مُنَاجَاتِ الرَّاجِيْنَ
امید واروں کی مناجات
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خداکے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
يَا مَنْ اِذَا سَئَلَه عَبْدٌ اَعْطَاهُ، وَ اِذَا اَمَّلَ مَا عِنْدَه بَلَّغَه مُنَاهُ،
اے وہ کہ جب بندہ اس سے مانگے تو اسے دیتا ہے اور جب وہ کسی چیز کی امید رکھے تو اسکی آرزو پوری کرتا ہے جب وہ اسکی طرف
وَ اِذَا اَقْبَلَ عَلَيْهِ قَرَّبَه وَ اَدْنَاهُ، وَ اِذَا جَاهَرَه بِالْعِصْيَانِ سَتَرَ عَلٰى ذَنْبِهٖ وَ غَطَّاهُ،
بڑھے تو اسے قریب کرلیتا ہے جب وہ کھلم کھلا نافرمانی کرے تو اسکے گناہ پر پردہ ڈالتا اور چھپا لیتاہے اور جب وہ اس پر بھروسہ
وَ اِذَا تَوَكَّلَ عَلَيْهِ اَحْسَبَه وَ كَفَاهُ. اِلٰهِىْ مَنِ الَّذِىْ نَزَلَ بِكَ مُلْتَمِسًا قِرَاكَ فَمَا قَرَيْتَه،
کرے تو اس کی ضرورت پوری کرتا ہے میرے معبود کون ہے جو تیری بارگاہ میںمہمانی کا طالب ہو تو تو اسکی مہمانی نہ کرے؟ کون
وَمَنِ الَّذِىْ اَنَاخَ بِبَابِكَ مُرْتَجِيًا نَدَاكَ فَمَا اَوْلَيْتَه، اَ يَحْسُنُ اَنْ اَرْجِعَ عَنْ بَابِكَ بِالْخَيْبَةِ مَصْرُوْفًا؟
ہے؟ جو بخشش کی آس لے کر تیرے دروازے پرآئے تو تو اس پر احسان نہ کرے کیا یہ مناسب ہے کہ میںتیرے دروازے سے
وَ لَسْتُ اَعْرِفُ سِوَاكَ مَوْلىً الْاِحْسَانِ مَوْصُوْفًا، كـَيْفَ اَرْجُوْ غَيْرَكَ وَالْخَيْرُ كـُلُّه بِيَدِكَ؟
مایوسی کے ساتھ پلٹ جاؤں جبکہ میںتیرے سوا کوئی مولا نہیںپاتا جو احسان و کرم کرنے والا ہو پھر کیوں تیرے سوا کسی سے امید
وَ كـَيْفَ اُؤَمِّلُ سِوَاكَ وَالْخَلْقُ وَالْاَمْرُ لَكَ؟
رکھوں جب کہ ہر بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے اور کیوں تیرے سوا کسی سے آرزو کروںجب کہ تو ہی خلق و امر کا مالک ہے آیا تجھ سے
أَ اَقْطَعُ رَجَاۤئِىْ مِنْكَ وَ قَدْ أَوْلَيْتَنِي مَا لَمْ أَسْأَلْهُ مِنْ فَضْلِكَ؟ أَمْ تُفْقِرُنِي إِلَى مِثْلِىْ وَ اَنَا اَعْتَصِمُ بِحَبْلِكَ؟
امید توڑلوں جبکہ تو مجھے بن مانگے ہی اپنے کرم سے ہر چیز عطا فرماتا ہے تو کیا تو مجھ جیسے شخص کوکسی کا محتاج کرے گا جب کہ میںتیرا
يَا مَنْ سَعِدَ بِرَحْمَتِهِ الْقَاصِدُوْنَ، وَ لَمْ يَشْقَ بِنِقْمَتِهِ الْمُسْتَغْفِرُوْنَ، كَيْفَ اَنْسٰيكَ وَلَمْ تَزَلْ ذَاكِرِىْ؟
دامن پکڑے ہوںاے وہ جس نے اپنی رحمت سے قصد کرنے والوں کو بھلائی عطا کی اور جو معافی مانگنے والوںکو اپنے انتقام سے تنگی
وَ كَيْفَ اَلْهُوْ عَنْكَ وَ اَنْتَ مُرَاقِبِىْ ؟
نہیں دیتا کیسے تجھے بھول سکتا ہوں جب کہ تیرے ذکر میںلگا رہتا ہوںکیسے تجھ سے غافل رہ سکتا ہوںجبکہ تو میرا نگہبان ہے میرے
اِلٰهِىْ بِذَيْلِ كَرَمِكَ اَعْلَقْتُ يَدِىْ، وَ لِنَيْلِ عَطَايَاكَ بَسَطْتُ اَمَلِىْ، فَاَخْلِصْنِىْ بِخَالِصَةِ تَوْحِيْدِكَ،
معبود میں نے اپنے ہاتھ سے تیرے دامن کرم کو پکڑ لیا ہوا ہے اور تیری عطاؤںکی آرزو کیئے ہوئے ہوںپس مجھے اپنی توحید کے سچے
وَاجْعَلْنِىْ مِنْ صَفْوَةِ عَبِيْدِكَ، يَا مَنْ كُلُّ هَارِبٍ اِلَيْهِ يَلْتَجِئُ،
پرستاروں میں شامل کرلے اور مجھے اپنے چنے ہوئے بندوں میں سے قرار دے اے وہ کہ ہر بھاگ کر آنے والا جس کی پناہ لیتا ہے
وَ كـُلُّ طَالِبٍ اِيَّاهُ يَرْتَجِىْ، يَا خَيْرَ مَرْجُوٍّ، وَ يَآ اَكـْرَمَ مَدْعُوٍّ، وَ يَا مَنْ لَا يَرُدُّ سَاۤئِلَه،
اور ہر سائل جس سے امید رکھتا ہے اے بہترین امید برلانے والے اے بہترین پکارے جانے والے اے وہ جو سائل کو نہیںہٹکاتا
وَ لَا يُخَيَّبُ اٰمِلَه يَا مَنْۢ بَابُه مَفْتُوْحٌ لِدَاعِيْهِ، وَ حِجَابُه مَرْفُوْعٌ لِرَاجِيْهِ،
اور وہ آرزومند کو مایوس نہیں کرتااے وہ جس کادروازہ پکارنے والے کے لیے کھلا ہے اور امیدوار کے لیے پردہ اٹھا ہؤا ہے میں
اَسْئَلُكَ بِكَرَمِكَ، اَنْ تَمُنَّ عَلَىَّ مِنْ عَطَاۤئِكَ بِمَا تَقِرُّ بِهٖ عَيْنِىْ، وَ مِنْ رَجَاۤئِكَ بِمَا تَطْمَئِنُّ بِهٖ نَفْسِىْ،
بواسطہ تیرے کرم کے سوال کرتا ہوں کہ مجھ پر اپنی عطا سے ایسا احسان فرما جس سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں اور ایسی امید
وَ مِنَ الْيَقِيْنِ بِمَا تُهَوِّنُ بِهٖ عَلَىَّ مُصِيْبَاتِ الدُّنْيَا،
دے کہ جس سے میرے دل کو چین آجائے ایسا یقین عطا کر کہ جس سے دنیا کی مصیبتیںمیرے لیے ہلکی ہوجائیں اور میری سمجھ بوجھ
وَ تَجْلُوْ بِهٖ عَنْ بَصِيْرَتِىْ غَشَوَاتِ الْعَمٰى، بِرَحْمَتِكَ يَآ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ.
پرسے نادانی کے پردے دور ہوجائیںتیری رحمت کے واسطے سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے