ENGLISH | اردو | Roman | Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَكَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ‌ ؕ اَ لَيْسَ فِىْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِيْنَ‏(32)
(32) تو اس سے بڑا ظالم کون ہے جو خدا پر بہتان باندھے اور صداقت کے آجانے کے بعد اس کی تکذیب کرے تو کیاجہّنم میں کافرین کا ٹھکانا نہیں ہے
وَالَّذِىْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهٖۤ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ‏(33)
(33) اور جو شخص صداقت کا پیغام لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ درحقیقت صاحبانِ تقویٰ اور پرہیزگار ہیں
لَهُمْ مَّا يَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ‌ ؕ ذٰ لِكَ جَزٰٓؤُ الْمُحْسِنِيْنَ ۖۚ‏(34)
(34) ان کے لئے پروردگار کے یہاں وہ سب کچھ ہے جو وہ چاہتے ہیں اور یہی نیک عمل والوں کی جزاء ہے
لِيُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِىْ عَمِلُوْا وَيَجْزِيَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِىْ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ‏(35)
(35) تاکہ خدا ان برائیوں کو دور کردے جو ان سے سرزد ہوئی ہیں اور ان کا اجر ان کے اعمال سے بہتر طور پر عطا کرے
اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ‌ ؕ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ‌ ؕ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ‌ ۚ‏(36)
(36) کیا خدا اپنے بندوں کے لئے کافی نہیں ہے اور یہ لوگ آپ کو اس کے علاوہ دوسروں سے ڈراتے ہیں حالانکہ جس کو خدا گمراہی میں چھوڑ دے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے
وَمَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ‌ ؕ اَ لَيْسَ اللّٰهُ بِعَزِيْزٍ ذِى انْتِقَامٍ‏(37)
(37) اور جس کو وہ ہدایت دیدے اس کا کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے کیا خدا سب سے زیادہ زبردست انتقام لینے والا نہیں ہے
وَلَئِنْ سَاَ لْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ‌ ؕ قُلْ اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِىَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِىْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ‌ ؕ قُلْ حَسْبِىَ اللّٰهُ‌ ؕ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ‏(38)
(38) اور اگر آپ ان سے سوال کریں گے کہ زمین و آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہیں گے کہ اللہ ...._ تو کہہ دیجئے کہ کیا تم نے ان سب کا حال دیکھا ہے جن کی عبادت کرتے ہو کہ اگر خدا نقصان پہنچانے کا ارادہ کرلے تو کیا یہ اس نقصان کو روک سکتے ہیں یا اگر وہ رحمت کا ارادہ کرلے تو کیا یہ اس رحمت کو منع کرسکتے ہیں - آپ کہہ دیجئے کہ میرے لئے میرا خدا کافی ہے اور بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں
قُلْ يٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّىْ عَامِلٌ‌ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ‏(39)
(39) اور کہہ دیجئے کہ قوم والو تم اپنی جگہ پر عمل کرو اور میں اپنا عمل کررہا ہوں اس کے بعد عنقریب تمہیں سب کا حال معلوم ہوجائے گا
مَنْ يَّاْتِيْهِ عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ‏(40)
(40) کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور کس پر ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوتا ہے
اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ‌ ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ‌ ۚ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا‌ ۚ وَمَاۤ اَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيْلٍ‏(41)
(41) ہم نے اس کتاب کو آپ کے پاس لوگوں کی ہدایت کے لئے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اب جو ہدایت حاصل کرلے گا وہ اپنے فائدہ کے لئے کرے گا اور جو گمراہ ہوجائے گا وہ بھی اپنا ہی نقصان کرے گا اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں
اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِىْ لَمْ تَمُتْ فِىْ مَنَامِهَا‌ ۚ فَيُمْسِكُ الَّتِىْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَ يُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى‌ ؕ اِنَّ فِىْ ذٰ لِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ‏(42)
(42) اللہ ہی ہے جو روحوں کو موت کے وقت اپنی طرف بلالیتا ہے اور جو نہیں مرتے ہیں ان کی روحوں کو بھی نیند کے وقت طلب کرلیتا ہے اور پھر جس کی موت کا فیصلہ کرلیتا ہے اس کی روح کو روک لیتا ہے اور دوسری روحوں کو ایک مقررہ مدّت کے لئے آزاد کردیتا ہے - اس بات میں صاحبان فکر و نظر کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں
اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ‌ ؕ قُلْ اَوَلَوْ كَانُوْا لَا يَمْلِكُوْنَ شَيْئًا وَّلَا يَعْقِلُوْنَ‏(43)
(43) کیا ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر سفارش کرنے والے اختیار کرلئے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ ایسا کیوں ہے چاہے یہ لوگ کوئی اختیار نہ رکھتے ہوں اور کسی طرح کی بھی عقل نہ رکھتے ہوں
قُلْ لِّلَّهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيْعًا‌ ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‌ ؕ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ‏(44)
(44) کہہ دیجئے کہ شفاعت کا تمام تراختیار اللہ کے ہاتھوں میں ہے اسی کے پاس زمین و آسمان کا سارا اقتدار ہے اور اس کے بعد تم بھی اسی کی بارگاہ میں پلٹائے جاؤ گے
وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ‌ ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ‏(45)
(45) اور جب ان کے سامنے خدائے یکتا کا ذکر آتا ہے تو جن کا ایمان آخرت پر نہیں ہے ان کے دل متنفر ہوجاتے ہیں اور جب اس کے علاوہ کسی اور کا ذکر آتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں
قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِىْ مَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ‏(46)
(46) اب آپ کہئے کہ اے پروردگار اے زمین و آسمان کے خلق کرنے والے اور حاضر و غائب کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں کے درمیان ان مسائل کا فیصلہ کرسکتا ہے جن میں یہ آپس میں اختلاف کررہے ہیں
وَلَوْ اَنَّ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مَا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا وَّمِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ‌ؕ وَبَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ يَكُوْنُوْا يَحْتَسِبُوْنَ‏(47)
(47) اور اگر ظلم کرنے والوں کو زمین کی تمام کائنات مل جائے اور اتنا ہی اور بھی مل جائے تو بھی یہ روزِ قیامت کے بدترین عذاب کے بدلہ میں سب دے دیں گے لیکن ان کے لئے خدا کی طرف سے وہ سب بہرحال ظاہر ہوگا جس کا یہ وہم و گمان بھی نہیں رکھتے تھے
وَبَدَا لَهُمْ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ‏(48)
(48) اور ان کی ساری بدکرداریاں ان پر واضح ہوجائیں گی اور انہیں وہی بات اپنے گھیرے میں لے لے گی جس کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے
فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ‌ؕ بَلْ هِىَ فِتْنَةٌ وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ‏(49)
(49) پھر جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے اور اس کے بعد جب ہم کوئی نعمت دیدیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے میرے علم کے زور پر دی گئی ہے حالانکہ یہ ایک آزمائش ہے اور اکثر لوگ اس کا علم نہیں رکھتے ہیں
قَدْ قَالَهَا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ‏(50)
(50) ان سے پہلے والوں نے بھی یہی کہا تھا تو وہ کچھ ان کے کام نہیں آیا جسے وہ حاصل کررہے تھے
فَاَصَابَهُمْ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا‌ ؕ وَالَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰٓؤُلَاۤءِ سَيُصِيْبُهُمْ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا ۙ وَمَا هُمْ بِمُعْجِزِيْنَ‏(51)
(51) بلکہ ان کے اعمال کے برے اثرات ان تک پہنچ گئے اور ان کفاّر میں سے بھی جو لوگ ظلم کرنے والے ہیں ان تک ان کے اعمال کے برے اثرت پہنچیں گے اور وہ خدا کو عاجز نہیں کرسکتے ہیں
اَوَلَمْ يَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَيَقْدِرُ‌ؕ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ‏(52)
(52) کیا انہیں یہ نہیں معلوم ہے کہ اللہ ہی جس کے رزق کو چاہتا ہے وسیع کردیتا ہے اور جس کے رزق کو چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے. ان معاملات میں صاحبان ایمان کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں
قُلْ يٰعِبَادِىَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا‌ ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ‏(53)
(53) پیغمبر آپ پیغام پہنچادیجئے کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی ہے رحمت خدا سے مایوس نہ ہونا اللہ تمام گناہوں کا معاف کرنے والا ہے اور وہ یقینا بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربان ہے
وَاَنِيْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَاَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ‏(54)
(54) اور تم سب اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کے لئے سراپا تسلیم ہوجاؤ قبل اس کے کہ تم تک عذاب آجائے تو پھر تمہاری مدد نہیں کی جاسکتی ہے
وَاتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ‏(55)
(55) اور تمہارے رب کی طرف سے جو بہترین قانون نازل کیا گیا ہے اس کا اتباع کرو قبل اس کے کہ تم تک اچانک عذاب آجائے اور تمہیں اس کا شعور بھی نہ ہو
اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ يّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِىْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَاِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَۙ‏(56)
(56) پھر تم میں سے کوئی نفس یہ کہنے لگے کہ ہائے افسوس کہ میں نے خدا کے حق میں بڑی کوتاہی کی ہے اور میں مذاق اڑانے والوں میں سے تھا
اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰٮنِىْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَۙ‏(57)
(57) یا یہ کہنے لگے کہ اگر خدا مجھے ہدایت دے دیتا تو میں بھی صاحبانِ تقویٰ میں سے ہوجاتا
اَوْ تَقُوْلَ حِيْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِىْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ‏(58)
(58) یا عذاب کے دیکھنے کے بعد یہ کہنے لگے کہ اگر مجھے دوبارہ واپس جانے کا موقع مل جائے تو میں نیک کردار لوگوں میں سے ہوجاؤں گا
بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰيٰتِىْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتَ وَكُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ‏(59)
(59) ہاں ہاں تیرے پاس میری آیتیں آئی تھیں تو تو نے انہیں جھٹلادیا اور تکبر سے کام لیا اور کافروں میں سے ہوگیا
وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ تَرَى الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ ؕ اَلَيْسَ فِىْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِيْنَ‏(60)
(60) اور تم روزِ قیامت دیکھو گے کہ جن لوگوں نے اللہ پر بہتان باندھا ہے ان کے چہرے سیاہ ہوگئے ہیں اور کیا جہّنم میں تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا نہیں ہے
وَيُنَجِّىْ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ لَا يَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ‏(61)
(61) اور خدا صاحبانِ تقویٰ کو ان کی کامیابی کے سبب نجات دے دے گاکہ کوئی برائی انہیں چھو بھی نہ سکے گی اور نہ انہیں کوئی رنج لاحق ہوگا
اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَىْءٍ‌ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ وَّكِيْلٌ‏(62)
(62) اللہ ہی ہر شے کا خالق ہے اور وہی ہر چیز کی نگرانی کرنے والا ہے
لَّهٗ مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‌ؕ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ‏(63)
(63) زمین و آسمان کی تمام کنجیاں اسی کے پاس ہیں اور جن لوگوں نے اس کی آیتوں کا انکار کیا وہی خسارہ میں رہنے والے ہیں
قُلْ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّىْۤ اَعْبُدُ اَيُّهَا الْجٰهِلُوْنَ‏(64)
(64) آپ کہہ دیجئے کہ اے جاہلو کیا تم مجھے اس بات کا حکم دیتے ہو کہ میں غیر خدا کی عبادت کرنے لگوں
وَلَقَدْ اُوْحِىَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ‌ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ‏(65)
(65) اور یقینا تمہاری طرف اور تم سے پہلے والوں کی طرف یہی وحی کی گئی ہے کہ اگر تم شرک اختیار کرو گے تو تمہارے تمام اعمال برباد کردیئے جائیں گے اور تمہارا شمار گھاٹے والوں میں ہوجائے گا
بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ‏(66)
(66) تم صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے شکر گزار بندوں میں ہوجاؤ
وَمَا قَدَرُوْا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ‌ۖ  وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ‌ ؕ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ‏(67)
(67) اور ان لوگوں نے واقعا اللہ کی قدر نہیں کی ہے جب کہ روزِ قیامت تمام زمین اسی کی مٹھی میں ہوگی اور سارے آسمان اسی کے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے وہ پاک و بے نیاز ہے اور جن چیزوں کو یہ اس کا شریک بناتے ہیں ان سے بلند و بالاتر ہے
وَنُفِخَ فِى الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِى السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِى الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ‌ ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ‏(68)
(68) اور جب صور پھونکا جائے گا تو زمین و آسمان کی تمام مخلوقات بیہوش ہوکر گر پڑیں گی علاوہ ان کے جنہیں خدا بچانا چاہے - اس کے بعد پھر دوبارہ پھونکا جائے گا تو سب کھڑے ہوکر دیکھنے لگیں گے
وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِآىْ ئَ بِالنَّبِيّٖنَ وَالشُّهَدَآءِ وَقُضِىَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ‏(69)
(69) اور زمین اپنے رب کے نور سے جگمگا اٹھے گی اور اعمال کی کتاب رکھ دی جائے گی اور انبیاء علیھ السّلام اور شہداﺀ کو لایا جائے گا اور ان کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا
وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُوَ اَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُوْنَ‏(70)
(70) اور پھر ہر نفس کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور وہ سب کے اعمال سے پورے طور سے باخبر ہے
وَسِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا‌ ؕ حَتّٰٓى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هٰذَا‌ ؕ قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ‏(71)
(71) اور کفر اختیار کرنے والوں کو گروہ درگروہ جہّنم کی طرف ہنکایا جائے گا یہاں تک کہ اس کے سامنے پہنچ جائیں گے تو اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور اس کے خازن سوال کریں گے کیا تمہارے پاس رسول نہیں آئے تھے جو آیات رب کی تلاوت کرتے اور تمہیں آج کے دن کی ملاقات سے ڈراتے تو سب کہیں گے کہ بیشک رسول آئے تھے لیکن کافرین کے حق میں کلمئہ عذاب بہرحال ثابت ہوچکا ہے
قِيْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا‌ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ‏(72)
(72) تو کہا جائے گا کہ اب جہّنم کے دروازوں سے داخل ہوجاؤ اور اسی میں ہمیشہ ہمیشہ رہو کہ تکبّر کرنے والوں کا بہت براٹھکانا ہوتا ہے
وَسِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا‌ؕ حَتّٰٓى اِذَا جَآءُوْهَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِيْنَ‏(73)
(73) اور جن لوگوں نے اپنے رب کا تقویٰ اختیار کیا انہیں جنّت کی طرف گروہ در گروہ لے جایا جائے گا یہاں تک کہ جب اس کے قریب پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے تو اس کے خزانہ دار کہیں گے کہ تم پر ہمارا سلام ہو تم پاک و پاکیزہ ہو لہٰذا ہمیشہ کے لئے جنت میں داخل ہوجاؤ
وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَآءُ ‌ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ‏(74)
(74) اور وہ کہیں گے کہ شکر خدا ہے کہ اس نے ہم سے کئے ہوئے اپنے وعدہ کو سچ کر دکھایا ہے اور ہمیں اپنی زمین کا وارث بنادیا ہے کہ جنت میں جہاں چاہیں آرام کریں اور بیشک یہ عمل کرنے والوں کا بہترین اجر ہے
وَتَرَى الْمَلٰٓئِكَةَ حَآفِّيْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ‌ۚ وَقُضِىَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَقِيْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ‏(75)
(75) اور تم دیکھو گے کہ ملائکہ عرش الہٰی کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے اپنے رب کی حمد کی تسبیح کررہے ہیں اور لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ہر طرف ایک ہی آواز ہوگی کہ الحمدللہ رب العالمین
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حٰمٓ‌ ۚ‏(1)
(1) حم ۤ
تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِۙ‏(2)
(2) یہ خدائے عزیز و علیم کی طرف سے نازل کی ہوئی کتاب ہے
غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيْدِ الْعِقَابِ ذِى الطَّوْلِؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ اِلَيْهِ الْمَصِيْرُ‏(3)
(3) وہ گناہوں کا بخشنے والا, توبہ کا قبول کرنے والا, شدید عذاب کرنے والا اور صاحب فضل و کرم ہے - اس کے علاوہ دوسرا خدا نہیں ہے اور سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے
مَا يُجَادِلُ فِىْۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَلَا يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِى الْبِلَادِ‏(4)
(4) اللہ کی نشانیوں میں صرف وہ جھگڑا کرتے ہیں جو کافر ہوگئے ہیں لہٰذا ان کا مختلف شہروں میں چکر لگانا تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دے
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ وَهَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۢ بِرَسُوْلِهِمْ لِيَاْخُذُوْهُ ؕ وَجَادَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ‏(5)
(5) ان سے پہلے بھی نوح علیھ السّلام کی قوم اور اس کے بعد والے گروہوں نے رسولوں کی تکذیب کی ہے اور ہر امت نے اپنے رسول کے بارے میں یہ ارادہ کیا ہے کہ اسے گرفتار کرلیں اور باطل کا سہارا لے کر جھگڑا کیا ہے کہ حق کو اُ کھاڑ کر پھینک دیں تو ہم نے بھی انہیں اپنی گرفت میں لے لیا تو تم نے دیکھا کہ ہمارا عذاب کیسا تھا
وَكَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ ؔ‌ۘ‏(6)
(6) اور اسی طرح تمہارے پروردگار کا عذاب کافروں پر ثابت ہوچکا ہے کہ و ہ جہّنم میں جانے والے ہیں
اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا‌ ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَىْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيْمِ‏(7)
(7) جو فرشتے عرش الہٰی کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے گرد معین ہیں سب حمد خدا کی تسبیح کررہے ہیں اور اسی پر ایمان رکھتے ہیں اور صاحبانِ ایمان کے لئے استغفار کررہے ہیں کہ خدایا تیری رحمت اور تیرا علم ہر شے پر محیط ہے لہذا ان لوگوں کو بخش دے جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستہ کا اتباع کیا ہے اور انہیں جہّنم کے عذاب سے بچالے
رَبَّنَا وَاَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ ۟الَّتِىْ وَعَدْتَّهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰتِهِمْ ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ۙ‏(8)
(8) پروردگار انہیں اور ان کے باپ دادا ۔ ازواج اور اولاد میں سے جو نیک اور صالح افراد ہیں ان کو ہمیشہ رہنے والے باغات میں داخل فرما جن کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے کہ بیشک تو سب پر غالب اور صاحبِ حکمت ہے
وَقِهِمُ السَّيِّاٰتِ ؕ وَمَنْ تَقِ السَّيِّاٰتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ ؕ وَذٰ لِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ‏(9)
(9) اور انہیں برائیوں سے محفوظ فرما کہ آج جن لوگوں کو تو نے برائیوں سے بچالیا گویا ان ہی پر رحم کیا ہے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے
اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِيْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ‏(10)
(10) بیشک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان سے روزِ قیامت پکار کر کہا جائے گا کہ تم خود جس قدر اپنی جان سے بیزار ہو خدا کی ناراضگی اس سے کہیں زیادہ بڑی ہے کہ تم کو ایمان کی طرف دعوت دی جاتی تھی اور تم کفر اختیار کرلیتے تھے
قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَاَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِيْلٍ‏(11)
(11) وہ لوگ کہیں گے پروردگار تو نے ہمیں دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ زندگی عطا کی تو اب ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا ہے تو کیا اس سے بچ نکلنے کی کوئی سبیل ہے
ذٰ لِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِىَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ ۚ وَاِنْ يُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِىِّ الْكَبِيْرِ‏(12)
(12) یہ سب اس لئے ہے کہ جب خدائے واحد کا نام لیا گیا تو تم لوگوں نے کفر اختیار کیا اور جب شرک کی بات کی گئی تو تم نے فورا مان لیا تو اب فیصلہ صرف خدائے بلند و بزرگ کے ہاتھ میں ہے
هُوَ الَّذِىْ يُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ وَيُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا ؕ وَمَا يَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ يُّنِيْبُ‏(13)
(13) وہی وہ ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھلاتا ہے اور تمہارے لئے آسمان سے رزق نازل کرتا ہے اور اس سے وہی نصیحت حاصل کرتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے
فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ‏(14)
(14) لہٰذا تم خالص عبادت کے ساتھ خدا کو پکارو چاہے کافرین کو یہ کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو
رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ‌ ۚ يُلْقِى الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ ۙ‏(15)
(15) وہ خدا بلند درجات کا مالک اور صاحبِ عرش ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی کو نازل کرتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے لوگوں کو ڈرائے
يَوْمَ هُمْ بَارِزُوْنَ ۚ لَا يَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَىْءٌ ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ‏(16)
(16) جس دن سب نکل کر سامنے آجائیں گے اور خدا پر کوئی بات مخفی نہیں رہ جائے گی - آج کس کا ملک ہے بس خدائے واحد و قہار کا ملک ہے
اَ لْيَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ ؕ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ‏(17)
(17) آج ہرنفس کو اس کے کئے کا بدلہ دیا جائے گا اور آج کسی طرح کا ظلم نہ ہوسکے گا بیشک اللہ بہت جلد حساب کرنے والا ہے
وَاَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِيْنَ ؕ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ حَمِيْمٍ وَّلَا شَفِيْعٍ يُّطَاعُ ؕ‏(18)
(18) اور پیغمبر انہیں آنے والے دن کے عذاب سے ڈرائیے جب دم گھٹ گھٹ کر دل منہ کے قریب آجائیں گے اور ظالمین کے لئے نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا جس کی بات سن لی جائے
يَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِى الصُّدُوْرُ‏(19)
(19) وہ خدا نگاہوں کی خیانت کو بھی جانتا ہے اور دلوں کے چُھپے ہوئے بھیدوں سے بھی باخبر ہے
وَاللّٰهُ يَقْضِىْ بِالْحَقِّؕ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَقْضُوْنَ بِشَىْءٍؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ‏(20)
(20) وہ حق کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اور اس کو چھوڑ کر یہ جن کی عبادت کرتے ہیں وہ تو کوئی فیصلہ بھی نہیں کرسکتے ہیں بیشک اللہ سب کی سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا ہے
اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا فِى الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّاٰثَارًا فِى الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْؕ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ‏(21)
(21) کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ دیکھتے کہ ان سے پہلے والوں کا انجام کیا ہوا ہے جو ان سے زیادہ زبردست قوت رکھنے والے تھے اور زمین میں آثار کے مالک تھے پھر خدا نے انہیں ان کے گناہوں کی گرفت میں لے لیا اور اللہ کے مقابلہ میں ان کا کوئی بچانے والا نہیں تھا
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِيْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُؕ اِنَّهٗ قَوِىٌّ شَدِيْدُ الْعِقَابِ‏(22)
(22) یہ سب اس لئے ہوا کہ ان کے پاس رسول کُھلی ہوئی نشانیاں لے کر آتے تھے تو انہوں نے انکار کردیا تو پھر خدا نے بھی انہیں اپنی گرفت میں لے لیا کہ وہ بہت قوت والا اور سخت عذاب کرنے والا ہے
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍۙ‏(23)
(23) اور ہم نے موسٰی علیھ السّلام کو اپنی نشانیوں اور روشن دلیل کے ساتھ بھیجا ہے
اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَقَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ‏(24)
(24) فرعون ًہامان اور قارون کی طرف تو ان سب نے کہہ دیا کہ یہ جادوگر اور جھوٹے ہیں
فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَاسْتَحْيُوْا نِسَآءَهُمْؕ وَمَا كَيْدُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِىْ ضَلٰلٍ‏(25)
(25) تو پھر اس کے بعد جب وہ ہماری طرف سے حق لے کر آئے تو ان لوگوں نے کہہ دیا کہ جو ان پر ایمان لے آئیں ان کے لڑکوں کو قتل کردو اور لڑکیوں کو زندہ رکھو اور کافروں کا مکر بہرحال بھٹک جانے والا ہوتا ہے
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِىْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَلْيَدْعُ رَبَّهٗ‌ۚ اِنِّىْۤ اَخَافُ اَنْ يُّبَدِّلَ دِيْنَكُمْ اَوْ اَنْ يُّظْهِرَ فِى الْاَرْضِ الْفَسَادَ‏(26)
(26) اور فرعون نے کہا کہ ذرا مجھے چھوڑ دو میں موسٰی علیھ السّلام کا خاتمہ کردوں اور یہ اپنے رب کو پکاریں - مجھے خوف ہے کہ کہیں یہ تمہارے دین کو بدل نہ دیں اور زمین میں کوئی فساد نہ برپا کردیں
وَقَالَ مُوْسٰٓى اِنِّىْ عُذْتُ بِرَبِّىْ وَرَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ‏(27)
(27) اور موسٰی علیھ السّلام نے کہا کہ میں اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ حاصل کررہا ہوں ہر اس متکبر کے مقابلہ میں جس کا روز حساب پر ایمان نہیں ہے
وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ ‌ۖ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ اِيْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّىَ اللّٰهُ وَقَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَيِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ ؕ وَاِنْ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهٗ ؕ وَاِنْ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِىْ يَعِدُكُمْ ۚ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِىْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ‏(28)
(28) اور فرعون والوں میں سے ایک مرد مومن نے جو اپنے ایمان کو چُھپائے ہوئے تھا یہ کہا کہ کیا تم لوگ کسی شخص کو صرف اس بات پر قتل کررہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے اور وہ تمہارے رب کی طرف سے کھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے اور اگر جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا عذاب اس کے سر ہوگا اور اگر سچا نکل آیا تو جن باتوں سے ڈرا رہا ہے وہ مصیبتیں تم پر نازل بھی ہوسکتی ہیں - بیشک اللہ کسی زیادتی کرنے والے اور جھوٹے کی رہنمائی نہیں کرتا ہے
يٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظٰهِرِيْنَ فِى الْاَرْضِ فَمَنْ يَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِيْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَمَاۤ اَهْدِيْكُمْ اِلَّا سَبِيْلَ الرَّشَادِ‏(29)
(29) میری قوم والو بیشک آج تمہارے پاس حکومت ہے اور زمین پر تمہارا غلبہ ہے لیکن اگر عذاب خدا آگیا تو ہمیں اس سے کون بچائے گا فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی باتیں بتارہا ہوں جو میں خود سمجھ رہا ہوں اور میں تمہیں عقلمندی کے راستے کے علاوہ اور کسی راہ کی ہدایت نہیں کررہا ہوں
وَقَالَ الَّذِىْۤ اٰمَنَ يٰقَوْمِ اِنِّىْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ مِّثْلَ يَوْمِ الْاَحْزَابِۙ‏(30)
(30) اور ایمان لانے والے شخص نے کہا کہ اے قوم میں تمہارے بارے میں اس دن جیسے عذاب کا خطرہ محسوس کررہا ہوں جو دوسری قوموں کے عذاب کا دن تھا
مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ وَالَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْؕ وَمَا اللّٰهُ يُرِيْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ‏(31)
(31) قوم نوح, قوم عاد, قوم ثمود اور ان کے بعد والوں جیسا حال اور اللہ یقینا اپنے بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ہے
وَيٰقَوْمِ اِنِّىْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِۙ‏(32)
(32) اور اے قوم میں تمہارے بارے میں باہمی فریاد کے دن سے ڈر رہا ہوں
يَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِيْنَ‌ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍۚ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ‏(33)
(33) جس دن تم سب پیٹھ پھیر کر بھاگو گے اور اللہ کے مقابلہ میں کوئی تمہارا بچانے والا نہ ہوگا اور جس کو خدا گمراہی میں چھوڑ دے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے
وَلَقَدْ جَآءَكُمْ يُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِىْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ ؕ حَتّٰٓى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابٌ  ۚ ۖ‏(34)
(34) اور اس سے پہلے یوسف علیھ السّلام بھی تمہارے پاس آئے تھے تو بھی تم ان کے پیغام کے بارے میں شک ہی میں مبتلا رہے یہاں تک کہ جب وہ دنیا سے چلے گئے تو تم نے یہ کہنا شروع کردیا کہ خدا اس کے بعد کوئی رسول نہیں بھیجے گا - اسی طرح خدا زیادتی کرنے والے اور شکی مزاج انسانوں کو ان کی گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے
۟الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِىْۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ بِغَيْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰٮهُمْ ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَعِنْدَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ؕ كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ‏(35)
(35) جو لوگ کہ آیات الہٰی میں بحث کرتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس خدا کی طرف سے کوئی دلیل آئے وہ اللہ اور صاحبان ایمان کے نزدیک سخت نفرت کے حقدار ہیں اور اللہ اسی طرح ہر مغرور اور سرکش انسان کے دل پر مہر لگادیتا ہے
وَقَالَ فِرْعَوْنُ يٰهَامٰنُ ابْنِ لِىْ صَرْحًا لَّعَلِّىْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ‏(36)
(36) اور فرعون نے کہا کہ ہامان میرے لئے ایک قلعہ تیار کر کہ میں اس کے اسباب تک پہنچ جاؤں
اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰٓى اِلٰهِ مُوْسٰى وَاِنِّىْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا ؕ وَكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيْلِ ؕ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِىْ تَبَابٍ‏(37)
(37) جوکہ آسمان کے راستے ہیں اور اس طرح موسٰی علیھ السّلام کے خدا کو دیکھ لوں اور میرا تو خیال یہ ہے کہ موسٰی علیھ السّلام جھوٹے ہیں اور کوئی خدا نہیں ہے ...... اور اسی طرح فرعون کے لئے اس کی بدعملی کو آراستہ کردیا گیا اور اسے راستہ سے روک دیا گیا اور فرعون کی چالوں کا انجام سوائے ہلاکت اور تباہی کے کچھ نہیں ہے
وَقَالَ الَّذِىْۤ اٰمَنَ يٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِيْلَ الرَّشَادِ‌ۚ‏(38)
(38) اور جو شخص ایمان لے آیا تھا اس نے کہا کہ اے قوم والو میرا اتباع کرو تو میں تمہیں ہدایت کا راستہ دکھاسکتا ہوں
يٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَّاِنَّ الْاٰخِرَةَ هِىَ دَارُ الْقَرَارِ‏(39)
(39) قوم والو ...._ یاد رکھو کہ یہ حیات دنیا صرف چند روزہ لذت ہے اور ہمیشہ رہنے کا گھر صرف آخرت کا گھر ہے
مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزٰٓى اِلَّا مِثْلَهَا ۚ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُوْنَ فِيْهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ‏(40)
(40) جو بھی کوئی برائی کرے گا اسے ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا اور جو نیک عمل کرے گا چاہے وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ صاحبِ ایمان بھی ہو انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا اور وہاں بلِا حساب رزق دیا جائے گا
وَيٰقَوْمِ مَا لِىْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَتَدْعُوْنَنِىْۤ اِلَى النَّارِؕ‏(41)
(41) اور اے قوم والو آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہیں نجات کی دعوت دے رہا ہوں اور تم مجھے جہّنم کی طرف دعوت دے رہے ہو
تَدْعُوْنَنِىْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَاُشْرِكَ بِهٖ مَا لَيْسَ لِىْ بِهٖ عِلْمٌ وَّاَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِيْزِ الْغَفَّارِ‏(42)
(42) تمہاری دعوت یہ ہے کہ میں خدا کا انکار کردوں اور انہیں اس کا شریک بنادوں جن کا کوئی علم نہیں ہے اور میں تم کو اس خدا کی طرف دعوت دے رہا ہوں جو صاحب عزّت اور بہت زیادہ بخشنے والا ہے
لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِىْۤ اِلَيْهِ لَيْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِى الدُّنْيَا وَلَا فِى الْاٰخِرَةِ وَاَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَاَنَّ الْمُسْرِفِيْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ‏(43)
(43) بیشک جس کی طرف تم دعوت دے رہے ہو وہ نہ دنیا میں پکارنے کے قابل ہے اور نہ آخرت میں اور ہم سب کی بازگشت بالآخر اللہ ہی کی طرف ہے اور زیادتی کرنے والے ہی دراصل جہّنم والے ہیں
فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْؕ وَاُفَوِّضُ اَمْرِىْۤ اِلَى اللّٰهِؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ‏(44)
(44) پھر عنقریب تم اسے یاد کرو گے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اور میں تو اپنے معاملات کو پروردگار کے حوالے کررہا ہوں کہ بیشک وہ تمام بندوں کے حالات کا خوب دیکھنے والا ہے
فَوَقٰٮهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِ‌ۚ‏(45)
(45) تو اللہ نے اس مرد مومن کو ان لوگوں کی چالوں کے نقصانات سے بچالیا اور فرعون والوں کو بدترین عذاب نے گھیر لیا
اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا ۚ وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ‏(46)
(46) وہ جہّنم جس کے سامنے یہ ہر صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جب قیامت برپا ہوگی تو فرشتوں کو حکم ہوگا کہ فرعون والوں کو بدترین عذاب کی منزل میں داخل کردو
وَاِذْ يَتَحَآجُّوْنَ فِى النَّارِ فَيَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِيْبًا مِّنَ النَّارِ‏(47)
(47) اور اس وقت کو یاد دلاؤ جب یہ سب جہّنم کے اندر جھگڑے کریں گے اور کمزور لوگ مستکبر لوگوں سے کہیں گے کہ ہم تمہاری پیروی کرنے والے تھے تو کیا تم جہّنم کے کچھ حصّہ سے بھی ہمیں بچاسکتے ہو اور ہمارے کام آسکتے ہو
قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِيْهَاۤۙاِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ الْعِبَادِ‏(48)
(48) تو استکبار کرنے والے کہیں گے کہ اب ہم سب کی منزل یہی ہے کہ اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا ہے
وَقَالَ الَّذِيْنَ فِى النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ‏(49)
(49) اس کے بعد جہّنم میں رہنے والے جہّنم کے خازنوں سے کہیں گے کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ ایک ہی دن ہمارے عذاب میں تخفیف کردے
قَالُوْۤا اَوَلَمْ تَكُ تَاْتِيْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنٰتِ ؕ قَالُوْا بَلٰى ؕ قَالُوْا‌ فَادْعُوْا ۚ وَمَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِىْ ضَلٰلٍ‏(50)
(50) وہ جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے رسول کھلی ہوئی نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے وہ لوگ کہیں گے کہ بیشک آئے تھے تو جواب ملے گا پھر تم خود ہی آواز دو حالانکہ کافروں کی آواز اور فریاد بیکار ہی ثابت ہوگی
اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِى الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ ۙ‏(51)
(51) بیشک ہم اپنے رسول اور ایمان لانے والوں کی زندگانی دنیا میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی مدد کریں گے جب سارے گواہ اٹھ کھڑے ہوں گے
يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ‏(52)
(52) جس دن ظالمین کے لئے کوئی معذرت کارگر نہ ہوگی اور ان کے لئے لعنت اور بدترین گھر ہوگا
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَاَوْرَثْنَا بَنِىْۤ اِسْرَآءِيْلَ الْكِتٰبَۙ‏(53)
(53) اور یقینا ہم نے موسٰی علیھ السّلام کو ہدایت عطا کی اور بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث بنایا ہے
هُدًى وَّذِكْرٰى لِاُولِى الْاَلْبَابِ‏(54)
(54) جو کتاب مجسمئہ ہدایت اور صاحبانِ عقل کے لئے نصیحت کا سامان تھی
فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّاسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِىِّ وَالْاِبْكَارِ‏(55)
(55) لہٰذا آپ صبر کریں کہ اللہ کا وعدہ یقینا برحق ہے اور اپنے حق میں استغفار کرتے رہیں اور صبح و شام اپنے پروردگار کی حمد کی تسبیح کرتے رہیں
اِنَّ الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِىْۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ بِغَيْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰٮهُمْۙ اِنْ فِىْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِيْهِؕ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ‏(56)
(56) بیشک جو لوگ خدا کی طرف سے آنے والی دلیل کے بغیر خدا کی نشانیوں میں بحث کرتے ہیں ان کے دلوں میں بڑائی کے خیال کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اور وہ اس تک پہنچ بھی نہیں سکتے ہیں لہذا آپ خدا کی پناہ طلب کریں کہ وہی سب کی سننے والا اور سب کے حالات کا دیکھنے والا ہے
لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ‏(57)
(57) بیشک زمین و آسمان کا پیدا کردینا لوگوں کے پیدا کردینے سے کہیں زیادہ بڑا کام ہے لیکن لوگوں کی اکثریت یہ بھی نہیں جانتی ہے
وَمَا يَسْتَوِى الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ ۙ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَلَا الْمُسِىْٓءُ ؕ قَلِيْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ‏(58)
(58) اور یاد رکھو کہ اندھے اور بینا برابر نہیں ہوسکتے ہیں اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں وہ بھی بدکاروں جیسے نہیں ہوسکتے ہیں مگر تم لوگ بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو
اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيْهَا وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ‏(59)
(59) بیشک قیامت آنے والی ہے اور اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے لیکن لوگوں کی اکثریت اس بات پر ایمان نہیں رکھتی ہے
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِىْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِىْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دَاخِرِيْنَ‏(60)
(60) اور تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا اور یقینا جو لوگ میری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ذلّت کے ساتھ جہّنم میں داخل ہوں گے
اَللّٰهُ الَّذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ‏(61)
(61) اللہ ہی وہ ہے جس نے تمہارے لئے رات کو پیدا کیا ہے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو اور دن کو روشنی کا ذریعہ قرار دیا ہے بیشک وہ اپنے بندوں پر بہت زیادہ فضل و کرم کرنے والا ہے لیکن لوگوں کی اکثریت اس کا شکریہ ادا نہیں کرتی ہے
ذٰ لِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَىْءٍ‌ ۘ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ‌ۚ  فَاَ نّٰى تُؤْفَكُوْنَ‏(62)
(62) وہی تمہارا پروردگار ہے جو ہر شے کا خالق ہے اور اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو تم کدھر بہکے جارہے ہو
كَذٰلِكَ يُؤْفَكُ الَّذِيْنَ كَانُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ‏(63)
(63) اسی طرح وہ لوگ بہکائے جاتے ہیں جو اللہ کی نشانیوں کا انکار کردیتے ہیں
اَللّٰهُ الَّذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً وَّصَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ ؕ ذٰ لِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ ‌ ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ‏(64)
(64) اللہ ہی وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو مستقر اور آسمان کو عمارت قرار دیا ہے اور تمہاری صورت کو بہترین صورت بنایا ہے اور تمہیں پاکیزہ رزق عطا کیا ہے. وہی تمہارا پروردگار ہے تو عالمین کا پالنے والا کس قدر برکتوں کا مالک ہے
هُوَ الْحَىُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ‏(65)
(65) وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے لہٰذا تم لوگ اخلاص دین کے ساتھ اس کی عبادت کرو کہ ساری تعریف اسی عالمین کے پالنے والے خدا کے لئے ہے
قُلْ اِنِّىْ نُهِيْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِىَ الْبَيِّنٰتُ مِنْ رَّبِّىْ وَاُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ‏(66)
(66) آپ کہہ دیجئے کہ مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پرستش کے قابل بنائے ہوئے ہو جب کہ میرے پاس کُھلی ہوئی نشانیاں آچکی ہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں رب العالمین کا اطاعت گزار بندہ رہوں
هُوَ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُيُوْخًا ؕ وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَلِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّلَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ‏(67)
(67) وہی خدا ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر تم کو بچہ بناکر باہر لاتا ہے پھر زندہ رکھتا ہے کہ توانائیوں کو پہنچو پھر بوڑھے ہوجاؤ اور تم میں سے بعض کو پہلے ہی اٹھالیا جاتا ہے اور تم کو اس لئے زندہ رکھتا ہے کہ اپنی مقررہ مدّت کو پہنچ جاؤ اور شاید تمہیں عقل بھی آجائے
هُوَ الَّذِىْ يُحْىٖ وَيُمِيْتُؕ فَاِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ‏(68)
(68) وہی وہ ہے جو حیات بھی دیتا ہے اور موت بھی دیتا ہے پھر جب کسی بات کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اس سے کہتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتی ہے
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِىْۤ اٰيٰتِ اللّٰهِؕ اَنّٰى يُصْرَفُوْنَ  ۛۚ ۙ‏(69)
(69) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا ہے جو آیات الہٰی کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں آخر یہ کہاں بھٹکتے چلے جارہے ہیں
الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَبِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا ۛ  فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ ۙ‏(70)
(70) جن لوگوں نے کتاب اور ان باتوں کی تکذیب کی جن کو دے کہ ہم نے پیغمبروں کو بھیجا تھا انہیں عنقریب اس کا انجام معلوم ہوجائےگا
اِذِ الْاَغْلٰلُ فِىْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلٰسِلُؕ يُسْحَبُوْنَۙ‏(71)
(71) جب ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ڈالی جائیں گی اور انہیں کھینچا جائے گا
فِى الْحَمِيْمِ ۙ ثُمَّ فِى النَّارِ يُسْجَرُوْنَ‌ ۚ‏(72)
(72) گرم پانی میں اور اس کے بعد جہّنم میں جھونک دیا جائے گا
ثُمَّ قِيْلَ لَهُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ‏(73)
(73) پھر یہ کہا جائے گا کہ اب وہ کہاں ہیں جنہیں تم شریک بنایا کرتے تھے
مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَيْئًا ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِيْنَ‏(74)
(74) خدا کو چھوڑ کر.... تو وہ لوگ جواب دیں گے کہ وہ ہم کو چھوڑ کر گم ہوگئے بلکہ ہم اس کے پہلے کسی کو نہیں پکارا کرتے تھے اور اللہ اسی طرح کافروں کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے
ذٰ لِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِى الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَ‌ ۚ‏(75)
(75) یہ سب اس بات کا نتیجہ ہے کہ تم لوگ زمین میں باطل سے خوش ہوا کرتے تھے اور اکڑ کر چلا کرتے تھے
اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ‏(76)
(76) اب جہّنم کے دروازوں سے داخل ہوجاؤ اور اسی میں ہمیشہ رہو کہ اکڑنے والوں کا ٹھکانا بہت براہے
فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّۚ فَاِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِىْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِلَيْنَا يُرْجَعُوْنَ‏(77)
(77) اب آپ صبر کریں کہ خدا کا وعدہ بالکل سچا ہے پھر یا تو ہم جن باتوں کی دھمکی دے رہے ہیں ان میں سے کچھ آپ کو دکھلادیں گے یا آپ کو پہلے ہی اٹھالیں گے تو بھی وہ سب پلٹا کر یہیں لائے جائیں گے
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَؕ وَمَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ يَّاْتِىَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰه‌ِۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِىَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ‏(78)
(78) اور ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے ہیں جن میں سے بعض کا تذکرہ آپ سے کیا ہے اور بعض کا تذکرہ بھی نہیں کیا ہے اور کسی رسول کے امکان میں یہ بات نہیں ہے کہ خدا کی اجازت کے بغیر کوئی معجزہ لے آئے پھر جب حکم خدا آگیا تو حق کے ساتھ فیصلہ کردیا گیا اور اس وقت اہل باطل ہی خسارہ میں رہے
اَللّٰهُ الَّذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ‏(79)
(79) اللہ ہی وہ ہے جس نے چوپایوں کو تمہارے لئے خلق کیا ہے جن میں سے بعض پر تم سواری کرتے ہو اور بعض کو کھانے میں استعمال کرتے ہو
وَلَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَيْهَا حَاجَةً فِىْ صُدُوْرِكُمْ وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ‏(80)
(80) اور تمہارے لئے ان میں بہت سے منافع ہیں اور اس لئے بھی کہ تم ان کے ذریعہ اپنی دلی مرادوں تک پہنچ سکو اور تمہیں ان جانوروں پر اور کشتیوں پر سوار کیا جاتا ہے
وَيُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ ۖ  فَاَىَّ اٰيٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ‏(81)
(81) اور خدا تمہیں اپنی نشانیاں دکھلاتا ہے تو تم اس کی کس کس نشانی سے انکار کرو گے
اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِى الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَاَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِى الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ‏(82)
(82) کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر نہیں کی ہے کہ دیکھتے کہ ان سے پہلے والوں کا انجام کیا ہوا ہے جو ان کے مقابلہ میں اکثریت میں تھے اور زیادہ طاقتور بھی تھے اور زمین میں آثار کے مالک تھے لیکن جو کچھ بھی کمایا تھا کچھ کام نہ آیا اور مبتلائے عذاب ہوگئے
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ‏(83)
(83) پھر جب ان کے پاس رسول معجزاءت لے کر آئے تو اپنے علم کی بنا پر ناز کرنے لگے اور نتیجہ میں جس بات کا مذاق اُڑا رہے تھے اسی نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا
فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ‏(84)
(84) پھر جب انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم خدائے یکتا پر ایمان لائے ہیں اور جن باتوں کا شرک کیا کرتے تھے سب کا انکار کررہے ہیں
فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِىْ قَدْ خَلَتْ فِىْ عِبَادِهٖ‌ۚ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ‏(85)
(85) تو عذاب کے دیکھنے کے بعد کوئی ایمان کام آنے والا نہیں تھا کہ یہ اللہ کا مستقل طریقہ ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں گِزر چکا اَہے اور اسی وقت کافر خسارہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حٰمٓ‌ ۚ‏(1)
(1) حمۤ
تَنْزِيْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ‌ۚ‏(2)
(2) یہ خدائے رحمن و رحیم کی تنزیل ہے
كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰيٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَۙ‏(3)
(3) اس کتاب کی آیتیں تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہیں عربی زبان کا قرآن ہے اس قوم کے لئے جو سمجھنے والی ہو
بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا‌ ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ‏(4)
(4) یہ قرآن بشارت دینے والا اور عذاب الہٰی سے ڈرانے والا بناکر نازل کیا گیا ہے لیکن اکثریت نے اس سے اعراض کیا ہے اور وہ کچھ سنتے ہی نہیں ہیں
وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِىْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَيْهِ وَفِىْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّمِنْۢ بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ‏(5)
(5) اور کہتے ہیں کہ ہمارے دل جن باتوں کی تم دعوت دے رہے ہو ان کی طرف سے پردہ میں ہیں اور ہمارے کانوں میں بہراپن ہے اور ہمارے تمہارے درمیان پردہ حائل ہے لہذا تم اپنا کام کرو اور ہم اپنا کام کررہے ہیں
قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَىَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِيْمُوْۤا اِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوْهُ‌ ؕ وَوَيْلٌ لِّلْمُشْرِكِيْنَ ۙ‏(6)
(6) آپ کہہ دیجئے کہ میں بھی تمہارا ہی جیسا بشر ہوں لیکن میری طرف برابر وحی آتی ہے کہ تمہارا خدا ایک ہے لہٰذا اس کے لئے استقامت کرو اور اس سے استغفارکرو اور مشرکوں کے حال پر افسوس ہے
الَّذِيْنَ لَا يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ‏(7)
(7) جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ہیں اور آخرت کا انکار کرنے والے ہیں
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ‏(8)
(8) بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لئے منقطع نہ ہونے والا اجر ہے
قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِىْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِىْ يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا‌ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ‌ۚ‏(9)
(9) آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم لوگ اس خدا کا انکار کرتے ہو جس نے ساری زمین کو دو دن میں پیدا کردیا ہے اور اس کا مثل قرار دیتے ہوئے جب کہ وہ عالمین کا پالنے والا ہے
وَجَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِىَ مِنْ فَوْقِهَا وَبٰرَكَ فِيْهَا وَقَدَّرَ فِيْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِىْۤ اَرْبَعَةِ اَيَّامٍؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِيْنَ‏(10)
(10) اور اس نے اس زمین میں اوپر سے پہاڑ قرار دے دیئے ہیں اور برکت رکھ دی ہے اور چار دن کے اندر تمام سامان معیشت کو مقرر کردیا ہے جو تمام طلبگاروں کے لئے مساوی حیثیت رکھتا ہے
ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا ؕ قَالَتَاۤ اَتَيْنَا طَآئِعِيْنَ‏(11)
(11) اس کے بعد اس نے آسمان کا رخ کیا جو بالکل دھواں تھا اور اسے اور زمین کو حکم دیا کہ بخوشی یا بہ کراہت ہماری طرف آؤ تو دونوں نے عرض کی کہ ہم اطاعت گزار بن کر حاضر ہیں
فَقَضٰٮهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِىْ يَوْمَيْنِ وَاَوْحٰى فِىْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا‌ ؕ وَزَ يَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ ‌ۖ  وَحِفْظًا ‌ؕ ذٰ لِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ‏(12)
(12) پھر ان آسمانوں کو دو دن کے اندر سات آسمان بنادیئے اور ہر آسمان میں اس کے معاملہ کی وحی کردی اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے آراستہ کردیا ہے اور محفوظ بھی بنادیا ہے کہ یہ خدائے عزیز و علیم کی مقرر کی ہوئی تقدیر ہے
فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ ؕ‏(13)
(13) پھر اگر یہ اعراض کریں تو کہہ دیجئے کہ ہم نے تم کو ویسی ہی بجلی کے عذاب سے ڈرایا ہے جیسی قوم عاد و ثمود پر نازل ہوئی تھی
اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ‌ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ‏(14)
(14) جب ان کے پاس سامنے اور پیچھے سے ہمارے نمائندے آئے کہ اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو تو انہوں نے کہہ دیا کہ ہمارا خدا چاہتا تو ملائکہ کو نازل کرتا ہم تمہارے پیغام کے قبول کرنے والے نہیں ہیں
فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِى الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً  ‌ؕ اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِىْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً  ؕ وَكَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ‏(15)
(15) پھر قوم عاد نے زمین میں ناحق بلندی اور برتری سے کام لیا اور یہ کہنا شروع کردیا کہ ہم سے زیادہ طاقت والا کون ہے .... تو کیا ان لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے وہ بہرحال ان سے زیادہ طاقت رکھنے والا ہے لیکن یہ لوگ ہماری نشانیوں کا انکار کرنے والے تھے
فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِىْۤ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْىِ فِى الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا‌ ؕ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى‌ وَهُمْ لَا يُنْصَرُوْنَ‏(16)
(16) تو ہم نے بھی ان کے اوپر تیزوتند آندھی کو ان کی نحوست کے دنوں میں بھیج دیا تاکہ انہیں زندگانی دنیا میں بھی رسوائی کے عذاب کا مزہ چکھائیں اور آخرت کا عذاب تو زیادہ رسوا کن ہے اور وہاں ان کی کوئی مدد بھی نہیں کی جائے گی
وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ‌ۚ‏(17)
(17) اور قوم ثمود کو بھی ہم نے ہدایت دی لیکن ان لوگوں نے گمراہی کو ہدایت کے مقابلہ میں زیادہ پسند کیا تو ذلّت کے عذاب کی بجلی نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا ان اعمال کی بنا پر جو وہ انجام دے رہے تھے
وَ نَجَّيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ‏(18)
(18) اور ہم نے ان لوگوں کو نجات دے دی جو ایمان لانے والے اور تقویٰ اختیار کرنے والے تھے
وَيَوْمَ يُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ‏(19)
(19) اور جس دن دشمنانِ خدا کو جہّنم کی طرف دھکیلا جائے گا پھر انہیں زجر و توبیخ کی جائے گی
حَتّٰٓى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَاَبْصَارُهُمْ وَجُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ‏(20)
(20) یہاں تک کہ جب سب جہّنم کے پاس آئیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور جلد سب ان کے اعمال کے بارے میں ان کے خلاف گواہی دیں گے
وَقَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَيْنَا‌ ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِىْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَىْءٍ وَّهُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ‏(21)
(21) اور وہ اپنے اعضاء سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیسے شہادت دے دی تو وہ جواب دیں گے کہ ہمیں اسی خدا نے گویا بنایا ہے جس نے سب کو گویائی عطا کی ہے اور تم کو بھی پہلے دن اسی نے پیدا کیا ہے اور اب بھی پلٹ کر اسی کی بارگاہ میں جاؤ گے
وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُوْدُكُمْ وَلٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ‏(22)
(22) اور تم اس بات سے پردہ پوشی نہیں کرتے تھے کہ کہیں تمہارے خلاف تمہارے کان, تمہاری آنکھیں اور گوشت پوست گواہی نہ دے دیں بلکہ تمہارا خیال یہ تھا کہ اللہ تمہارے بہت سے اعمال سے باخبر بھی نہیں ہے
وَذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِىْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰٮكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ‏(23)
(23) اور یہی خیال جو تم نے اپنے پروردگار کے بارے میں قائم کیا تھا اسی نے تمہیں ہلاک کردیا ہے اور تم خسارہ والوں میں ہوگئے ہو
فَاِنْ يَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ‌ؕ وَاِنْ يَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِيْنَ‏(24)
(24) اب اگر یہ برداشت کریں تو بھی ان کا ٹھکانا جہّنم ہے اور اگر معذرت کرنا چاہیں تو بھی معذرت قبول نہیں کی جائے گی
وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَيَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِىْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ‌ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِيْنَ‏(25)
(25) اور ہم نے خود بھی ان کے لئے ہم نشین فراہم کردیئے تھے جنہوں نے اس کے پچھلے تمام امور ان کی نظروں میں آراستہ کردیئے تھے اور ان پر بھی وہی عذاب ثابت ہوگیا جو ان کے پہلے انسان اور جنّات کے گروہوں پر ثابت ہوچکا تھا کہ یہ سب کے سب خسارہ والوں میں تھے
وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ‏(26)
(26) اور کفاّر آپس میں کہتے ہیں کہ اس قرآن کو ہرگز مت سنو اور اس کی تلاوت کے وقت ہنگامہ کرو شاید اسی طرح ان پر غالب آجاؤ
فَلَنُذِيْقَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِيْدًاۙ وَّلَنَجْزِيَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِىْ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ‏(27)
(27) تو اب ہم ان کفر کرنے والوں کو شدید عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور انہیں ان کے اعمال کی بدترین سزادیں گے
ذٰ لِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ‌ ۚ لَهُمْ فِيْهَا دَارُ الْخُلْدِ‌ ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ‏(28)
(28) یہ دشمنانِ خدا کی صحیح سزا جہّنم ہے جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے جو اس بات کی سزا ہے کہ یہ آیات الہیٰہ کا انکار کیا کرتے تھے
وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَيْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِيَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِيْنَ‏(29)
(29) اور کفاّر یہ فریاد کریں گے کہ پروردگار ہمیں جنّات و انسان کے ان لوگوں کو دکھلادے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا تاکہ ہم انہیں اپنے قدموں کے نیچے قرار دیدیں اور اس طرح وہ پست لوگوں میں شامل ہوجائیں
اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِىْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ‏(30)
(30) بیشک جن لوگوں نے یہ کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اسی پر جمے رہے ان پر ملائکہ یہ پیغام لے کر نازل ہوتے ہیں کہ ڈرو نہیں اور رنجیدہ بھی نہ ہو اور اس جنّت سے مسرور ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے
نَحْنُ اَوْلِيٰٓؤُکُمْ فِى الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِى الْاٰخِرَةِ ۚ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِىْۤ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ ؕ‏(31)
(31) ہم زندگانی دنیا میں بھی تمہارے ساتھی تھے اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھی ہیں یہاں جنّت میں تمہارے لئے وہ تمام چیزیں فراہم ہیں جن کے لئے تمہارا دل چاہتا ہے اور جنہیں تم طلب کرو گے
نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ‏(32)
(32) یہ بہت زیادہ بخشنے والے مہربان پروردگار کی طرف سے تمہاری ضیافت کا سامان ہے
وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِنَّنِىْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ‏(33)
(33) اور اس سے زیادہ بہتر بات کس کی ہوگی جو لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دے اور نیک عمل بھی کرے اور یہ کہے کہ میں اس کے اطاعت گزاروں میں سے ہوں
وَلَا تَسْتَوِى الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّيِّئَةُ ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِىْ هِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِىْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِىٌّ حَمِيْمٌ‏(34)
(34) نیکی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی لہٰذا تم برائی کا جواب بہترین طریقہ سے دو کہ اس طرح جس کے اور تمہارے درمیان عداوت ہے وہ بھی ایسا ہوجائے گا جیسے گہرا دوست ہوتا ہے
وَمَا يُلَقّٰٮهَاۤ اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا‌ۚ وَمَا يُلَقّٰٮهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ‏(35)
(35) اور یہ صلاحیت ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کرنے والے ہوتے ہیں اور یہ بات ان ہی کو حاصل ہوتی ہے جو بڑی قسمت والے ہوتے ہیں
وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ‌ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ‏(36)
(36) اور جب تم میں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہو تو اللہ کی پناہ طلب کرو کہ وہ سب کی سننے والا اور سب کا جاننے والا ہے
وَمِنْ اٰيٰتِهِ الَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ‌ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِىْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ‏(37)
(37) اور اسی خدا کی نشانیوں میں سے رات و دن اور آفتاب و ماہتاب ہیں لہٰذا آفتاب و ماہتاب کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس خدا کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے اگر واقعا اس کے عبادت کرنے والے ہو
فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ يُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُمْ لَا يَسْئَمُوْنَ۩‏(38)
(38) پھر اگر یہ لوگ اکڑ سے کام لیں تو لیں جو لوگ پروردگار کی بارگاہ میں ہیں وہ دن رات اس کی تسبیح کررہے ہیں اور کسی وقت بھی تھکتے نہیں ہیں
وَمِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ‌ؕ اِنَّ الَّذِىْۤ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ‏(39)
(39) اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم زمین کو صاف اور مردہ دیکھ رہے ہو اور پھر جب ہم نے پانی برسا دیا تو زمین لہلہانے لگی اور اس میں نشوونما پیدا ہوگئی بیشک جس نے زمین کو زندہ کیا ہے وہی مردوں کا زندہ کرنے والا بھی ہے اور یقینا وہ ہر شے پر قادر ہے
اِنَّ الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِىْۤ اٰيٰتِنَا لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا ؕ اَفَمَنْ يُّلْقٰى فِى النَّارِ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ يَّاْتِىْۤ اٰمِنًا يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ‌ ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ‌ ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ‏(40)
(40) بیشک جو لوگ ہماری آیات میں ہیرا پھیری کرتے ہیں وہ ہم سے چُھپنے والے نہیں ہیں .سوچو کہ جو شخص جہّنم میں ڈال دیا جائے گا وہ بہتر ہے یا جو روزِ قیامت بے خوف و خطر نظر آئے .تم جو چاہو عمل کرو وہ تمہارے تمام اعمال کا دیکھنے والا ہے
اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ‌ۚ وَاِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِيْزٌۙ‏(41)
(41) بیشک جن لوگوں نے قرآن کے آنے کے بعد اس کا انکار کردیا ان کا انجام برا ہے اور یہ ایک عالی مرتبہ کتاب ہے
لَّا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ‌ؕ تَنْزِيْلٌ مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ‏(42)
(42) جس کے قریب سامنے یا پیچھے کسی طرف سے باطل آبھی نہیں سکتا ہے کہ یہ خدائے حکیم و حمید کی نازل کی ہوئی کتاب ہے
مَا يُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ ‌ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّذُوْ عِقَابٍ اَ لِيْمٍ‏(43)
(43) پیغمبر آپ سے جو کچھ بھی کہا جاتا ہے یہ سب آپ سے پہلے والے رسولوں سے کہا جاچکاُ ہے اور آپ کا پروردگار بخشنے والا بھی ہے اور دردناک عذاب کا مالک بھی ہے
وَلَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِيًّا لَّقَالُوْا لَوْلَا فُصِّلَتْ اٰيٰتُهٗ ؕ ءَؔاَعْجَمِىٌّ وَّعَرَبِىٌّ‌  ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَشِفَآءٌ‌  ؕ وَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ فِىْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى‌ ؕ اُولٰٓئِكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ‏(44)
(44) اور اگر ہم اس قرآن کو عجمی زبان میں نازل کردیتے تو یہ کہتے کہ اس کی آیتیں واضح کیوں نہیں ہیں اور یہ عجمی کتاب اور عربی انسان کا ربط کیا ہے. تو آپ کہہ دیجئے کہ یہ کتاب صاحبان ایمان کے لئے شفا اور ہدایت ہے اور جو لوگ ایمان نہیں رکھتے ہیں ان کے کانوں میں بہرا پن ہے اور وہ ان کو نظر بھی نہیں آرہا ہے اور ان لوگوں کو بہت دور سے پکارا جائے گا
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِيْهِ‌ؕ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ‌ؕ وَاِنَّهُمْ لَفِىْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ‏(45)
(45) اور یقینا ہم نے موسٰی کو کتاب دی تو اس میں بھی جھگڑا ڈال دیا گیا اور اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوگئی ہوتی تو اب تک ان کے درمیان فیصلہ کردیا گیا ہوتا اور یقینا یہ بڑے بے چین کردینے والے شک میں مبتلا ہیں
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ‌ وَمَنْ اَسَآءَ فَعَلَيْهَا‌ؕ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ‏(46)
(46) جو بھی نیک عمل کرے گا وہ اپنے لئے کرے گا اور جو براکرے گا اس کا ذمہ دار بھی وہ خود ہی ہوگا اور آپ کا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے