ENGLISH | اردو | Roman | Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
اُتْلُ مَاۤ اُوْحِىَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ ‌ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ‌ؕ وَلَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ‌ؕ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ‏(45)
(45) آپ جس کتاب کی آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھ کر سنائیں اور نماز قائم کریں کہ نماز ہر برائی اور بدکاری سے روکنے والی ہے اور اللہ کا ذکر بہت بڑی شے ہے اور اللہ تمہارے کاروبار سے خوب باخبر ہے
وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِىْ هِىَ اَحْسَنُۖ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ‌ وَقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بِالَّذِىْۤ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَاُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَاِلٰهُنَا وَاِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ‏(46)
(46) اور اہلِ کتاب سے مناطرہ نہ کرو مگر اس انداز سے جو بہترین انداز ہے علاوہ ان سے جو ان میں سے ظالم ہیں اور یہ کہو کہ ہم اس پر ایمان لائے ہیں جو ہماری اور تمہاری دونوں کی طرف نازل ہوا ہے اور ہمارا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے اور ہم سب اسی کے اطاعت گزار ہیں
وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ‌ؕ فَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ‌ۚ وَمِنْ هٰٓؤُلَاۤءِ مَنْ يُّؤْمِنُ بِهٖ ‌ؕ وَ مَا يَجْحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ‏(47)
(47) اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف کتاب نازل کی تو جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں اور ان میں سے بھی بعض لوگ ایمان رکھتے ہیں اور ہماری آیات کا انکار کافروں کے علاوہ کوئی نہیں کرتا ہے
وَمَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ‌ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ‏(48)
(48) اور اے پیغمبر آپ اس قرآن سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے ورنہ یہ اہل باطل شبہ میں پڑ جاتے
بَلْ هُوَ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ فِىْ صُدُوْرِ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ‌ؕ وَمَا يَجْحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ‏(49)
(49) درحقیقت یہ قرآن چند کھلی ہوئی آیتوں کا نام ہے جو ان کے سینوں میں محفوظ ہیں جنہیں علم دیا گیا ہے اور ہماری آیات کا انکار ظالموں کے علاوہ کوئی نہیں کرتا ہے
وَقَالُوْا لَوْلَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ‌ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ ؕ وَاِنَّمَاۤ اَنَاۡ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ‏(50)
(50) اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ آخر ان پر پروردگار کی طرف سے آیات کیوں نہیں نازل ہوتی ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ آیات سب اللہ کے پاس ہیں اور میں تو صرف واضح طور پر عذاب الہٰی سے ڈرانے والا ہوں
اَوَلَمْ يَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ يُتْلٰى عَلَيْهِمْ‌ؕ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّذِكْرٰى لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ‏(51)
(51) کیا ان کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس کی ان کے سامنے تلاوت کی جاتی ہے اور یقینا اس میں رحمت اور ایماندار قوم کے لئے یاددہانی کا سامان موجود ہے
قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَيْنِىْ وَبَيْنَكُمْ شَهِيْدًا ‌ۚ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‌ ؕ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوْا بِاللّٰهِ ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ‏(52)
(52) آپ کہہ دیجئے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے خدا کافی ہے جو آسمان اور زمین کی ہر چیز سے باخبر ہے اور جو لوگ باطل پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کا انکار کرتے ہیں وہ یقینا خسارہ اٹھانے والے لوگ ہیں
وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ‌ؕ وَلَوْلَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُؕ وَلَيَاْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ‏(53)
(53) اور یہ لوگ عذاب کی جلدی کررہے ہیں حالانکہ اگر اس کا وقت معین نہ ہوتا تو اب تک عذاب آچکا ہوتا اور وہ اچانک ہی آئے گا جب انہیں شعور بھی نہ ہوگا
يَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِيْنَۙ‏(54)
(54) یہ عذاب کی جلدی کررہے ہیں حالانکہ جہّنم یقینا کافروں کو اپنے گھیرے میں لینے والا ہے
يَوْمَ يَغْشٰٮهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَيَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ‏(55)
(55) جس دن عذاب انہیں اوپر سے اور نیچے سے ڈھانک لے گا اور کہے گا کہ اب اپنے اعمال کا مزہ چکھو
يٰعِبَادِىَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِىْ وَاسِعَةٌ فَاِيَّاىَ فَاعْبُدُوْنِ‏(56)
(56) میرے ایماندار بندو! میری زمین بہت وسیع ہے لہٰذامیری ہی عبادت کرو
كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ‏(57)
(57) ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والاہے اس کے بعد تم سب ہماری بارگاہ میں پلٹا کر لائے جاؤ گے
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ‌ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ‌ۖ‏(58)
(58) اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں انہیں ہم جنّت کے جھروکوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ ہمیشہ ان ہی میں رہیں گے کہ یہ ان عمل کرنے والوں کا بہترین اجر ہے
الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَعَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ‏(59)
(59) جن لوگوں نے صبر کیا ہے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں
وَكَاَيِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَاۖ اللّٰهُ يَرْزُقُهَا وَاِيَّاكُمْ‌‌ۖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ‏(60)
(60) اور زمین پر چلنے والے بہت سے ایسے بھی ہیں جو اپنی روزی کا بوجھ نہیں اٹھاسکتے ہیں لیکن خدا انہیں اور تمہیں سب کو رزق دے رہا ہے وہ سب کی سننے والا اور سب کے حالات کا جاننے والا ہے
وَلَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ‌ۚ فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ‏(61)
(61) اور اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے اور آفتاب و ماہتاب کو کس نے مسخّر کیا ہے تو فورا کہیں گے کہ اللہ,تو یہ کدھر بہکے چلے جارہے ہیں
اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَيَقْدِرُ لَهٗ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمٌ‏(62)
(62) ﷲ ہی جس کے رزق میں چاہتا ہے وسعت پیدا کردیتا ہے اور جس کے رزق کو چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے وہ ہر شے کا خوب جاننے والا ہے
وَلَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ‌ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ‌ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ‏(63)
(63) اور اگر آپ ان سے پوچھیں گے کس نے آسمان سے پانی برسایا ہے اور پھر زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کیا ہے تو یہ کہیں گے کہ اللہ ہی ہے تو پھر کہہ دیجئے کہ ساری حمد اللہ کے لئے ہے اور ان کی اکثریت عقل استعمال نہیں کررہی ہے
وَمَا هٰذِهِ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّلَعِبٌ‌ؕ وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِىَ الْحَيَوَانُ‌ۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ‏(64)
(64) اور یہ زندگانی دنیا ایک کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں ہے اور آخرت کا گھر ہمیشہ کی زندگی کا مرکز ہے اگر یہ لوگ کچھ جانتے اور سمجھتے ہوں
فَاِذَا رَكِبُوْا فِى الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ۚ فَلَمَّا نَجّٰٮهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ يُشْرِكُوْنَۙ‏(65)
(65) پھر جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو ایمان و عقیدہ کے پورے اخلاص کے ساتھ خدا کو پکارتے ہیں پھر جب وہ نجات دے کر خشکی تک پہنچادیتا ہے تو فورا شرک اختیار کرلیتے ہیں
لِيَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَيْنٰهُمْۙۚ وَلِيَتَمَتَّعُوْا‌فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ‏(66)
(66) تاکہ جو کچھ ہم نے عطا کیا ہے اس کا انکار کردیں اور دنیا میں مزے اُڑائیں تو عنقریب انہیں اس کا انجام معلوم ہوجائے گا
اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ‌ ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَكْفُرُوْنَ‏(67)
(67) کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے واسطے ایک محفوظ حرم بنادیا ہے جس کے چاروں طرف لوگ اچک لئے جاتے ہیں تو کیا یہ باطل پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا انکار کردیتے ہیں
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ‌ؕ اَلَيْسَ فِىْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِيْنَ‏(68)
(68) اور اُس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ کی طرف جھوٹی باتوں کی نسبت دے یا حق کے آجانے کے بعد بھی اس کا انکار کردے تو کیا جہّنم میں کفار کا ٹھکانا نہیں ہے
وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ‌ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ‏(69)
(69) اور جن لوگوں نے ہمارے حق میں جہاد کیا ہے ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت کریں گے اور یقینا ﷲحسن عمل والوں کے ساتھ ہے
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الٓمّٓ ۚ‏(1)
(1) الۤمۤ
غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ‏(2)
(2) روم والے مغلوب ہوگئے
فِىْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَۙ‏(3)
(3) قریب ترین علاقہ میں لیکن یہ مغلوب ہوجانے کے بعد عنقریب پھر غالب ہوجائیں گے
فِىْ بِضْعِ سِنِيْنَ ؕ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْۢ بَعْدُ ؕ وَيَوْمَئِذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ ۙ‏(4)
(4) چند سال کے اندر ,اللہ ہی کے لئے اوّل و آخر ہر زمانہ کا اختیار ہے اور اسی دن صاحبانِ ایمان خوشی منائیں گے
بِنَصْرِ اللّٰهِ‌ؕ يَنْصُرُ مَنْ يَّشَآءُ ؕ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُۙ‏(5)
(5) ﷲکی نصرت و امداد کے سہارے کہ وہ جس کی امداد چاہتا ہے کردیتا ہے اور وہ صاحب عزّت بھی ہے اور مہربان بھی ہے
وَعْدَ اللّٰهِ‌ؕ لَا يُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ‏(6)
(6) یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ہے مگر لوگوں کی اکثریت اس حقیقت سے بھی بے خبر ہے
يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا‌ۖۚ وَهُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ‏(7)
(7) یہ لوگ صرف زندگانی دنیا کے ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت کی طرف سے بالکل غافل ہیں
اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا فِىْۤ اَنْفُسِهِمْ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّى‌ؕ وَ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ‏(8)
(8) کیا ان لوگوں نے اپنے اندر فکر نہیں کی ہے کہ خدا نے آسمان و زمین اور اس کے درمیان کی تمام مخلوقات کو برحق ہی پیدا کیا ہے اور ایک معین مدّت کے ساتھ لیکن لوگوں کی اکثریت اپنے پروردگار کی ملاقات سے انکار کرنے والی ہے
اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا فِى الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ‌ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّاَثَارُوا الْاَرْضَ وَعَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَجَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ‌ ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ ؕ‏(9)
(9) اور کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر نہیں کی ہے کہ دیکھتے کہ ان سے پہلے والوں کا کیا انجام ہوا ہے جو طاقت میں ان سے زیادہ مضبوط تھے اور انہوں نے زراعت کرکے زمین کو ان سے زیادہ آباد کرلیا تھا اور ان کے پاس ہمارے نمائندے زیادہ کُھلی ہوئی نشانیاں بھی لے کر آئے تھے یقینا خدا اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ہے بلکہ یہ لوگ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں
ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِيْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓآٰى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ‏(10)
(10) اس کے بعد برائی کرنے والوں کا انجام برا ہوا کہ انہوں نے خدا کی نشانیوں کو جھٹلادیا اور برابر ان کا مذاق اڑاتے رہے
اَللّٰهُ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ‏(11)
(11) ﷲ ہی تخلیق کی ابتداء کرتا ہے اور پھر پلٹا بھی دیتا ہے اور پھر تم سب اسی کی بارگاہ میں واپس لے جائے جاؤ گے
وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ‏(12)
(12) اور جس دن قیامت قائم کی جائے گی اس دن سارے مجرمین مایوس ہوجائیں گے
وَلَمْ يَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَكَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِيْنَ‏(13)
(13) اور ان کے شرکاء میں کوئی سفارش کرنے والا نہ ہوگا اور یہ خود بھی اپنے شرکاء کا انکار کرنے والے ہوں گے
وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ‏(14)
(14) اور جس دن قیامت قائم ہوگی سب لوگ آپس میں گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے
فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِىْ رَوْضَةٍ يُّحْبَرُوْنَ‏(15)
(15) پس جو ایمان والے اور نیک عمل والے ہوں گے وہ باغ جنّت میں نہال اور خوشحال ہوں گے
وَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَلِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِى الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ‏(16)
(16) اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ہماری آیات اور روز آخرت کی ملاقات کی تکذیب کی وہ عذاب میں ضرور گرفتار کئے جائیں گے
فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ‏(17)
(17) لہذا تم لوگ تسبیح پروردگار کرو اس وقت جب شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو
وَلَهُ الْحَمْدُ فِىْ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ‏(18)
(18) اور زمین و آسمان میں ساری حمد اسی کے لئے ہے اور عصر کے ہنگام اور جب دوپہر کرتے ہو
يُخْرِجُ الْحَىَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَىِّ وَيُحْىِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا‌ؕ وَكَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ‏(19)
(19) وہ خدا زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور زمین کو مردہ ہوجانے کے بعد پھر زندہ کرتا ہے اور اسی طرح ایک دن تمہیں بھی نکالا جائے گا
وَمِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ‏(20)
(20) اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں خاک سے پیدا کیا ہے اور اس کے بعد تم بشر کی شکل میں پھیل گئے ہو
وَمِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً  ؕ اِنَّ فِىْ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ‏(21)
(21) اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارا جوڑا تم ہی میں سے پیدا کیاہے تاکہ تمہیں اس سے سکون حاصل ہو اورپھر تمہارے درمیان محبت اور رحمت قرار دی ہے کہ اس میں صاحبانِ فکر کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں
وَمِنْ اٰيٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَاَلْوَانِكُمْ‌ؕ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْعٰلِمِيْنَ‏(22)
(22) اور اس کی نشانیوں میں سے آسمان و زمین کی خلقت اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف بھی ہے کہ اس میں صاحبانِ علم کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں
وَمِنْ اٰيٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ‌ؕ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ‏(23)
(23) اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم رات اور دن کو آرام کرتے ہو اور پھر فضل خدا کو تلاش کرتے ہو کہ اس میں بھی سننے والی قوم کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں
وَمِنْ اٰيٰتِهٖ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَيُحْىٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ‌ؕ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ‏(24)
(24) اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ بجلی کو خوف اور امید کا مرکز بنا کر دکھلاتا ہے اور آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اس کے ذریعہ مردہ زمین کو زندہ بناتا ہے بیشک اس میں بھی اس قوم کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو عقل رکھنے والی ہے
وَمِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ‌ ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً  ‌ۖ مِّنَ الْاَرْضِ ‌ۖ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ‏(25)
(25) اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اسی کے حکم سے قائم ہیں اور اس کے بعد وہ جب تم سب کو طلب کرے گا تو سب زمین سے یکبارگی برآمد ہوجائیں گے
وَلَهٗ مَنْ فِى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‌ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ‏(26)
(26) آسمان و زمین میں جو کچھ بھی ہے سب اسی کی ملکیت ہے اور سب اسی کے تابع فرمان ہیں
وَهُوَ الَّذِىْ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ‌ؕ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‌ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ‏(27)
(27) اور وہی وہ ہے جو خلقت کی ابتدا ء کرتا ہے اور پھر دوبارہ بھی پیدا کرے گا اور یہ کام اس کے لئے بے حد آسان ہے اور اسی کے لئے آسمان اور زمین میں سب سے بہترین مثال ہے اور وہی سب پر غالب آنے والا اور صاحب حکمت ہے
ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ‌ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِىْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِيْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِيْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ‌ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ‏(28)
(28) اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی مثال بیان کی ہے کہ جو رزق ہم نے تم کو عطا کیا ہے کیا اس میں تمہارے مملوک غلام و کنیز میں کوئی تمہارا شریک ہے کہ تم سب برابر ہوجاؤ اور تمہیں ان کا خوف اسی طرح ہو جس طرح اپنے نفوس کے بارے میں خوف ہوتا ہے ...._ بیشک ہم اپنی نشانیوں کو صاحب عقل قوم کے لئے اسی طرح واضح کرکے بیان کرتے ہیں
بَلِ اتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ‌ۚ فَمَنْ يَّهْدِىْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ‌ؕ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ‏(29)
(29) حقیقت یہ ہے کہ ظالموں نے بغیر جانے بوجھے اپنی خواہشات کا اتباع کرلیا ہے تو جس کو خدا گمراہی میں چھوڑ دے اسے کون ہدایت دے سکتا ہے اور ان کا تو کوئی ناصر و مددگار بھی نہیں ہے
فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا ‌ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِىْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ‌ؕ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ‌ ؕ ذٰ لِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ ۙ  وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ ۙ ‏(30)
(30) آپ اپنے رخ کو دین کی طرف رکھیں اور باطل سے کنارہ کش رہیں کہ یہ دین وہ فطرت الہیۤ ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور خلقت الہٰی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ہے یقینا یہی سیدھا اور مستحکم دین ہے مگر لوگوں کی اکثریت اس بات سے بالکل بے خبر ہے
مُنِيْبِيْنَ اِلَيْهِ وَاتَّقُوْهُ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَۙ‏(31)
(31) تم سب اپنی توجہ خدا کی طرف رکھو اور اسی سے ڈرتے رہو - نماز قائم کرو اور خبردار مشرکین میں سے نہ ہوجانا
مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا ‌ؕ كُلُّ حِزْبٍۢ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ‏(32)
(32) ان لوگوں میں سے جنہوں نے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں پھر ہر گروہ جو کچھ اس کے پاس ہے اسی پر مست اور مگن ہے
وَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِيْبِيْنَ اِلَيْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُوْنَۙ‏(33)
(33) اور لوگوں کو جب بھی کوئی مصیبت چھوجاتی ہے تو وہ پروردگار کو پوری توجہ کے ساتھ پکارتے ہیں اس کے بعد جب وہ رحمت کا مزہ چکھا دیتا ہے تو ان میں سے ایک گروہ شرک کرنے لگتا ہے
لِيَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَيْنٰهُمْ‌ؕ فَتَمَتَّعُوْا فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ‏(34)
(34) تاکہ جو کچھ ہم نے عطا کیا ہے اس کا انکار کردے تو تم مزے کرو اس کے بعد تو سب کو معلوم ہی ہوجائے گا
اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ يُشْرِكُوْنَ‏(35)
(35) کیا ہم نے ان کے اوپر کوئی دلیل نازل کی ہے جو ان سے ان کے شرک کے جواز کو بیان کرتی ہے
وَاِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَاؕ‌ وَاِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ ۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ اِذَا هُمْ يَقْنَطُوْنَ‏(36)
(36) اور جب ہم انسانوں کو رحمت کا مزہ چکھادیتے ہیں تو وہ خوش ہوجاتے ہیں اور جب انہیں ان کے سابقہ کردار کی بنا پر کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو وہ مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں
اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَيَقْدِرُ‌ؕ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ‏(37)
(37) تو کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس کے رزق میں چاہتا ہے وسعت پیدا کردیتا ہے اور جس کے یہاں چاہتا ہے کمی کردیتا ہے اور اس میں بھی صاحبِ ایمان قوم کے لئے اس کی نشانیاں ہیں
فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ‌ؕ ذٰلِكَ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ‌ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ‏(38)
(38) اور تم قرابتدار مسکین اور غربت زدہ مسافر کو اس کا حق دے دو کہ یہ ان لوگوں کے حق میں خیر ہے جو رضائے الہٰی کے طلب گار ہیں اور وہی حقیقتا نجات حاصل کرنے والے ہیں
وَمَاۤ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَاۡ فِىْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ‌ۚ وَمَاۤ اٰتَيْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ‏(39)
(39) اور تم لوگ جوبھی سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں اضافہ ہوجائے تو خدا کے یہاں کوئی اضافہ نہیں ہوتا ہے ہاں جو زکوٰۃدیتے ہو اور اس میں رضائے خدا کا ارادہ ہوتا ہے تو ایسے لوگوں کو دگنا چوگنا دے دیا جاتا ہے
اَللّٰهُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ‌ ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ يَّفْعَلُ مِنْ ذٰ لِكُمْ مِّنْ شَىْءٍ‌ؕ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ‏(40)
(40) ﷲ ہی وہ ہے جس نے تم سب کو خلق کیا ہے پھر روزی دی ہے پھر موت دیتا ہے پھر زندہ کرتا ہے کیا تمہارے شرکاء میں کوئی ایسا ہے جو ان میں سے کوئی کام انجام دے سکے خدا ان تمام چیزوں سے جنہیں یہ سب شریک بنارہے ہیں پاک و پاکیزہ اور بلند و برتر ہے
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِى النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِىْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ‏(41)
(41) لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی بنا پر فساد خشکی اور تری ہر جگہ غالب آگیا ہے تاکہ خدا ان کے کچھ اعمال کا مزہ چکھا دے تو شاید یہ لوگ پلٹ کر راستے پر آجائیں
قُلْ سِيْرُوْا فِى الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلُ‌ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِيْنَ‏(42)
(42) آپ کہہ دیجئے کہ ذرا زمین میں سیر کرکے دیکھو کہ تم سے پہلے والوں کا کیا انجام ہوا ہے جن کی اکثریت مشرک تھی
فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ الْقَيِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِىَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ‌ يَوْمَئِذٍ يَّصَّدَّعُوْنَ‏(43)
(43) اور آپ اپنے رخ کو مستقیم اور مستحکم دین کی طرف رکھیں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے اور جس دن لوگ پریشان ہوکر الگ الگ ہوجائیں گے
مَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهٗ‌ۚ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحاً فَلِاَنْفُسِهِمْ يَمْهَدُوْنَۙ ‏(44)
(44) جو کفر کرے گا وہ اپنے کفر کا ذمہ دار ہوگا اور جو لوگ نیک عمل کررہے ہیں وہ اپنے لئے راہ ہموار کررہے ہیں
لِيَجْزِىَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ‌ؕ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ‏(45)
(45) تاکہ خدا ایمان اور نیک عمل کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزاء دے سکے کہ وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا ہے
وَمِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِىَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ‏(46)
(46) اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ ہواؤں کو خوش خبری دینے والا بناکر بھیجتا ہے اور اس لئے بھی کہ تمہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھائے اور اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور تم اپنا رزق حاصل کرسکو اور شاید اس طرح شکر گزار بھی بن جاؤ
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا ‌ؕ وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ‏(47)
(47) اور ہم نے تم سے پہلے بہت سے رسول ان کی قوموں کی طرف بھیجے ہیں جو ان کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے پھر ہم نے مجرمین سے انتقام لیا اور ہمارا فرض تھا کہ ہم صاحبانِ ایمان کی مدد کریں
اَللّٰهُ الَّذِىْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهٗ فِى السَّمَآءِ كَيْفَ يَشَآءُ وَيَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ‌ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَۚ‏(48)
(48) ﷲ ہی وہ ہے جو ہواؤں کو چلاتا ہے تو وہ بادلوں کو اڑاتی ہیں پھر وہ ان بادلوں کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلادیتا ہے اور اسے ٹکڑے کردیتا ہے اور اس کے درمیان سے پانی برساتا ہے پھر یہ پانی ان بندوں تک پہنچ جاتا ہے جن تک وہ پہنچانا چاہتا ہے تو وہ خوش ہوجاتے ہیں
وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّنَزَّلَ عَلَيْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِيْنَ‏(49)
(49) اگرچہ وہ اس بارش کے نازل ہونے سے پہلے مایوسی کا شکار ہوگئے تھے
فَانْظُرْ اِلٰٓى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَيْفَ يُحْىِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ‌ؕ اِنَّ ذٰ لِكَ لَمُحْىِ الْمَوْتٰى ‌ۚ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ‏(50)
(50) اب تم رحمت خدا کے ان آثار کو دیکھو کہ وہ کس طرح زمین کو مردہ ہوجانے کے بعد زندہ کردیتا ہے بیشک وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہی ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے
وَلَئِنْ اَرْسَلْنَا رِيْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ يَكْفُرُوْنَ‏(51)
(51) اور اگر ہم زہریلی ہوا چلا دیتے اور یہ ہر طرف موسم خزاں جیسی زردی دیکھ لیتے تو بالکل ہی کفر اختیار کرلیتے
فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِيْنَ‏(52)
(52) تو آپ مردوں کو اپنی آواز نہیں سناسکتے ہیں اور بہروں کو بھی نہیں سناسکتے ہیں جب وہ منہ پھیر کر چل دیں
وَمَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْىِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ‌ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ يُّؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ‏(53)
(53) اور آپ اندھوں کو بھی ان کی گمراہی سے ہدایت نہیں کرسکتے ہیں آپ تو صرف ان لوگوں کو سناسکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور مسلمان ہیں
اَللّٰهُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَّشَيْبَةً  ‌ؕ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ‌ۚ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ‏(54)
(54) ﷲ ہی وہ ہے جس نے تم سب کو کمزوری سے پیدا کیا ہے اور پھر کمزوری کے بعد طاقت عطا کی ہے اور پھر طاقت کے بعد کمزوری اور ضعیفی قرار دی ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کردیتا ہے کہ وہ صاحب علم بھی ہے اور صاحب قدرت بھی ہے
وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ۙ مَا لَبِثُوْا غَيْرَ سَاعَةٍ ‌ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا يُؤْفَكُوْنَ‏(55)
(55) اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن مجرمین قسم کھاکر کہیں گے کہ وہ ایک ساعت سے زیادہ دنیا میں نہیں ٹہرے ہیں درحقیقت یہ اسی طرح دنیا میں بھی افترا پردازیاں کیا کرتے تھے
وَقَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِيْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِىْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى يَوْمِ الْبَعْثِ فَهٰذَا يَوْمُ الْبَعْثِ وَلٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ‏(56)
(56) اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا ہے وہ کہیں گے کہ تم لوگ کتاب خدا کے مطابق قیامت کے دن تک ٹہرے رہے تو یہ قیامت کا دن ہے لیکن تم لوگ بے خبر بنے ہوئے ہو
فَيَوْمَئِذٍ لَّا يَنْفَعُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُوْنَ‏(57)
(57) پھر آج ظالموں کو نہ کوئی معذرت فائدہ پہنچائے گی اور نہ ان کی کوئی بات سنی جائے گی
وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِىْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ‌ؕ وَلَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰيَةٍ لَّيَقُوْلَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ‏(58)
(58) اور ہم نے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کردی ہے اور اگر آپ ساری نشانیاں لے کر بھی آجائیں تو کافر یہی کہیں گے کہ آپ لوگ صرف اہل باطل ہیں
كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ‏(59)
(59) بیشک اسی طرح خدا ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگادیتا ہے جو علم رکھنے والے نہیں ہیں
فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ‌ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ‏(60)
(60) لہٰذاآپ صبر سے کام لیں کہ خدا کا وعدہ برحق ہے اور خبردار جو لوگ یقین اس امر کا نہیں رکھتے ہیں وہ آپ کو ہلکانہ بنادیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الٓمّٓ ‌ۚ‏(1)
(1) الۤمۤ
تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِۙ‏(2)
(2) یہ حکمت سے بھری ہوئی کتاب کی آیتیں ہیں
هُدًى وَّرَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِيْنَۙ‏(3)
(3) جو ان نیک کردار لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے
الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَؕ‏(4)
(4) جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں
اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ‌ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ‏(5)
(5) یہی لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِىْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ‌ۖ وَّيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ‌ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ‏(6)
(6) لوگوں میں ایسا شخص بھی ہے جو مہمل باتوں کو خریدتا ہے تاکہ ان کے ذریعہ بغیر سمجھے بوجھے لوگوں کو راہ خدا سے گمراہ کرے اور آیات الہٰیہ کا مذاق اڑائے درحقیقت ایسے ہی لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے
وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِىْۤ اُذُنَيْهِ وَقْرًا‌ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ‏(7)
(7) اور جب اس کے سامنے آیات الہٰیہ کی تلاوت کی جاتی ہے تو اکڑ کر منہ پھیرلیتا ہے جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہیں ہے اور جیسے اس کے کان میں بہرا پن ہے .ایسے شخص کو درناک عذاب کی بشارت دے دیجئے
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِيْمِۙ‏(8)
(8) بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لئے نعمتوں سے بھری ہوئی جنّت ہے
خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا‌ؕ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ‏(9)
(9) وہ اسی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں کہ یہ خدا کا برحق وعدہ ہے اور وہ صاحبِ عزّت بھی ہے اور صاحبِ حکمت بھی ہے
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا‌ وَاَ لْقٰى فِى الْاَرْضِ رَوَاسِىَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ وَبَثَّ فِيْهَا مِنْ كُلِّ دَآ بَّةٍ‌ ؕ وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ‏(10)
(10) اسی نے آسمانوں کو بغیر ستون کے پیدا کیا ہے تم دیکھ رہے ہو اور زمین میں بڑے بڑے پہاڑ ڈال دیئے ہیں کہ تم کو لے کر جگہ سے ہٹنے نہ پائے اور ہر طرح کے جانور پھیلادیئے ہیں اور ہم نے آسمان سے پانی برسایا ہے اور اس کے ذریعہ زمین میں ہر قسم کا نفیس جوڑا پیدا کردیا ہے
هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِىْ مَاذَا خَلَقَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ‌ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِىْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ‏(11)
(11) یہ خدا کی تخلیق ہے تو کافرو اب تم دکھلاؤ کہ اس کے علاوہ تمہارے خداؤں نے کیا پیدا کیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالمین کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہیں
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ‌ؕ وَمَنْ يَّشْكُرْ فَاِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ‌ۚ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِىٌّ حَمِيْدٌ‏(12)
(12) اور ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی کہ پروردگار کا شکریہ ادا کرو اور جو بھی شکریہ ادا کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدہ کے لئے کرتا ہے اور جو کفرانِ نعمت کرتا ہے اسے معلوم رہے کہ خدا بے نیاز بھی ہے اور قابل حمدوثنا بھی ہے
وَاِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِا بْنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ يٰبُنَىَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ‏(13)
(13) اور اس وقت کو یاد کرو جب لقمان نے اپنے فرزند کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا خبردار کسی کو خدا کا شریک نہ بنانا کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے
وَوَصَّيْنَا الْاِنْسٰنَ بِوَالِدَيْهِ‌ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّفِصٰلُهٗ فِىْ عَامَيْنِ اَنِ اشْكُرْ لِىْ وَلِوَالِدَيْكَؕ اِلَىَّ الْمَصِيْرُ‏(14)
(14) اور ہم نے انسان کو ماں باپ کے بارے میں نصیحت کی ہے کہ اس کی ماں نے دکھ پر دکھ سہہ کر اسے پیٹ میں رکھا ہے اور اس کی دودھ بڑھائی بھی دوسال میں ہوئی ہے ... کہ میرا اور اپنے ماں باپ کا شکریہ ادا کرو کہ تم سب کی بازگشت میری ہی طرف ہے
وَاِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰٓى اَنْ تُشْرِكَ بِىْ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا‌ وَصَاحِبْهُمَا فِى الدُّنْيَا مَعْرُوْفًا‌ وَّاتَّبِعْ سَبِيْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَىَّ ‌ۚ ثُمَّ اِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ‏(15)
(15) اور اگر تمہارے ماں باپ اس بات پر زور دیں کہ کسی ایسی چیز کو میرا شریک بناؤ جس کا تمہیں علم نہیں ہے تو خبردار ان کی اطاعت نہ کرنا لیکن دنیا میں ان کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کرنا اور اس کے راستے کو اختیار کرنا جو میری طرف متوجہ ہو پھر اس کے بعد تم سب کی بازگشت میری ہی طرف ہے اور اس وقت میں بتاؤں گا کہ تم لوگ کیا کررہے تھے
يٰبُنَىَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِىْ صَخْرَةٍ اَوْ فِى السَّمٰوٰتِ اَوْ فِى الْاَرْضِ يَاْتِ بِهَا اللّٰهُ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ‏(16)
(16) بیٹا نیکی یا بدی ایک رائی کے دانہ کے برابر ہو اور کسی پتھر کے اندر ہو یا آسمانوں پر ہو یا زمینوں کی گہرائیوں میں ہو تو خدا روزِ قیامت ضرور اسے سامنے لائے گا کہ وہ لطیف بھی ہے اور باخبر بھی ہے
يٰبُنَىَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ‌ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ‌ۚ ‏(17)
(17) بیٹا نماز قائم کرو, نیکیوں کا حکم دو, برائیوں سے منع کرو, اور اس راہ میں جو مصیبت پڑے اس پر صبر کرو کہ یہ بہت بڑی ہمت کا کام ہے
وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِى الْاَرْضِ مَرَحًا ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ‏(18)
(18) اور خبردار لوگوں کے سامنے اکڑ کر منہ نہ پُھلا لینا اور زمین میں غرور کے ساتھ نہ چلنا کہ خدا اکڑنے والے اور مغرور کو پسند نہیں کرتا ہے
وَاقْصِدْ فِىْ مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ‌ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيْرِ‏(19)
(19) اور اپنی رفتار میں میانہ روی سے کام لینا اور اپنی آواز کو دھیما رکھنا کہ سب سے بدتر آواز گدھے کی آواز ہوتی ہے جو بلاسبب بھونڈے انداز سے چیختا رہتا ہے
اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ وَاَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّبَاطِنَةً ‌ؕ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِى اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّلَا هُدًى وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ‏(20)
(20) کیا تم لوگوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو تمہارے لئے مسخّر کردیا ہے اور تمہارے لئے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کو مکمل کردیا ہے اور لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو علم و ہدایت اور روشن کتاب کے بغیر بھی خدا کے بارے میں بحث کرتے ہیں
وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطٰنُ يَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيْرِ‏(21)
(21) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس کا اتباع کرو تو کہتے ہیں کہ ہم اس کا اتباع کرتے ہیں جس پر اپنے باپ دادا کو عمل کرتے دیکھا ہے چاہے شیطان ان کو عذاب جہّنم کی طرف دعوت دے رہا ہو
وَمَنْ يُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى‌ؕ وَاِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ‏(22)
(22) اور جو اپنا روئے حیات خدا کی طرف موڑ دے اور وہ نیک کردار بھی ہو تو اس نے ریسمان ہدایت کو مضبوطی سے پکڑ لیا ہے اور تمام امور کا انجام اللہ کی طرف ہے
وَمَنْ كَفَرَ فَلَا يَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ ؕ اِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ‏(23)
(23) اور جو کفر اختیار کرلے اس کے کفر سے تم کو رنجیدہ نہیں ہونا چاہئے کہ سب کی بازگشت ہماری ہی طرف ہے اور اس وقت ہم بتائیں گے کہ انہوں نے کیا کیا ہے بیشک اللہ دلوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے
نُمَتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ‏(24)
(24) ہم انہیں تھوڑے دن تک آرام دیں گے اور پھر سخت ترین عذاب کی طرف کھینچ کر لے آئیں گے
وَلَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ‌ ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ‌ ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ‏(25)
(25) اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ زمین و آسمان کا خالق کون ہے تو کہیں گے کہ اللہ تو پھر کہئے کہ ساری حمد اللہ کے لئے ہے اور ان کی اکثریت بالکل جاہل ہے
لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِىُّ الْحَمِيْدُ‏(26)
(26) ﷲہی کے لئے زمین و آسمان کی تمام چیزیں ہیں اور وہی بے نیاز بھی ہے اور قابل ستائش بھی
وَلَوْ اَنَّ مَا فِى الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ‏(27)
(27) اور اگر روئے زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور سمندر کا سہارا دینے کے لئے سات سمندر اور آ جائیں تو بھی کلمات الہٰی تمام ہونے والے نہیں ہیں بیشک اللہ صاحبِ عزت ّبھی ہے اور صاحب حکمت بھی ہے
مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ‏(28)
(28) تم سب کی خلقت اور تم سب کا دوبارہ زندہ کرنا سب ایک ہی آدمی جیسا ہے اور اللہ یقینا سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُوْلِجُ الَّيْلَ فِى النَّهَارِ وَيُوْلِجُ النَّهَارَ فِى الَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَّجْرِىْۤ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّاَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ‏(29)
(29) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اس نے چاند اور سورج کو مسخّر کردیا ہے کہ سب ایک معیّن مدّت تک چلتے رہیں گے اور اللہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے
ذٰ لِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَاَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِىُّ الْكَبِيْرُ‏(30)
(30) یہ سب اسی لئے ہے کہ خدا معبود برحق ہے اور اس کے علاوہ جس کو بھی یہ لوگ پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں اور اللہ بلند و بالا اور بزرگ و برتر ہے
اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِىْ فِى الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِيُرِيَكُمْ مِّنْ اٰيٰتِهٖؕ اِنَّ فِىْ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ‏(31)
(31) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ نعمت خدا ہی سے کشتیاں دریا میں چل رہی ہیں تاکہ وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھلائے کہ اس میں تمام صبر و شکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں پائی جاتی ہیں
وَاِذَا غَشِيَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ۙ فَلَمَّا نَجّٰٮهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ‌ؕ وَمَا يَجْحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ‏(32)
(32) اور جب سائبانوں کی طرح کوئی موج انہیں ڈھانکنے لگتی ہے تو دین کے پورے اخلاص کے ساتھ خدا کو آواز دیتے ہیں اور جب وہ نجات دے کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو اس میں سے کچھ ہی اعتدال پر رہ جاتے ہیں اور ہماری آیات کا انکار غدار اور ناشکرے افراد کے علاوہ کوئی نہیں کرتا ہے
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِىْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ وَلَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَيْئًا‌ ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ‌ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ‏(33)
(33) انسانو! اپنے پروردگار سے ڈرو اور اس دن سے ڈرو جس دن نہ باپ بیٹے کے کام آئے گا اور نہ بیٹا باپ کے کچھ کام آسکے گا بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے لہٰذا تمہیں زندگانی دنیا دھوکہ میں نہ ڈال دے اور خبردار کوئی دھوکہ دینے والا بھی تمہیں دھوکہ نہ دے سکے
اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ‌ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ‌ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِى الْاَرْحَامِ‌ ؕ وَمَا تَدْرِىْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا‌ ؕ وَّمَا تَدْرِىْ نَفْسٌۢ بِاَىِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ ‏(34)
(34) یقینا اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہی پانی برساتا ہے اور شکم کے اندر کا حال جانتا ہے اور کوئی نفس یہ نہیں جانتا ہے کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کسی کو نہیں معلوم ہے کہ اسے کس زمین پر موت آئے گی بیشک اللہ جاننے والا اور باخبر ہے
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الٓمّٓ‏(1)
(1) الۤمۤ
ۚ تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ لَا رَيْبَ فِيْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَؕ‏(2)
(2) بیشک اس کتاب کی تنزیل عالمین کے پروردگار کی طرف سے ہے
اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰٮهُ‌ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰٮهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ‏(3)
(3) کیا ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ یہ رسول کا افتراء ہے, ہرگز نہیں یہ آپ کے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جس کی طرف سے آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا رسول علیھ السّلام نہیں آیا ہے کہ شاید یہ ہدایت یافتہ ہوجائیں
اَللّٰهُ الَّذِىْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِىْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ‌ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِىٍّ وَّلَا شَفِيْعٍ‌ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ‏(4)
(4) ﷲہی وہ ہے جس نے آسمان و زمین اور اس کی تمام درمیانی مخلوقات کو چھ دن کے اندر پیدا کیا ہے اور اس کے بعد عرش پر اپنا اقتدار قائم کیا ہے اور تمہارے لئے اس کو چھوڑ کر کوئی سرپرست یا سفارش کرنے والا نہیں ہے کیا تمہاری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے
يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ فِىْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ‏(5)
(5) وہ خدا آسمان سے زمین تک کے اُمور کی تدبیر کرتا ہے پھر یہ امر اس کی بارگاہ میں اس دن پیش ہوگا جس کی مقدار تمہارے حساب کے مطابق ہزار سال کے برابر ہوگی
ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُۙ‏(6)
(6) وہ خدا حاضر و غائب سب کا جاننے والا اور صاحبِ عزّت و مہربان ہے
الَّذِىْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَىْءٍ خَلَقَهٗ‌ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ‌ۚ‏(7)
(7) اس نے ہر چیز کو حسن کے ساتھ بنایا ہے اور انسان کی خلقت کا آغاز مٹی سے کیا ہے
ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِيْنٍ‌ۚ‏(8)
(8) اس کے بعد اس کی نسل کو ایک ذلیل پانی سے قرار دیا ہے
ثُمَّ سَوّٰٮهُ وَنَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ‌ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَةَ ‌ ؕ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ‏(9)
(9) اس کے بعد اسے برابر کرکے اس میں اپنی روح پھونک دی ہے اور تمہارے لئے کان, آنکھ اور دل بنادیئے ہیں مگر تم بہت کم شکریہ ادا کرتے ہو
وَقَالُوْٓا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِى الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِىْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ ؕ ‌بَلْ هُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ‏(10)
(10) اور یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم زمین میں گم ہوگئے تو کیا نئی خلقت میں پھر ظاہر کئے جائیں گے - بات یہ ہے کہ یہ اپنے پروردگار کی ملاقات کے منکر ہیں
قُلْ يَتَوَفّٰٮكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِىْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ‏(11)
(11) آپ کہہ دیجئے کہ تم کو وہ ملک الموت زندگی کی آخری منزل تک پہنچائے گا جو تم پر تعینات کیا گیا ہے اس کے بعد تم سب پروردگار کی بارگاہ میں پیش کئے جاؤ گے
وَلَوْ تَرٰٓى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ‏(12)
(12) اور کاش آپ دیکھتے جب مجرمین پروردگار کی بارگاہ میں سر جھکائے کھڑے ہوں گے - پروردگار ہم نے سب دیکھ لیا اور سن لیا اب ہمیں دوبارہ واپس کردے کہ ہم نیک عمل کریں بیشک ہم یقین کرنے والوں میں ہیں
وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰٮهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّىْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ‏(13)
(13) اور ہم چاہتے تو جبراً ہرنفس کو اس کی ہدایت دے دیتے لیکن ہماری طرف سے یہ بات طے ہوچکی ہے کہ ہم جہّنم کو جنات اور تمام گمراہ انسانوں سے بھردیں گے
فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِيْتُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هٰذَا‌ ۚ اِنَّا نَسِيْنٰكُمْ‌ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ‏(14)
(14) لہذا تم لوگ اس بات کا مزہ چکھو کہ تم نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا تو ہم نے بھی تم کو نظرانداز کردیا ہے اب اپنے گزشتہ اعمال کے بدلے دائمی عذاب کا مزہ چکھو
اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ۩‏(15)
(15) ہماری آیتوں پر ایمان لانے والے افراد بس وہ ہیں جنہیں آیات کی یاد دلائی جاتی ہے تو سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمدوثنا کی تسبیح کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ہیں
تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ‏(16)
(16) ان کے پہلو بستر سے الگ رہتے ہیں اور وہ اپنے پروردگار کو خوف اور طمع کی بنیاد پر پکارتے رہتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے رزق سے ہماری راہ میں انفاق کرتے رہتے ہیں
فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِىَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ‌ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ‏(17)
(17) پس کسی نفس کو نہیں معلوم ہے کہ اس کے لئے کیا کیا خنکی چشم کا سامان چھپا کر رکھا گیا ہے جو ان کے اعمال کی جزاء ہے
اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا‌ ؕ لَا يَسْتَوٗنَؔ‏(18)
(18) کیا وہ شخص جو صاحبِ ایمان ہے اس کے مثل ہوجائے گا جو فاسق ہے ہرگز نہیں دونوں برابر نہیں ہوسکتے
اَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى نُزُلًاۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ‏(19)
(19) جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں ان کے لئے آرام کرنے کی جنتیں ہیں جو ان کے اعمال کی جزاء ہیں
وَاَمَّا الَّذِيْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰٮهُمُ النَّارُ‌ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِيْدُوْا فِيْهَا وَ قِيْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِىْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ‏(20)
(20) اور جن لوگوں نے فسق اختیار کیا ہے ان کا ٹھکاناجہّنم ہے کہ جب اس سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو دوبارہ پلٹا دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ اس جہنمّ کی آگ کا مزہ چکھو جس کا تم انکار کیا کرتے تھے
وَلَنُذِيْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ‏(21)
(21) اور ہم یقینا بڑے عذاب سے پہلے انہیں معمولی عذاب کا مزہ چکھائیں گے کہ شاید اسی طرح راہ راست پر پلٹ آئیں
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا‌ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِيْنَ مُنْتَقِمُوْنَ‏(22)
(22) اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جسے آیات الہٰیہ کی یاد دلائی جائے اور پھر اس سے اعراض کرے تو ہم یقینا مجرمین سے انتقام لینے والے ہیں
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِىْ مِرْيَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ‌ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِىْۤ اِسْرَآءِيْلَۚ‏(23)
(23) اور ہم نے موسٰی علیھ السّلام کو بھی کتاب عطا کی ہے لہذا آپ کو اپنے قرآن کے منجانب اللہ ہونے میں شک نہیں ہونا چاہئے اور ہم نے کتاب موسٰی علیھ السّلام کو بنی اسرائیل کے لئے ہدایت قرار دیا ہے
وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا‌ ؕ وَ كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يُوْقِنُوْنَ‏(24)
(24) اور ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو امام اور پیشوا قرار دیا ہے جو ہمارے امر سے لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں اس لئے کہ انہوں نے صبر کیا ہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے
اِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ‏(25)
(25) بیشک آپ کا پروردگار ان کے درمیان روزِ قیامت ان تمام باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں یہ آپس میں اختلاف رکھتے تھے
اَوَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ يَمْشُوْنَ فِىْ مَسٰكِنِهِمْ‌ ؕ اِنَّ فِىْ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ ؕ اَفَلَا يَسْمَعُوْنَ‏(26)
(26) تو کیا ان کی ہدایت کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا ہے جن کی بستیوں میں یہ چل پھررہے ہیں اور اس میں ہماری بہت سی نشانیاں ہیں تو کیا یہ سنتے نہیں ہیں
اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَاَنْفُسُهُمْ‌ؕ اَفَلَا يُبْصِرُوْنَ‏(27)
(27) کیا ان لوگوں نے یہ نہیں دیکھا ہے کہ ہم پانی کو چٹیل میدان کی طرف بہالے جاتے ہیں اور اس کے ذریعہ زراعت پیدا کرتے ہیں جسے یہ خود بھی کھاتے ہیں اور ان کے جانور بھی کھاتے ہیں تو کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں
وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ‏(28)
(28) اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ آخر وہ فتح کا دن کب آئے گا اگر آپ لوگ سچےّ ہیں
قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَنْفَعُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِيْمَانُهُمْ وَلَا هُمْ يُنْظَرُوْنَ‏(29)
(29) تو کہہ دیجئے کہ فتح کے دن پھر کفر اختیار کرنے والوں کا ایمان کام نہیں آئے گا اور نہ انہیں مہلت ہی دی جائے گی
فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَانْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ‏(30)
(30) لہذا آپ ان سے کنارہ کش رہیں اور وقت کا انتظار کریں کہ یہ بھی انتظار کرنے والے ہیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا ۙ‏(1)
(1) اے پیغمبر خدا سے ڈرتے رہئیے اور خبردار کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کیجئے گا یقینا اللہ ہر شے کا جاننے والا اور صاحب حکمت ہے
وَّاتَّبِعْ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا ۙ‏(2)
(2) اور جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے وحی کی جاتی ہے اسی کا اتباع کرتے رہیں کہ اللہ تم لوگوں کے اعمال سے خوب باخبر ہے
وَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ‌ ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا‏(3)
(3) اور اپنے خدا پر اعتماد کیجئے کہ وہ نگرانی کے لئے بہت کافی ہے
مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَيْنِ فِىْ جَوْفِهٖ ۚ وَمَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ ‌ۚ وَمَا جَعَلَ اَدْعِيَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ‌ ؕ ذٰ لِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَ فْوَاهِكُمْ‌ ؕ وَاللّٰهُ يَقُوْلُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِى السَّبِيْلَ‏(4)
(4) اور اللہ نے کسی مرد کے سینے میں دو دل نہیں قرار دیئے ہیں اور تمہاری وہ بیویاں جن سے تم ا ظہار کرتے ہو انہیں تمہاری واقعی ماں نہیں قرار دیا ہے اور نہ تمہاری منہ بولی اولاد کواولادقرار دیا ہے یہ سب تمہاری زبانی باتیں ہیں اور اللہ تو صرف حق کی بات کہتا ہے اور سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے
اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ‌ ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِى الدِّيْنِ وَمَوَالِيْكُمْ‌ؕ وَ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيْمَاۤ اَخْطَاْ تُمْ بِهٖۙ وَلٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا‏(5)
(5) ان بچوں کو ان کے باپ کے نام سے پکارو کہ یہی خدا کی نظر میں انصاف سے قریب تر ہے اور اگر ان کے باپ کو نہیں جانتے ہو تو یہ دین میں تمہارے بھائی اور دوست ہیں اور تمہارے لئے اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے جو تم سے غلطی ہوگئی ہے البتہ تم اس بات کے ضرور ذمہ دار ہو جو تمہارے دلوں سے قصداانجام دی ہے اور اللہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے
اَلنَّبِىُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ‌ وَاَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ‌ ؕ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِىْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰٓى اَوْلِيٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا‌ ؕ كَانَ ذٰ لِكَ فِى الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا‏(6)
(6) بیشک نبی تمام مومنین سے ان کے نفس کے بہ نسبت زیادہ اولیٰ ہے اور ان کی بیویاں ان سب کی مائیں ہیں اور مومنین و مہاجرین میں سے قرابتدار ایک دوسرے سے زیادہ اولویت اور قربت رکھتے ہیں مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ نیک برتاؤ کرنا چاہو تو کوئی بات نہیں ہے یہ بات کتابِ خدا میں لکھی ہوئی موجود ہے
وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِيّٖنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثاقًا غَلِيْظًا ۙ‏(7)
(7) اوراس وقت کو یاد کیجئے جب ہم نے تمام انبیاء علیھ السّلام سے اور بالخصوص آپ سے اور نوح علیھ السّلام, ابراہیم علیھ السّلام ,موسیٰ علیھ السّلام اور عیسٰی بن علیھ السّلام مریم سے عہد لیا اور سب سے بہت سخت قسم کا عہد لیا
لِّيَسْئَلَ الصّٰدِقِيْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ‌ۚ وَاَعَدَّ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا اَ لِيْمًا‏(8)
(8) تاکہ صادقین سے ان کی صداقت تبلیغ کے بارے میں سوال کیا جائے اور خدا نے کافروں کے لئے بڑا دردناک عذاب مہیاّ کر رکھا ہے
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا وَّجُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا ۚ‏(9)
(9) ایمان والو! اس وقت اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب کفر کے لشکر تمہارے سامنے آگئے اور ہم نے ان کے خلاف تمہاری مدد کے لئے تیز ہوا اور ایسے لشکر بھیج دیئے جن کو تم نے دیکھا بھی نہیں تھا اور اللہ تمہارے اعمال کوخوب دیکھنے والا ہے
اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا ؕ‏(10)
(10) اس وقت جب کفار تمہارے اوپر کی طرف سے اور نیچے کی سمت سے آگئے اور دہشت سے نگاہیں خیرہ کرنے لگیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے اور تم خدا کے بارے میں طرح طرح کے خیالات میں مبتلا ہوگئے
هُنَالِكَ ابْتُلِىَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِيْدًا‏(11)
(11) اس وقت مومنین کا باقاعدہ امتحان لیا گیا اور انہیں شدید قسم کے جھٹکے دیئے گئے
وَاِذْ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ فِىْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا‏(12)
(12) اور جب منافقین اور جن کے دلوں میں مرض تھا یہ کہہ رہے تھے کہ خدا و رسول نے ہم سے صرف دھوکہ دینے والا وعدہ کیا ہے
وَاِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ يٰۤاَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا‌ ۚ وَيَسْتَاْذِنُ فَرِيْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِىَّ يَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُيُوْتَنَا عَوْرَة‌ٌ  ‌ۛؕ وَمَا هِىَ بِعَوْرَةٍ  ۛۚ اِنْ يُّرِيْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا‏(13)
(13) اور جب ان کے ایک گروہ نے کہہ دیا کہ مدینہ والو اب یہاں ٹھکانا نہیں ہے لہذا واپس بھاگ چلو اور ان میں سے ایک گروہ نبی سے اجازت مانگ رہا تھا کہ ہمارے گھر خالی پڑے ہوئے ہیں حالانکہ وہ گھر خالی نہیں تھے بلکہ یہ لوگ صرف بھاگنے کا ارادہ کررہے تھے
وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَمَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا يَسِيْرًا‏(14)
(14) حالانکہ اگر ان پر چاروں طرف سے لشکر داخل کردیئے جاتے اور پھر ان سے فتنہ کا سوال کیا جاتا تو فورا حاضر ہوجاتے اور تھوڑی دیر سے زیادہ نہ ٹہرتے
وَلَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا يُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ‌ ؕ وَكَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا‏(15)
(15) اور ان لوگوں نے اللہ سے یقینی عہد کیا تھا کہ ہرگز پیٹھ نہ پھرائیں گے اور اللہ کے عہد کے بارے میں بہرحال سوال کیا جائے گا
قُلْ لَّنْ يَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَاِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا‏(16)
(16) آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم قتل یا موت کے خوف سے بھاگنا بھی چاہو تو فرار کام آنے والا نہیں ہے اور دنیا میں تھوڑا ہی آرام کرسکو گے
قُلْ مَنْ ذَا الَّذِىْ يَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً ‌ؕ وَلَا يَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا‏(17)
(17) کہہ دیجئے کہ اگر خدا برائی کا ارادہ کرلے یا بھلائی ہی کرنا چاہے تو تمہیں اس سے کون بچاسکتا ہے اور یہ لوگ اس کے علاوہ نہ کوئی سرپرست پاسکتے ہیں اور نہ مددگار
قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِيْنَ مِنْكُمْ وَالْقَآئِلِيْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَيْنَا‌ ۚ وَلَا يَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِيْلًا ۙ‏(18)
(18) خدا ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو جنگ سے روکنے والے ہیں اور اپنے بھائیوں سے یہ کہنے والے ہیں کہ ہماری طرف آجاؤ اور یہ خود میدان جنگ میں بہت کم آتے ہیں
اَشِحَّةً عَلَيْكُمْ ‌‌ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَيْتَهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ تَدُوْرُ اَعْيُنُهُمْ كَالَّذِىْ يُغْشٰى عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ‌ ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَ لْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَيْرِ‌ ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ يُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ‌ ؕ وَكَانَ ذٰ لِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرًا‏(19)
(19) یہ تم سے جان چراتے ہیں اور جب خوف سامنے آجائے گا تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کی طرف اس طرح دیکھیں گے کہ جیسے ان کی آنکھیں یوں پھر رہی ہیں جیسے موت کی غشی طاری ہو اور جب خوف چلا جائے گا تو آپ پر تیز تر زبانوں کے ساتھ حملہ کریں گے اور انہیں مال غنیمت کی حرص ہوگی یہ لوگ شروع ہی سے ایمان نہیں لائے ہیں لہٰذا خدا نے ان کے اعمال کو برباد کردیا ہے اور خدا کے لئے یہ کام بڑا آسان ہے
يَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ يَذْهَبُوْا‌ ۚ وَاِنْ يَّاْتِ الْاَحْزَابُ يَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِى الْاَعْرَابِ يَسْاَ لُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ‌ ؕ وَلَوْ كَانُوْا فِيْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِيْلًا‏(20)
(20) یہ لوگ ابھی تک اس خیال میں ہیں کہ کفار کے لشکر گئے نہیں ہیں اور اگر دوبارہ لشکر آجائیں تو یہ یہی چاہیں گے کہ اے کاش دیہاتیوں کے ساتھ صحراؤں میں آباد ہوگئے ہوتے اور وہاں سے تمہاری خبریں دریافت کرتے رہتے اور اگر تمہارے ساتھ رہتے بھی تو بہت کم ہی جہاد کرتے
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِىْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيْرًا ؕ‏(21)
(21) مسلمانو! تم میں سے اس کے لئے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ عمل ہے جو شخص بھی اللہ اور آخرت سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتا ہے
وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَمَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِيْمَانًا وَّتَسْلِيْمًا ؕ‏(22)
(22) اور صاحبانِ ایمان کا یہ عالم ہے کہ جب انہوں نے کفر کے لشکروں کو دیکھا تو پکار اٹھے کہ یہ وہی بات ہے جس کا خدا اور رسول نے وعدہ کیا تھا اور خدا و رسول کا وعدہ بالکل سچا ہے اور اس ہجوم نے ان کے ایمان اور جذبہ تسلیم میں مزید اضافہ ہی کردیا
مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ‌ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ‌ ۖ  وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا ۙ‏(23)
(23) مومنین میں ایسے بھی مردُ میدان ہیں جنہوں نے اللہ سے کئے وعدہ کو سچ کر دکھایا ہے ان میں بعض اپنا وقت پورا کرچکے ہیں اور بعض اپنے وقت کا انتظار کررہے ہیں اور ان لوگوں نے اپنی بات میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا کی ہے
لِّيَجْزِىَ اللّٰهُ الصّٰدِقِيْنَ بِصِدْقِهِمْ وَيُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِيْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْهِمْ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا ۚ‏(24)
(24) تاکہ خدا صادقین کو ان کی صداقت کا بدلہ دے اور منافقین کو چاہے تو ان پر عذاب نازل کرے یا ان کی توبہ قبول کرلے کہ اللہ یقینا بہت بخشنے والا اور مہربان ہے
وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوْا خَيْرًا‌ ؕ وَكَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ الْقِتَالَ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيْزًا ۚ‏(25)
(25) اور خدا نے کفّار کو ان کے غصّہ سمیت واپس کردیا کہ وہ کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکے اور اللہ نے مومنین کو جنگ سے بچالیا اور اللہ بڑی قوت والا اور صاحبِ عزّت ہے
وَاَنْزَلَ الَّذِيْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَيَاصِيْهِمْ وَقَذَفَ فِىْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِيْقًا تَقْتُلُوْنَ وَتَاْسِرُوْنَ فَرِيْقًا ۚ‏(26)
(26) اور اس نے کفار کی پشت پناہی کرنے والے اہل کتاب کو ان کے قلعوں سے نیچے اتار دیا اور ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ تم ان میں سے کچھ کو قتل کررہے تھے اور کچھ کو قیدی بنارہے تھے
وَاَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَدِيَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَاَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرًا‏(27)
(27) اور پھر تمہیں ان کی زمین, ان کے دیار اور ان کے اموال اور زمینوں کا بھی وارث بنادیا جن میں تم نے قدم بھی نہیں رکھا تھا اور بیشک اللہ ہر شے پر قادر ہے
يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَاُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا‏(28)
(28) پیغمبر آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگ زندگانی دنیا اور اس کی زینت کی طلبگار ہو تو آؤ میں تمہیں متاعِ دنیا دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں
وَاِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَالدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِيْمًا‏(29)
(29) اور اگر اللہ اور رسول اور آخرت کی طلبگار ہو تو خدا نے تم میں سے نیک کردار عورتوں کے لئے بہت بڑا اجر فراہم کر رکھا ہے
يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ مَنْ يَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ‌ؕ وَكَانَ ذٰ لِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرًا‏(30)
(30) اے زنان پیغمبر جو بھی تم میں سے کُھلی ہوئی برائی کا ارتکاب کرے گی اس کا عذاب بھی دہرا کردیا جائے گا اور یہ بات خد اکے لئے بہت آسان ہے