ENGLISH | اردو | Roman | Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
وَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَىْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَلِذِى الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ‏(41)
(41) اور یہ جان لو کہ تمہیں جس چیز سے بھی فائدہ حاصل ہو اس کا پانچواں حصہ اللہ , رسول ,رسول کے قرابتدار ,ایتام ,مساکین اور مسافران غربت زدہ کے لئے ہے اگر تمہارا ایمان اللہ پر ہے اور اس نصرت پر ہے جو ہم نے اپنے بندے پر حق و باطل کے فیصلہ کے دن جب دو جماعتیں آپس میں ٹکرا رہی تھیں نازل کی تھی اور اللہ ہر شے پر قادر ہے
اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ‌ؕ وَلَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِى الْمِيْعٰدِ‌ۙ وَلٰكِنْ لِّيَقْضِىَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا ۙ لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَيِّنَةٍ وَّيَحْيٰى مَنْ حَىَّ عَنْۢ بَيِّنَةٍ‌ ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ لَسَمِيْعٌ عَلِيْمٌۙ‏(42)
(42) جب کہ تم وادی کے قریبی محاذ پر تھے اور وہ لوگ دور والے محاذ پر تھے اور قافلہ تم سے نشیب میں تھا اور اگر تم پہلے سے جہاد کے وعدہ پر نکلتے تو یقینا اس کے خلاف کرتے لیکن خدا ہونے والے امر کا فیصلہ کرنا چاہتا تھا تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل کے ساتھ اور جو زندہ رہے وہ بھی دلیل کے ساتھ اور اللہ سب کی سننے والا اور سب کے حال دل کا جاننے والا ہے
اِذْ يُرِيْكَهُمُ اللّٰهُ فِىْ مَنَامِكَ قَلِيْلًا ؕ وَّلَوْ اَرٰٮكَهُمْ كَثِيْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنَازَعْتُمْ فِى الْاَمْرِ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ‌ؕ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ‏(43)
(43) جب خدا ان کو تمہاری نظروں میں کم کرکے دکھلا رہا تھا کہ اگر زیادہ دکھلا دیتا تو تم سست پڑ جاتے اور آپس ہی میں جھگڑا کرنے لگتے لیکن خدا نے تمہیں اس جھگڑے سے بچالیا کہ وہ دل کے رازوں سے بھی باخبر ہے
وَ اِذْ يُرِيْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَيْتُمْ فِىْۤ اَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا وَّيُقَلِّلُكُمْ فِىْۤ اَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِىَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا ؕ وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ‏(44)
(44) اور جب خدا مقابلہ کے وقت تمہاری نظروں میں دشمنوں کو کم دکھلا رہا تھا اور ان کی نظروں میں تمہیں کم کرکے دکھلا رہا تھا تاکہ اس امر کا فیصلہ کردے جو ہونے والا تھا اور سارے امور کی بازگشت اللہ ہی کی طرف ہے
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ‌ۚ‏(45)
(45) ایمان والو جب کسی گروہ سے مقابلہ کرو تو ثبات قدم سے کام لو اور اللہ کو بہت یاد کرو کہ شاید اسی طرح کامیابی حاصل کرلو
وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيْحُكُمْ‌ وَاصْبِرُوْا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ‌ۚ‏(46)
(46) اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف نہ کرو کہ کمزور پڑ جاؤ اور تمہاری ہوا بگڑ جائے اور صبر کرو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَّرِئَآءَ النَّاسِ وَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا يَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ‏(47)
(47) اور ان لوگوں جیسے نہ ہوجاؤ جو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھانے کے لئے نکلے اور راہ خدا سے روکتے رہے کہ اللہ ان کے اعمال کا احاطہ کئے ہوئے ہے
وَاِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَاِنِّىْ جَارٌ لَّكُمْ‌ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيْهِ وَقَالَ اِنِّىْ بَرِىْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّىْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّىْۤ اَخَافُ اللّٰهَ‌ؕ وَاللّٰهُ شَدِيْدُ الْعِقَابِ‏(48)
(48) اور اس وقت کو یاد کرو جب شیطان نے ان کے لئے ان کے اعمال کو آراستہ کردیا اور کہا کہ آج کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں ہے اور میں تمہارا مددگار ہوں -اس کے بعد جب دونوں گروہ آمنے سامنے آئے تو الٹے پاؤں بھاگ نکلا اور کہا کہ میں تم لوگوں سے بری ہوں میں وہ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے ہو اور میں اللہ سے ڈرتا ہوں کہ وہ سخت عذاب کرنے والا ہے
اِذْ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ فِىْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰٓؤُلَاۤءِ دِيْنُهُمْؕ وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ‏(49)
(49) جب منافقین اور جن کے دلوں میں کھوٹ تھا کہہ رہے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکہ دیا ہے حالانکہ جو شخص اللہ پر اعتماد کرتا ہے تو خد اہر شے پر غالب آنے والا اور بڑی حکمت والا ہے
وَ لَوْ تَرٰٓى اِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ كَفَرُوا‌ ۙ الْمَلٰٓئِكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْۚ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ‏(50)
(50) کاش تم دیکھتے کہ جب فرشتے ان کی جان نکال رہے تھے اور ان کے منہ اور پیٹھ پر مارتے جاتے تھے کہ اب جہنّم کا مزہ چکھو
ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْكُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِۙ‏(51)
(51) یہ اس لئے کہ تمہارے پچھلے اعمال کا نتیجہ یہی ہے اور خدا اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے
كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ‌ۙ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ‌ؕ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِىٌّ شَدِيْدُ الْعِقَابِ‏(52)
(52) جو حال آلِ فرعون اور ان کے پہلے والوں کا تھا کہ انہوں نے آیات الٰہیہ کا انکار کیا تو خد انے انہیں ان کے گناہوں کی گرفت میں لے لیا کہ اللہ قوی بھی ہے اور شدید عذاب کرنے والا بھی ہے
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ‌ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌۙ‏(53)
(53) یہ اس لئے کہ خدا کسی قوم کو دی ہوئی نعمت کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے تئیں تغیر نہ پیدا کردیں کہ خدا سننے والا بھی ہے اور جاننے والا بھی ہے
كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ‌ۙ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ‌ؕ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَاَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ‌ۚ وَكُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِيْنَ‏(54)
(54) جس طرح آلِ فرعون اور ان کے پہلے والوں کا انجام ہوا کہ انہوں نے پروردگار کی آیات کا انکار کیا تو ہم نے ان کے گناہوں کی بنا پر انہیں ہلاک کردیا اور آل فرعون کو غرق کردیا کہ یہ سب کے سب ظالم تھے
اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ‌ ۖ‌ ۚ‏(55)
(55) زمین پر چلنے والوں میں بدترین افراد وہ ہیں جنہوں نے کفر اختیار کرلیا اور اب وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں
اَلَّذِيْنَ عَاهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِىْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّهُمْ لَا يَتَّقُوْنَ‏(56)
(56) جن سے آپ نے عہد لیا اور اس کے بعد وہ ہر مرتبہ اپنے عہد کو توڑ دیتے ہیں اور خدا کا خوف نہیں کرتے
فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِى الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ‏(57)
(57) اگر وہ جنگ میں تمہارے قبضہ میں آجائیں تو انہیں اور ان کے پشتیبان سب کو نکال باہر کرو تاکہ عبرت حاصل کریں
وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَآئِنِيْنَ‏(58)
(58) اور اگر کسی قوم سے کسی خیانت یا بدعہدی کا خطرہ ہے تو آپ بھی ان کے عہد کو ان کی طرف پھینک دیں کہ اللہ خیانت کاروں کو دوست نہیں رکھتا ہے
وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا‌ ؕ اِنَّهُمْ لَا يُعْجِزُوْنَ‏(59)
(59) اور خبردار کافروں کو یہ خیال نہ ہو کہ وہ آگے بڑھ گئے وہ کبھی مسلمانوں کو عاجز نہیں کرسکتے
وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمْ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ‌ ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمُ‌ ۚ اَللّٰهُ يَعْلَمُهُمْ‌ؕ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَىْءٍ فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ يُوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ‏(60)
(60) اور تم سب ان کے مقابلہ کے لئے امکانی قوت اور گھوڑوں کی صف بندی کا انتظام کرو جس سے اللہ کے دشمن -اپنے دشمن اور ان کے علاوہ جن کو تم نہیں جانتے ہو اور اللہ جانتا ہے سب کو خوفزدہ کردو اور جو کچھ بھی راہ خدا میں خرچ کرو گے سب پورا پورا ملے گا اور تم پر کسی طرح کا ظلم نہیں کیا جائے گا
وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ‌ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ‏(61)
(61) اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو کہ وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے
وَاِنْ يُّرِيْدُوْۤا اَنْ يَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ‌ؕ هُوَ الَّذِىْۤ اَيَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَبِالْمُؤْمِنِيْنَۙ‏(62)
(62) اور اگر یہ آپ کو دھوکہ دینا چاہیں گے تو خدا آپ کے لئے کافی ہے -اس نے آپ کی تائید ,اپنی نصرت اور صاحبان ایمان کے ذریعہ کی ہے
وَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ‌ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيْنَهُمْ‌ؕ اِنَّهٗ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ‏(63)
(63) اور ان کے دلوں میں محبّت پیدا کردی ہے کہ اگر آپ ساری دنیا خرچ کردیتے تو بھی ان کے دلوں میں باہمی الفت نہیں پیدا کرسکتے تھے لیکن خدا نے یہ الفت و محبّت پیدا کردی ہے کہ وہ ہر شے پر غالب اور صاحب حکمت ہے
يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ‏(64)
(64) اے پیغمبر آپ کے لئے خدا اور وہ مومنین کافی ہیں جو آپ کا اتباع کرنے والے ہیں
يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلَى الْقِتَالِ‌ ؕ اِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صَابِرُوْنَ يَغْلِبُوْا مِائَتَيْنِ‌ ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ يَّغْلِبُوْۤا اَ لْفًا مِّنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ‏(65)
(65) اے پیغمبر آپ لوگوں کو جہاد پر آمادہ کریں اگر ان میں بیس بھی صبر کرنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب آجائیں گے اور اگر سو ہوں گے تو ہزاروں کافروں پر غالب آجائیں گے اس لئے کہ کفاّر سمجھدار قوم نہیں ہیں
اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِيْكُمْ ضَعْفًا‌ؕ فَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَّغْلِبُوْا مِائَتَيْنِ‌ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ يَّغْلِبُوْۤا اَلْفَيْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ‏(66)
(66) اب اللہ نے تمہارا بار ہلکا کردیا ہے اور اس نے دیکھ لیا ہے کہ تم میں کمزوری پائی جاتی ہے تو اگرتم میں سو بھی صبر کرنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب آجائیں گے اور اگر ہزار ہوں گے تو بحکم خدا دو ہزار پر غالب آجائیں گے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
مَا كَانَ لِنَبِىٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى يُثْخِنَ فِى الْاَرْضِ‌ؕ تُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا ۖ  وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ‏(67)
(67) کسی نبی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ قیدی بنا کر رکھے جب تک زمین میں جہاد کی سختیوں کا سامنا نہ کرے .تم لوگ تو صرف مال دنیا چاہتے ہو جب کہ اللہ آخرت چاہتا ہے اور وہی صاحبِ عزّت و حکمت ہے
لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ‏(68)
(68) اگر خدا کی طرف سے پہلے فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو تم لوگوں نے جو فدیہ لے لیا تھا اس پر عذابِ عظیم نازل ہوجاتا
فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلاً طَيِّبًا ۖ  وَّاتَّقُوا اللّٰهَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ‏(69)
(69) پس اب جو مال غنیمت حاصل کرلیا ہے اسے کھاؤ کہ وہ حلال اور پاکیزہ ہے اور تقوٰی الٰہی اختیار کرو کہ اللہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے
يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّمَنْ فِىْۤ اَيْدِيْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰٓىۙ اِنْ يَّعْلَمِ اللّٰهُ فِىْ قُلُوْبِكُمْ خَيْرًا يُّؤْتِكُمْ خَيْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ‌ؕ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ‏(70)
(70) اے پیغمبر اپنے ہاتھ کے قیدیوں سے کہہ دیجئے کہ اگر خدا تمہارے دلوں میں نیکی دیکھے گا تو جو مال تم سے لے لیا گیا ہے اس سے بہتر نیکی تمہیں عطا کردے گا اور تمہیں معاف کردے گا کہ وہ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے
وَاِنْ يُّرِيْدُوْا خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ ؕ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ‏(71)
(71) اور اگر یہ آپ سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو اس سے پہلے خدا سے خیانت کرچکے ہیں جس کے بعد خدا نے ان پر قابو عطا کردیا کہ وہ سب کچھ جاننے والا اور صاحبِ حکمت ہے
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجَاهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْۤا اُولٰۤئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ‌ؕ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِهِمْ مِّنْ شَىْءٍ حَتّٰى يُهَاجِرُوْا‌ ۚ وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِى الدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۢ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِّيْثَاقٌ ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ‏(72)
(72) بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور راہ خدا میں اپنے جان و مال سے جہاد کیا اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی یہ سب آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں اور جن لوگوں نے ایمان اختیار کرکے ہجرت نہیں کی ان کی ولایت سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک ہجرت نہ کریں اور اگر دین کے معاملہ میں تم سے مدد مانگیں تو تمہارا فرض ہے کہ مدد کردو علاوہ اس قوم کے مقابلہ کے جس سے تمہارا معاہدہ ہوچکا ہے کہ اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے
وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ‌ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِى الْاَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيْرٌؕ‏(73)
(73) جو لوگ کفر والے ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور اگر تم ایمان والوں کی مدد نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور عظیم فساد برپا ہوجائے گا
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اَاوَوْا وَّنَصَرُوْۤا اُولٰۤئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا‌ ؕ لَّهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ‏(74)
(74) اور جن لوگوں نے ایمان اختیار کیا اور ہجرت کی اور راہ خدا میں جہاد کیا اور پناہ دی اور نصرت کی وہی درحقیقت واقعی مومن ہیں اور ان ہی کے لئے مغفرت اور باعزّت رزق ہے
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَهَاجَرُوْا وَجَاهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰۤئِكَ مِنْكُمْ‌ؕ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِىْ كِتٰبِ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمٌ‏(75)
(75) اور جو لوگ بعد میں ایمان لے آئے اور ہجرت کی اور آپ کے ساتھ جہاد کیا وہ بھی تم ہی میں سے ہیں اور قرابتدار کتابِ خدا میں سب آپس میں ایک دوسرے سے زیادہ اوّلیت اور قربت رکھتے ہیں بیشک اللہ ہر شے کا بہترین جاننے والا ہے.
بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِيْنَ عَاهَدتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ؕ‏(1)
(1) مسلمانو جن مشرکین سے تم نے عہد و پیمان کیا تھا اب ان سے خدا و رسول کی طرف سے مکمل بیزاری کا اعلان ہے
فَسِيْحُوْا فِى الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِى اللّٰهِ‌ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ مُخْزِى الْكٰفِرِيْنَ‏(2)
(2) لہذا کافرو !چار مہینے تک آزادی سے زمین میں سیر کرو اور یہ یاد رکھو کہ خدا سے بچ کر نہیں جاسکتے اور خدا کافروں کو ذلیل کرنے والا ہے
وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِىْۤءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ۙ  وَ رَسُوْلُهٗ‌ ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ‌ۚ وَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِى اللّٰهِ‌ ؕ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَ لِيْمٍۙ‏(3)
(3) اور اللہ و رسول کی طرف سے حج اکبر کے دن انسانوں کے لئے اعلانِ عام ہے کہ اللہ اور اس کے رسول دونوں مشرکین سے بیزار ہیں لہذا اگر تم توبہ کرلو گے تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر انحراف کیا تو یاد رکھنا کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے ہو اور پیغمبر آپ کافروں کو دردناک عذاب کی بشارت دے دیجئے
اِلَّا الَّذِيْنَ عَاهَدتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوْكُمْ شَيْئًا وَّلَمْ يُظَاهِرُوْا عَلَيْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ‏(4)
(4) علاوہ ان افراد کے جن سے تم مسلمانوں نے معاہدہ کررکھا ہے اور انہوں نے کوئی کوتاہی نہیں کی ہے اور تمہارے خلاف ایک دوسرے کی مدد نہیں کی ہے تو چار مہینے کے بجائے جو مدّت طے کی ہے اس وقت تک عہد کو پورا کرو کہ خدا تقویٰ اختیار کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ‌ ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِيْلَهُمْ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ‏(5)
(5) پھر جب یہ محترم مہینے گزر جائیں تو کفاّر کو جہاں پاؤ قتل کردو اور گرفت میں لے لو اور قید کردو اور ہر راستہ اور گزر گاہ پر ان کے لئے بیٹھ جاؤ اور راستہ تنگ کردو -پھر اگر توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو کہ خدا بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے
وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى يَسْمَعَ كَلَامَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ‌ ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُوْنَ‏(6)
(6) اور اگر مشرکین میں کوئی تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دو تاکہ وہ کتاب خدا صَنے اس کے بعد اسے آزاد کرکے جہاں اس کی پناہ گاہ ہو وہاں تک پہنچا دو اور یہ مراعات اس لئے ہے کہ یہ جاہل قوم حقائق سے آشنا نہیں ہے
كَيْفَ يَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِيْنَ عَاهَدتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ‌ ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوْا لَهُمْ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ‏(7)
(7) اللہ و رسول کے نزدیک عہد شکن مشرکین کا کوئی عہد و پیمان کس طرح قائم رہ سکتا ہے ہاں اگر تم لوگوں نے کسی سے مسجد الحرام کے نزدیک عہد کرلیا ہے تو جب تک وہ لوگ اپنے عہد پر قائم رہیں تم بھی قائم رہو کہ اللہ متقی اور پرہیزگار افراد کو دوست رکھتا ہے
كَيْفَ وَاِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوْا فِيْكُمْ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً‌ ؕ يُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَتَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ‌ۚ وَاَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَ‌ۚ‏(8)
(8) ان کے ساتھ کس طرح رعایت کی جائے جب کہ یہ تم پر غالب آجائیں تو نہ کسی ہمسائگی اور قرابت کی نگرانی کریں گے اور نہ کوئی عہد و پیمان دیکھیں گے - یہ تو صرف زبانی تم کو خوش کررہے ہیں ورنہ ان کا دل قطعی منکر ہے اور ان کی اکثریت فاسق اور بدعہد ہے
اِشْتَرَوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ‌ ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ‏(9)
(9) انہوں نے آیات الٰہیہ کے بدلے بہت تھوڑی منفعت کو لے لیا ہے اور اب راہ خدا سے روک رہے ہیں -یہ بہت برا کام کررہے ہیں
لَا يَرْقُبُوْنَ فِىْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً‌ ؕ وَاُولٰۤئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ‏(10)
(10) یہ کسی مومن کے بارے میں کسی قرابت یا قول و اقرار کی پرواہ نہیں کرتے ہیں یہ صرف زیادتی کرنے والے لوگ ہیں
فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِى الدِّيْنِ‌ؕ وَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ‏(11)
(11) پھر بھی اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰﺓِ ادا کریں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور ہم صاحبان علم کے لئے اپنی آیات کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتے رہتے ہیں
وَاِنْ نَّكَثُوْۤا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِىْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ‌ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ‏(12)
(12) اور اگر یہ عہد کے بعد بھی اپنی قسموں کو توڑ دیں اور دین میں طعنہ زنی کریں تو کفر کے سربراہوں سے کھل کر جہاد کرو کہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں ہے شاید یہ اسی طرح اپنی حرکتوں سے باز آجائیں
اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ‌ ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ‌ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ‏(13)
(13) کیا تم اس قوم سے جہاد نہ کرو گے جس نے اپنے عہد و پیمان کو توڑ دیا ہے اور رسول کو وطن سے نکال دینے کا ارادہ بھی کرلیا ہے اور تمہارے مقابلہ میں مظالم کی پہل بھی کی ہے -کیا تم ان سے ڈرتے ہو تو خدا زیادہ حقدار ہے کہ اس کا خوف پیدا کرو اگر تم صاحب ایمان ہو
قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَۙ‏(14)
(14) ان سے جنگ کرو اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سے سزا دے گا اور رسوا کرے گا اور تمہیں ان پر فتح عطا کرے گا اور صاحب ایمان قوم کے دلوں کو ٹھنڈا کردے گا
وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ‌ ؕ وَ يَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ ؕ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ‏(15)
(15) اور ان کے دلوں کا غصّہ دور کردے گا اور اللہ جس کی توبہ کو چاہتا ہے قبول کرلیتا ہے کہ وہ صاحبِ علم بھی ہے اور صاحب حکمت بھی ہے
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً‌ ؕ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ‏(16)
(16) کیا تمہارا خیال یہ ہے کہ تم کو اسی طرح چھوڑ دیا جائے گا جب کہ اللہ نے ابھی یہ بھی نہیں دیکھا ہے کہ تم میں جہاد کرنے والے کون لوگ ہیں جنہوں نے خدا -رسول اور صاحبان ایمان کو چھوڑ کر کسی کو دوست نہیں بنایا ہے اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے
مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓى اَنْفُسِهِمْ بِالكُفْرِ‌ؕ اُولٰۤئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ۖۚ وَ فِى النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ‏(17)
(17) یہ کام مشرکین کا نہیں ہے کہ وہ مساجد خدا کو آباد کریں جب کہ وہ خود اپنے نفس کے کفر کے گواہ ہیں -ان کے اعمال برباد ہیں اور وہ جہّنم میں ہمیشہ رہنے والے ہیں
اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَ قَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ وَلَمْ يَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ‌ فَعَسٰٓى اُولٰۤئِكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ‏(18)
(18) اللہ کی مسجدوں کو صرف وہ لوگ آباد کرتے ہیں جن کا ایمان اللہ اور روز آخرت پر ہے اور جنہوں نے نماز قائم کی ہے زکوٰۃادا کی ہے اور سوائے خدا کے کسی سے نہیں ڈرے یہی وہ لوگ ہیں جو عنقریب ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار کئے جائیں گے
اَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَآجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَجَاهَدَ فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ‌ ؕ لَا يَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ ‌ؕ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ‌ۘ‏(19)
(19) کیا تم نے حاجیوں کے پانی پلانے اور مسجد الحرام کی آبادی کو اس کا جیسا سمجھ لیا ہے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور راہ خدا میں جہاد کرتا ہے -ہرگز یہ دونوں اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہوسکتے اور اللہ ظالم قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے
اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَجَاهَدُوْا فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ‌ؕ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ‏(20)
(20) بیشک جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے ہجرت کی اور راہ خدا میں جان اور مال سے جہاد کیا وہ اللہ کے نزدیک عظیم درجہ کے مالک ہیں اور درحقیقت وہی کامیاب بھی ہیں
يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمْ فِيْهَا نَعِيْمٌ مُّقِيْمٌ ۙ‏(21)
(21) اللہ ان کو اپنی رحمت ,رضامندی اور باغات کی بشارت دیتا ہے جہاں ان کے لئے دائمی نعمتیں ہوں گی
خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِيْمٌ‏(22)
(22) وہ ان ہی باغات میں ہمیشہ رہیں گے کہ اللہ کے پاس عظیم ترین اجر ہے
يٰۤاَ يُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَاِخْوَانَكُمْ اَوْلِيَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِيْمَانِ‌ ؕ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰۤئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ‏(23)
(23) ایمان والو خبردار اپنے باپ دادا اور بھائیوں کو اپنا دوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان کے مقابلہ میں کفر کو دوست رکھتے ہوں اور جو شخص بھی ایسے لوگوں کو اپنا دوست بنائے گا وہ ظالموں میں شمار ہوگا
قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَاَبْنَآؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ ۟اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِىْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَ بَّصُوْا حَتّٰى يَاْتِىَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ‌ ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ‏(24)
(24) پیغمبرآپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ دادا اولاد برادران ,ازواج ,عشیرہ و قبیلہ اور وہ اموال جنہیں تم نے جمع کیا ہے اور وہ تجارت جس کے خسارہ کی طرف سے فکرمند رہتے ہو اور وہ مکانات جنہیں پسند کرتے ہو تمہاری نگاہ میں اللہ ًاس کے رسول اور راہ خدا میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو وقت کا انتظار کرو یہاں تک کہ امر الہی آجائے اور اللہ فاسق قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے
لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِىْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ‌ ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ‌ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ‌ۚ‏(25)
(25) بیشک اللہ نے کثیر مقامات پر تمہاری مدد کی ہے اور حنین کے دن بھی جب تمہیں اپنی کثرت پر ناز تھا لیکن اس نے تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا اور تمہارے لئے زمین اپنی وسعتوں سمیت تنگ ہوگئی اور اس کے بعد تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے
ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَعَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا‌ ۚ وَعَذَّبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا‌ ؕ وَذٰ لِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِيْنَ‏(26)
(26) پھر اس کے بعد خدا نے اپنے رسول اور صاحبان ایمان پر سکون نازل کیا اور وہ لشکر بھیجے جنہیں تم نے نہیں دیکھا اور کفر اختیار کرنے والوں پر عذاب نازل کیا یہی کافرین کی جزاء اور ان کا انجام ہے
ثُمَّ يَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰ لِكَ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ ‌ؕ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ‏(27)
(27) اس کے بعد خدا جس کی چاہے گا توبہ قبول کرلے گا وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا‌ ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ‏(28)
(28) ایمان والو !مشرکین صررِ نجاست ہیں لہذا خبردار اس سال کے بعد مسجدالحرام میں داخل نہ ہونے پائیں اور اگر تمہیں غربت کا خوف ہے تو عنقریب خدا چاہے گا تو اپنے فضل و کرم سے تمہیں غنی بنادے گا کہ وہ صاحب علم بھی ہے اور صاحب حکمت بھی ہے
قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ‏(29)
(29) ان لوگوں سے جہاد کرو جو خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جس چیز کو خدا و رسول نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں سمجھتے اور اہل کتاب ہوتے ہوئے بھی دین حق کا التزام نہیں کرتے .... یہاں تک کہ اپنے ہاتھوں سے ذلّت کے ساتھ تمہارے سامنے جزیہ پیش کرنے پر آمادہ ہوجائیں
وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُ ۟ابْنُ اللّٰهِ وَقَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِيْحُ ابْنُ اللّٰهِ‌ؕ ذٰ لِكَ قَوْلُهُمْ بِاَ فْوَاهِهِمْ‌ ۚ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ‌ ؕ قَاتَلَهُمُ اللّٰهُ ‌ۚ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ‏‏(30)
(30) اور یہودیوں کا کہنا ہے کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصارٰی کہتے ہیں کہ مسیح، اللہ کے بیٹے ہیں یہ سب ان کی زبانی باتیں ہیں-ان باتوں میں یہ بالکل ان کے مثل ہیں جو ان کے پہلے کفار کہا کرتے تھے ,اللہ ان سب کو قتل کرے یہ کہاں بہکے چلے جارہے ہیں
اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ‌ ۚ وَمَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا‌ ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ‏(31)
(31) ان لوگوں نے اپنے عالموں اور راہبوں اور مسیح بن مریم کو خدا کو چھوڑ کر اپنا رب بنالیا ہے حالانکہ انہیں صرف خدائے یکتا کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے وہ واحد و بے نیاز ہے اور ان کے مشرکانہ خیالات سے پاک و پاکیزہ ہے
يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَ فْوَاهِهِمْ وَيَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ يُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ‏(32)
(32) یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نور خدا کواپنے منہ سے پھونک مار کر بجھا دیں حالانکہ خدا اس کے علاوہ کچھ ماننے کے لئے تیار نہیں ہے کہ وہ اپنے نور کو تمام کردے چاہے کافروں کو یہ کتنا ہی برا کیوںنہ لگے
هُوَ الَّذِىْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖۙ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ‏(33)
(33) وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنائے چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ‌ؕ وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍۙ‏(34)
(34) ایمان والو نصارٰی کے بہت سے علماء اور راہب ,لوگوں کے اموال کو ناجائز طریقہ سے کھاجاتے ہیں اور لوگوں کو راہ خدا سے روکتے ہیں .... اور جو لوگ سونے چاندی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے پیغمبر,آپ انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے دیں
يَّومَ يُحْمٰى عَلَيْهَا فِىْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوْبُهُمْ وَظُهُوْرُهُمْ‌ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ‏(35)
(35) جس دن وہ سونا چاندی آتش جہنّم میں تپایا جائے گا اور اس سے ان کی پیشانیوں اور ان کے پہلوؤں اور پشت کو داغا جائے گا کہ یہی وہ ذخیرہ ہے جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا اب اپنے خزانوں اور ذخیروں کا مزہ چکھو
اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِىْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ‌ ؕ ذٰ لِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ ۙ فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ‌ ؕ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَآفَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً‌  ؕ وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ‏(36)
(36) بیشک مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک کتابِ خدا میں اس دن سے بارہ ہے جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے -ان میں سے چار مہینے محترم ہیں اور یہی سیدھا اور مستحکم دین ہے لہٰذا خبردار ان مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرنا اور تمام مشرکین سے اسی طرح جہاد کرنا جس طرح وہ تم سے جنگ کرتے ہیں اور یہ یاد رکھنا کہ خدا صرف متقی اور پرہیزگار لوگوں کے ساتھ ہے
اِنَّمَا النَّسِىْٓءُ زِيَادَةٌ فِى الْكُفْرِ‌ يُضَلُّ بِهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّيُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّيُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَيُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ‌ ؕ زُيِّنَ لَهُمْ سُوْۤءُ اَعْمَالِهِمْ‌ ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ‏(37)
(37) محترم مہینوں میں تقدیم و تاخیر کفر میں ایک قسم کی زیادتی ہے جس کے ذریعہ کفاّر کو گمراہ کیا جاتا ہے کہ وہ ایک سال اسے حلال بنالیتے ہیں اور دوسرے سال حرام کردیتے ہیں تاکہ اتنی تعداد برابر ہوجائے جتنی خدا نے حرام کی ہے اور حرام خدا حلال بھی ہوجائے -ان کے بدترین اعمال کو ان کی نگاہ میں آراستہ کردیا گیا ہے اور اللہ کافر قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ‌ ؕ اَرَضِيْتُمْ بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا مِنَ الْاٰخِرَةِ‌ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا فِى الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِيْلٌ‏(38)
(38) ایمان والو تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا گیا کہ راہ خدا میں جہاد کے لئے نکلو تو تم زمین سے چپک کر رہ گئے کیا تم آخرت کے بدلے زندگانی دنیا سے راضی ہوگئے ہو تو یاد رکھو کہ آخرت میں اس متاع زندگانی دنیا کی حقیقت بہت قلیل ہے
اِلَّا تَنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا   ۙ وَّيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوْهُ شَيْئًا‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ‏(39)
(39) اگر تم راہ خدا میں نہ نکلو گے تو خدا تمہیں دردناک عذا میں مبتلا کرے گا اور تمہارے بدلے دوسری قوم کو لے آئے گا اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے ہو کہ وہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے
اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِىَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِى الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا‌ ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ وَاَ يَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى‌ ؕ وَكَلِمَةُ اللّٰهِ هِىَ الْعُلْيَا ؕ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ‏(40)
(40) اگر تم پیغمبر کی مدد نہ کرو گے تو ان کی مدد خدا نے کی ہے اس وقت جب کفاّر نے انہیں وطن سے باہر نکال دیا اور وہ ایک شخص کے ساتھ نکلے اور دونوں غار میں تھے تو وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ رنج نہ کرو خدا ہمارے ساتھ ہے پھر خدا نے اپنی طرف سے اپنے پیغمبر پر سکون نازل کردیا اور ان کی تائید ان لشکروں سے کردی جنہیں تم نہ دیکھ سکے اور اللہ ہی نے کفاّر کے کلمہ کو پست بنادیا ہے اور اللہ کا کلمہ درحقیقت بہت بلند ہے کہ وہ صاحب عزت و غلبہ بھی ہے اور صاحب حکمت بھی ہے
اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِقَالًا وَّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ‌ ؕ ذٰ لِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ‏(41)
(41) مسلمانو !تم ہلکے ہو یا بھاری گھر سے نکل پڑو اور راہ خدا میں اپنے اموال اور نفوس سے جہاد کرو کہ یہی تمہارے حق میں خیر ہے اگرتم کچھ جانتے ہو
لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيْبًا وَّسَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَلٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشُّقَّةُ ‌ ؕ وَسَيَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ ۚ يُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ‌ ۚ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ‏(42)
(42) پیغمبر !اگر کوئی قریبی فائدہ یا آسان سفر ہوتا تو یہ ضرور تمہارا اتباع کرتے لیکن ان کے لئے دور کا سفر مشکل بن گیا ہے اور عنقریب یہ خدا کی قسم کھائیں گے کہ اگر ممکن ہوتا تو ہم ضرور آپ کے ساتھ نکل پڑتے -یہ اپنے نفس کو ہلاک کررہے ہیں اور خدا خوب جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں
عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ‌ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَتَعْلَمَ الْكٰذِبِيْنَ‏(43)
(43) پیغمبر!خدا نے آپ سے درگزر کیا کہ آپ نے کیوں انہیں پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دی بغیر یہ معلوم کئے کہ ان میں کون سچاّ ہے اور کون جھوٹا ہے
لَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ يُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالْمُتَّقِيْنَ‏(44)
(44) جو لوگ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ ہرگز اپنے جان و مال سے جہاد کرنے کے خلاف اجازت نہ طلب کریں گے کہ خدا صاحبانِ تقوٰی کو خوب جانتا ہے
اِنَّمَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِىْ رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُوْنَ‏(45)
(45) یہ اجازت صرف وہ لوگ طلب کرتے ہیں جن کا ایمان اللہ اور روز آخرت پر نہیں ہے اور ان کے دلوں میں شبہ ہے اور وہ اسی شبہ میں چکّر کاٹ کررہے ہیں
وَلَوْ اَرَادُوْا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّلٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِيْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِيْنَ‏(46)
(46) یہ اگر نکلنا چاہتے تو اس کے لئے سامان تیار کرتے لیکن خد اہی کو ان کا نکلنا پسند نہیں ہے اس لئے اس نے ان کے ارادوں کو کمزور رہنے دیا اور ان سے کہا گیا کہ اب تم بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو
لَوْ خَرَجُوْا فِيْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّلَاْاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ يَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ ۚ وَفِيْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ‏(47)
(47) اگر یہ تمہارے درمیان نکل بھی پڑتے تو تمہاری وحشت میں اضافہ ہی کردیتے اور تمہارے درمیان فتنہ کی تلاش میں گھوڑے دوڑاتے پھرتے اور تم میں ایسے لوگ بھی تھے جو ان کی سننے والے بھی تھے اور اللہ تو ظالمین کو خوب جاننے والا ہے
لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَقَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَهُمْ كٰرِهُوْنَ‏(48)
(48) بیشک انہوں نے اس سے پہلے بھی فتنہ کی کوشش کی تھی اور تمہارے امور کو الٹ پلٹ دینا چاہا تھا یہاں تک کہ حق آگیا اور امر خدا واضح ہوگیا اگرچہ یہ لوگ اسے ناپسند کررہے تھے
وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّىْ وَلَا تَفْتِنِّىْ‌ ؕ اَلَا فِى الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا‌ ؕ وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيْطَةٌ ۢ بِالْكٰفِرِيْنَ‏(49)
(49) ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم کو اجازت دے دیجئے اور فتنہ میں نہ ڈالئے تو آگاہ ہوجاؤ کہ یہ واقعاۤ فتنہ میں گر چکے ہیں اور جہنّم تو کافرین کو ہر طرف سے احاطہ کئے ہوئے ہے
اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ‌ ۚ وَاِنْ تُصِبْكَ مُصِيْبَةٌ يَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَيَتَوَلَّوْا وَّهُمْ فَرِحُوْنَ‏(50)
(50) ان کا حال یہ ہے کہ آپ تک نیکی آ تی ہے تو انہیں بری لگتی ہے اور کوئی مصیبت آجاتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنا کام پہلے ہی ٹھیک کرلیا تھا اور خوش و خرم واپس چلے جاتے ہیں
قُلْ لَّنْ يُّصِيْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا ۚ هُوَ مَوْلٰٮنَا ‌ ۚ وَعَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ‏(51)
(51) آپ کہہ دیجئے کہ ہم تک وہی حالات آتے ہیں جو خدا نے ہمارے حق میں لکھ دیئے ہیں وہی ہمارا مولا ہے اور صاحبان ایمان اسی پر توکّل اور اعتماد رکھتے ہیں
قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ‌ؕ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ يُّصِيْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَيْدِيْنَا  ‌ۖ  فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ‏(52)
(52) آپ کہہ دیجئے کہ تم ہمارے بارے میں جس بات کا بھی انتظار کررہے ہو وہ دو میں سے ایک نیکی ہے اور ہم تمہارے بارے میں اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ خدا اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں سے تمہیں عذاب میں مبتلا کردے لہٰذا اب عذاب کا انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کررہے ہیں
قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ يُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ‌ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِيْنَ‏(53)
(53) کہہ دیجئے کہ تم بخوشی خرچ کرو یا جبرا تمہارا عمل قبول ہونے والا نہیں ہے کہ تم ایک فاسق قوم ہو
وَمَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَبِرَسُوْلِهٖ وَلَا يَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَهُمْ كُسَالٰى وَلَا يُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَهُمْ كٰرِهُوْنَ‏(54)
(54) اور ان کے نفقات کو قبول ہونے سے صرف اس بات نے روک دیا ہے کہ انہوں نے خدا اور رسول کا انکار کیا ہے اور یہ نمازبھی سستی اور کسلمندی کے ساتھ بجالاتے ہیں اور راہ خدا میں کراہت اور ناگواری کے ساتھ خرچ کرتے ہیں
فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَاۤ اَوْلَادُهُمْ‌ؕ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِى الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ‏(55)
(55) تمہیں ان کے اموال اور اولاد حیرت میں نہ ڈال دیں بس اللہ کاارادہ یہی ہے کہ ان ہی کے ذریعہ ان پر زندگانی دنیا میں عذاب کرے اور حالت کفر ہی میں ان کی جان نکل جائے
وَيَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْؕ وَمَا هُمْ مِّنْكُمْ وَلٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَّفْرَقُوْنَ‏(56)
(56) اور یہ اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ یہ تم ہی میں سے ہیں حالانکہ یہ تم میں سے نہیں ہیں یہ لوگ بزدل لوگ ہیں
لَوْ يَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَيْهِ وَهُمْ يَجْمَحُوْنَ‏(57)
(57) ان کو کوئی پناہ گاہ یا غار یا گھس بیٹھنے کی جگہ مل جائے تو اس کی طرف بے تحاشہ بھاگ جائیں گے
وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِى الصَّدَقٰتِ‌ ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ يُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ يَسْخَطُوْنَ‏(58)
(58) اور ان ہی میں سے وہ بھی ہیں جو خیرات کے بارے میں الزام لگاتے ہیں کہ انہیں کچھ مل جائے تو راضی ہوجائیں گے اور نہ دیا جائے تو ناراض ہوجائیں گے
وَلَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰٮهُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗۙ وَقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَيُؤْتِيْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ‏(59)
(59) حالانکہ اے کاش یہ خدا و رسول کے دئیے ہوئے پر راضی ہوجاتے اور یہ کہتے کہ ہمارے لئے اللہ ہی کافی ہے عنقریب وہ اور اس کا رسول اپنے فضل و احسان سے عطا کردیں گے او رہم تو صرف اللہ کی طرف رغبت رکھنے والے ہیں
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِى الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ‌ؕ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ‏(60)
(60) صدقات و خیرات بس فقراء ,مساکین اور ان کے کام کرنے والے اور جن کی تالیف قلب کی جاتی ہے اور غلاموں کی گردن کی آزادی میں اور قرضداروں کے لئے اور راہ خدا میں غربت زدہ مسافروں کے لئے ہیں یہ اللہ کی طرف سے فریضہ ہے اور اللہ خوب جاننے والا اور حکمت والا ہے
وَمِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ النَّبِىَّ وَيَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ‌ ؕ قُلْ اُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ‌ ؕ وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَ لِيْمٌ‏(61)
(61) ان میں سے وہ بھی ہیں جو پیغمبر کو اذیت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ تو صرف کان ہیں -آپ کہہ دیجئے کہ تمہارے حق میں بہتری کے کان ہیں کہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور مومنین کی تصدیق کرتے ہیں اور صاحبانِ ایمان کے لئے رحمت ہیں اور جو لوگ رسول خدا کو اذیت دیتے ہیں ان کے واسطے دردناک عذاب ہے
يَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِيُرْضُوْكُمْ‌ۚ وَاللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ يُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِيْنَ‏(62)
(62) یہ لوگ تم لوگوں کو راضی کرنے کے لئے خدا کی قسم کھاتے ہیں حالانکہ خدا و رسول اس بات کے زیادہ حقدار تھے کہ اگر یہ صاحبان ایمان تھے تو واقعا انہیں اپنے اعمال و کردار سے راضی کرتے
اَلَمْ يَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ يُّحَادِدِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيْهَا‌ ؕ ذٰ لِكَ الْخِزْىُ الْعَظِيْمُ‏(63)
(63) کیا یہ نہیں جانتے ہیں کہ جو خدا و رسول سے مخالفت کرے گا اس کے لئے آتش جہنمّ ہے اور اسی میں ہمیشہ رہنا ہے اور یہ بہت بڑی رسوائی ہے
يَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِىْ قُلُوْبِهِمْ‌ ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا‌ ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ‏(64)
(64) منافقین کو یہ خوف بھی ہے کہ کہیں کوئی سورہ نازل ہوکر مسلمانوں کو ان کے دل کے حالات سے باخبر نہ کردے تو آپ کہہ دیجئے کہ تم اور مذاق اڑاؤ اللہ بہرحال اس چیز کو منظر عام پر لے آئے گا جس کا تمہیں خطرہ ہے
وَلَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ‌ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ‏(65)
(65) اور اگر آپ ان سے باز پرس کریں گے تو کہیں گے کہ ہم تو صرف بات چیت اور دل لگی کررہے تھے تو آپ کہہ دیجئے کہ کیا اللہ اور اس کی آیات اور رسول کے بارے میں مذاق اڑارہے تھے
لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ‌ ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةً ۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِيْنَ‏(66)
(66) تو اب معذرت نہ کرو -تم نے ایمان کے بعد کفر اختیار کیا ہے -ہم اگر تم میں کی ایک جماعت کو معاف بھی کردیں تو دوسری جماعت پر ضرور عذاب کریں گے کہ یہ لوگ مجرم ہیں
اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ‌ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَيَقْبِضُوْنَ اَيْدِيَهُمْ‌ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمْ‌ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ‏(67)
(67) منافق مرد اور منافق عورتیں آپس میں سب ایک دوسرے سے ہیں -سب برائیوں کا حکم دیتے ہیں اور نیکیوں سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کو راہ خدا میں خرچ کرنے سے روکے رہتے ہیں -انہوں نے اللہ کو بھلا دیا ہے تو اللہ نے انہیں بھی نظرانداز کردیا ہے کہ منافقین ہی اصل میں فاسق ہیں
وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِيْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ وَالْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا‌ ؕ هِىَ حَسْبُهُمْ‌ ۚ وَلَعَنَهُمُ اللّٰهُ‌ ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ ۙ‏(68)
(68) اور اللہ نے نےم منافق مردوں اور عورتوں سے اور تمام کافروں سے آتش جہنمّ کا وعدہ کیا ہے جس میں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں -وہی ان کے واسطے کافی ہے اور ان کے لئے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہے
كَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّاَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّاَوْلَادًا ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَخُضْتُمْ كَالَّذِىْ خَاضُوْا‌ ؕ اُولٰۤئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ‌ ۚ وَاُولٰۤئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ‏(69)
(69) تمہاری مثال تم سے پہلے والوں کی ہے جو تم سے زیادہ طاقتور تھے اور تم سے زیادہ مالدار اور صاحب اولاد بھی تھے -انہوں نے اپنے حصّہ سے خوب فائدہ اٹھایا اور تم نے بھی اسی طرح اپنے نصیب سے فائدہ اٹھایا جس طرح تم سے پہلے والوں نے اٹھایا تھا اور اسی طرح لغویات میں داخل ہوئے جس طرح وہ لوگ داخل ہوئے تھے حالانکہ وہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں برباد ہوگئے اور وہی وہ لوگ ہیں جو حقیقتا خسارہ والے ہیں
اَلَمْ يَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ  ۙ وَقَوْمِ اِبْرٰهِيْمَ وَاَصْحٰبِ مَدْيَنَ وَالْمُؤْتَفِكٰتِ‌ ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ‌‌ ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ‏(70)
(70) کیا ان لوگوں کے پاس ان سے پہلے والے افراد قوم نوح علیھ السّلام ,عاد علیھ السّلام ,ثمود علیھ السّلام ,قوم ابراہیم علیھ السّلام,اصحاب مدین اور الٹ دی جانے والی بستیوں کی خبرنہیں آئی جن کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے اور انہوں نے انکار کردیا -خدا کسی پر ظلم کرنے والا نہیں ہے لوگ خود اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں
وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ‌ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَيُطِيْعُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ‌ؕ اُولٰۤئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّٰهُؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ‏(71)
(71) مومن مرد اور مومن عورتیں آپس میں سب ایک دوسرے کے ولی اور مددگار ہیں کہ یہ سب ایک دوسرے کو نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں,نماز قائم کرتے ہیں -زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں -یہی وہ لوگ ہیں جن پر عنقریب خدا رحمت نازل کرے گا کہ وہ ہر شے پر غالب اور صاحبِ حکمت ہے
وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِىْ جَنّٰتِ عَدْنٍ‌ ؕ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ‌ ؕ ذٰ لِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ‏(72)
(72) اللہ نے مومن مرد اور مومن عورتوں سے ان باغات کا وعدہ کیا ہے جن کی نیچے نہریں جاری ہوں گی -یہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں -ان جناث عدن میں پاکیزہ مکانات ہیں اور اللہ کی مرضی تو سب سے بڑی چیز ہے اور یہی ایک عظیم کامیابی ہے
يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ‌ؕ وَ مَاْوٰٮهُمْ جَهَنَّمُ‌ؕ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ‏(73)
(73) پیغمبر !کفار اور منافقین سے جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے کہ ان کا انجام جہنّم ہے جو بدترین ٹھکانا ہے
يَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا ؕ وَلَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَهَمُّوْا بِمَا لَمْ يَنَالُوْا‌ ۚ وَمَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰٮهُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ‌ ۚ فَاِنْ يَّتُوْبُوْا يَكُ خَيْرًا لَّهُمْ‌ ۚ وَاِنْ يَّتَوَلَّوْا يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِيْمًا ۙ فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ‌ ۚ وَمَا لَهُمْ فِى الْاَرْضِ مِنْ وَّلِىٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ‏(74)
(74) یہ اپنی باتوں پر اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ ایسا نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کلمہ کفر کہا ہے اور اپنے اسلام کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور وہ ارادہ کیا تھا جو حاصل نہیں کرسکے اور ان کا غصہّ صرف اس بات پر ہے کہ اللہ اور رسول نے اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کو نواز دیا ہے -بہرحال یہ اب بھی توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہے اور منہ پھیرلیں تو اللہ ان پر دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب کرے گا اور روئے زمین پر کوئی ان کا سرپرست اور مددگار نہ ہوگا
وَمِنْهُمْ مَّنْ عَاهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰٮنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ‏(75)
(75) ان میں وہ بھی ہیں جنہوں نے خدا سے عہد کیا کہ اگر وہ اپنے فضل و کرم سے عطا کردیگا تو اس کی راہ میں صدقہ دیں گے اور نیک بندوں میں شامل ہوجائیں گے
فَلَمَّاۤ اٰتٰٮهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ‏(76)
(76) اس کے بعد جب خد انے اپنے فضل سے عطا کردیا تو بخل سے کام لیا اور کنارہ کش ہوکر پلٹ گئے
فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِىْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى يَوْمِ يَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَبِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ‏(77)
(77) تو ان کے بخل نے ان کے دلوں میں نفاق راسخ کردیا اس دن تک کے لئے جب یہ خدا سے ملاقات کریں گے اس لئے کہ انہوں نے خدا سے کئے ہوئے وعدہ کی مخالفت کی ہے اور جھوٹ بولے ہیں
اَلَمْ يَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰٮهُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ‌ ۚ‏(78)
(78) کیا یہ نہیں جانتے کہ خدا ان کے رازِ دل اور ان کی سرگوشیوں کو بھی جانتا ہے اور وہ سارے غیب کا جاننے والا ہے
اَلَّذِيْنَ يَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِيْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ فِى الصَّدَقٰتِ وَالَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ‏(79)
(79) جو لوگ صدقات میں فراخدلی سے حصّہ لینے والے مومنین اور ان غریبوں پر جن کے پاس ان کی محنت کے علاوہ کچھ نہیں ہے الزام لگاتے ہیں اور پھر ان کا مذاق اڑاتے ہیں خدا ان کا بھی مذاق بنادے گا اور اس کے پاس بڑا دردناک عذاب ہے
اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً فَلَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ‌ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ‏(80)
(80) آپ ان کے لئے استغفار کریں یا نہ کریں -اگر ستر مرتبہ بھی استغفار کریں گے تو خدا انہیں بخشنے والا نہیں ہے اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور رسول کا انکار کیا ہے اور خدا فاسق قوم کو ہدایت نہیں دیتا ہے
فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَكَرِهُوْۤا اَنْ يُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَقَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِى الْحَرِّؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا‌ؕ لَوْ كَانُوْا يَفْقَهُوْنَ‏(81)
(81) جو لوگ جنگ تبوک میں نہیں گئے وہ رسول اللہ کے پیچھے بیٹھے رہ جانے پر خوش ہیں اور انہیں اپنے جان و مال سے راہ خدامیں جہاد ناگوار معلوم ہوتا ہے اور یہ کہتے ہیں کہ تم لوگ گرمی میں نہ نکلو ‏، تو پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ آتش جہنّم اس سے زیادہ گرم ہے اگر یہ لوگ کچھ سمجھنے والے ہیں
فَلْيَضْحَكُوْا قَلِيْلاً وَّلْيَبْكُوْا كَثِيْرًا‌ ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ‏(82)
(82) اب یہ لوگ ہنسیں کم اور روئیں زیادہ کہ یہی ان کے کئے کی جزاء ہے
فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِىَ اَبَدًا وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِىَ عَدُوًّا‌ ؕ اِنَّكُمْ رَضِيْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِيْنَ‏(83)
(83) اس کے بعد اگر خدا آپ کو ان کے کسی گروہ تک میدان سے واپس لائے اور یہ دوبارہ خروج کی اجازت طلب کریں تو آپ کہہ دیجئے تم لوگ کبھی میرے ساتھ نہیں نکل سکتے اور کسی دشمن سے جہاد نہیں کرسکتے تم نے پہلے ہی بیٹھے رہنا پسند کیا تھا تو اب بھی پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو
وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَمَاتُوْا وَهُمْ فٰسِقُوْنَ‏(84)
(84) اور خبردار ان میں سے کوئی مر بھی جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھئے گا اور اس کی قبر پر کھڑے بھی نہ ہویئے گا کہ ان لوگوں نے خدا اور رسول کا انکار کیا ہے اور حالت فسق میں دنیا سے گزر گئے ہیں
وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ‌ؕ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِى الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ‏(85)
(85) اور ان کے اموال و اولاد آپ کو بھلے نہ معلوم ہوں خدا ان کے ذریعہ ان پر دنیا میں عذاب کرنا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ کفر کی حالت میں ان کا دم نکل جائے
وَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَجَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَقَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِيْنَ‏(86)
(86) اور جب کوئی سورہ نازل ہوتا ہے کہ اللہ پر ایمان لے آؤاور رسول کے ساتھ جہاد کرو تو ان ہی کے صاحبانِ حیثیت آپ سے اجازت طلب کرنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں ان ہی بیٹھنے والوں کے ساتھ چھوڑ دیجئے
رَضُوْا بِاَنْ يَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ‏(87)
(87) یہ اس بات پر راضی ہیں کہ پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ رہ جائیں .ان کے دلو ں پر مہر لگ گئی ہے اب یہ کچھ سمجھنے والے نہیں ہیں
لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جَاهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ‌ؕ وَاُولٰۤئِكَ لَهُمُ الْخَيْرٰتُ‌ وَاُولٰۤئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ‏(88)
(88) لیکن رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں نے راہ خدا میں اپنے جان و مال سے جہاد کیا ہے اور ان ہی کے لئے نیکیاں ہیں اور وہی فلاح یافتہ اور کامیاب ہیں
اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا‌ ؕ ذٰ لِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ‏(89)
(89) اللہ نے ان کے لئے وہ باغات مہیا کئے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور وہ ان ہی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے
وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِيُؤْذَنَ لَهُمْ وَقَعَدَ الَّذِيْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ‌ ؕ سَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَ لِيْمٌ‏(90)
(90) اور آپ کے پاس دیہاتی معذرت کرنے والے بھی آگئے کہ انہیں بھی گھر بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے اور وہ بھی بیٹھ رہے جنہوں نے خدا و رسول سے غلط بیانی کی تھی تو عنقریب ان میں کے کافروں پر بھی دردناک عذاب نازل ہوگا
لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضٰى وَلَا عَلَى الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ مَا يُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ‌ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ‌ؕ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌۙ‏(91)
(91) جو لوگ کمزور ہیں یابیمار ہیں یا ان کے پاس راہ خدا میں خرچ کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے ان کے بیٹھے رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ خدا و رسول کے حق میں اخلاص رکھتے ہوں کہ نیک کردار لوگوں پر کوئی الزام نہیں ہوتا اور اللہ بہت بخشنے والا مہربان ہے
وَّلَا عَلَى الَّذِيْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوْا وَّاَعْيُنُهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا يَجِدُوْا مَا يُنْفِقُوْنَؕ‏(92)
(92) اور ان پر بھی کوئی الزام نہیں ہے جو آپ کے پاس آئے کہ انہیں بھی سواری پر لے لیجئے اور آپ ہی نے کہہ دیا کہ ہمارے پاس سواری کا انتظام نہیں ہے اور وہ آپ کے پاس سے اس عالم میں پلٹے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور انہیں اس بات کا رنج تھا کہ ان کے پاس راہ خدا میں خرچ کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے
اِنَّمَا السَّبِيْلُ عَلَى الَّذِيْنَ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَهُمْ اَغْنِيَآءُ‌ۚ رَضُوْا بِاَنْ يَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِۙ وَطَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ‏(93)
(93) الزام ان لوگوں پرہے جو غنی اور مالدار ہوکر بھی اجازت طلب کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پسماندہ لوگوں میں شامل ہوجائیں اور خدا نے ان کے دلوں پر مہرلگادی ہے اور اب کچھ جاننے والے نہیں ہیں