُسَلِّمِيْنَ بِفَضْلِكُمْ
وَ مَعْرُوْفِيْنَ بِتَصْدِيْقِنَاۤ اِيَّاكُمْ
فَبَلَغَ اللّٰهُ بِكُمْ اَشْرَفَ مَحَلِّ الْمُكَرَّمِيْنَ
وَ اَعْلٰى مَنَازِلِ الْمُقَرَّبِيْنَ
وَ اَرْفَعَ دَرَجَاتِ الْمُرْسَلِيْنَ
حَيْثُ لَا يَلْحَقُهُ لَاحِقٌ
وَ لَا يَفُوْقُهُ فَاۤئِقٌ
وَ لَا يَسْبِقُهُ سَابِقٌ
وَ لَا يَطْمَعُ فِيۤ اِدْرَاكِهِ طَامِعٌ
حَتّٰى لَا يَبْقٰى مَلَكٌ مُقَرَّبٌ
وَ لَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ
وَ لَا صِدِّيْقٌ وَ لَا شَهِيْدٌ
وَ لَا عَالِمٌ وَ لَا جَاهِلٌ
وَ لَا دَنِيٌّ وَ لَا فَاضِلٌ
وَ لَا مُؤْمِنٌ صَالِحٌ
وَ لَا فَاجِرٌ طَالِحٌ
وَ لَا جَبَّارٌ عَنِيْدٌ
وَ لَا شَيْطَانٌ مَرِيْدٌ
وَ لَا خَلْقٌ فِيْمَا بَيْنَ ذٰلِكَ شَهِيْدٌ
اِلَّا عَرَّفَهُمْ جَلَالَةَ اَمْرِكُمْ
وَ عِظَمَ خَطَرِكُمْ
وَ كِبَرَ شَأْنِكُمْ
وَ تَمَامَ نُوْرِكُمْ
وَ صِدْقَ مَقَاعِدِكُمْ
وَ ثَبَاتَ مَقَامِكُمْ
وَ شَرَفَ مَحَلِّكُمْ وَ مَنْزِلَتِكُمْ عِنْدَهُ
وَ كَرَامَتَكُمْ عَلَيْهِ
وَ خَآصَّتَكُمْ لَدَيْهِ
وَ قُرْبَ مَنْزِلَتِكُمْ مِنْهُ
بِاَبِيۤ اَنْتُمْ وَ اُمِّيْ
وَ اَهْلِيْ وَ مَالِيْ وَ اُسْرَتِيۤ
اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اُشْهِدُكُمْ
اَنِّيْ مُؤْمِنٌ بِكُمْ وَ بِمَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهِ
كَافِرٌ بِعَدُوِّكُمْ وَ بِمَا كَفَرْتُمْ بِهِ
مُسْتَبْصِرٌ بِشَأْنِكُمْ
وَ بِضَلَالَةِ مَنْ خَالَفَكُمْ
مُوَالٍ لَكُمْ وَ لِاَوْلِيَاۤئِكُمْ
مُبْغِضٌ لِاَعْدَاۤئِكُمْ وَ مُعَادٍ لَهُمْ
سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ
وَ حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ
مُحَقِّقٌ لِمَا حَقَّقْتُمْ
مُبْطِلٌ لِمَاۤ اَبْطَلْتُمْ
مُطِيْعٌ لَكُمْ
عَارِفٌ بِحَقِّكُمْ
مُقِرٌّ بِفَضْلِكُمْ
مُحْتَمِلٌ لِعِلْمِكُمْ
مُحْتَجِبٌ بِذِمَّتِكُمْ
مُعْتَرِفٌ بِكُمْ
مُؤْمِنٌ بِاِيَابِكُمْ
مُصَدِّقٌ بِرَجْعَتِكُمْ
مُنْتَظِرٌ لِاَمْرِكُمْ
مُرْتَقِبٌ لِدَوْلَتِكُمْ
اٰخِذٌ بِقَوْلِكُمْ
عَامِلٌ بِاَمْرِكُمْ
مُسْتَجِيْرٌ بِكُمْ
زَاۤئِرٌ لَكُمْ
لَاۤئِذٌ عَاۤئِذٌ بِقُبُوْرِكُمْ
مُسْتَشْفِعٌ اِلَى اللّٰهِ عَزَّ وَ جَلَّ بِكُمْ
وَ مُتَقَرِّبٌ بِكُمْ اِلَيْهِ
وَ مُقَدِّمُكُمْ اَمَامَ طَلِبَتِيْ
وَ حَوَاۤئِجِيْ وَ اِرَادَتِيْ
فِي كُلِّ اَحْوَالِيْ وَ اُمُوْرِيْ
مُؤْمِنٌ بِسِرِّكُمْ وَ عَلَانِيَتِكُمْ
وَ شَاهِدِكُمْ وَ غَاۤئِبِكُمْ
وَ اَوَّلِكُمْ وَ اٰخِرِكُمْ
وَ مُفَوِّضٌ فِيْ ذٰلِكَ كُلِّهِ اِلَيْكُمْ
وَ مُسَلِّمٌ فِيْهِ مَعَكُمْ
وَ قَلْبِيْ لَكُمْ مُسَلِّمٌ
وَ رَأْيِيْ لَكُمْ تَبَعٌ
وَ نُصْرَتِيْ لَكُمْ مُعَدَّةٌ
حَتّٰى يُحْيِيَ اللّٰهُ تَعَالٰى دِيْنَهُ بِكُمْ
وَ يَرُدَّكُمْ فِيۤ اَيَّامِهِ
وَ يُظْهِرَكُمْ لِعَدْلِهِ
وَ يُمَكِّنَكُمْ فِيۤ اَرْضِهِ
فَمَعَكُمْ مَعَكُمْ
لَا مَعَ غَيْرِكُمْ [عَدُوِّكُمْ‏]
اٰمَنْتُ بِكُمْ
وَ تَوَلَّيْتُ اٰخِرَكُمْ بِمَا تَوَلَّيْتُ بِهِ اَوَّلَكُمْ
وَ بَرِئْتُ اِلَى اللّٰهِ عَزَّ وَ جَلَّ
مِنْ اَعْدَاۤئِكُمْ
وَ مِنَ الْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ
وَ الشَّيَاطِيْنِ وَ حِزْبِهِمُ الظَّالِمِيْنَ لَكُمُ
الْجَاحِدِيْنَ لِحَقِّكُمْ
وَ الْمَارِقِيْنَ مِنْ وِلَايَتِكُمْ
وَ الْغَاصِبِيْنَ لِاِرْثِكُمُ
الشَّآكِّيْنَ فِيكُمُ
[وَ] الْمُنْحَرِفِيْنَ عَنْكُمْ
وَ مِنْ كُلِّ وَلِيْجَةٍ دُوْنَكُمْ
وَ كُلِّ مُطَاعٍ سِوَاكُمْ
وَ مِنَ الْاَئِمَّةِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ
فَثَبَّتَنِيَ اللّٰهُ اَبَدًا مَا حَيِيْتُ
عَلٰى مُوَالَاتِكُمْ
وَ مَحَبَّتِكُمْ وَ دِيْنِكُمْ
وَ وَفَّقَنِيْ لِطَاعَتِكُمْ
وَ رَزَقَنِيْ شَفَاعَتَكُمْ
وَ جَعَلَنِيْ مِنْ خِيَارِ مَوَالِيْكُمُ
التَّابِعِيْنَ لِمَا دَعَوْتُمْ اِلَيْهِ
وَ جَعَلَنِيْ مِمَّنْ يَقْتَصُّ اٰثَارَكُمْ
وَ يَسْلُكُ سَبِيْلَكُمْ
وَ يَهْتَدِيْ بِهُدَاكُمْ
وَ يُحْشَرُ فِيْ زُمْرَتِكُمْ
وَ وَيَكِرُّ فِيْ رَجْعَتِكُمْ
وَ يُمَلَّكُ فِيْ دَوْلَتِكُمْ
وَ يُشَرَّفُ فِيْ عَافِيَتِكُمْ
وَ يُمَكَّنُ فِيۤ اَيَّامِكُمْ
وَ تَقِرُّ عَيْنُهُ غَدًا بِرُؤْيَتِكُمْ
بِاَبِيۤ اَنْتُمْ وَ اُمِّيْ
وَ نَفْسِيْ وَ اَهْلِيْ وَ مَالِيْ
مَنْ اَرَادَ اللّٰهَ بَدَاَ بِكُمْ
وَ مَنْ وَحَّدَهُ قَبِلَ عَنْكُمْ
وَ مَنْ قَصَدَهُ تَوَجَّهَ بِكُمْ
مَوَالِيَّ لَاۤ اُحْصِيْ ثَنَاۤءَكُمْ
وَ لَاۤ اَبْلُغُ مِنَ الْمَدْحِ كُنْهَكُمْ
وَ مِنَ الْوَصْفِ قَدْرَكُمْ
وَ اَنْتُمْ نُوْرُ الْاَخْيَارِ
وَ هُدَاةُ الْاَبْرَارِ
وَ حُجَجُ الْجَبَّارِ
بِكُمْ فَتَحَ اللّٰهُ
وَ بِكُمْ يَخْتِمُ [اللّٰهُ‏]
وَ بِكُمْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ
وَ بِكُمْ يُمْسِكُ السَّمَاۤءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهِ
وَ بِكُمْ يُنَفِّسُ الْهَمَّ
وَ يَكْشِفُ الضُّرَّ
وَ عِنْدَكُمْ مَا نَزَلَتْ بِهِ رُسُلُهُ
وَ هَبَطَتْ بِهِ مَلَاۤئِكَتُهُ
وَ اِلٰى جَدِّكُمْ
وَ اِلٰى اَخِيْكَ
بُعِثَ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ
اٰتَاكُمُ اللّٰهُ مَا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِنَ الْعَالَمِيْنَ
طَأْطَاَ كُلُّ شَرِيْفٍ لِشَرَفِكُمْ
وَ بَخَعَ كُلُّ مُتَكَبِّرٍ لِطَاعَتِكُمْ
وَ خَضَعَ كُلُّ جَبَّارٍ لِفَضْلِكُمْ
وَ ذَلَّ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لَكُمْ
وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِكُمْ
وَ فَازَ الْفَاۤئِزُوْنَ بِوِلَايَتِكُمْ
بِكُمْ يُسْلَكُ اِلَى الرِّضْوَانِ
وَ عَلٰى مَنْ جَحَدَ وِلَايَتَكُمْ غَضَبُ الرَّحْمٰنِ
بِاَبِيۤ اَنْتُمْ وَ اُمِّيْ
وَ نَفْسِيْ وَ اَهْلِيْ وَ مَالِيْ
ذِكْرُكُمْ فِيْ الذَّاكِرِيْنَ
وَ اَسْمَاۤؤُكُمْ فِي الْاَسْمَاۤءِ
وَ اَجْسَادُكُمْ فِي الْاَجْسَادِ
وَ اَرْوَاحُكُمْ فِي الْاَرْوَاحِ
وَ اَنْفُسُكُمْ فِي النُّفُوْسِ
وَ اٰثَارُكُمْ فِي الْاٰثَارِ
وَ قُبُوْرُكُمْ فِي الْقُبُوْرِ
فَمَاۤ اَحْلٰىۤ اَسْمَاۤءَكُمْ
وَ اَكْرَمَ اَنْفُسَكُمْ
وَ اَعْظَمَ شَأْنَكُمْ
وَ اَجَلَّ خَطَرَكُمْ
وَ اَوْفٰى عَهْدَكُمْ
وَ اَصْدَقَ وَعْدَكُمْ‏
كَلَامُكُمْ نُوْرٌ
وَ اَمْرُكُمْ رُشْدٌ
وَ وَصِيَّتُكُمُ التَّقْوٰى
وَ فِعْلُكُمُ الْخَيْرُ
وَ عَادَتُكُمُ الْاِحْسَانُ
وَ سَجِيَّتُكُمُ الْكَرَمُ
وَ شَأْنُكُمُ الْحَقُّ
وَ الصِّدْقُ وَ الرِّفْقُ
وَ قَوْلُكُمْ حُكْمٌ وَ حَتْمٌ
وَ رَأْيُكُمْ عِلْمٌ وَ حِلْمٌ وَ حَزْمٌ
اِنْ ذُكِرَ الْخَيْرُ كُنْتُمْ اَوَّلَهُ
وَ اَصْلَهُ وَ فَرْعَهُ
وَ مَعْدِنَهُ وَ مَأْوَاهُ وَ مُنْتَهَاهُ
بِاَبِيۤ اَنْتُمْ وَ اُمِّيْ وَ نَفْسِيْ
كَيْفَ اَصِفُ حُسْنَ ثَنَاۤئِكُمْ
وَ اُحْصِيْ جَمِيْلَ بَلَاۤئِكُمْ
وَ بِكُمْ اَخْرَجَنَا اللّٰهُ مِنَ الذُّلِّ
وَ فَرَّجَ عَنَّا غَمَرَاتِ الْكُرُوْبِ
وَ اَنْقَذَنَا مِنْ شَفَا جُرُفِ الْهَلَكَاتِ
وَ مِنَ النَّارِ
بِاَبِيۤ اَنْتُمْ وَ اُمِّيْ وَ نَفْسِيْ
بِمُوَالَاتِكُمْ عَلَّمَنَا اللّٰهُ مَعَالِمَ دِيْنِنَا
وَ اَصْلَحَ مَا كَانَ فَسَدَ مِنْ دُنْيَانَا
وَ بِمُوَالَاتِكُمْ تَمَّتِ الْكَلِمَةُ
وَ عَظُمَتِ النِّعْمَةُ
وَائْتَلَفَتِ الْفُرْقَةُ
وَ بِمُوَالَاتِكُمْ تُقْبَلُ الطَّاعَةُ الْمُفْتَرَضَةُ
وَ لَكُمُ الْمَوَدَّةُ الْوَاجِبَةُ
وَ الدَّرَجَاتُ الرَّفِيْعَةُ
وَ الْمَقَامُ الْمَحْمُوْدُ
وَ الْمَكَانُ [وَ الْمَقَامُ‏] الْمَعْلُوْمُ عِنْدَ اللّٰهِ عَزَّ وَ جَلَّ
وَ الْجَاهُ الْعَظِيْمُ
وَ الشَّأْنُ الْكَبِيْرُ
وَ الشَّفَاعَةُ الْمَقْبُوْلَةُ
رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ
وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ
فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِيْنَ
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَيْتَنَا
وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً
اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ
سُبْحَانَ رَبِّنَا
اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا
يَا وَلِيَّ اللّٰهِ
اِنَّ بَيْنِيْ وَ بَيْنَ اللّٰهِ عَزَّ وَ جَلَّ ذُنُوْبًا
لَا يَأْتِيْ عَلَيْهَا اِلَّا رِضَاكُمْ
فَبِحَقِّ مَنِائْتَمَنَكُمْ عَلٰى سِرِّهِ
وَ اسْتَرْعَاكُمْ اَمْرَ خَلْقِهِ
وَ قَرَنَ طَاعَتَكُمْ بِطَاعَتِهِ
لَمَّا اسْتَوْهَبْتُمْ ذُنُوْبِيْ
وَ كُنْتُمْ شُفَعَاۤئِيْ
فَاِنِّيْ لَكُمْ مُطِيْعٌ
مَنْ اَطَاعَكُمْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ
وَ مَنْ عَصَاكُمْ فَقَدْ عَصَى اللّٰهَ
وَ مَنْ اَحَبَّكُمْ فَقَدْ اَحَبَّ اللّٰهَ
وَ مَنْ اَبْغَضَكُمْ فَقَدْ اَبْغَضَ اللّٰهَ
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ لَوْ وَجَدْتُ شُفَعَاۤءَ
اَقْرَبَ اِلَيْكَ مِنْ مُحَمَّدٍ وَ اَهْلِ بَيْتِهِ
الْاَخْيَارِ الْاَئِمَّةِ الْاَبْرَارِ
لَجَعَلْتُهُمْ شُفَعَاۤئِيْ
فَبِحَقِّهُمُ الَّذِيْۤ اَوْجَبْتَ لَهُمْ عَلَيْكَ
اَسْاَلُكَ اَنْ تُدْخِلَنِيْ فِيْ جُمْلَةِ الْعَارِفِيْنَ بِهِمْ وَ بِحَقِّهِمْ
وَ فِيْ زُمْرَةِ الْمَرْحُوْمِيْنَ بِشَفَاعَتِهِمْ
اِنَّكَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِيْنَ
وَ صَلَّى اللّٰهُ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِهِ الطَّاهِرِيْنَ
وَ سَلَّمَ تَسْلِيْمًا كَثِيْرًا
وَ حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيْلُ۔