ENGLISH | اردو | Roman | Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ‌ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ‌ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ‌ؕ وَاٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ وَاَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ‌ؕ وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَيِّنٰتُ وَلٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَمِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ‌ؕ وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ‏(253)
(253) یہ سب رسول علیھ السّلام وہ ہیں جنہیں ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے. ان میں سے بعض وہ ہیں جن سے خدا نے کلام کیا ہے اور بعض کے درجات بلند کئے ہیں اور ہم نے عیسیٰ علیھ السّلام بن مریم کو کھلی ہوئی نشانیاںدی ہیں اور روح القدس کے ذریعہ ان کی تائید کی ہے. اگر خدا چاہتا تو ان رسولوں کے بعد والے ان واضح معجزاءت کے آجانے کے بعد آپس میں جھگڑا نہ کرتے لیکن ان لوگوں نے (خدا کے جبر نہ کرنے کی بنا پر) اختلاف کیا ہے . بعض ایمان لائے اور بعض کافر ہو گئے اور اگر خدا طے کر لیتا تو یہ جھگڑا نہ کرسکتے لیکن خدا جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِىَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ وَّلَا شَفَاعَةٌ ‌ ؕ وَالْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ‏(254)
(254) اے ایمان والو جو تمہیں رزق دیا گیا ہے اس میں سے راہ خدا میں خرچ کرو قبل اسکے کہ وہ دن آجائے جس دن نہ تجارت ہوگی نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش. اورکافرین ہی اصل میں ظالمین ہیں
اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّوْمُۚ  لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ‌ؕ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ‌ؕ مَنْ ذَا الَّذِىْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ‌ؕ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ‌ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَىْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ‌‌ۚ وَلَا يَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ‌ۚ وَ هُوَ الْعَلِىُّ الْعَظِيْمُ‏(255)
(255) اللہ جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے زندہ بھی ہے اوراسی سے کل کائنات قائم ہے اسے نہ نیند آتی ہے نہ اُونگھ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے سب اسی کا ہے. کون ہے جو اس کی بارگاہ میں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے. وہ جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو پبُ پشت ہے سب کوجانتا ہے اور یہ اس کے علم کے ایک حّصہ کا بھی احاطہ نہیں کرسکتے مگر وہ جس قدر چاہے. اس کی کرس علم و اقتدار زمین و آسمان سے وسیع تر ہے اور اسے ا ن کے تحفظ میں کوئی تکلیف بھی نہیں ہوتی وہ عالی مرتبہ بھی ہے اور صاحبِ عظمت بھی
لَاۤ اِكْرَاهَ فِى الدِّيْنِ‌ۙ  قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَىِّ‌ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى لَا انْفِصَامَ لَهَا‌‌ ؕ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ‏(256)
(256) دین میں کسی طرح کا جبر نہیں ہے. ہدایت گمراہی سے الگ اور واضح ہوچکی ہے. اب جو شخص بھی طاغوت کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آئے وہ اس کی مضبوط رسّی سے متمسک ہوگیا ہے جس کے ٹوٹنے کا امکان نہیں ہے اور خدا سمیع بھی ہے اور علیم بھی ہے
اَللّٰهُ وَلِىُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ‌ؕ  وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِيٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُۙ يُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ‌ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ‌‌ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ‏(257)
(257) اللہ صاحبانِ ایمان کا ولی ہے وہ انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آتا ہے اور کفارکے ولی طاغوت ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں میں لے جاتے ہیں یہی لوگ جہّنمی ہیں اور وہاں ہمیشہ رہنے والے ہیں
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِىْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِىْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰٮهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ‌ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّىَ الَّذِىْ يُحْىٖ وَيُمِيْتُۙ قَالَ اَنَا اُحْىٖ وَاُمِيْتُ‌ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ يَاْتِىْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِىْ كَفَرَ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ‌ۚ‏(258)
(258) کیا تم نے اس کے حال پر نظر نہیں کی جس نے ابراہیم علیھ السّلام سے پروردگار کے بارے میں بحث کی صرف اس بات پر کہ خدا نے اسے ملک دے دیا تھا جب ابرہیم علیھ السّلام نے یہ کہا کہ میرا خدا جلِتا بھی ہے اور مارتا بھی ہے تو اس نے کہا کہ یہ کام میں بھی کرسکتا ہوں تو ابراہیم علیھ السّلام نے کہا کہ میرا خدامشرق سے آفتاب نکالتا ہے تو مغرب سے نکال دے تو کافر حیران رہ گیا اور اللہ ظالم قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے
اَوْ كَالَّذِىْ مَرَّ عَلٰى قَرْيَةٍ وَّ هِىَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا ‌ۚ قَالَ اَنّٰى يُحْىٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ‌ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ ‌ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ‌ؕ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ‌ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ‌ۚ وَانْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ اٰيَةً لِّلنَّاسِ‌ وَانْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا ‌ؕ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗ ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ‏(259)
(259) یا اس بندے کی مثال جس کا گذر ایک قریہ سے ہوا جس کے سارے عرش و فرش گرچکے تھے تو اس بندہ نے کہا کہ خدا ان سب کو موت کے بعد کس طرح زندہ کرے گا تو خدا نے اس بندہ کو سوسال کے لئے موت دے دی اورپھرزندہ کیا اور پوچھا کہ کتنی دیر پڑے رہے تو اس نے کہا کہ ایک دن یا کچھ کم . فرمایا نہیں . سو سال ذرا اپنے کھانے اور پینے کو تو دیکھو کہ خراب تک نہیں ہوا اور اپنے گدھے پر نگاہ کرو (کہ سڑ گل گیا ہے) اور ہم اسی طرح تمہیں لوگوں کے لئے ایک نشانی بنانا چاہتے ہیں پھر ان ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح جوڑ کر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں. پھر جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی تو بے ساختہ آواز دی کہ مجھے معلوم ہے کہ خدا ہر شے پرقادر ہے
وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِىْ كَيْفَ تُحْىِ الْمَوْتٰى ؕ قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ‌ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنْ لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِىْ‌ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَاْتِيْنَكَ سَعْيًا ‌ؕ وَاعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ‏(260)
(260) اور اس موقع کو یاد کرو جب ابراہیم علیھ السّلام نے التجا کی کہ پروردگار مجھے یہ دکھا دے کہ تو مردوںکو کس طرح زندہ کرتا ہے . ارشاد ہوا کیا تمہارا ایمان نہیں ہے . عرض کی ایمان توہے لیکن اطمینان چاہتا ہوں . ارشاد ہوا کہ چار طائر پکڑلو اور انہیں اپنے سے مانوس بناؤ پھر ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہر پہاڑ پر ایک حصّہ رکھ دو اور پھرآواز دو سب دوڑتے ہوئے آجائیں گے اور یاد رکھو کہ خدا صاحبِ عزّت بھی اور صاحبِ حکمت بھی
مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِىْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ‌ؕ وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ‌ ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ‏(261)
(261) جو لوگ راہ خدا میں اپنے اموال خرچ کرتے ہیں ان کے عمل کی مثال اس دانہ کی ہے جس سے سات بالیاں پیدا ہوں اور پھر ہر بالی میں سو سو دانے ہوںاور خدا جس کے لئے چاہتا ہے اضافہ بھی کردیتا ہے کہ وہ صاحبِ وسعت بھی ہے اور علیم و دانا بھی
اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّلَاۤ اَذًى‌ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ‌ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ‏(262)
(262) جو لوگ راہ خدا میں اپنے اموال خرچ کرتے ہیں اور اس کے بعد احسان نہیں جتاتے اور اذّیت بھی نہیں دیتے ان کے لئے پروردگار کے یہاں اجر بھی ہے اور نہ کوئی خوف ہے نہ حزن
قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ يَّتْبَعُهَاۤ اَذًى‌ؕ وَاللّٰهُ غَنِىٌّ حَلِيْمٌ‏(263)
(263) نیک کلام اور مغفرت اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے پیچھے دل دکھانے کا سلسلہ بھی ہو . خدا سب سے بے نیاز اور بڑا اِرد بار ہے
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰىۙ كَالَّذِىْ يُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ‌ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا ‌ؕ لَا يَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَىْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ‏(264)
(264) ایمان والو اپنے صدقات کو منّت گزاری اور اذیت سے برباد نہ کرو اس شخص کی طرح جو اپنے مال کو دنیا دکھانے کے لئے صرف کرتاہے اور اس کا ایمان نہ خدا پر ہے اور نہ آخرت پر اس کی مثال اس صاف چٹان کی ہے جس پر گرد جم گئی ہو کہ تیز بارش کے آتے ہی بالکل صاف ہوجائے یہ لوگ اپنی کمائی پر بھی اختیار نہیں رکھتے اور اللہ کافروں کی ہدایت بھی نہیں کرتا
وَمَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِيْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۢ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ‌ۚ فَاِنْ لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ‏(265)
(265) اور جو لوگ اپنے اموال کو رضائے خدا کی طلب اور اپنے نفس کے استحکام کی غرض سے خرچ کرتے ہیں ان کے مال کی مثال اس باغ کی ہے جو کسی بلندی پر ہو اور تیز بارش آکر اس کی فصل دوگنا بنا دے اور اگر تیز بارش نہ آئے تو معمولی بارش ہی کافی ہوجائے اور اللہ تمہارے اعمال کی نیتوں سے خوب باخبر ہے
اَيَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّاَعْنَابٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۙ لَهٗ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِۙ وَاَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهٗ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَآءُۖۚ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِيْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ‌ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ‏(266)
(266) کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس کھجور اور انگور کے باغ ہوں. ان کے نیچے نہریں جاری ہوں ان میں ہر طرح کے پھل ہوں--- اور آدمی بوڑھاہوجائے . اس کے کمزور بچے ہوں اور پھراچانک تیز گرم ہوا جس میں آگ بھری ہو چل جائے اور سب جل کر خاک ہوجائے . خداا سی طرح اپنی آیات کو واضح کرکے بیان کرتا ہے کہ شاید تم فکر کرسکو
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَلَسْتُمْ بِاٰخِذِيْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِيْهِ‌ؕ وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِىٌّ حَمِيْدٌ‏(267)
(267) اے ایمان والو اپنی پاکیزہ کمائی اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لئے پیدا کیا ہے سب میں سے راہ خدا میں خرچ کرو اور خبردار انفاق کے ارادے سے خراب مال کو ہاتھ بھی نہ لگانا کہ اگر یہ مال تم کو دیا جائے تو آنکھ بند کئے بغیر چھوؤ گے بھی نہیں یاد رکھو کہ خدا سب سے بے نیاز ہے اور سزاوار حمد و ثنا بھی ہے
اَلشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ‌ ۚ وَاللّٰهُ يَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌۚ  ۙۖ‏(268)
(268) شیطان تم سے فقیری کا وعدہ کرتا ہے اور تمہیں برائیوں کا حکم دیتا ہے اور خدا مغفرت اور فضل و احسان کا وعدہ کرتا ہے . خدا صاحبِ وسعت بھی ہے اور علیم و دانا بھی
يُؤْتِى الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَآءُ‌‌ ۚ وَمَنْ يُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِىَ خَيْرًا كَثِيْرًا‌ ؕ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ‏(269)
(269) وہ جس کو بھی چاہتا ہے حکمت عطا کردیتا ہے اور جسے حکمت عطا کردی جائے اسے گویاخیرکثیر عطا کردیا گیا اور اس بات کوصاحبانِ عقل کے علاوہ کوئی نہیں سمجھتا ہے
وَمَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُهٗ ؕ وَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ‏(270)
(270) اور تم جو کچھ بھی راہ خدا میں خرچ کرو گے یا نذر کروگے تو خدا اس سے باخبر ہے البتہ ظالمین کا کوئی مددگار نہیں ہے
اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِىَ‌ۚ وَاِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ‌ؕ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَيِّاٰتِكُمْ‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ‏(271)
(271) اگر تم صدقہ کوعلی الاعلان دوگے تو یہ بھی ٹھیک ہے اور اگر حُھپا کر فقراء کے حوالے کردوگے تو یہ بھی بہت بہترہے اور اس کے ذریعہ تمہارے بہت سے گناہ معاف ہوجائیں گے اور خدا تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے
لَيْسَ عَلَيْكَ هُدٰٮهُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِىْ مَنْ يَّشَآءُ‌ ؕ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ‌ؕ وَمَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ‌ؕ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ يُّوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ‏(272)
(272) اے پیغمبران کی ہدایت پا جانے کی ذمہ داری آپ پر نہیںہے بلکہ خدا جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اورلوگو جو مال بھی تم راہ خدا میں خرچ کروگے وہ دراصل اپنے ہی لئے ہوگا اور تم تو صرف خوشنودی خدا کے لئے خرچ کرتے ہو اور جوکچھ بھی خرچ کروگے وہ پوراپورا تمہاری طرف واپس آئے گا اور تم پرکسی طرح کا ظلم نہ ہوگا
لِلْفُقَرَآءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوْا فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ ضَرْبًا فِى الْاَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ‌ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِيْمٰهُمْ‌ۚ لَا يَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا ‌ؕ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ‏(273)
(273) یہ صدقہ ان فقراء کے لئے ہے جو راہ خدا میں گرفتار ہوگئے ہیں اور کسی طرف جانے کے قابل بھی نہیں ہیں ناواقف افراد انہیں ان کی حیا و عفت کی بنا پر مالدار سمجھتے ہیں حالانکہ تم آثار سے ان کی غربت کا اندازہ کرسکتے ہو اگرچہ یہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے ہیں اور تم لوگ جو کچھ بھی انفاق کرو گے خدا اسے خوب جانتا ہے
اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ‌ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَؔ‏(274)
(274) جو لوگ اپنے اموال کو راہ خدا میں رات میں .دن میں خاموشی سے اور علی الاعلان خرچ کرتے ہیں ان کے لئے پیش پروردگار اجر بھی ہے اور انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ حزن
اَلَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا يَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا يَقُوْمُ الَّذِىْ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ‌ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا‌ ۘ‌ وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا‌ ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَؕ وَاَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ‌ؕ وَمَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ‌ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ‏(275)
(275) جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ روزِ قیامت اس شخص کی طرح اُٹھیں گے جسے شیطان نے چھوکر مخبوط الحواس بنا دیا ہو اس لئے کہ انہوں نے یہ کہہ دیا ہے کہ تجارت بھی سود جیسی ہے جب کہ خدا نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سودکو حرام . اب جس کے پاس خدا کی طرف سے نصیحت آگئی اور اس نے سود کو ترک کردیاتو گزشتہ کاروبار کا معاملہ خداکے حوالے ہے اور جو اس کے بعد بھی سود لے تو وہ لوگ سب جہّنمی ہیں او ر وہیں ہمیشہ رہنے والے ہیں
يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِى الصَّدَقٰتِ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْمٍ‏(276)
(276) خدا سود کو برباد کردیتا ہے اور صدقات میں اضافہ کردیتا ہے اور خدا کسی بھی ناشکرے گناہگار کو دوست نہیں رکھتا
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ‌ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ‏(277)
(277) جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک عمل کئے نماز قائم کی . زکوٰۃادا کی ان کے لئے پروردگار کے یہاں اجر ہے اور ان کے لئے کسی طرح کا خوف یا حزن نہیں ہے
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَا بَقِىَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ‏(278)
(278) ایمان والو اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم صاحبان ایمان ہو
فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ‌ۚ وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ‌ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ‏(279)
(279) اگر تم نے ایسا نہ کیا تو خد ا و رسول سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ اور اگر توبہ کرلو تو اصل مال تمہارا ہی ہے . نہ تم ظلم کروگے نہ تم پر ظلم کیا جائے گا
وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ ‌ؕ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ‌ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ‏(280)
(280) اور اگر تمہارا مقروض تنگ دست ہے تو اسے وسعت حال تک مہلت دی جائے گی اور اگرتم معاف کردو گے توتمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے بشرطیکہ تم اسے سمجھ سکو
وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ‏(281)
(281) اس دن سے ڈرو جب تم سب پلٹا کر اللہ کی بارگاہ میں لے جائے جاؤگے اس کے بعد ہر نفس کو اس کے کئے کا پورا پورا بدلہ ملے گا اور کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ ‌ؕ وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ‌ وَلَا يَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ يَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ‌ فَلْيَكْتُبْ ‌ۚوَلْيُمْلِلِ الَّذِىْ عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا ‌ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِىْ عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيْهًا اَوْ ضَعِيْفًا اَوْ لَا يَسْتَطِيْعُ اَنْ يُّمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهٗ بِالْعَدْلِ‌ؕ وَاسْتَشْهِدُوْا شَهِيْدَيْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ‌ۚ فَاِنْ لَّمْ يَكُوْنَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰٮهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰٮهُمَا الْاُخْرٰى‌ؕ وَ لَا يَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا ‌ؕ وَلَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِيْرًا اَوْ كَبِيْرًا اِلٰٓى اَجَلِهٖ‌ؕ ذٰ لِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَاَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَاَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْٓا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيْرُوْنَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا ‌ؕ وَاَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَايَعْتُمْ وَلَا يُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّلَا شَهِيْدٌ  ؕ وَاِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌ ۢ بِكُمْ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ‌ ؕ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ‌ ؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمٌ‏(282)
(282) ایمان والو جب بھی آپس میں ایک مقررہ مدّت کے لئے قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لو اورتمہارے درمیان کوئی بھی کاتب لکھے لیکن انصاف کے ساتھ لکھے اور کاتب کو نہ چاہئے کہ خدا کی تعلیم کے مطابق لکھنے سے انکار کرے . اسے لکھ دینا چاہئے اور جس کے ذمہ قرض ہے اس کو چاہئے کہ وہ املا کرے اور اس خدا سے ڈرتا رہے جو اس کا پالنے والاہے اور کسی طرح کی کمی نہ کرے . اب اگرجس کے ذمہ قرض ہے وہ نادان کمزور یامضمون بتانے کے قابل نہیں ہے تو اس کا ولی مضمون تیار کرے---- اور اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ بناؤ اور دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں تاکہ ایک بہکنے لگے تو دوسری یاد دلادے اور گواہوں کو چاہئے کہ گواہی کے لئے بلائے جائیں تو انکار نہ کریں اور خبردار لکھا پڑھی سے ناگواری کا اظہار نہ کرنا چاہے قرض چھوٹا ہو یا بڑا مّدت معین ہونی چاہئے .یہی پروردگار کے نزدیک عدالت کے مطابق اورگواہی کے لئے زیادہ مستحکم طریقہ ہے او ر اس امر سے قریب تر ہے کہ آپس میںشک و شبہ نہ پیدا ہو---- ہاں اگر تجارت نقد ہے جس سے تم لوگ آپس میں اموال کی الٹ پھیر کرتے ہو تو نہ لکھنے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے اور اگر تجارت میں بھی گواہ بناؤ تو کاتب یا گواہ کو حق نہیں کہ اپنے طرزِ عمل سے لوگوں کو نقصان پہنچائے اور نہ لوگوں کو یہ حق ہے اوراگرتم نے ایسا کیا تویہ اطاعت خدا سے نافرمانی
وَاِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّلَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ ‌ ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِى اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَلْيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ‌ؕ وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ‌ ؕ وَمَنْ يَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ‌ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ‏(283)
(283) اور اگر تم سفر میں ہو اور کوئی کاتب نہیں مل رہا ہے تو کوئی رہن رکھ دو اور ایک کو دوسرے پر اعتبار ہو تو جس پراعتبار ہے اس کو چاہئے کہ امانت کو واپس کردے اورخدا سے ڈرتا رہے---- اور خبردار گواہی کو حُھپانا نہیں کہ جو ایسا کرے گا اس کا دل گنہگار ہوگا اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے
لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ‌ؕ وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِىْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ‌ؕ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَآءُ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ‏(284)
(284) اللہ ہی کے لئے زمین و آسمان کی کل کائنات ہے تم اپنے دل کی باتوں کا اظہار کرو یا ان پر پردہ ڈالو وہ سب کا محاسبہ کرے گا وہ جس کو چاہے گا بخش دے گااور جس پر چاہے گا عذاب کرے گا وہ ہرشے پر قدرت و اختیار رکھنے والا ہے
اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ‌ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰٓئِكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ‌ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا‌ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ‏(285)
(285) رسول ان تمام باتوں پر ایمان رکھتا ہے جو اس کی طرف نازل کی گئی ہیں اور مومنین بھی سب اللہ اور ملائکہ اور مرسلین پر ایمان رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہم رسولوں کے درمیان تفریق نہیں کرتے . ہم نے پیغام الٰہی کو سنا اور اس کی اطاعت کی پروردگار اب تیری مغفرت درکار ہے اور تیری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے
لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا ‌ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ‌ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِيْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا ‌ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا ‌‌ۚرَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ‌ ۚ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلٰٮنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ‏(286)
(286) اللہ کس نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا . ہر نفس کے لئے اس کی حاصل کی ہوئی نیکیوں کا فائدہ بھی ہے اور اس کی کمائی ہوئی برائیوں کا مظلمہ بھی---- پروردگار! ہم جو کچھ بھول جائیں یا ہم سے غلطی ہوجائے اس کا ہم سے مواخذہ نہ کرنا . خدایا ہم پر ویسا بوجھ نہ ڈالنا جیسا پہلے والی امتوں پر ڈالا گیا ہے پروردگار ! ہم پر وہ بار نہ ڈالنا جس کی ہم میں طاقت نہ ہو . ہمیں معاف کردیناً ہمیں بخش دیناً ہم پر رحم کرنا توہمارا مولا اور مالک ہے اب کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الٓمّٓ ۚۙ‏(1)
(1) الۤم
اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ الْحَىُّ الْقَيُّوْمُؕ‏(2)
(2) اللہ جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور وہ ہمیشہ زندہ ہے اور ہر شے اسی کے طفیل میں قائم ہے
نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَاَنْزَلَ التَّوْرٰٮةَ وَالْاِنْجِيْلَۙ‏(3)
(3) اس نے آپ پر وہ برحق کتاب نازل کی ہے جو تمام کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور توریت و انجیل بھی نازل کی ہے
مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ  ؕ‌ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ  ‌ؕ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ‏(4)
(4) اس سے پہلے لوگوں کے لئے ہدایت بنا کر اور حق و باطل میں فرق کرنے والی کتاب بھی نازل کی ہے بیشک جو لوگ آیات الٰہی کا انکار کرتے ہیں ان کے واسطے شدید عذاب ہے اور خدا سخت انتقام لینے والا ہے
اِنَّ اللّٰهَ لَا يَخْفٰى عَلَيْهِ شَىْءٌ فِى الْاَرْضِ وَلَا فِى السَّمَآءِ ؕ‏(5)
(5) خدا کے لئے آسمان و زمین کی کوئی شے مخفی نہیں ہے
هُوَ الَّذِىْ يُصَوِّرُكُمْ فِى الْاَرْحَامِ كَيْفَ يَشَآءُ ‌ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ‏(6)
(6) وہ خدا جس طرح چاہتا ہے رحم مادر کے اندر تصویریں بناتا ہے اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے وہ صاحب عزّت بھی ہے اور صاحب حکمت بھی
هُوَ الَّذِىْۤ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ‌ؕ فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِىْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَآءَ تَاْوِيْلِهٖۚؔ وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ ؔ‌ۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِى الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا ‌ۚ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ‏(7)
(7) اس نے آپ پروہ کتاب نازل کی ہے جس میں سے کچھ آیتیں محکم اور واضح ہیں جو اصل کتاب ہیں اور کچھ متشابہ ہیں - اب جن کے دلوں میں کجی ہے وہ ا ن ہی متشابہات کے پیچھے لگ جاتے ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور من مانی تاویلیں کریں حالانکہ اس کی تاویل کا حکم صرف خدا کو ہے اور انہیں جو علم میں رسوخ رکھنے والے ہیں - جن کا کہنا یہ ہے کہ ہم اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ سب کی سب محکم و متشابہ ہمارے پروردگار ہی کی طرف سے ہے اور یہ بات سوائے صاحبانِ عقل کے کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً ‌ ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ‏(8)
(8) ان کا کہنا ہے کہ پروردگار جب تونے ہمیں ہدایت دے دی ہے تو اب ہمارے دلوں میں کجی نہ پیدا ہونے پائے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما کہ تو بہترین عطا کرنے والا ہے
رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيْهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ‏(9)
(9) خدایا تو تمام انسانوں کو اس دن جمع کرنے والا ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے. اور اللہ کا وعدہ غلط نہیں ہوتا
اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِىَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَلَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَيْئًا‌ ؕ وَاُولٰٓئِكَ هُمْ وَقُوْدُ النَّارِۙ‏(10)
(10) جو لوگ کافر ہوگئے ہیں ان کے اموال و اولاد کچھ بھی کام آنے والے نہیں ہیں اور وہ جہّنم کا ایندھن بننے والے ہیں
كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَۙ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ‌ؕ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ‌ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ‌ؕ وَاللّٰهُ شَدِيْدُ الْعِقَابِ‏(11)
(11) ان کا حال بھی فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا سا ہو گا جنھوں نے بمارے آیات کو جھٹلایا، پس الله نے انہیں ان کے گناہوں کے وجہ سے گرفت میں لے لیا اور الله سخت عذاب دینے والا ہے
قُلْ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَتُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ‌ؕ وَبِئْسَ الْمِهَادُ‏(12)
(12) ) اے رسول( جنہوں نے انکار کیا ہے) ان سے کہدیجیے: تم عنقریب مغلوب ہو جاؤ گے اور جہنم کے طرف اکھٹے کیے جاؤ گے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے
قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰيَةٌ فِىْ فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَاُخْرٰى كَافِرَةٌ يَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَيْهِمْ رَاْىَ الْعَيْنِ‌ؕ وَاللّٰهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ يَّشَآءُ  ‌ؕ اِنَّ فِىْ ذٰ لِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِى الْاَبْصَارِ‏(13)
(13) تمہارے واسطے ان دونوں گروہوں کے حالات میں ایک نشانی موجود ہے جو میدان جنگ میں آمنے سامنے آئے کہ ایک گروہ راہ خدا میں جہاد کررہا تھا اور دوسرا کافر تھا جو ان مومنین کو اپنے سے دوگنا دیکھ رہا تھا اور اللہ اپنی نصرت کے ذریعہ جس کی چاہتا ہے تائید کرتا ہے اور اس میں صاحبان نظر کے واسطے سامان عبرت و نصیحت بھی ہے
زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِيْنَ وَالْقَنَاطِيْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ‌ؕ ذٰ لِكَ مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ‌ۚ وَاللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ‏(14)
(14) لوگوں کے لئے خواہشات دنیا - عورتیں,اولاد, سونے چاندی کے ڈھیر, تندرست گھوڑے یا چوپائےکھیتیاں سب مزیّن اور آراستہ کردی گئی ہیں کہ یہی متاع دنیا ہے اور اللہ کے پاس بہترین انجام ہے
قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِّنْ ذٰ لِكُمْ‌ؕ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَاَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ‌ؕ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ‌ۚ‏(15)
(15) پیغمبر آپ کہہ دیں کہ کیا میں ان سب سے بہتر چیز کی خبر دوں- جو لوگ تقوٰی اختیار کرنے والے ہیں ان کے لئے پروردگار کے یہاں وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں . ان کے لئے پاکیزہ بیویاں ہیں اور اللہ کی خوشنودی ہے اور اللہ اپنے بندوں کے حالات سے خوب باخبر ہے
اَلَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ‌ۚ‏(16)
(16) قابل تعریف ہیں وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ پروردگار ہم ایمان لے آئے- ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہمیں آتش جہّنم سے بچالے
اَلصّٰبِرِيْنَ وَالصّٰدِقِيْنَ وَالْقٰنِتِيْنَ وَالْمُنْفِقِيْنَ وَالْمُسْتَغْفِرِيْنَ بِالْاَسْحَارِ‏(17)
(17) یہ سب صبر کرنے والے, سچ بولنے والے, اطاعت کرنے والے, راہ خدا میں خرچ کرنے والے اور ہنگام سحر استغفار کرنے والے ہیں
شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ وَالْمَلٰٓئِكَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًا ۢ بِالْقِسْطِ‌ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُؕ‏(18)
(18) اللہ خود گواہ ہے کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے ملائکہ اور صاحبانِ علم گواہ ہیں کہ وہ عدل کے ساتھ قائم ہے- اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور وہ صاحبِ عزّت و حکمت ہے
اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا ۢ بَيْنَهُمْ‌ؕ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ‏(19)
(19) دین,اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے اور اہل کتاب نے علم آنے کے بعد ہی جھگڑا شروع کیا ہے صرف آپس کی شرارتوں کی بناﺀپر اور جو بھی آیات الٰہی کا انکار کرے گا تو خدا بہت جلد حساب کرنے والا ہے
فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِىَ لِلّٰهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ‌ؕ وَقُل لِّلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْاُمِّيّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ‌ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا ‌ۚ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ ‌ ؕ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ‏(20)
(20) اے پیغمبر اگر یہ لوگ آپ سے کٹ حجتی کریں تو کہہ دیجئے کہ میرا رخ تمام تر اللہ کی طرف ہے اور میرے پیرو بھی ایسے ہی ہیں اور پھر اہلِ کتاب اور جاہل مشرکین سے پوچھئے کیا تم اسلام لے آئے- اگر وہ اسلام لے آئے تو گویا ہدایت پاگئے اور اگر منہ پھیر لیا تو آپ کا فرض صرف تبلیغ تھا اور اللہ اپنے بندوں کو خوب پہچانتا ہے
اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَيَقْتُلُوْنَ النَّبِيّٖنَ بِغَيْرِ حَقٍّۙ وَّيَقْتُلُوْنَ الَّذِيْنَ يَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَ لِيْمٍ‏(21)
(21) جو لوگ آیات الٰہیہ کا انکار کرتے ہیں اور ناحق انبیاء کو قتل کرتے ہیں اور ان لوگوں کو قتل کرتے ہیں جو عدل و انصاف کا حکم دینے والے ہیں انہیں دردناک عذاب کی خبرسنادیجئے
اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ‏(22)
(22) یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا میں بھی برباد ہوگئے اور آخرت میں بھی ان کا کوئی مددگار نہیں ہے
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلّٰى فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ وَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ‏(23)
(23) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا تھوڑا سا حصّہ دے دیا گیا کہ انہیں کتاب خدا کی طرف فیصلہ کے لئے بلایا جاتا ہے تو ایک فریق مکر جاتا ہے اور وہ بالکل کنارہ کشی کرنے والے ہیں
ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ‌ وَغَرَّهُمْ فِىْ دِيْنِهِمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ‏(24)
(24) یہ اس لئے کہ ان کا عقیدہ ہے کہ انہیں آتش جہّنم صرف چند دن کے لئے چھوئے گی اور ان کو دین کے بارے میں ان کی افتراپردازیوں نے دھوکہ میں رکھا ہے
فَكَيْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيْهِ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ‏(25)
(25) اس وقت کیا ہوگا جب ہم سب کو اس دن جمع کریں گے جس میں کسی شک اور شبہہ کی گنجائش نہیں ہے اور ہر نفس کو اس کے کئے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا
قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِى الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ‌ ؕ بِيَدِكَ الْخَيْرُ‌ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ‏(26)
(26) پیغمبر آپ کہئے کہ خدایا تو صاحب اقتدار ہے جس کو چاہتا ہے اقتدار دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے سلب کرلیتا ہے- جس کو چاہتا ہے عزّت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے- سارا خیر تیرے ہاتھ میں ہے اور تو ہی ہر شے پر قادر ہے
تُوْلِجُ الَّيْلَ فِى النَّهَارِ وَتُوْلِجُ النَّهَارَ فِى الَّيْلِ‌ وَتُخْرِجُ الْحَىَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَىِّ‌ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ‏(27)
(27) تو رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور مردہ کو زندہ سے اور زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے
لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ‌ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰ لِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِىْ شَىْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰٮةً  ؕ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ‌ ؕوَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ‏(28)
(28) خبردار صاحبانِ ایمان .مومنین کو چھوڑ کر کفار کو اپنا و لی اور سرپرست نہ بنائیں کہ جو بھی ایسا کرے گا اس کا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج بھی نہیں ہے اور خدا تمہیں اپنی ہستی سے ڈراتا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے
قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِىْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ يَعْلَمْهُ اللّٰهُ‌ؕ وَيَعْلَمُ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَرْضِؕ‌ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ‏(29)
(29) آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم دل کی باتوں کو چھپاؤ یا اس کا اظہار کرو خدا تو بہرحال جانتا ہے اور وہ زمین و آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر شے پر قدرت و اختیار رکھنے والا بھی ہے
يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا ۖۚ ۛ وَّمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ ۚۛ  تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهٗۤ اَمَدًاۢ بَعِيْدًا ‌ؕ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ‌ؕ وَاللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ ‏(30)
(30) اس دن کو یاد کرو جب ہر نفس اپنے نیک اعمال کو بھی حاضر پائے گا اور اعمال بد کو بھی جن کو دیکھ کر یہ تمناّ کرے گا کہ کاش ہمارے اور ان برے اعمال کے درمیان طویل فاصلہ ہوجاتا اور خدا تمہیں اپنی ہستی سے ڈراتا ہے اور وہ اپنے بندوں پر مہربان بھی ہے
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِىْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ‌ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ‏(31)
(31) اے پیغمبر! کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگ اللہ سے محبّت کرتے ہو تو میری پیروی کرو- خدا بھی تم سے محبّت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا کہ وہ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے
قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ‌‌ ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ‏(32)
(32) کہہ دیجئے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو کہ جو اس سے روگردانی کرے گا تو خدا کافرین کو ہرگز دوست نہیں رکھتا ہے
اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰهِيْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِيْنَۙ‏(33)
(33) اللہ نے آدم علیھ السّلام,نوح علیھ السّلام اور آل ابراہیم علیھ السّلام اور آل عمران علیھ السّلام کو منتخب کرلیا ہے
ذُرِّيَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ‌ؕ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ‌ۚ‏(34)
(34) یہ ایک نسل ہے جس میں ایک کا سلسلہ ایک سے ہے اور اللہ سب کی سننے والا اور جاننے والا ہے
اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّىْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِىْ بَطْنِىْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّىْ ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ‌‏(35)
(35) اس وقت کو یاد کرو جب عمران علیھ السّلام کی زوجہ نے کہا کہ پروردگار میں نے اپنے شکم کے بّچے کو تیرے گھر کی خدمت کے لئے نذر کردیا ہے اب تو قبول فرمالے کہ تو ہر ایک کی سننے والا اور نیتوں کا جاننے والا ہے
فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّىْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰىؕ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْؕ وَ لَيْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى‌‌ۚ وَاِنِّىْ سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَاِنِّىْۤ اُعِيْذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ‏(36)
(36) اس کے بعد جب ولادت ہوئی تو انہوں نے کہا پروردگار یہ تو لڑکی ہے حالانکہ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا ہے اور وہ جانتا ہے کہ لڑکا اس لڑکی جیسا نہیں ہوسکتا.اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان رجیم سے تیری پناہ میں دیتی ہوں
فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّاَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا ۙ وَّكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ‌ؕ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا ‌ۚ‌ قَالَ يٰمَرْيَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا ؕ‌ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ‏(37)
(37) تو خدا نے اسے بہترین انداز سے قبول کرلیا اور اس کی بہترین نشوونما کا انتظام فرمادیا اور ذکریا علیھ السّلام نے اس کی کفالت کی کہ جب ذکریا علیھ السّلام محراب عبادت میں داخل ہوتے تو مریم کے پاس رزق دیکھتے اور پوچھتے کہ یہ کہاں سے آیا اور مریم جواب دیتیں کہ یہ سب خدا کی طرف ہے- وہ جسے چاہتا ہے رزق بے حساب عطا کردیتا ہے
هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ‌ ‌ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِىْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً‌ ‌ ۚ اِنَّكَ سَمِيْعُ الدُّعَآءِ‏(38)
(38) اس وقت ذکریا علیھ السّلام نے اپنے پرودگار سے دعا کی کہ مجھے اپنی طرف سے ایک پاکیزہ اولاد عطا فرما کہ تو ہر ایک کی دعا کا سننے والا ہے
فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَهُوَ قَآئِمٌ يُّصَلِّىْ فِى الْمِحْرَابِۙ اَنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ‏(39)
(39) تو ملائکہ نے انہیں اس وقت آواز دی جب وہ محراب میں کھڑے مصرورِ عبادت تھے کہ خدا تمہیں یحیٰی علیھ السّلام کی بشارت دے رہا ہے جو اس کے کلمہ کی تصدیق کرنے والا, سردار, پاکیزہ کردار اور صالحین میں سے نبی ہوگا
قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوْنُ لِىْ غُلٰمٌ وَّقَدْ بَلَغَنِىَ الْكِبَرُ وَامْرَاَتِىْ عَاقِرٌ‌ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُ‏(40)
(40) انہوں نے عرض کی کہ میرے یہاں کس طرح اولاد ہوگی جب کہ مجھ پر بڑھاپا آگیا ہے اور میری عورت بھی بانجھ ہے تو ارشاد ہوا کہ خدا اسی طرح جو چاہتا ہے کرتاہے
قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّىْۤ اٰيَةً ‌ؕ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمْزًا ؕ‌ وَاذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِيْرًا وَّسَبِّحْ بِالْعَشِىِّ وَالْاِبْكَارِ‏(41)
(41) انہوں نے کہا کہ پروردگار میرے لئے قبولیت دعا کی کوئی علامت قرار دے دے- ارشاد ہوا کہ تم تین دن تک اشاروں کے علاوہ بات نہ کرسکو گے اور خدا کا ذکر کثرت سے کرتے رہنا اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہنا
وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰٮكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفٰٮكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِيْنَ‏(42)
(42) اور اس وقت کو یاد کرو جب ملائکہ نے مریم کو آواز دی کہ خدا نے تمہیں چن لیا ہے اور پاکیزہ بنادیا ہے اور عالمین کی عورتوں میں منتخب قرار دے دیا ہے
يٰمَرْيَمُ اقْنُتِىْ لِرَبِّكِ وَاسْجُدِىْ وَارْكَعِىْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ‏(43)
(43) اے مریم تم اپنے پروردگار کی اطاعت کرو, سجدہ کرو, اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو
ذٰ لِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ‌ؕ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ‏(44)
(44) پیغمبر یہ غیب کی خبریں ہیں جن کی وحی ہم آپ کی طرف کررہے ہیں اور آپ تو ان کے پاس نہیں تھے جب وہ قرعہ ڈال رہے تھے کہ مریم کی کفالت کون کرے گا اور آپ ان کے پاس نہیں تھے جب وہ اس موضوع پر جھگڑا کررہے تھے
اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ ۖ اسْمُهُ الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيْهًا فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَۙ‏(45)
(45) اور اس وقت کو یاد کرو جب ملائکہ نے کہا کہ اے مریم خدا تم کو اپنے کلمہ مسیح عیسٰی علیھ السّلام ابن مریم کی بشارت دے رہا ہے جو دنیا اور آخرت میں صاحبِ وجاہت اور مقربین بارگاہ الٰہی میں سے ہے
وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِى الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَّمِنَ الصّٰلِحِيْنَ‏(46)
(46) وہ لوگوں سے گہوارہ میں بھی بات کرے گا اور بھرپور جوان ہونے کے بعد بھی اور صالحین میں سے ہوگا
قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى يَكُوْنُ لِىْ وَلَدٌ وَّلَمْ يَمْسَسْنِىْ بَشَرٌ ‌ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ‌ ؕ اِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ‏(47)
(47) مریم نے کہا کہ میرے یہاں فرزند کس طرح ہوگا جب کہ مجھ کو کسی بشر نے چھوا بھی نہیں ہے- ارشاد ہوا کہ اسی طرح خدا جو چاہتاہے پیدا کرتا ہے جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو کہتا ہے کہ ہوجا اور وہ چیز ہوجاتی ہے
وَيُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرٰٮةَ وَالْاِنْجِيْلَ‌ۚ‏(48)
(48) اور خدا اس فرزند کو کتاب و حکمت اور توریت و انجیل کی تعلیم دے گا
وَرَسُوْلًا اِلٰى بَنِىْۤ اِسْرٰٓءِيْلَ ۙ اَنِّىْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۙۚ اَنِّىْۤ  اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّيْنِ كَهَیْئَةِ الطَّيْرِ فَاَنْفُخُ فِيْهِ فَيَكُوْنُ طَيْرًاۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ‌‌ۚ وَاُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْىِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ‌ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَۙ فِىْ بُيُوْتِكُمْ‌ؕ اِنَّ فِىْ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَۚ‏(49)
(49) اور اسے بنی اسرائیل کی طرف رسول بنائے گا اور وہ ان سے کہے گا کہ میں تمھارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندہ کی شکل بناؤں گا اور اس میں کچھ دم کردوں گا تو وہ حکم خدا سے پرندہ بن جائے گا اور میں پیدائشی اندھے اور َمبروص کا علاج کروں گا اور حکم خدا سے مردوں کو زندہ کروں گا اور تمہیں اس بات کی خبردوں گا کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیا گھر میں ذخیرہ کرتے ہو- ان سب میں تمہارے لئے نشانیاں ہیں اگر تم صاحبانِ ایمان ہو
وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ التَّوْرٰٮةِ وَلِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِىْ حُرِّمَ عَلَيْكُمْ‌وَجِئْتُكُمْ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاتَّقُوْا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْنِ‏(50)
(50) اور میں اپنے پہلے کی کتاب توریت کی تصدیق کرنے والا ہوں اور میں بعض ان چیزوں کو حلال قرار دوں گا جو تم پر حرام تھیں اور تمھارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں لہذا اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
اِنَّ اللّٰهَ رَبِّىْ وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ‌ ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ‏(51)
(51) اللہ میرا اور تمہارا دونوں کا رب ہے لہذا اس کی عبادت کرو کہ یہی صراط مستقیم ہے
فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِيْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِىْۤ اِلَى اللّٰهِ‌ؕ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ‌ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ‌ۚ وَاشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ‏(52)
(52) پھر جب عیسٰی علیھ السّلام نے قوم سے کفر کا احساس کیا تو فرمایا کہ کون ہے جو خدا کی راہ میں میرا مددگار ہو...حواریین نے کہا کہ ہم اللہ کے مددگار ہیں- اس پر ایمان لائے ہیں اور آپ گواہ رہیں کہ ہم مسلمان ہیں
رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ‏(53)
(53) پروردگار ہم ان تمام باتوں پر ایمان لے آئے جو تو نے نازل کی ہیں اور تیرے رسول کا اتباع کیا لہذا ہمارا نام اپنے رسول کے گواہوں میں درج کرلے
وَمَكَرُوْا وَمَكَرَاللّٰهُ ‌ؕ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ‏(54)
(54) اور یہودیوں نے عیسٰی علیھ السّلام سے مکاری کی تو اللہ نے بھی جوابی تدبیر کی اور خدا بہترین تدبیر کرنے والا ہے
اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسٰۤى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ‌‌ۚ ثُمَّ اِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ‏(55)
(55) اور جب خدا نے فرمایا کہ عیسٰی علیھ السّلام ہم تمہاری مدّت قیام دنیا پوری کرنے والے اور تمہیں اپنی طرف اُٹھالینے والے اور تمھیں کفار کی خباثت سے نجات دلانے والے اور تمھاری پیروی کرنے والوں کو انکار کرنے والوں پر قیامت تک کی برتری دینے والے ہیں- اس کے بعد تم سب کی بازگشت ہماری طرف ہوگی اور ہم تمہارے اختلافات کا صحیح فیصلہ کردیں گے
فَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ‏(56)
(56) پھر جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان پر دنیا اور آخرت میں شدید عذاب کریں گے اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا
وَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ‌ؕ وَ اللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ‏(57)
(57) اور جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان کو مکمل اجر دیں گے اور خدا ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
ذٰ لِكَ نَتْلُوْهُ عَلَيْكَ مِنَ الْاٰيٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِيْمِ‏(58)
(58) یہ تمام نشانیاں اور پفِاز حکمت تذکرے ہیں جو ہم آپ سے بیان کررہے ہیں
اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ‌ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ‏(59)
(59) عیسٰی علیھ السّلام کی مثال اللہ کے نزدیک آدم علیھ السّلام جیسی ہے کہ انہیں مٹی سے پیدا کیا اور پھر کہا ہوجا اور وہ ہوگیا
اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ‏(60)
(60) حق تمہارے پروردگار کی طرف سے آچکا ہے لہذا خبردار اب تمہارا شمار شک کرنے والوں میں نہ ہونا چاہئے
فَمَنْ حَآجَّكَ فِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَاَبْنَآءَكُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِيْنَ‏(61)
(61) پیغمبر علم کے آجانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند, اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں
اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ ‌‌ۚ وَمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ‌ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ‏(62)
(62) یہ سب حقیقی واقعات ہیں اور خدا کے علاوہ کوئی دوسرا خدا نہیں ہے اور وہی خدا صاحبِ عزّت و حکمت
فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِالْمُفْسِدِيْنَ‏(63)
(63) اب اس کے بعد بھی یہ لوگ انحراف کریں تو خدا مفسدین کو خوب جانتا ہے
قُلْ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۢ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهٖ شَيْئًا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ‌ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ‏(64)
(64) اے پیغمبر آپ کہہ دیں کہ اہلِ کتاب آؤ ایک منصفانہ کلمہ پر اتفاق کرلیں کہ خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں آپس میں ایک دوسرے کو خدائی کا درجہ نہ دیں اور اس کے بعد بھی یہ لوگ منہ موڑیں تو کہہ دیجئے کہ تم لوگ بھی گواہ رہنا کہ ہم لوگ حقیقی مسلمان اور اطاعت گزار ہیں
يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِىْۤ اِبْرٰهِيْمَ وَمَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰٮةُ وَالْاِنْجِيْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ‏(65)
(65) اے اہلِ کتاب آخر ابراہیم علیھ السّلام کے بارے میں کیوں بحث کرتے ہو جب کہ توریت اور انجیل ان کے بعد نازل ہوئی ہے کیا تمہیں اتنی بھی عقل نہیں ہے
هٰۤاَنْتُمْ هٰٓؤُلَآءِ حٰجَجْتُمْ فِيْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِيْمَا لَيْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ‌ؕ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ‏(66)
(66) اب تک تم نے ان باتوں میں بحث کی ہے جن کا کچھ علم تھا تو اب اس بات میں کیوں بحث کرتے ہو جس کا کچھ بھی علم نہیں ہے بیشک خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ہو
مَا كَانَ اِبْرٰهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًا ؕ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ‏(67)
(67) ابراہیم علیھ السّلام نہ یہودی تھے اور نہ عیسائی وہ مسلمان حق پرست اور باطل سے کنارہ کش تھے اور وہ مشرکین میں سے ہرگز نہیں تھے
اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِيْمَ لَلَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ وَهٰذَا النَّبِىُّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ‌ؕ وَاللّٰهُ وَلِىُّ الْمُؤْمِنِيْنَ‏(68)
(68) یقینا ابراہیم علیھ السّلام سے قریب تر ان کے پیرو ہیں اور پھر یہ پیغمبر اور صاحبانِ ایمان ہیں اور اللہ صاحبان ایمان کا سرپرست ہے
وَدَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يُضِلُّوْنَكُمْؕ وَمَا يُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ‏(69)
(69) اہلِ کتاب کا ایک گروہ یہ چاہتا ہے کہ تم لوگوں کو گمراہ کردے حالانکہ یہ اپنے ہی کو گمراہ کررہے ہیں اور سمجھتے بھی نہیں ہیں
يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَاَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ‏(70)
(70) اے اہلِ کتاب تم آیات الٰہیٰہ کا انکار کیوں کررہے ہو جب کہ تم خود ہی ان کے گواہ بھی ہو
يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ‏(71)
(71) اے اہلِ کتاب کیوں حق کو باطل سے مشتبہ کرتے ہو اور جانتے ہوئے حق کی پردہ پوشی کرتے ہو
وَقَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِىْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ‌‌ۚ‌ ۖ‏(72)
(72) اور اہلِ کتاب کی ایک جماعت نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ جو کچھ ایمان والوں پر نازل ہوا ہے اس پر صبح کو ایمان لے آؤ اور شام کو انکار کر دو شاید اس طرح وہ لوگ بھی پلٹ جائیں
وَلَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِيْنَكُمْؕ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِۙ اَنْ يُّؤْتٰٓى اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِيْتُمْ اَوْ يُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ‌ؕ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللّٰهِۚ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ ‌ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ ۚۙ‏(73)
(73) اور خبردار ان لوگوں کے علاوہ کسی پر اعتبار نہ کرنا جو تمہارے دین کا اتباع کرتے ہیں.... پیغمبر آپ کہہ دیں کہ ہدایت صرف خدا کی ہدایت ہے اور ہرگز یہ نہ ماننا کہ خدا ویسی ہی فضیلت اور نبوت کسی اور کو بھی دے سکتا ہے جیسی تم کو دی ہے یا کوئی تم سے پیش پروردگار بحث بھی کرسکتا ہے پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ فضل و کرم خدا کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا عطا کرتا ہے اور وہ صاحبِ وسعت بھی ہے اور صاحبِ علم بھی
يَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَآءُ ‌ؕ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ‏(74)
(74) وہ اپنی رحمت سے جسے چاہتا ہے مخصوص کرتا ہے اور وہ بڑے فضل والا ہے
وَمِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ يُّؤَدِّهٖۤ اِلَيْكَ‌ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِيْنَارٍ لَّا يُؤَدِّهٖۤ اِلَيْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَآئِمًا ‌ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَيْسَ عَلَيْنَا فِىْ الْاُمِّيّٖنَ سَبِيْلٌۚ وَيَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ‏(75)
(75) اور اہلِ کتاب میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جن کے پاس ڈھیر بھر مال بھی امانت رکھ دیا جائے تو واپس کردیں گے اور کچھ ایسے بھی ہیں کہ ایک دینار بھی امانت رکھ دی جائے تو اس وقت تک واپس نہ کریں گے جب تک ان کے سر پر کھڑے نہ رہو- یہ اس لئے کہ ان کا کہنا یہ ہے کہ عربوں کی طرف سے ہمارے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں ہے یہ خدا کے خلاف جھوٹ بولتے ہیں اور جانتے بھی ہیں کہ جھوٹے ہیں
بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَاتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ‏(76)
(76) بیشک جو اپنے عہد کو پورا کرے گا اور خوفِ خدا پیدا کرے گا تو خدا متقّین کو دوست رکھتا ہے
اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيْلًا اُولٰٓئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِى الْاٰخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَلَا يَنْظُرُ اِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيْهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَ لِيْمٌ‏(77)
(77) جو لوگ اللہ سے کئے گئے عہد اور قسم کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ان کے لئے آخرت میں کوئی حصّہ نہیں ہے اور نہ خدا ان سے بات کرے گا اور نہ روزِ قیامت ان کی طرف نظر کرے گا اور نہ انہیں گناہوں کی آلودگی سے پاک بنائے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے
وَاِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيْقًا يَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ‌ وَمَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِۚ وَيَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ‌ۚ وَيَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ‏(78)
(78) ان ہی یہودیوں میں سے بعض وہ ہیں جو کتاب پڑھنے میں زبان کو توڑ موڑ دیتے ہیں تاکہ تم لوگ اس تحریف کو بھی اصل کتاب سمجھنے لگو حالانکہ وہ اصل کتاب نہیں ہے اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ اللہ کی طرف سے ہرگز نہیں ہے یہ خدا کے خلاف جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ سب جانتے ہیں
مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّىْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبَّانِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَۙ‏(79)
(79) کسی بشر کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ خدا اسے کتاب و حکمت اور نبوت عطا کردے اور پھر وہ لوگوں سے یہ کہنے لگے کہ خدا کو چھوڑ کر ہمارے بندے بن جاؤ بلکہ اس کا قول یہی ہوتا ہے کہ اللہ والے بنو کہ تم کتاب کی تعلیم بھی دیتے ہو اور اسے پڑھتے بھی رہتے ہو
وَلَا يَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِكَةَ وَالنَّبِيّٖنَ اَرْبَابًا‌ ؕ اَيَاْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ‏(80)
(80) وہ یہ حکم بھی نہیں دے سکتا کہ ملائکہ یا انبیاء کو اپنا پروردگار بنالو کیا وہ تمہیں کفر کا حکم دے سکتا ہے جب کہ تم لوگ مسلمان ہو
وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَاۤ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ ‌ؕ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰ لِكُمْ اِصْرِىْ‌ؕ قَالُوْۤا اَقْرَرْنَا ‌ؕ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَاَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ‏(81)
(81) اور اس وقت کو یاد کرو جب خدا نے تمام انبیاء سے عہد لیا کہ ہم تم کو جو کتاب و حکمت دے رہے ہیں اس کے بعد جب وہ رسول آجائے جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے تو تم سب اس پر ایمان لے آنا اور اس کی مدد کرنا .اور پھر پوچھا کیا تم نے ان باتوں کا اقرار کرلیا اور ہمارے عہد کو قبول کرلیا تو سب نے کہا بیشک ہم نے اقرار کرلیا- ارشاد ہوا کہ اب تم سب گواہ بھی رہنا اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں
فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ‏(82)
(82) اس کے بعد جو انحراف کرے گا وہ فاسقین کی منزل میں ہوگا
اَفَغَيْرَ دِيْنِ اللّٰهِ يَبْغُوْنَ وَلَهٗۤ اَسْلَمَ مَنْ فِى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّاِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ‏(83)
(83) کیا یہ لوگ دینِ خدا کے علاوہ کچھ اور تلاش کررہے ہیں جب کہ زمین و آسمان کی ساری مخلوقات بہ رضا و رغبت یا بہ جبر وکراہت اسی کی بارگاہ میں سر تسلیم خم کئے ہوئے ہے اور سب کو اسی کی بارگاہ میں واپس جانا ہے
قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا وَمَاۤ اُنْزِلَ عَلٰٓى اِبْرٰهِيْمَ وَ اِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَاۤ اُوْتِىَ مُوْسٰى وَ عِيْسٰى وَالنَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ‏(84)
(84) پیغمبر ان سے کہہ دیجئے کہ ہمارا ایمان اللہ پر ہے اور جو ہم پر نازل ہوا ہے اور جو ابراہیم علیھ السّلام,اسماعیل علیھ السّلام, اسحاق علیھ السّلامً یعقوب علیھ السّلام اور اسباط علیھ السّلام پر نازل ہوا ہے اور جو موسٰی علیھ السّلام, عیسٰی علیھ السّلام اور انبیاء کو خدا کی طرف سے دیا گیا ہے ان سب پر ہے. ہم ان کے درمیان تفریق نہیں کرتے ہیں اور ہم خدا کے اطاعت گزار بندے ہیں
وَمَنْ يَّبْتَغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ‌ ۚ وَهُوَ فِى الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ‏(85)
(85) اور جو اسلام کے علاوہ کوئی بھی دین تلاش کرے گا تو وہ دین اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ قیامت کے دن خسارہ والوں میں ہوگا
كَيْفَ يَهْدِى اللّٰهُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِهِمْ وَشَهِدُوْۤا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّجَآءَهُمُ الْبَيِّنٰتُ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ‏(86)
(86) خدا اس قوم کو کس طرح ہدایت دے گا جو ایمان کے بعد کافر ہوگئی اور وہ خود گواہ ہے کہ رسول برحق ہے اور ان کے پاس کھلی نشانیاں بھی آچکی ہیں بیشک خدا ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا
اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ اَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللّٰهِ وَالْمَلٰٓئِكَةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَۙ‏(87)
(87) ان لوگوں کی جزاء یہ ہے کہ ان پر خدا ً ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہے
خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ‌ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْظَرُوْنَۙ‏(88)
(88) یہ ہمیشہ اسی لعنت میں گرفتار رہیں گے .ان کے عذاب میں تخفیف نہ ہوگی اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی
اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰ لِكَ وَاَصْلَحُوْا  فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ‏(89)
(89) علاوہ ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے بعد توبہ کرلی اور اصلاح کرلی کہ خدا غفور اور رحیم ہے
اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ‌ۚ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الضَّآ لُّوْنَ‏(90)
(90) جن لوگوں نے ایمان کے بعد کفر اختیار کرلیا اور پھر کفر میں بڑھتے ہی چلے گئے ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی اور وہ حقیقی طور پر گمراہ ہیں
اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّلَوِ افْتَدٰى بِهٖ ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌۙ وَّمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ‏(91)
(91) جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور اسی کفر کی حالت میں مرگئے ان سے ساری زمین بھر کر سونا بھی بطور فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہے