ENGLISH | اردو | Roman | Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَيْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَىْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُوْنَ‏(111)
(111) اور اگر ہم ان کی طرف ملائکہ نازل بھی کردیں اور ان سے مردے کلام بھی کرلیں اور ان کے سامنے تمام چیزوں کو جمع بھی کردیں تو بھی یہ ایمان نہ لائیں گے مگر یہ کہ خدا ہی چاہ لے لیکن ان کی اکثریت جہالت ہی سے کام لیتی ہے
وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوًّا شَيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِىْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا‌ ؕ وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ‌ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُوْنَ‏(112)
(112) اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے جنات و انسان کے شیاطین کو ان کا دشمن قرار دے دیا ہے یہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف دھوکہ دینے کے لئے مہمل باتوں کے اشارے کرتے ہیں اور اگر خدا چاہ لیتا تو یہ ایسا نہ کرسکتے لہذا اب آپ انہیں ان کے افترا کے حال پر چھوڑ دیں
وَلِتَصْغٰٓى اِلَيْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ‏(113)
(113) اور یہ اس لئے کرتے ہیں کہ جن لوگوں کا ایمان آخرت پر نہیں ہے ان کے دل ان کی طرف مائل ہوجائیں اور وہ اسے پسند کرلیں اور پھر خود بھی ان ہی کی طرح افترا پردازی کرنے لگیں
اَفَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِىْ حَكَمًا وَّهُوَ الَّذِىْۤ اَنْزَلَ اِلَيْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلاً‌ ؕ وَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ‌ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ‏(114)
(114) کیا میں خدا کے علاوہ کوئی حکم تلاش کروں جب کہ وہی وہ ہے جس نے تمہاری طرف مفصل کتاب نازل کی ہے اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے انہیں معلوم ہے کہ یہ قرآن ان کے پروردگار کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوا ہے لہذا ہرگز آپ شک کرنے والوں میں شامل نہ ہوں
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلاً  ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ‌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ‏(115)
(115) اور آپ کے رب کا کلمہ قرآن صداقت اور عدالت کے اعتبار سے بالکل مکمل ہے اس کا کوئی تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور وہ سننے والا بھی ہے اور جاننے والا بھی ہے
وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِى الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ‌ؕ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ‏(116)
(116) اور اگر آپ روئے زمین کی اکثریت کا اتباع کرلیں گے تو یہ راہ خدا سے بہکادیں گے.یہ صرف گمان کا اتباع کرتے ہیں اور صرف اندازوں سے کام لیتے ہیں
اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ يَّضِلُّ عَنْ سَبِيْلِهٖ‌ۚ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ‏(117)
(117) آپ کے پروردگار کو خوب معلوم ہے کہ کون اس کے راستے سے بہکنےوالا ہے. اور کون ہدایت حاصل کرنے والا ہے
فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰيٰتِهٖ مُؤْمِنِيْنَ‏(118)
(118) لہذا تم لوگ صرف اس جانور کا گوشت کھاؤ جس پر خد اکا نام لیا گیا ہو اگر تمہارا ایمان اس کی آیتوں پر ہے
وَمَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَيْهِؕ وَاِنَّ كَثِيْرًا لَّيُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ‌ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِيْنَ‏(119)
(119) اورتمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم وہ نہیں کھاتے ہو جس پر نام خدا لیا گیا ہے جب کہ اس نے جن چیزوں کو حرام کیا ہے انہیں تفصیل سے بیان کردیا ہے مگر یہ کہ تم مجبور ہوجاؤ تو اور بات ہے اور بہت سے لوگ تو اپنی خواہشات کی بنا پر لوگوں کو بغیر جانے بوجھے گمراہ کرتے ہیں .اور تمہارا پروردگار ان زیادتی کرنے والوں کو خوب جانتا ہے
وَذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَبَاطِنَهٗ‌ؕ اِنَّ الَّذِيْنَ یَکْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا يَقْتَرِفُوْنَ‏(120)
(120) اور تم لوگ ظاہری اور باطنی تمام گناہوں کو چھوڑ دو کہ جو لوگ گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں عنقریب انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا
وَلَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ وَاِنَّهٗ لَفِسْقٌ ؕ وَاِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰٓى اَوْلِيٰٓئِهِمْ لِيُجَادِلُوْكُمْ‌ ۚ وَاِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ‏(121)
(121) اور دیکھو جس پر نامِ خدا نہ لیا گیا ہو اسے نہ کھانا کہ یہ فسق ہے اور شیاطین تو اپنے والوں کی طرف خفیہ اشارے کرتے ہی رہتے ہیں تاکہ یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگوں نے ان کی اطاعت کر لی تو تمہارا شمار بھی مشرکین میں ہوجائے گا
اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِىْ بِهٖ فِى النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِى الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا‌ ؕ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ‏(122)
(122) کیا جو شخص مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کیااوراس کے لئے ایک نور قرار دیا جس کے سہارے وہ لوگوں کے درمیان چلتا ہے اس کی مثال اس کی جیسی ہوسکتی ہے جو تاریکیوں میں ہو اور ان سے نکل بھی نہ سکتا ہو -اسی طرح کفار کے لئے ان کے اعمال کو آراستہ کردیا گیا ہے
وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِىْ كُلِّ قَرْيَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِيْهَا لِيَمْكُرُوْا فِيْهَا‌ ؕ وَمَا يَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ‏(123)
(123) اور اسی طرح ہم نے ہر قریہ میں بڑے بڑے مجرمین کو موقع دیا ہے کہ وہ مکاّری کریں اور ان کی مکاّری کا اثر خود ان کے علاوہ کسی پر نہیں ہوتا ہے لیکن انہیں اس کا بھی شعور نہیں ہے
وَاِذَا جَآءَتْهُمْ اٰيَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِىَ رُسُلُ اللّٰهِؔ‌ۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسٰلَتَهٗ‌ ؕ سَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ‏(124)
(124) اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک ہمیں بھی ویسی ہی وحی نہ دی جائے جیسی رسولوں کو دی گئی ہے جب کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کو کہاں رکھے گا اور عنقریب مجرمین کو ان کے جرم کی پاداش میں خدا کے یہاں ذلّت اور شدید ترین عذاب کا سامنا کرنا ہوگا
فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهْدِيَهٗ يَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ‌ۚ وَمَنْ يُّرِدْ اَنْ يُّضِلَّهٗ يَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَيِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِى السَّمَآءِ‌ؕ كَذٰلِكَ يَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ‏(125)
(125) پس خدا جسے ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لئے کشادہ کردیتا ہے اور جس کو گمراہی میں چھوڑنا چاہتا ہے اس کے سینے کو ایسا تنگ اور دشوار گزار بنادیتا ہے جیسے آسمان کی طرف بلند ہورہا ہو ,وہ اسی طرح بے ایمانوں پر ان کی کثافت کو مسّلط کردیتاہے
وَهٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيْمًا‌ ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّذَّكَّرُوْنَ‏(126)
(126) اور یہ ہی تمہارے پروردگار کا سیدھا راستہ ہے .ہم نے نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے آیات کو مفصل طور سے بیان کردیا ہے
لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ‌ وَهُوَ وَلِيُّهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ‏(127)
(127) ان لوگوں کے لئے پروردگار کے نزدیک دارالّسلام ہے اور وہ ان کے اعمال کی بنا پر ان کا سرپرست ہے
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا‌ ۚ يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ‌ۚ وَقَالَ اَوْلِيٰٓئُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّبَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِىْۤ اَجَّلْتَ لَنَا‌‌ ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰٮكُمْ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ‏(128)
(128) اور جس دن وہ سب کو محشور کرے گا تو کہے گا کہ اے گروہ جناّت تم نے تو اپنے کوانسانوں سے زیادہ بنا لیا تھا اور انسانوں میں ان کے دوست کہیں گے کہ پروردگار ہم میں سب نے ایک دوسرے سے فائدہ اٹھایا ہے اور اب ہم اس مدّت کو پہنچ گئے ہیں جو تو نے ہماری مہلت کے واسطے معین کی تھی .ارشاد ہوگا تواب تمہارا ٹھکانہ جہّنم ہے جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے مگر یہ کہ خدا ہی آزادی چاہ لے -بیشک تمہارا پروردگار صاحب حکمت بھی ہے اور جاننے والا بھی ہے
وَكَذٰلِكَ نُوَلِّىْ بَعْضَ الظّٰلِمِيْنَ بَعْضًاۢ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ‏(129)
(129) اور اسی طرح ہم بعض ظالموں کو ان کے اعمال کی بنا پر بعض پر مسلّط کردیتے ہیں
يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِىْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هٰذَا‌ ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰٓى اَنْفُسِنَا‌ وَغَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا وَشَهِدُوْا عَلٰٓى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِيْنَ‏(130)
(130) اے گروہ جن و انس کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے جو ہماری آیتوں کو بیان کرتے اور تمہیں آج کے دن کی ملاقات سے ڈراتے -وہ کہیں گے کہ ہم خود اپنے خلاف گواہ ہیں اور ان کو زندگانی دنیا نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا انہوں نے خود اپنے خلاف گواہی دی کہ وہ کافر تھے
ذٰ لِكَ اَنْ لَّمْ يَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّاَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ‏(131)
(131) یہ اس لئے کہ تمہارا پروردگار کسی بھی قریہ کو ظلم و زیادتی سے اس طرح تباہ و برباد نہیں کرنا چاہتا کہ اس کے رہنے والے بالکل غافل اور بے خبر ہوں
وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا‌ ؕ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُوْنَ‏(132)
(132) اور ہر ایک کے لئے اس کے اعمال کے مطابق درجات ہیں اور تمہارا پروردگار ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے
وَرَبُّكَ الْغَنِىُّ ذُو الرَّحْمَةِ ‌ؕ اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا يَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِيْنَ ؕ‏(133)
(133) اور آپ کا پروردگار بے نیاز اور صاحبِ رحمت ہے -وہ چاہے تو تم سب کو دنیا سے اٹھالے اور تمہاری جگہ پر جس قوم کو چاہے لے آئے جس طرح تم کو دوسری قوم کی اولاد میں رکھا ہے
اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ‌ ۙوَّمَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ‏(134)
(134) یقینا جو تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ سامنے آنے والا ہے اور تم خدا کو عاجز بنانے والے نہیں ہو
قُلْ يٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّىْ عَامِلٌ‌ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ‌ؕ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ‏(135)
(135) پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ تم بھی اپنی جگہ پر عمل کرو اور میں بھی کررہا ہوں -عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ انجام کار کس کے حق میں بہتر ہے -بیشک ظالم کامیاب ہونے والے نہیں ہیں
وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَهٰذَا لِشُرَكَآئِنَا‌ ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ‌ ۚ وَمَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ يَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ‌ ؕ سَآءَ مَا يَحْكُمُوْنَ‏(136)
(136) اور ان لوگوں نے خدا کی پیدا کی ہوئی کھیتی میں اور جانوروں میں اس کا حصہّ بھی لگایا ہے اور یہ اعلان کیا ہے کہ یہ ان کے خیال کے مطابق خد اکے لئے ہے اور یہ ہمارے شریکوں کے لئے ہے -اس کے بعد جو شرکاء کا حصّہ ہے وہ خدا تک نہیں جاسکتا ہے .اور جو خدا کا حصہّ ہے وہ ان کے شریکوں تک پہنچ سکتا ہے.کس قدر بدترین فیصلہ ہے جو یہ لوگ کررہے ہیں
وَكَذٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِيُرْدُوْهُمْ وَلِيَلْبِسُوْا عَلَيْهِمْ دِيْنَهُمْ‌ ۚ وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ ‌ؕ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُوْنَ‏(137)
(137) اور اسی طرح ان شریکوں نے بہت سے مشرکین کے لئے اولاد کے قتل کو بھی آراستہ کردیا ہے تاکہ ان کو تباہ و برباد کردیں اور ان پر دین کو مشتبہ کردیں حالانکہ خدا اس کے خلاف چاہ لیتا تو یہ کچھ نہیں کرسکتے تھے لہذا آپ ان کو ان کی افترا پردازیوں پر چھوڑ دیں اور پریشان نہ ہوں
وَقَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌ ‌ۖ لَّا يَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَاَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَاَنْعَامٌ لَّا يَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهَا افْتِرَآءً عَلَيْهِ ‌ؕ سَيَجْزِيْهِمْ بِمَا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ‏(138)
(138) اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ جانور اور کھیتی اچھوتی ہے اسے ان کے خیالات کے مطابق وہی کھاسکتے ہیں جن کے بارے میں وہ چاہیں گے اور کچھ چوپائے ہیں جن کی پیٹھ حرام ہے اور کچھ چوپائے جن کو ذبح کرتے وقت نام خدا بھی نہیں لیا گیا اور سب کی نسبت خدا کی طرف دے رکھی ہے عنقریب ان تمام بہتانوں کا بدلہ انہیں دیا جائے گا
وَقَالُوْا مَا فِىْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلٰٓى اَزْوَاجِنَا ‌ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مَّيْتَةً فَهُمْ فِيْهِ شُرَكَآءُ ‌ؕ سَيَجْزِيْهِمْ وَصْفَهُمْ‌ ؕ اِنَّهٗ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ‏(139)
(139) اور کہتے ہیں کہ ان چوپاؤں کے پیٹ میں جو بچے ّہیں وہ صرف ہمارے مردوں کے لئے ہیں اور عورتوں پر حرام ہیں -ہاں اگر مردار ہوں تو سب شریک ہوں گے ,عنقریب خدا ان بیانات کا بدلہ دے گا کہ وہ صاحب حکمت بھی ہے اور سب کا جاننے والا بھی ہے
قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّحَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ‌ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَمَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَ‏(140)
(140) یقینا وہ لوگ خسارہ میں ہیں جنہوں نے حماقت میں بغیر جانے بوجھے اپنی اولاد کو قتل کردیا اور جو رزق خدا نے انہیں دیا ہے اسے اسی پر بہتان لگا کر اپنے اوپر حرام کرلیا -یہ سب بہک گئے ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں
وَهُوَ الَّذِىْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّغَيْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَالزَّيْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ‌ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَاٰتُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ‌ ‌ۖ وَلَا تُسْرِفُوْا‌ ؕ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ‏(141)
(141) وہ خدا وہ ہے جس نے تختوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور اس کے خلاف بھی ہر طرح کے باغات پیدا کئے ہیں اور کھجور اور زراعت پیدا کی ہے جس کے مزے مختلف ہیں اور زیتون اورانار بھی پیدا کئے ہیں جن میں بعض آپس میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور بعض مختلف ہیں -تم سب ان کے پھلوں کو جب وہ تیار ہوجائیں تو کھاؤ اور جب کاٹنے کا دن آئے تو ان کا حق ادا کردو اور خبردار اسراف نہ کرنا کہ خدا اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے
وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّفَرْشًا‌ ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ‌ ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ ۙ‏(142)
(142) اور چوپاؤں میں بعض بوجھ اٹھانے والے اور بعض زمین سے لگ کر چلنے والے ہیں -تم سب خدا کے دئیے ہوئے رزق کو کھاؤ اور شیطانی قدموں کی پیروی نہ کرو کہ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے
ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ‌ ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ‌ ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَيَيْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَيَيْنِ‌ ؕ نَبِّئُوْنِىْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۙ‏(143)
(143) آٹھ قسم کے جوڑے ہیں -بھیڑ کے دو اور بکری کے دو -ان سے کہئے خدا نے ان دونوں کے نر حرام کئے ہیں یا مادہ یا وہ بچے جو ان کی مادہ کے پیٹ میں پائے جاتے ہیں -ذرا تم لوگ اس بارے میں ہمیں بھی خبردو اگر اپنے دعویٰ میں سچے ہو
وَمِنَ الْاِبِلِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ‌ ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَيَيْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَيَيْنِ‌ ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰٮكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا‌ ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّيُضِلَّ النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ‏(144)
(144) اور اونٹ میں سے دو اور گائے میں سے دو .... ان سے کہیے کہ خدا نے نروں کو حرام قرار دیا ہے یا مادینوں کو یا ان کو جو مادیوں کے شکم میں ہیں .... کیا تم لوگ اس وقت حاضر تھے جب خدا ان کو حرام کرنے کی وصیت کررہا تھا -پھر اس سے بڑا ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹا الزام لگائے تاکہ لوگوں کو بغیر جانے بوجھے گمراہ کرے -یقینا اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا ہے
‌قُل لَّاۤ اَجِدُ فِىْ مَاۤ اُوْحِىَ اِلَىَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ يَّكُوْنَ مَيْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِيْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ‌‌ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ‏(145)
(145) آپ کہہ دیجئے کہ میں اپنی طرف آنے والی وحی میں کسی بھی کھانے والے کے لئے کوئی حرام نہیں پاتا مگر یہ کہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون یا سور کا گوشت ہوکہ یہ سب نجس اور گندگی ہے یا وہ نافرمانی ہو جسے غیر خد اکے نام پر ذبح کیا گیا ہو .... اس کے بعد بھی کوئی مجبور ہوجائے اور نہ سرکش ہو نہ حد سے تجاوز کرنے والا تو پروردگار بڑا بخشنے والا مہربان ہے
وَعَلَى الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِىْ ظُفُرٍ‌‌ ۚ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَايَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ‌ ؕ ذٰ لِكَ جَزَيْنٰهُمْ بِبَغْيِهِمْ‌‌ ۖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ‏(146)
(146) اور یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن والے جانور کو حرام کردیا اور گائے اور بھیڑ کی چربی کو حرام کردیا مگر جو چربی کہ پیٹھ پر ہو یا آنتوں پر ہو یا جو ہڈیوں سے لگی ہوئی ہو .... یہ ہم نے ان کو ان کی بغاوت اور سرکشی کی سزادی ہے اور ہم بالکل سچےّ ہیں
فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ‌ ۚ وَلَا يُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ‏(147)
(147) پھر اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں تو کہہ دیجئے کہ تمہارا پروردگار بڑی وسیع رحمت والا ہے لیکن اس کا عذاب مجرمین سے ٹالابھی نہیں جاسکتا ہے
سَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَلَاۤ اٰبَآؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ شَىْءٍ‌ ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا‌ ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ‏(148)
(148) عنقریب یہ مشرکین کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم مشرک ہوتے نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام قرار دیتے -اسی طرح ان سے پہلے والوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی یہاں تک کہ ہمارے عذاب کا مزہ چکھ لیا -ان سے کہہ دیجئے کہ تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو ہمیں بھی بتاؤ -تم تو صرف خیالات کا اتباع کرتے ہو اور اندازوں کی باتیں کرتے ہو
قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ‌ ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰٮكُمْ اَجْمَعِيْنَ‏(149)
(149) کہہ دیجئے کہ اللہ کے پاس منزل تک پہنچانے والی دلیلیں ہیں وہ اگر چاہتا تو جبرا تم سب کو ہدایت دے دیتا
قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِيْنَ يَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا ‌ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ‌‌ ۚ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ‏(150)
(150) کہہ دیجئے کہ ذرا اپنے گواہوں کو تو لاؤ جو گواہی دیتے ہیں کہ خدا نے اس چیز کو حرام قرار دیا ہے ...._ اس کے بعد وہ گواہی بھی دے دیں تو آپ ان کے ساتھ گواہی نہ دیجئے گا اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کیجئے گا جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے اور وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں اور اپنے پروردگار کا ہمسر قرار دیتے ہیں
قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ‌ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْئًا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا‌ ۚ وَلَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ‌ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَاِيَّاهُمْ‌ ۚ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ‌ ۚ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِىْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ‌ ؕ ذٰ لِكُمْ وَصّٰٮكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ‏(151)
(151) کہہ دیجئے کہ آؤ ہم تمہیں بتائیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا کیا حرام کیا ہے .... خبردار کسی کو اس کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا .اپنی اولاد کو غربت کی بنا پر قتل نہ کرنا کہ ہم تمہیں بھی رزق دے رہے ہیں اور انہیں بھی ... اور بدکاریوں کے قریب نہ جانا وہ ظاہری ہوں یا چھپی ہوئی اور کسی ایسے نفس کو جسے خدا نے حرام کردیا ہے قتل نہ کرنا مگر یہ کہ تمہارا کوئی حق ہو .یہ وہ باتیں ہیں جن کی خدا نے نصیحت کی ہے تاکہ تمہیں عقل آجائے
وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِىْ هِىَ اَحْسَنُ حَتّٰى يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ‌ ۚ وَاَوْفُوْا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ‌ ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا‌ ۚ وَاِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى‌‌ ۚ وَبِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا‌ ؕ ذٰ لِكُمْ وَصّٰٮكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ ۙ‏(152)
(152) اور خبردار مال یتیم کے قریب بھی نہ جانا مگر اس طریقہ سے جو بہترین طریقہ ہو یہاں تک کہ وہ توانائی کی عمر تک پہنچ جائیں اور ناپ تول میں انصاف سے پورا پورا دینا -ہم کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے ہیں اور جب بات کرو تو انصاف کے ساتھ چاہے اپنی اقرباء ہی کے خلاف کیوں نہ ہو اور عہد خدا کو پورا کرو کہ اس کی پروردگار نے تمہیں وصیت کی ہے کہ شاید تم عبرت حاصل کرسکو
وَاَنَّ هٰذَا صِرَاطِىْ مُسْتَقِيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ‌ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوْا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ‌ ؕ ذٰ لِكُمْ وَصّٰٮكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ‏(153)
(153) اور یہ ہمارا سیدھا راستہ ہے اس کا اتباع کرو اور دوسرے راستوں کے پیچھے نہ جاؤ کہ راہ خدا سے الگ ہوجاؤ گے اسی کی پروردگار نے ہدایت دی ہے کہ اس طرح شاید متقی اور پرہیز گار بن جاؤ
ثُمَّ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِىْۤ اَحْسَنَ وَتَفْصِيْلاً لِّكُلِّ شَىْءٍ وَّهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُوْنَ‏(154)
(154) اس کے بعد ہم نے موسٰی علیھ السّلام کو اچھی باتوں کی تکمیل کرنے والی کتاب دی اور اس میں ہر شے کو تفصیل سے بیان کردیا اور اسے ہدایت اور رحمت قرار دے دیا کہ شاید یہ لوگ لقائے الٰہی پر ایمان لے آئیں
وَهٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ‏(155)
(155) اور یہ کتاب جو ہم نے نازل کی ہے یہ بڑی بابرکت ہے لہذا اس کا اتباع کرو اور تقوٰی اختیار کرو کہ شاید تم پر رحم کیا جائے
اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَۙ‏(156)
(156) یہ نہ کہنے لگو کہ کتاب خدا تو ہم سے پہلے دو جماعتوں پر نازل ہوئی تھی اور ہم اس کے پڑھنے پڑھانے سے بے خبر تھے
اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ‌ ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ‌  ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَصَدَفَ عَنْهَا‌ ؕ سَنَجْزِى الَّذِيْنَ يَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰيٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يَصْدِفُوْنَ‏(157)
(157) یا یہ کہو کہ ہمارے اوپر بھی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے تو اب تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل اور ہدایت و رحمت آچکی ہے پھر اس کے بعد اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے اور ان سے اعراض کرے ...عنقریب ہم اپنی نشانیوں سے اعراض کرنے والوں پر بدترین عذاب کریں گے اور وہ ہماری آیتوں سے اعراض کرنے والے اور روکنے والے ہیں
هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۤئِكَةُ اَوْ يَاْتِىَ رَبُّكَ اَوْ يَاْتِىَ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ ؕ يَوْمَ يَاْتِىْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِىْۤ اِيْمَانِهَا خَيْرًا‌ ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ‏(158)
(158) یہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس ملائکہ آجائیں یا خود پروردگار آجائے یا اس کی بعض نشانیاں آجائیں تو جس دن اس کی بعض نشانیاں آجائیں گی اس دن جو نفس پہلے سے ایمان نہیں لایا ہے یا اس نے ایمان لانے کے بعد کوئی بھلائی نہیں کی ہے اس کے ایمان کا کوئی فائدہ نہ ہوگا تو اب کہہ دیجئے کہ تم لوگ بھی انتظار کرو اور میں بھی انتظار کررہا ہوں
اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِىْ شَىْءٍ‌ ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ‏(159)
(159) جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ان سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے -ان کا معاملہ خدا کے حوالے ہے پھر وہ انہیں ان کے اعمال کے بارے میں باخبر کرے گا
مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا‌ ۚ وَمَنْ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزٰٓى اِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ‏(160)
(160) جو شخص بھی نیکی کرے گا اسے دس گنا اجر ملے گا اور جو برائی کرے گا اسے صرف اتنی ہی سزا ملے گی اور کوئی ظلم نہ کیا جائے گا
قُلْ اِنَّنِىْ هَدٰٮنِىْ رَبِّىْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍۚ دِيْنًا قِيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا‌ ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ‏(161)
(161) آپ کہہ دیجئے کہ میرے پروردگار نے مجھے سیدھے راستے کی ہدایت دے دی ہے جو ایک مضبوط دین اور باطل سے اعراض کرنے والے ابراہیم علیھ السّلام کا مذہب ہے اور وہ مشرکین میں سے ہرگز نہیں تھے
قُلْ اِنَّ صَلَاتِىْ وَنُسُكِىْ وَ مَحْيَاىَ وَمَمَاتِىْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَۙ‏(162)
(162) کہہ دیجئے کہ میری نماز ,میری عبادتیں ,میری زندگی ,میری موت سب اللہ کے لئے ہے جو عالمین کا پالنے والا ہے
لَا شَرِيْكَ لَهٗ‌ۚ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ‏(163)
(163) اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں
قُلْ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِىْ رَبًّا وَّهُوَ رَبُّ كُلِّ شَىْءٍ‌ ؕ وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَيْهَا‌ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى‌ ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ‏(164)
(164) کہہ دیجئے کہ کیا میں خدا کے علاوہ کوئی اور رب تلاش کروں جب کہ وہی ہر شے کا پالنے والا ہے اور جو نفس جو کچھ کرے گا اس کا وبال اسی کی ذمہ ہوگا اور کوئی نفس دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا -اس کے بعد تم سب کی بازگشت تمہارے پروردگار کی طرف ہے پھر وہ بتائے گا کہ تم کس چیز میں اختلاف کررہے تھے
وَهُوَ الَّذِىْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِىْ مَاۤ اٰتٰٮكُمْ‌ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِيْعُ الْعِقَابِ  ۖ وَاِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ‏(165)
(165) وہی وہ خدا ہے جس نے تم کو زمین میں نائب بنایا اور بعض کے درجات کو بعض سے بلند کیا تاکہ تمہیں اپنے دئیے ہوئے سے آزمائے -تمہارا پروردگار بہت جلد حساب کرنے والا ہے اور وہ بیشک بہت بخشنے والا مہربان ہے
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الۤمّۤصۤ‏(1)
(1) الۤمۤصۤ
كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِىْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ‏(2)
(2) یہ کتاب آپ کی طرف نازل کی گئی ہے لہذا آپ اس کی طرف سے کسی تنگی کا شکار نہ ہوں اور اس کے ذریعہ لوگوں کو ڈرائیں یہ کتاب صاحبانِ ایمان کے لئے مکمل یاددہانی ہے
اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَ‌ ؕ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ‏(3)
(3) لوگوتم اس کا اتباع کرو جو تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے اور اس کے علاوہ دوسرے سرپرستوں کا اتباع نہ کرو ,تم بہت کم نصیحت مانتے ہو
وَكَمْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَيَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ‏(4)
(4) اور کتنے قرئیے ہیں جنہیں ہم نے برباد کردیا اور ان کے پاس ہمارا عذاب اس وقت آیا جب وہ رات میں سورہے تھے یا دن میں قیلولہ کررہے تھے
فَمَا كَانَ دَعْوٰٮهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيْنَ‏(5)
(5) پھر ہمارا عذاب آنے کے بعد ان کی پکار صرف یہ تھی کہ یقینا ہم لوگ ظالم تھے
فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ وَلَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ ۙ‏(6)
(6) پس اب ہم ان لوگوں سے بھی سوال کریں گے اور ان کے رسولوں سے بھی سوال کریں گے
فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِمْ بِعِلْمٍ وَّمَا كُنَّا غَآئِبِيْنَ‏(7)
(7) پھر ان سے ساری داستان علم و اطلاع کے ساتھ بیان کریں گے اور ہم خود بھی غائب تو تھے نہیں
وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذِ ۟الْحَقُّ‌ ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰۤئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ‏(8)
(8) آج کے دن اعمال کا وزن ایک برحق شے ہے پھر جس کے نیک اعمال کا پّلہ بھاری ہوگا وہی لوگ نجات پانے والے ہیں
وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰۤئِكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَظْلِمُوْنَ‏(9)
(9) اور جن کا پّلہ ہلکا ہوگیا یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے نفس کو خسارہ میں رکھا کہ وہ ہماری آیتوں پر ظلم کررہے تھے
وَلَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِى الْاَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيْهَا مَعَايِشَ ؕ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ‏(10)
(10) یقینا ہم نے تم کو زمین میں اختیار دیا اور تمہارے لئے سامان زندگی قرار دئیے مگر تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو
وَلَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰۤئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ‌ ۖ  فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِيْسَؕ لَمْ يَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِيْنَ‏(11)
(11) اور ہم نے تم سب کو پیدا کیا پھر تمہاری صورتیں مقرر کیں -اس کے بعد ملائکہ کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں تو سب نے سجدہ کرلیا صرف ابلیس نے انکار کردیا اور وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہیں ہوا
‌قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ‌ ؕ قَالَ اَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ‌ ۚ خَلَقْتَنِىْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَهٗ مِنْ طِيْنٍ‏(12)
(12) ارشاد ہوا کہ تجھے کس چیز نے روکا تھا کہ تونے میرے حکم کے بعد بھی سجدہ نہیں کیا -اس نے کہا کہ میں ان سے بہتر ہوں -تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور انہیں خاک سے بنایا ہے
قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِيْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِيْنَ‏(13)
(13) فرمایا تو یہاں سے اتر جا تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں غرور سے کام لے -نکل جا کہ تو ذلیل لوگوں میں ہے
قَالَ اَنْظِرْنِىْۤ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ‏(14)
(14) اس نے کہا کہ پھر مجھے قیامت تک کی مہلت دے دے
قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِيْنَ‏(15)
(15) ارشاد ہوا کہ تو مہلت والوں میں سے ہے
قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَيْتَنِىْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيْمَۙ‏(16)
(16) اس نے کہا کہ پس جس طرح تو نے مجھے گمراہ کیا ہے میں تیرے سیدھے راستہ پر بیٹھ جاؤں گا
ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ اَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَآئِلِهِمْ‌ؕ وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِيْنَ‏(17)
(17) اس کے بعد سامنے ,پیچھے اور داہنے بائیں سے آؤں گا اور تو اکثریت کو شکر گزار نہ پائے گا
قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا ‌ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِيْنَ‏(18)
(18) فرمایا کہ یہاں سے نکل جا تو ذلیل اور مردود ہے اب جو بھی تیرا اتباع کرے گا میں تم سب سے جہّنم کو بھردوں گا
وَيٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِيْنَ‏(19)
(19) اور اے آدم علیھ السّلام تم اور تمہاری زوجہ دونوں جنّت میں داخل ہوجاؤ اور جہاں جو چاہو کھاؤ لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا کہ ظلم کرنے والوں میں شمار ہوجاؤ گے
فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطٰنُ لِيُبْدِىَ لَهُمَا مَا وٗرِىَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهٰٮكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَيْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِيْنَ‏(20)
(20) پھر شیطان نے ان دونوں میں وسوسہ پیدا کرایا کہ جن شرم کے مقامات کو چھپا رکھا ہے وہ نمایاں ہوجائیں اور کہنے لگا کہ تمہارے پروردگار نے تمہیں اس درخت سے صرف اس لئے روکا ہے کہ تم فرشتے ہوجاؤ گے یا تم ہمیشہ رہنے والو میں سے ہوجاؤ گے
وَقَاسَمَهُمَاۤ اِنِّىْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيْنَۙ‏(21)
(21) اور دونوں سے قسم کھائی کہ میں تمہیں نصیحت کرنے والوں میں ہوں
فَدَلّٰٮهُمَا بِغُرُوْرٍ‌ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْءٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ‌ ؕ وَنَادٰٮهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَاَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ‏(22)
(22) پھر انہیں دھوکہ کے ذریعہ درخت کی طرف جھکا دیا اور جیسے ہی ان دونوں نے چکّھا شرمگاہیں کھلنے لگیں اور انہوں نے درختوں کے پتے جوڑ کر شرمگاہوں کو چھپانا شروع کردیا تو ان کے رب نے آواز دی کہ کیا ہم نے تم دونوں کو اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور کیا ہم نے تمہیں نہیں بتایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ‏(23)
(23) ان دونوں نے کہا کہ پروردگار ہم نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے اب اگر تو معاف نہ کرے گا اور رحم نہ کرے گا تو ہم خسارہ اٹھانے والوں میں ہوجائیں گے
قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ‌ ۚ وَلَكُمْ فِى الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ‏(24)
(24) ارشاد ہوا کہ تم سب زمین میں اتر جاؤ اور سب ایک دوسرے کے دشمن ہو -زمین میں تمہارے لئے ایک مّدت تک ٹھکانا اور سامان زندگانی ہے
قَالَ فِيْهَا تَحْيَوْنَ وَفِيْهَا تَمُوْتُوْنَ وَمِنْهَا تُخْرَجُوْنَ‏(25)
(25) فرمایا کہ وہیں تمہیں جینا ہے اور وہیں مرنا ہے اور پھر اسی زمین سے نکالے جاؤ گے
يٰبَنِىْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِىْ سَوْاٰتِكُمْ وَرِيْشًا‌ ؕ وَلِبَاسُ التَّقْوٰى ۙ ذٰ لِكَ خَيْرٌ‌ ؕ ذٰ لِكَ مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ‏(26)
(26) اے اولادُ آدم ہم نے تمہارے لئے لباس نازل کیا ہے جس سے اپنی شرمگاہوں کا پردہ کرو اور زینت کا لباس بھی دیا ہے لیکن تقوٰی کا لباس سب سے بہتر ہے یہ بات آیات الٰہیٰہ میں ہے کہ شاید وہ لوگ عبرت حاصل کرسکیں
يٰبَنِىْۤ اٰدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَيْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ يَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْءاٰتِهِمَا ؕ اِنَّهٗ يَرٰٮكُمْ هُوَ وَقَبِيْلُهٗ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ‌ ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّيٰطِيْنَ اَوْلِيَآءَ لِلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ‏(27)
(27) اے اولاد آدم خبردار شیطان تمہیں بھی نہ بہکادے جس طرح تمہارے ماں باپ کو جنّت سے نکال لیا اس عالم میں کہ ان کے لباس الگ کرادئیے تاکہ شرمگاہیں ظاہر ہوجائیں -وہ اور اس کے قبیلہ والے تمہیں دیکھ رہے ہیں اس طرح کہ تم انہیں نہیں دیکھ رہے ہو بیشک ہم نے شیاطین کو بے ایمان انسانوں کا دوست بنادیا ہے
وَاِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَيْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَاللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا‌ ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ‌ ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ‏(28)
(28) اور یہ لوگ جب کوئی براکام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے آباؤ اجداد کو اسی طریقہ پر پایا ہے اور اللہ نے یہی حکم دیا ہے -آپ فرمادیجئے کہ خدا بری بات کا حکم دے ہی نہیں سکتا ہے کیا تم خدا کے خلاف وہ کہہ رہے ہو جو جانتے بھی نہیں ہو
قُلْ اَمَرَ رَبِّىْ بِالْقِسْطِ‌ وَاَقِيْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّادْعُوْهُ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ   ؕ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ‏(29)
(29) کہہ دیجئے کہ میرے پروردگار نے انصاف کا حکم دیا ہے اور تم سب ہر نماز کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھا کرو اور خدا کو خالص دین کے ساتھ پکارو اس نے جس طرح تمہاری ابتدا کی ہے اسی طرح تم پلٹ کر بھی جاؤ گے
فَرِيْقًا هَدٰى وَ فَرِيْقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلٰلَةُ ‌ ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيٰطِيْنَ اَوْلِيَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ‏(30)
(30) اس نے ایک گروہ کو ہدایت دی ہے اور ایک پر گمراہی مسلط ہوگئی ہے کہ انہوں نے شیاطین کو اپنا ولی بنالیا ہے اور خدا کو نظر انداز کردیا ہے اور پھر ان کا خیال ہے کہ وہ ہدایت یافتہ بھی ہیں
يٰبَنِىْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا‌ ۚ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ‏(31)
(31) اے اولاد آدم ہر نماز کے وقت اور ہر مسجد کے پاس زینت ساتھ رکھو اور کھاؤ پیو مگر اسراف نہ کرو کہ خدا اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَةَ اللّٰهِ الَّتِىْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ‌ؕ قُلْ هِىَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِى الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ‌ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ‏(32)
(32) پیغمبر آپ پوچھئے کہ کس نے اس زینت کو جس کو خدا نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے اور پاکیزہ رزق کو حرام کردیا ہے ... اور بتائیے کہ یہ چیزیں روزِ قیامت صرف ان لوگوں کے لئے ہیں جو زندگانی دنیا میں ایمان لائے ہیں .ہم اسی طرح صاحبان علم کے لئے مفصل آیات بیان کرتے ہیں
قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّىَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَالْبَغْىَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ‏(33)
(33) کہہ دیجئے کہ ہمارے پروردگار نے صرف بدکاریوں کو حرام کیا ہے چاہے وہ ظاہری ہوں یا باطنی .... اور گناہ اور ناحق ظلم اور بلادلیل کسی چیز کو خدا کا شریک بنانے اور بلاجانے بوجھے کسی بات کو خدا کی طرف منسوب کرنے کو حرام قرار دیا ہے
وَلِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ‌ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا يَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً‌ وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ‏(34)
(34) ہر قوم کے لئے ایک وقت مقر ّر ہے جب وہ وقت آجائے گا تو ایک گھڑی کے لئے نہ پیچھے ٹل سکتا ہے اور نہ آگے بڑھ سکتا ہے
يٰبَنِىْۤ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِىْ‌ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ‏(35)
(35) اے اولاد آدم جب بھی تم میں سے ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آئیں گے اور ہماری آیتوں کو بیان کریں گے تو جو بھی تقوی ٰ اختیار کرے گا اور اپنی اصلاح کرلے گا اس کے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ رنجیدہ ہوگا
وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰۤئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ‌ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ‏(36)
(36) اور جن لوگوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی اور اکڑ گئے وہ سب جہّنمی ہیں اور اسی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ ؕ اُولٰۤئِكَ يَنَالُهُمْ نَصِيْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ‌ؕ حَتّٰٓى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ ۙ قَالُوْۤا اَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ‌ ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَشَهِدُوْا عَلٰٓى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِيْنَ‏(37)
(37) اس سے بڑا ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹا الزام لگائے یا اس کی آیات کی تکذیب کرے -ان لوگوں کو ان کی قسمت کا لکھا ملتا رہے گا یہاں تک کہ جب ہمارے نمائندے فرشتے مّدت حیات پوری کرنے کے لئے آئیں گے تو پوچھیں گے کہ وہ سب کہاں ہیں جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے وہ لوگ کہیں گے کہ وہ سب تو گم ہوگئے اور اس طرح اپنے خلاف خود بھی گواہی دیں گے کہ وہ لوگ کافر تھے
قَالَ ادْخُلُوْا فِىْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِى النَّارِ‌ ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا‌ ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا ۙ قَالَتْ اُخْرٰٮهُمْ لِاُوْلٰٮهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَۤاءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ‌  ؕ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ‏(38)
(38) ارشاد ہوگا کہ تم سے پہلے جو جن و انس کی مجرم جماعتیں گزر چکی ہیں تم بھی انہی کے ساتھ جہّنم میں داخل ہوجاؤ-حالت یہ ہوگی کہ ہر داخل ہونے والی جماعت دوسری پر لعنت کرے گی اور جب سب اکٹھا ہوجائیں گے تو بعد والے پہلے والوں کے بارے میں کہیں گے کہ پروردگار ا ن ہی نے ہمیں گمراہ کیا ہے لہٰذا ان کے عذاب کو دوگنا کردے -ارشاد ہوگا کہ سب کا عذاب دوگنا ہے صرف تمہیں معلوم نہیں ہے
وَقَالَتْ اُوْلٰٮهُمْ لِاُخْرٰٮهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ‏(39)
(39) پھر پہلے والے بعد والوں سے کہیں گے کہ تمہیں ہمارے اوپر کوئی فضیلت نہیں ہے لہذا اپنے کئے کا عذاب چکھو
اِنَّ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَلَا يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى يَلِجَ الْجَمَلُ فِىْ سَمِّ الْخِيَاطِ‌ ؕ وَكَذٰلِكَ نَجْزِى الْمُجْرِمِيْنَ‏(40)
(40) بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی اور غرور سے کام لیا ان کے لئے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنّت میں داخل ہوسکیں گے جب تک اونٹ سوئی کے ناکہ کے اندر داخل نہ ہوجائے اور ہم اسی طرح مجرمین کو سزا دیا کرتے ہیں
لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ‌ ؕ وَكَذٰلِكَ نَجْزِى الظّٰلِمِيْنَ‏(41)
(41) ان کے لئے جہّنم ہی کا فرش ہوگا اور ان کے اوپر اسی کا اوڑھنا بھی ہوگا اور ہم اسی طرح ظالموں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا کرتے ہیں
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ  اُولٰۤئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ‌ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ‏(42)
(42) اور جن لوگوں نے ایمان اختیار کیا اور نیک اعمال کئے ہم کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے وہی لوگ جنّتی ہیں اور اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں
وَنَزَعْنَا مَا فِىْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ‌ۚ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ هَدٰٮنَا لِهٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِىَ لَوْلَاۤ اَنْ هَدٰٮنَا اللّٰهُ‌ ‌ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ‌ ؕ وَنُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ‏(43)
(43) اور ہم نے ان کے سینوں سے ہر کینہ کو الگ کردیا. ان کے قدموں میں نہریں جاری ہوں گی اور وہ کہیں گے کہ شُکر ہے پروردگار کا کہ اس نے ہمیں یہاں تک آنے کا راستہ بتادیا ورنہ اس کی ہدایت نہ ہوتی تو ہم یہاں تک آنے کا راستہ بھی نہیں پاسکتے تھے -بیشک ہمارے رسول سب دینِ حق لے کر آئے تھے تو پھر انہیں آواز دی جائے گی کہ یہ وہ جّنت ہے جس کا تمہیں تمہارے اعمال کی بنا پر وارث بنایا گیا ہے
وَنَادٰٓى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا‌ ؕ قَالُوْا نَعَمْ‌ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيْنَۙ‏(44)
(44) اور جنّتی لوگ جہّنمیوں سے پکار کر کہیں گے کہ جو کچھ ہمارے پروردگار نے ہم سے وعدہ کیا تھا وہ ہم نے تو پالیا کیا تم نے بھی حسب وعدہ حاصل کرلیا ہے وہ کہیں گے بیشک .پھر ایک منادی آواز دے گا کہ ظالمین پر خدا کی لعنت ہے
الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَيَبْغُوْنَهَا عِوَجًا‌ ۚ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَ‌ۘ‏(45)
(45) جو راہ خدا سے روکتے تھے اور اس میں کجی پیدا کیا کرتے تھے اور آخرت کے منکر تھے
وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ‌ۚ وَعَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّاۢ بِسِيْمٰٮهُمْ‌ ۚ وَنَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ‌ لَمْ يَدْخُلُوْهَا وَهُمْ يَطْمَعُوْنَ‏(46)
(46) اور ان کے درمیان پردہ ڈال دیا جائے گا اور اعراف پر کچھ لوگ ہوں گے جو سب کو ان کی نشانیوں سے پہچان لیں گے اور اصحابِ جنّت کو آواز دیں گے کہ تم پر ہمارا سلام -وہ جنّت میں داخل نہ ہوئے ہوں گے لیکن اس کی خواہش رکھتے ہوں گے
وَاِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ‏(47)
(47) اور پھر جب ان کی نظر جہّنم والوں کی طرف مڑ جائے گی تو کہیں گے کہ پروردگار ہم کو ان ظالمین کے ساتھ نہ قرار دینا
وَنَادٰٓى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا يَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِيْمٰٮهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ‏(48)
(48) اور اعراف والے ان لوگوں کو جنہیں وہ نشانیوں سے پہچانتے ہوں گے آواز دیں گے کہ آج نہ تمہاری جماعت کام آئی اور نہ تمہارا غرور کام آیا
اَهٰٓؤُلَۤاءِ الَّذِيْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ ‌ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ‏(49)
(49) کیا یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ انہیں رحمت خدا حاصل نہ ہوگی جن سے ہم نے کہہ دیا ہے کہ جاؤ جنّت میں چلے جاؤ تمہارے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ کوئی حزن
وَنَادٰٓى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِيْضُوْا عَلَيْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ‌ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِيْنَ ۙ‏(50)
(50) اور جہّنم والے جنّت والوں سے پکار کر کہیں گے کہ ذرا ٹھنڈا پانی یا خدا نے جو رزق تمہیں دیا ہے اس میں سے ہمیں بھی پہنچاؤ تو وہ لوگ جواب دیں گے کہ ان چیزوں کو اللہ نے کافروں پر حرام کردیا ہے
الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ لَهْوًا وَّلَعِبًا وَّغَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا‌‌ ۚ فَالْيَوْمَ نَنْسٰٮهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ يَوْمِهِمْ هٰذَا ۙ وَمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ‏(51)
(51) جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ بنالیا تھا اور انہیں زندگانی دنیا نے دھوکہ دے دیا تھا تو آج ہم انہیں اسی طرح بھلادیں گے جس طرح انہوں نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلادیا تھا اور ہماری آیات کا دیدہ و دانستہ انکار کررہے تھے
وَلَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ‏(52)
(52) ہم ان کے پاس ایسی کتاب لے آئے ہیں جسے علم و اطلاع کے ساتھ مفصل بیان کیا ہے اور وہ صاحبانِ ایمان کے لئے ہدایت اور رحمت ہے
هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِيْلَهٗ‌ؕ يَوْمَ يَاْتِىْ تَاْوِيْلُهٗ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ‌ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِىْ كُنَّا نَعْمَلُ‌ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ‏(53)
(53) کیا یہ لوگ صرف انجام کار کا انتظار کررہے ہیں تو جس دن انجام سامنے آجائے گا تو جو لوگ پہلے سے اسے بھولے ہوئے تھے وہ کہنے لگیں گے کہ بیشک ہمارے پروردگار کے رسول صحیح ہی پیغام لائے تھے تو کیا ہمارے لئے بھی شفیع ہیں جو ہماری سفارش کریں یا ہمیں واپس کردیا جائے تو ہم جو اعمال کرتے تھے اس کے علاوہ دوسرے قسم کے اعمال کریں -درحقیقت ان لوگوں نے اپنے کو خسارہ میں ڈال دیا ہے اور ان کی ساری افترا پردازیاں غائب ہوگئی ہیں
اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِىْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِىْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا ۙ وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمْرِهٖ ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ‌ ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ‏(54)
(54) بیشک تمہارا پروردگار وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا ہے اور اس کے بعد عرش پر اپنا اقتدار قائم کیا ہے وہ رات کو دن پر ڈھانپ دیتاہے اور رات تیزی سے اس کے پیچھے دوڑا کرتی ہے اور آفتاب و ماہتاب اور ستارے سب اسی کے حکم کے تابع ہیں اسی کے لئے خلق بھی ہے اور امر بھی وہ نہایت ہی صاحب برکت اللہ ہے جو عالمین کا پالنے والا ہے
اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً‌ ؕ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ‌ ۚ‏(55)
(55) تم اپنے رب کو گڑگڑا کراور خاموشی کے ساتھ پکارو کہ وہ زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے
وَلَا تُفْسِدُوْا فِى الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَادْعُوْهُ خَوْفًا وَّطَمَعًا‌ ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ‏(56)
(56) اور خبردار زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہ پیدا کرنا اور خدا سے ڈرتے ڈرتے اور امیدوار بن کر دعا کرو کہ اس کی رحمت صاحبان حسن و عمل سے قریب تر ہے
وَهُوَ الَّذِىْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَىْ رَحْمَتِهٖ ‌ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ‌ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ‏(57)
(57) وہ خدا وہ ہے جو ہواؤں کو رحمت کی بشارت بناکر بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب ہوائیں وزنی بادلوں کو اٹھالیتی ہیں تو ہم ان کو مردہ شہروں کو زندہ کرنے کے لئے لے جاتے ہیں اور پھر پانی برسادیتے ہیں اور اس کے ذریعہ مختلف پھل پیدا کردیتے ہیں اور اسی طرح ہم مردوں کو زندہ کردیا کرتے ہیں کہ شاید تم عبرت و نصیحت حاصل کرسکو
وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ ‌ۚ وَالَّذِىْ خَبُثَ لَا يَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا ‌ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّشْكُرُوْنَ‏(58)
(58) اور پاکیزہ زمین کا سبزہ بھی اس کے پروردگار کے حکم سے خوب نکلتا ہے اور جو زمین خبیث ہوتی ہے اس کا سبزہ بھی خراب نکلتا ہے ہم اسی طرح شکر کرنے والی قوم کے لئے اپنی آیتیں الٹ پلٹ کر بیان کرتے ہیں
لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ؕ اِنِّىْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ‏(59)
(59) یقینا ہم نے نوح علیھ السّلام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا کہ اے قوم والو اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے علاوہ تمہارا کوئی خدا نہیں ہے. میں تمہارے بارے میں عذاب عظیم سے ڈرتا ہوں
قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰٮكَ فِىْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ‏(60)
(60) تو قوم کے رؤسا ء نے جواب دیا کہ ہم تم کو کھلی ہوئی گمراہی میں دیکھ رہے ہیں
قَالَ يٰقَوْمِ لَيْسَ بِىْ ضَلٰلَةٌ وَّلٰكِنِّىْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ‏(61)
(61) نوح علیھ السّلام نے کہا کہ اے قوم مجھ میں گمراہی نہیں ہے بلکہ میں ربّ العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا نمائندہ ہوں
اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّىْ وَاَنْصَحُ لَكُمْ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ‏(62)
(62) میں تم تک اپنے پروردگار کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور تمہیں نصیحت کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے وہ سب جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ہو
اَوَعَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوْا وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ‏(63)
(63) کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم ہی میں سے سے ایک مرد پر ذکر نازل ہوجائے کہ وہ تمہیں ڈرائے اور تم متقی بن جاؤ اور شاید اس طرح قابل رحم بھی ہوجاؤ
فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَيْنٰهُ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ فِى الْفُلْكِ وَاَغْرَقْنَا الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا‌ ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِيْنَ‏(64)
(64) پھر ان لوگوں نے نوح علیھ السّلام کی تکذیب کی تو ہم نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو کشتی میں نجات دے دی اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا انہیں غرق کردیا کہ وہ سب بالکل اندھے لوگ تھے
وَاِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا‌ ؕ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ‏(65)
(65) اور ہم نے قوم عاد علیھ السّلام کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا تو انہوں نے کہا کہ اے قوم والو اللہ کی عبادت کرو اس کے علاوہ تمہارا دوسرا خدا نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں ہو
قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰٮكَ فِىْ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ‏(66)
(66) قوم میں سے کفر اختیار کرنے والے رؤسا نے کہا کہ ہم تم کو حماقت میں مبتلا دیکھ رہے ہیں اور ہمارے خیال میں تم جھوٹوں میں سے ہو
قَالَ يٰقَوْمِ لَيْسَ بِىْ سَفَاهَةٌ وَّلٰكِنِّىْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ‏(67)
(67) انہوں نے جواب دیا کہ مجھ میں حماقت نہیں ہے بلکہ میں ربّ العالمین کی طرف سے فرستادہ رسول ہوں
اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّىْ وَاَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِيْنٌ‏(68)
(68) میں تم تک اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور تمہارے لئے ایک امانتدار ناصح ہوں
اَوَعَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ‌ ؕ وَاذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ ۚ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّزَادَكُمْ فِى الْخَلْقِ بَصْۜطَةً‌‌ فَاذْكُرُوْۤا اٰ لَۤاءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ‏(69)
(69) کیا تم لوگوں کو اس بات پر تعجب ہے کہ تم تک ذکر خدا تمہارے ہی کسی آدمی کے ذریعہ آجائے تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور یاد کرو کہ تم کو اس نے قوم نوح علیھ السّلام کے بعد زمین میں جانشین بنایا ہے اور مخلوقات میں وسعت عطا کی ہے لہذا تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو کہ شاید اسی طرح فلاح اور نجات پاجاؤ
قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا‌ ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ‏(70)
(70) ان لوگوں نے کہا کہ کیا آپ یہ پیغام لائے ہیں کہ ہم صرف ایک خدا کی عبادت کریں اور جن کی ہمارے آباؤ و اجداد عبادت کرتے تھے ان سب کو چھوڑ دیں تو آپ اپنے وعدہ و عید کو لے کر آئیے اگر اپنی بات میں سچے ّہیں
قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّغَضَبٌ‌ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِىْ فِىْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّيْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ‌ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّىْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ‏(71)
(71) انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے اوپر پروردگا رکی طرف سے عذاب اور غضب طے ہوچکا ہے -کیا تم مجھ سے ان ناموں کے بارے میں جھگڑا کرتے ہو جو تم نے اور تمہارے بزرگوں نے خود طے کرلئے ہیں اور خدا نے ان کے بارے میں کوئی برہان نازل نہیں کیا ہے تو اب تم عذاب کا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں
فَاَنْجَيْنٰهُ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا‌ وَمَا كَانُوْا مُؤْمِنِيْنَ‏(72)
(72) پھر ہم نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو اپنی رحمت سے نجات دے دی اور اپنی آیات کی تکذیب کرنے والوں کی نسل منقطع کردی اور وہ لوگ ہرگز صاحبان ایمان نہیں تھے
وَاِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا‌ ۘ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ‌ ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ‌ ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰيَةً‌ فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِىْۤ اَرْضِ اللّٰهِ‌ وَلَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَ لِيْمٌ‏(73)
(73) اور ہم نے قوم ثمود علیھ السّلام کی طرف ان کے بھائی صالح علیھ السّلام کو بھیجا تو انہوں نے کہا کہ اے قوم والو اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے -تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے دلیل آچکی ہے -یہ خدائی ناقہ ہے جو تمہارے لئے اس کی نشانی ہے -اسے آزاد چھوڑ دو کہ زمینِ خدا میں کھاتا پھرے اور خبردار اسے کوئی تکلیف نہ پہنچانا کہ تم کو عذاب الیم اپنی گرفت میں لے لے
وَاذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّبَوَّاَكُمْ فِى الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّتَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُيُوْتًا‌ ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰ لَۤاءَ اللّٰهِ وَلَا تَعْثَوْا فِى الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ‏(74)
(74) اس وقت کو یاد کرو جب اس نے تم کو قوم عاد علیھ السّلام کے بعد جانشین بنایا اور زمین میں اس طرح بسایا کہ تم ہموار زمینوں میں قصر بناتے تھے اور پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر گھر بناتے تھے تو اب اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو
قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ‌ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ‏(75)
(75) تو ان کی قوم کے بڑے لوگوں نے کمزور بنادئیے جانے والے لوگوں میں سے جو ایمان لائے تھے ان سے کہنا شروع کیا کہ کیا تمہیں اس کا یقین ہے کہ صالح علیھ السّلام خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ بیشک ہمیں ان کے پیغام کا ایمان اور ایقان حاصل ہے
قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِىْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ‏(76)
(76) تو بڑے لوگوں نے جوابد یا کہ ہم تو ان باتوں کے منکر ہیں جن پر تم ایمان لانے والے ہو
فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا يٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ‏(77)
(77) پھر یہ کہہ کر ناقہ کے پاؤں کاٹ دئیے اور حکم خدا سے سرتابی کی اور کہا کہ صالح علیھ السّلام اگر تم خدا کے رسول ہو تو جس عذاب کی دھمکی دے رہے تھے اسے لے آؤ
فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِىْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ‏(78)
(78) تو انہیں زلزلہ نے اپنی گرفت میں لے لیاکہ اپنے گھر ہی میں سربہ زانو رہ گئے
فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَقَالَ يٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّىْ وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِيْنَ‏(79)
(79) تو اس کے بعد صالح علیھ السّلام نے ان سے منہ پھیر لیا اور کہا کہ اے قوم میں نے خدائی پیغام کو پہنچایا تم کو نصیحت کی مگر افسوس کہ تم نصیحت کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتے ہو
وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ‏(80)
(80) اور لوط علیھ السّلام کو یاد کرو کہ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم بدکاری کرتے ہو اس کی تو تم سے پہلے عالمین میں کوئی مثال نہیں ہے
اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ‌ ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ‏(81)
(81) تم ازراہ شہوت عورتوں کے بجائے مردوں سے تعلقات پیدا کرتے ہو اور تم یقینا اسراف اور زیادتی کرنے والے ہو
وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْيَتِكُمْ‌ ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوْنَ‏(82)
(82) اور ان کی قوم کے پاس کوئی جواب نہ تھا سوائے اس کے کہ انہوں نے لوگوں کو ابھارا کہ انہیں اپنے قریہ سے نکال باہر کرو کہ یہ بہت پاک باز بنتے ہیں
فَاَنْجَيْنٰهُ وَاَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ ‌ۖ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِيْنَ‏(83)
(83) تو ہم نے انہیں اور ان کے تمام اہل کو نجات دے دی ان کی زوجہ کے علاوہ کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی
وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا ‌ؕ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِيْنَ‏(84)
(84) ہم نے ان کے اوپر خاص قسم کے (پتھروں) کی بارش کی تو اب دیکھو کہ مجرمین کا انجام کیسا ہوتا ہے
وَاِلٰى مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا‌ ؕ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ‌ ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ‌ فَاَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَآءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوْا فِى الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا‌ ؕ ذٰ لِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ‌ ۚ‏(85)
(85) اور ہم نے قوم مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب علیھ السّلام کو بھیجا تو انہوں نے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے - تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے دلیل آچکی ہے اب ناپ تول کو پورا پورا رکھو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دو اور اصلاح کے بعد زمین میں فساد برپا نہ کرو -یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم ایمان لانے والے ہو
وَلَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَتَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَتَبْغُوْنَهَا عِوَجًا‌ ۚ وَاذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِيْلًا فَكَثَّرَكُمْ‌وَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ‏(86)
(86) اورخبردار ہر راستہ پر بیٹھ کر ایمان والوں کو ڈرانے دھمکانے اور راہ خدا سے روکنے کا کام چھوڑ دو کہ تم اس میں بھی کجی تلاش کررہے ہو اور یہ یاد کرو کہ تم بہت کم تھے خدا نے کثرت عطا کی اور یہ دیکھو کہ فساد کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے
وَاِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِىْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَطَآئِفَةٌ لَّمْ يُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى يَحْكُمَ اللّٰهُ بَيْنَنَا‌ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ‏(87)
(87) اور اگر تم میں سے ایک جماعت میرے لائے ہوئے پیغام پر ایمان لے آئی اور ایک ایمان نہیں لائی تو ٹھہرو یہاں تک کہ خدا ہمارے درمیان اپنا فیصلہ صادر کردے کہ وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے