اَللّٰهُمَّ يَا شَاهِدَ كُلِّ نَجْوٰى
خدایا اے راز کے گواہ،
وَ مَوْضِعَ كُلِّ شَكْوٰى
ہر فریاد کی منزل،
وَ عَالِمَ كُلِّ خَفِيَّةٍ
ہر پوشیدہ امر کے جاننے والے،
وَ مُنْتَهٰى كُلِّ حَاجَةٍ
ہر حاجت کی انتہا،
يَا مُبْتَدِئًا بِالنِّعَمِ عَلَى الْعِبَادِ
اے بندوں پر نعمتوں کی ابتدا کرنے والے،
يَا كَرِيْمَ الْعَفْوِ
اے بہترین درگذر کرنے والے،
يَا حَسَنَ التَّجَاوُزِ
اے عطا والے
يَا مَنْ لَا يُوَارِيْ مِنْهُ لَيْلٌ دَاجٍ
اے وہ جس سے نہ کوئی اندھیری رات،
وَ لَا بَحْرٌ عَجَّاجٌ
نہ کوئی متلاطم سمندر پوشیدہ ہے
وَ لَا سَمَاۤءٌ ذَاتُ اَبْرَاجٍ
نہ کوئی برجوں والا آسمان
وَ لَا ظُلَمٌ ذَاتُ ارْتِتَاجٍ
اور نہ کوئی انتہائی تاریک ظلمت کسی شئے کو چھپا نہیں سکتی
يَا مَنِ الظُّلْمَةُ عِنْدَهُ ضِيَاۤءٌ
اس کے سامنے ظلمت بھی روشن ہے
اَسْاَلُكَ بِنُوْرِ وَجْهِكَ الْكَرِيْمِ
میرا سوال تیری ذاتِ کریم کی نورانیت کے وسیلہ سے ہے
الَّذِيْ تَجَلَّيْتَ بِهِ لِلْجَبَلِ فَجَعَلْتَهُ دَكًّا
جس کا جلوہ کوہِ طور پر نمایاں کیا جس کی وجہ سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگیا
وَ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا
اور موسیٰؑ بے ہوش ہوگئے
وَ بِاسْمِكَ الَّذِيْ رَفَعْتَ بِهِ السَّمَاوَاتِ بِلَا عَمَدٍ
اور اس اسمِ گرامی کا واسطہ جس کے ذریعہ آسمانوں کو بغیر ستون کے بلند کردیا
وَ سَطَحْتَ بِهِ الْاَرْضَ عَلٰى وَجْهِ مَاۤءٍ جَمَدٍ
اور زمین کو پانی پر ٹھہرا دیا
وَ بِاسْمِكَ الْمَخْزُوْنِ الْمَكْنُوْنِ
پھر ان اسماء کا واسطہ جو تیرے خزانے میں مخفی اور لکھا ہوا ہے
الْمَكْتُوْبِ الطَّاهِرِ
اور وہ پاکیزہ نام ہے
الَّذِيْۤ اِذَا دُعِيْتَ بِهِ اَجَبْتَ
کہ جس کے ذریعہ تجھے پکارا جاتا ہے تو قبول کرلیتا ہے
وَ اِذَا سُئِلْتَ بِهِ اَعْطَيْتَ
اور مانگا جائے تو تو عطا کردیتا ہے۔
وَ بِاسْمِكَ السُّبُّوْحِ الْقُدُّوْسِ الْبُرْهَانِ
تیرے اس پاکیزہ نام کا واسطہ جو خود ایک برہان ہے
الَّذِيْ هُوَ نُوْرٌ عَلٰى كُلِّ نُوْرٍ
اور ہر نور پر اس سے بالاتر نور ہے
وَ نُوْرٌ مِنْ نُوْرٍ
اور ہر نور کا نور ہے
يُضِيْۤءُ مِنْهُ كُلُّ نُوْرٍ
جس سے ہر نور میں نورانیت ہے۔
اِذَا بَلَغَ الْاَرْضَ انْشَقَّتْ
وہ نور زمین تک پہنچ جائے تو شق ہوجائے
وَ اِذَا بَلَغَ السَّمَاوَاتِ فُتِحَتْ
اور اگر آسمان تک پہنچ جائے تو اس کے دروازے کھل جائیں
وَ اِذَا بَلَغَ الْعَرْشَ اهْتَزَّ
عرش تک پہنچ جائے تو لرز جائے
وَ بِاسْمِكَ الَّذِيْ تَرْتَعِدُ مِنْهُ فَرَاۤئِصُ مَلَاۤئِكَتِكَ
اور تیرے اس نام کا واسطہ کہ جس سے ملائکہ کے جوڑ بند ہلتے اور لرزتے ہیں۔
وَ اَسْاَلُكَ بِحَقِّ جَبْرَئِيْلَ وَ مِيْكَاۤئِيْلَ وَ اِسْرَافِيْلَ
خدایا میرا سوال جبرئیل، میکائیل، اسرافیل
وَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ ۟اِلْمُصْطَفٰى
اور حضرت محمد مصطفیٰؐ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ
حق کے واسطہ سے جن پر تیری رحمت ہے
وَ عَلٰى جَمِيْعِ الْاَنْبِيَاۤءِ وَ جَمِيْعِ الْمَلَاۤئِكَةِ
اور تیری رحمت تمام انبیاء اور تمام ملائکہ پر ہے
وَ بِالْاِسْمِ الَّذِيْ مَشٰى بِهِ الْخِضْرُ عَلٰى قُلَلِ الْمَاۤءِ
اس نام کا واسطہ کہ جس کے ذریعہ خضر دریاؤں کی بلندیوں پر
كَمَا مَشٰى بِهِ عَلٰى جَدَدِ الْاَرْضِ
یوں چلتے تھے جیسے ہموار زمین پر چلتے تھے۔
وَ بِاسْمِكَ الَّذِيْ فَلَقْتَ بِهِ الْبَحْرَ لِمُوْسٰى
اس نام کا واسطہ کہ جس کے ذریعہ سے موسیٰؑ کے لیے دریا کو شگافتہ کیا۔
وَ اَغْرَقْتَ فِرْعَوْنَ وَ قَوْمَهُ
فرعون اور اس کے ساتھیوں کو ڈبوکر
وَ اَنْجَيْتَ بِهِ مُوْسَى بْنَ عِمْرَانَ وَ مَنْ مَعَهُ
موسیٰؑ اور ان کے ساتھیوں کو بچالیا۔
وَ بِاسْمِكَ الَّذِيْ دَعَاكَ بِهِ مُوْسَى بْنُ عِمْرَانَ
تیرے اس نام کا واسطہ کہ جس کے ذریعہ سے موسیٰ ابن عمران نے
مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَيْمَنِ،
کوہِ طور کے ایک گوشہ کی طرف سے دعا کی
فَاسْتَجَبْتَ لَهُ وَ اَلْقَيْتَ عَلَيْهِ
تو تو نے ان کی دعا کو قبول کرلیا
مَحَبَّةً مِنْكَ
اور انھیں اپنی محبّت عطا فرمادی۔
وَ بِاسْمِكَ الَّذِيْ بِهِ اَحْيَا عِيْسَى بْنُ مَرْيَمَ الْمَوْتٰى
تیرے اس نام کا واسطہ کہ جس کے ذریعہ عیسیٰؑ ابن مریم نے مُردوں کو زندہ کیا
وَ تَكَلَّمَ فِيْ الْمَهْدِ صَبِيًّا
اور گہوارے میں گفتگو کی
وَ اَبْرَاَ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِكَ
ہر طرح کے اندھے اور مبروص کو تیرے اذن سے شفا دی۔
وَ بِاسْمِكَ الَّذِيْ دَعَاكَ بِهِ حَمَلَةُ عَرْشِكَ
تیرے اس نام کا واسطہ جس کے ذریعہ حاملانِ عرش
وَ جَبْرَئِيْلُ وَ مِيْكَاۤئِيْلُ وَ اِسْرَافِيْلُ
جبرئیل و میکائیل و اسرافیل
وَ حَبِيْبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ
اور تیرے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ
وَ مَلَاۤئِكَتُكَ الْمُقَرَّبُوْنَ
اور تیرے ملائکہ مقرّبین
وَ اَنْبِيَاۤؤُكَ الْمُرْسَلُوْنَ
اور انبیاء و مرسلین
وَ عِبَادُكَ الصَّالِحُوْنَ مِنْ اَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَ الْاَرَضِيْنَ
اور زمین و آسمان کے نیک بندوں نے تجھ سے دعا کی ہے۔
وَ بِاسْمِكَ الَّذِيْ دَعَاكَ بِهِ ذُوْ النُّوْنِ
تیرے اس نام کا واسطہ جس کے ذریعہ یونس نے اس وقت دعا کی
اِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَنْ نَقْدِرَ [تَقْدِرَ] عَلَيْهِ
جب قوم سے ناراض ہوکر چلے اور یہ خیال کیا کہ تو ان پر سختی نہیں کرے گا۔
فَنَادٰى فِي الظُّلُمَاتِ اَنْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحَانَكَ
پھر اس کے بعد تاریکیوں میں دعا کی کہ تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔ تو پاکیزہ ہے۔
اِنِّيْۤ كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِيْنَ
میں ظالموں میں ہوں اور تو نے ان کی دعا قبول کرلی
فَاسْتَجَبْتَ لَهُ وَ نَجَّيْتَهُ مِنَ الْغَمِّ
اور غم سے نجات دے دی
وَ كَذٰلِكَ تُنْجِيْ [نُنْجِيْ] الْمُؤْمِنِيْنَ
کیوں کہ تو صاحبانِ ایمان کو نجات دیتا ہے۔
وَ بِاسْمِكَ الْعَظِيْمِ الَّذِيْ دَعَاكَ بِهِ دَاوُدُ
اس اسمِ عظیم کا واسطہ کہ جس کے ذریعہ داؤدؑ نے دعا کی
وَ خَرَّ لَكَ سَاجِدًا فَغَفَرْتَ لَهُ ذَنْبَهُ،
اور سجدہ میں گر پڑے تو تو نے ان کی توبہ قبول کرلی اور ان کو معاف کردیا
وَ بِاسْمِكَ الَّذِيْ دَعَتْكَ بِهِ اٰسِيَةُ امْرَاَةُ فِرْعَوْنَ
اور تیرے اس نام کا واسطہ کہ جس کے ذریعہ فرعون کی زوجہ آسیہ نے دعا کی
اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ
اور یہ کہا کہ خدا میرے لیے جنّت میں ایک مکان بنا دے
وَ نَجِّنِيْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهِ
اور مجھ کو فرعون اور اس کے کاروبار سے نجات دے دے
وَ نَجِّنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِيْنَ
اور اس ظالم قوم سے مجھ کو بچا لے۔
فَاسْتَجَبْتَ لَهَا دُعَاۤءَهَا
تو تو نے ان کی دعا قبول کرلی۔
وَ بِاسْمِكَ الَّذِيْ دَعَاكَ بِهِ اَيُّوْبُ اِذْ حَلَّ بِهِ الْبَلَاۤءُ
اور تیرے اس نام کا واسطہ جس کے ذریعہ ایوبؑ نے دعا کی جب بلائیں نازل ہوگئیں
فَعَافَيْتَهُ وَ اٰتَيْتَهُ اَهْلَهُ وَ مِثْلَهُمْ مَعَهُمْ
تو تو نے عافیت اور اہل و عیال بھی عطا فرمائے
رَحْمَةً مِنْ عِنْدِكَ وَ ذِكْرٰى لِلْعَابِدِيْنَ
بلکہ اپنی رحمت سے زیادہ ہی عطا فرمایا اور ان کا ذکر عابدین میں کیا
وَ بِاسْمِكَ الَّذِيْ دَعَاكَ بِهِ يَعْقُوْبُ
اور تیرے اس نام کا واسطہ سے کہ جن کے ذریعہ سے یعقوبؑ نے دعا کی
فَرَدَدْتَ عَلَيْهِ بَصَرَهُ وَ قُرَّةَ عَيْنِهِ يُوْسُفَ وَ جَمَعْتَ شَمْلَهُ
تو تو نے ان کی بصارت کو پلٹا دیا اور ان کے نورِ نظر یوسفؑ کو ان سے ملا دیا
وَ بِاسْمِكَ الَّذِيْ دَعَاكَ بِهِ سُلَيْمَانُ
اور تیرے اس نام کا واسطہ کہ جس کے ذریعہ سے سلیمانؑ نے دعا کی
فَوَهَبْتَ لَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِيْ لِاَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ
تو تو نے ان کو ایسا ملک عطا فرمایا کہ ان کے بعد پھر کسی کو نہیں دیا
اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ
بے شک تو سب سے بہتر عطا کرنے والا ہے۔
وَ بِاسْمِكَ الَّذِيْ سَخَّرْتَ بِهِ الْبُرَاقَ لِمُحَمَّدٍ
اور تیرے اس نام کا واسطہ کہ جس کے ذریعہ حضرت محمدؐ کے لیے براق کو مسخّر کیا
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ وَ سَلَّمَ
درود و سلام ہو ان پر اور ان کی آل پر
اِذْ قَالَ تَعَالٰى سُبْحَانَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهِ لَيْلًا
جب اعلان کیا پاک ہے وہ ذات جو راتوں رات اپنے بندے کو
مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصٰى
مسجد الحرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی
وَ قَوْلُهُ: سُبْحَانَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ
اور ان کا قول کہ پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے لیے مسخر کردیا جب کہ ہم اس پر قابو پانے والے نہیں تھے۔
وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ
اور ہم سب پلٹ کر اپنے پروردگار کی بارگاہ میں جانے والے ہیں
وَ بِاسْمِكَ الَّذِيْ تَنَزَّلَ بِهِ جَبْرَئِيْلُ عَلٰى مُحَمَّدٍ
اس اسم کا واسطہ جو حضرت جبرئیلؑ حضرت محمد
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ
صلی اللہ علیہ و آلہ پر لے کر نازل ہوئے
وَ بِاسْمِكَ الَّذِيْ دَعَاكَ بِهِ اٰدَمُ
اور اس اسم کا واسطہ کہ جس کے ذریعہ حضرت آدمؑ نے دعا کی
فَغَفَرْتَ لَهُ ذَنْبَهُ وَ اَسْكَنْتَهُ جَنَّتَكَ
تو تو نے ان کی خطاؤں کو معاف کردیا اور ان کو اپنی جنّت میں ساکن کردیا
وَ اَسْاَلُكَ بِحَقِّ الْقُرْاٰنِ الْعَظِيْمِ
اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں قرآنِ عظیم کے حق کے واسطہ سے
وَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ
اور محمدؐ خاتم النبیین کے حق کے واسطہ سے
وَ بِحَقِّ اِبْرَاهِيْمَ
اور حضرت ابراہیمؑ کے حق کے واسطہ سے
وَ بِحَقِّ فَصْلِكَ يَوْمَ الْقَضَاۤءِ
اور روزِ قیامت کے فیصلوں کے حق کے واسطہ سے
وَ بِحَقِّ الْمَوَازِيْنِ اِذَا نُصِبَتْ
اور میزان کے حق کے واسطہ سے جب کہ وہ نصب کی جائے
وَ الصُّحُفِ اِذَا نُشِرَتْ
اور صحف کے واسطہ سے جب کہ وہ منتشر ہوں
وَ بِحَقِّ الْقَلَمِ وَ مَا جَرٰى
اور قلم کے واسطہ سے اور ان کی تحریروں
وَ اللَّوْحِ وَ مَاۤ اَحْصٰى
اور لوح اور اس کی احصائیات کے حق کے واسطہ سے
وَ بِحَقِّ الْاِسْمِ الَّذِيْ كَتَبْتَهُ عَلٰى سُرَادِقِ الْعَرْشِ
اور اس نام کے حق کے واسطہ سے جس کو تو نے سرادقِ عرش پر
قَبْلَ خَلْقِكَ الْخَلْقَ وَ الدُّنْيَا
اور دنیا
وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ بِاَلْفَيْ عَامٍ
اور شمس و قمر کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے لکھ دیا ہے
وَ اَشْهَدُ اَنْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے
وَحْدَهُ لَاۤ شَرِيْكَ لَهُ
وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں
وَ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ،
اور حضرت محمدؐ اس کے بندے اور رسول ہیں
وَ اَسْاَلُكَ بِاسْمِكَ الْمَخْزُوْنِ فِيْ خَزَاۤئِنِكَ
اور ان اسماء کے حوالہ سے سوال کرتا ہوں جو تیرے خزانوں میں مخفی ہیں
الَّذِيْ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِيْ عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ
جسے تیرے علاوہ
لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهِ اَحَدٌ مِنْ خَلْقِكَ
اور کوئی نہیں جانتا
لَا مَلَكٌ مُقَرَّبٌ
نہ ملک مقرّب
وَ لَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ
اور نہ نبیِ مرسل
وَ لَا عَبْدٌ مُصْطَفًى
نہ تیرا بندہ مصطفیٰ
وَ اَسْاَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِيْ شَقَقْتَ بِهِ الْبِحَارَ
اور میرا سوال تیرے اس نام کے وسیلہ سے ہے جس سے تو نے دریاؤں کو شگافتہ کیا ہے
وَ قَامَتْ بِهِ الْجِبَالُ
پہاڑوں کو قائم کیا
وَ اخْتَلَفَ بِهِ اللَّيْلُ وَ النَّهَارُ
اور شب و روز کی آمد و رفت قائم کی۔
وَ بِحَقِّ السَّبْعِ الْمَثَانِيْ وَ الْقُرْاٰنِ الْعَظِيْمِ
سورۂ حمد اور قرآنِ عظیم کا واسطہ
وَ بِحَقِّ الْكِرَامِ الْكَاتِبِيْنَ
کراماً کاتبین کے حق کا واسطہ،
وَ بِحَقِّ طٰهٰ وَ يٰسٓ وَ كٓهٰيٰعٓصٓ
طٰہٰ، یٰسٓ، کٰہٰیٰعٓصٓ کے حق کا واسطہ،
وَ حٰمٓعٓسٓقٓ
اور حٰمعٓسٓقٓ،
وَ بِحَقِّ تَوْرَاةِ مُوْسٰى
توریت موسیٰؑ
وَ اِنْجِيْلِ عِيْسٰى
و انجیلِ عیسیٰؑ
وَ زَبُوْرِ دَاوُدَ
و زبورِ داؤدؑ
وَ فُرْقَانِ مُحَمَّدٍ
اور قرآنِ محمدؐ کا واسطہ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ
درود و سلام ہو ان پر اور ان کی آل پر
وَ عَلٰى جَمِيْعِ الرُّسُلِ وَ بَاهِيًّا شَرَاهِيًّا
اور تمام رسولوں اور باہیاً شراہیاً کے حق کا واسطہ
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْۤ اَسْاَلُكَ بِحَقِّ تِلْكَ الْمُنَاجَاةِ
خدایا میرا سوال ہے اس مناجات کے حق کے واسطہ سے
الَّتِيْ كَانَتْ بَيْنَكَ وَ بَيْنَ مُوْسٰى بْنِ عِمْرَانَ
جو تیرے اور موسیٰؑ کے درمیان ہوئی
فَوْقَ جَبَلِ طُوْرِ سَيْنَاۤءَ،
کوہِ طور پر
وَ اَسْاَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِيْ عَلَّمْتَهُ مَلَكَ الْمَوْتِ لِقَبْضِ الْاَرْوَاحِ
اور میرا سوال ہے اس نام کے واسطہ سے جو تو نے ملک الموت کو تعلیم کیا ہے قبض ارواح کے لیے
وَ اَسْاَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِيْ كُتِبَ عَلٰى وَرَقِ الزَّيْتُوْنِ
اور میرا سوال اس نام کے واسطہ سے جو زیتون کے پتّے
فَخَضَعَتِ النِّيْرَانُ لِتِلْكَ الْوَرَقَةِ
پر لکھا گیا آگ اس کے لیے خاضع ہوگئی
فَقُلْتَ يَا نَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا وَ سَلَامًا
اور تو نے حکم دے دیا کہ آگ ابراہیمؑ کے لیے سرد اور سلامتی بن جا
وَ اَسْاَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِيْ كَتَبْتَهُ عَلٰى سُرَادِقِ الْمَجْدِ وَ الْكَرَامَةِ
میرا سوال اس نام کے وسیلہ سے ہے جس کو تو نے سرادق بزرگی و امن پر لکھ دیا ہے
يَا مَنْ لَا يُحْفِيْهِ سَاۤئِلٌ
اے وہ کہ جسے کوئی سائل رنجیدہ نہیں کرسکتا
وَ لَا يَنْقُصُهُ نَاۤئِلٌ
اور کوئی عطا اس کے خزانہ کو کم نہیں کرسکتی۔
يَا مَنْ بِهِ يُسْتَغَاثُ وَ اِلَيْهِ يُلْجَاُ
اے وہ جس سے فریاد کی جاتی ہے اور پناہ لی جاتی ہے۔
اَسْاَلُكَ بِمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِكَ
میرا سوال ہے تیرے عرش کی عزّت کے مراکز کے وسیلہ سے
وَ مُنْتَهَى الرَّحْمَةِ مِنْ كِتَابِكَ
اور تیری کتاب کے انتہائے رحمت کے ذریعہ سے
وَ بِاسْمِكَ الْاَعْظَمِ
تیرے اسمِ اعظم
وَ جَدِّكَ الْاَعْلٰى
اور ہستیِ اعلیٰ
وَ كَلِمَاتِكَ التَّآمَّاتِ الْعُلٰى
اور کلماتِ تامّات کے وسیلہ سے
اَللّٰهُمَّ رَبَّ الرِّيَاحِ وَ مَا ذَرَتْ
اے پروردگار اے ہواؤں اور اُڑتے ہوئے ذرّات کے مالک
وَ السَّمَاۤءِ وَ مَاۤ اَظَلَّتْ
اے آسمان اور اس کے سائبان کے مالک،
وَ الْاَرْضِ وَ مَاۤ اَقَلَّتْ
اے زمین اور اس کے بارِ گراں کے مالک،
وَ الشَّيَاطِيْنِ وَ مَاۤ اَضَلَّتْ
اے شیاطین اور اس کے تمام گمراہوں کے مالک،
وَ الْبِحَارِ وَ مَا جَرَتْ
اے سمندر اور اس کی روانی کے مالک
وَ بِحَقِّ كُلِّ حَقٍّ هُوَ عَلَيْكَ حَقٌّ،
ان حقوق کا واسطہ جو تیرے ذمّہ ہیں۔
وَ بِحَقِّ الْمَلَاۤئِكَةِ الْمُقَرَّبِيْنَ
تیرے ملائکۂ مقرّبین،
وَ الرُّوْحَانِيِّيْنَ وَ الْكَرُوْبِيِّيْنَ
روحانیین، کروبیین،
وَ الْمُسَبِّحِيْنَ لَكَ بِاللَّيْلِ وَ النَّهَارِ لَا يَفْتُرُوْنَ
شب و روز تسبیح کرنے والوں کے حق کا واسطہ،
وَ بِحَقِّ اِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلِكَ
ابراہیم خلیلؑ کے حق کا واسطہ
وَ بِحَقِّ كُلِّ وَلِيٍّ يُنَادِيْكَ بَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ
اور ہر اس ولی کا واسطہ جو صفا و مروہ کے درمیان تجھ سے مناجات کرتا ہے
وَ تَسْتَجِيْبُ لَهُ دُعَاۤءَهُ
اور تو اس کی دعا قبول کرلیتا ہے۔
يَا مُجِيْبُ اَسْاَلُكَ بِحَقِّ هٰذِهِ الْاَسْمَاۤءِ وَ بِهٰذِهِ الدَّعَوَاتِ
اے قبول کرنے والے میرا سوال ان تمام اسماء اور ان تمام دعاؤں کے وسیلہ سے
اَنْ تَغْفِرَ لَنَا مَا قَدَّمْنَا وَ مَاۤ اَخَّرْنَا
یہ ہے کہ ہمارے گذشتہ اور آئندہ گناہوں کو معاف کردے
وَ مَاۤ اَسْرَرْنَا وَ مَاۤ اَعْلَنَّا
چاہے ہم اس کا اظہار کریں یا مخفی رکھیں،
وَ مَاۤ اَبْدَيْنَا وَ مَاۤ اَخْفَيْنَا
نمایاں کریں یا چھپادیں
وَ مَاۤ اَنْتَ اَعْلَمُ بِهِ مِنَّا
اور جو کچھ بھی تو جانتا ہے
اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ
اس لیے کہ تو ہر شئے پر قادر ہے۔
بِرَحْمَتِكَ يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ
اپنی رحمت کے وسیلہ سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
يَا حَافِظَ كُلِّ غَرِيْبٍ
اے ہر مسافر کے محافظ،
يَا مُوْنِسَ كُلِّ وَحِيْدٍ
ہر تنہا کے مونس،
يَا قُوَّةَ كُلِّ ضَعِيْفٍ
ہر کمزور کی قوّت،
يَا نَاصِرَ كُلِّ مَظْلُوْمٍ
ہر مظلوم کے مددگار،
يَا رَازِقَ كُلِّ مَحْرُوْمٍ
ہر محروم کے رازق،
يَا مُوْنِسَ كُلِّ مُسْتَوْحِشٍ
ہر وحشت زدہ کے مونس،
يَا صَاحِبَ كُلِّ مُسَافِرٍ
ہر مسافر کے ساتھی،
يَا عِمَادَ كُلِّ حَاضِرٍ
ہر حاضر کے سہارے،
يَا غَافِرَ كُلِّ ذَنْبٍ وَ خَطِيْۤئَةٍ
ہر گناہ و خطا کے بخشنے والے،
يَا غِيَاثَ الْمُسْتَغِيْثِيْنَ
ہر فریادی کے فریاد رس۔
يَا صَرِيْخَ الْمُسْتَصْرِخِيْنَ
ہر نالاں کے رنج کو دور کرنے والے،
يَا كَاشِفَ كَرْبِ الْمَكْرُوْبِيْنَ،
تمام رنجیدہ لوگوں کے غم کو زائل کرنے والے
يَا فَارِجَ هَمِّ الْمَهْمُوْمِيْنَ
تمام مہموم لوگوں کے ہم کا علاج کرنے والے،
يَا بَدِيْعَ السَّمَاوَاتِ وَ الْاَرَضِيْنَ
اے آسمان و زمین کے خالق،
يَا مُنْتَهٰى غَايَةِ الطَّالِبِيْنَ
اے طلب کرنے والوں کی آخری منزل،
يَا مُجِيْبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّيْنَ
اے مضطرّین کی دعا قبول کرنے والے۔
يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ
اے بہترین رحم کرنے والے
يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ
اے عالمین کے پروردگار
يَا دَيَّانَ يَوْمِ الدِّيْنِ
روزِ قیامت کی جزا دینے والے،
يَاۤ اَجْوَدَ الْاَجْوَدِيْنَ
اے بہترین جود کرنے والے،
يَاۤ اَكْرَمَ الْاَكْرَمِيْنَ
اے بہترین کرم کرنے والے،
يَاۤ اَسْمَعَ السَّامِعِيْنَ
سب سے زیادہ سننے والے،
يَاۤ اَبْصَرَ النَّاظِرِيْنَ
سب سے زیادہ دیکھنے والے،
يَاۤ اَقْدَرَ الْقَادِرِيْنَ
سب سے زیادہ قوّت رکھنے والے
اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوْبَ الَّتِيْ تُغَيِّرُ النِّعَمَ
ہمارے ان گناہوں کو معاف کردے جو نعمتوں کو بدل دیتے ہیں۔
وَ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُوْرِثُ النَّدَمَ
ان گناہوں کو معاف کردے جو باعثِ ندامت ہوتے ہیں۔
وَ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوْبَ الَّتِيْ تُوْرِثُ السَّقَمَ
ان گناہوں کو معاف کردے جن سے بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔
وَ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوْبَ الَّتِيْ تَهْتِكُ الْعِصَمَ
ان گناہوں کو معاف کردے جن سے رسوائی حاصل ہوتی ہے۔
وَ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوْبَ الَّتِيْ تَرُدُّ الدُّعَاۤءَ
ان گناہوں کو معاف کردے جو دعاؤں کو پلٹا دیتے ہیں۔
وَ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوْبَ الَّتِي تَحْبِسُ قَطْرَ السَّمَاۤءِ
ان گناہوں کو معاف کردے جو بارش آسمان کو روک دیتے ہیں۔
وَ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوْبَ الَّتِيْ تُعَجِّلُ الْفَنَاۤءَ
ان گناہوں کو معاف کردے جو جلدی فنا کا پیغام لاتے ہیں۔
وَ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوْبَ الَّتِيْ تَجْلِبُ الشَّقَاۤءَ،
ان گناہوں کو معاف کردے جو شقاوتوں کو کھینچ لاتے ہیں۔
وَ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوْبَ الَّتِيْ تُظْلِمُ الْهَوَاۤءَ
ان گناہوں کو معاف کردے جو ہواؤں کو تاریک کردیتے ہیں۔
وَ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوْبَ الَّتِيْ تَكْشِفُ الْغِطَاۤءَ
ان گناہوں کو معاف کردے جو پردوں کو اُٹھا دیتے ہیں۔
وَ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوْبَ الَّتِيْ لَا يَغْفِرُهَا غَيْرُكَ يَا اَللّٰهُ
ان گناہوں کو معاف کردے جن کو تیرے علاوہ اور کوئی معاف نہیں کرسکتا۔
وَ احْمِلْ عَنِّيْ كُلَّ تَبِعَةٍ لِاَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ
ہم سے مخلوقات کے تمام حقوق کو اُٹھالے
وَ اجْعَلْ لِيْ مِنْ اَمْرِيْ فَرَجًا وَ مَخْرَجًا وَ يُسْرًا
اور ہمارے امور میں وسعت اور سہولت اور آسانی عنایت فرما۔
وَ اَنْزِلْ يَقِيْنَكَ فِيْ صَدْرِيْ
اپنے یقین کو میرے سینے میں داخل فرما
وَ رَجَاۤءَكَ فِيْ قَلْبِيْ حَتّٰى لَاۤ اَرْجُوَ غَيْرَكَ
تا کہ میں تیرے علاوہ کسی سے امید نہ رکھوں۔
اَللّٰهُمَّ احْفَظْنِيْ وَ عَافِنِيْ فِيْ مَقَامِيْ
پروردگار میری حفاظت فرما مجھے عافیت عطا فرما،
وَ اصْحَبْنِيْ فِيْ لَيْلِيْ وَ نَهَارِيْ
دن و رات میں میرے ساتھ
وَ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَ مِنْ خَلْفِيْ
سامنے سے، پیچھے سے،
وَ عَنْ يَمِيْنِيْ وَ عَنْ شِمَالِيْ
داہنے سے، بائیں سے،
وَ مِنْ فَوْقِيْ وَ مِنْ تَحْتِيْ
اوپر سے نیچے سے میری حفاظت فرما۔
وَ يَسِّرْ لِيَ السَّبِيْلَ
اور میرے راستہ کو آسان کردے
وَ اَحْسِنْ لِيَ التَّيْسِيْرَ
اور بہترین طریقہ سے آسان کردے
وَ لَا تَخْذُلْنِيْ فِي الْعَسِيْرِ
اور مجھ کو مشکل میں نظر انداز نہ کردینا
وَ اهْدِنِيْ يَا خَيْرَ دَلِيْلٍ،
اے بہترین ہدایت دینے والے
وَ لَا تَكِلْنِيْ اِلٰى نَفْسِيْ فِيْ الْاُمُوْرِ
اور مجھ کو میرے امور میں مجھ پر نہ چھوڑ دینا
وَ لَقِّنِيْ كُلَّ سُرُوْرٍ
اور مجھ کو ہر خوشی عطا فرما دینا
وَ اقْلِبْنِيْۤ اِلٰۤى اَهْلِيْ بِالْفَلَاحِ وَ النَّجَاحِ
اور میرے اہل کی جانب کامیابی، نجات
مَحْبُوْرًا فِي الْعَاجِلِ وَ الْاٰجِلِ
اور دنیا و آخرت کے سرور کے عالم میں واپس کرنا
اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ
کہ تو ہر چیز پر قادر ہے
وَ ارْزُقْنِيْ مِنْ فَضْلِكَ
اور مجھ کو اپنے فضل کا رزق عطا فرما
وَ اَوْسِعْ عَلَيَّ مِنْ طَيِّبَاتِ رِزْقِكَ
اور میرے اوپر اپنے پاکیزہ رزق کو وسیع کردے
وَ اسْتَعْمِلْنِيْ فِيْ طَاعَتِكَ
اور مجھ کو اپنی اطاعت میں مشغول رکھ
وَ اَجِرْنِيْ مِنْ عَذَابِكَ وَ نَارِكَ
اور مجھ کو اپنے عذاب اور جہنّم سے محفوظ رکھ
وَ اقْلِبْنِيْ اِذَا تَوَفَّيْتَنِيْۤ اِلٰى جَنَّتِكَ بِرَحْمَتِكَ
اور جب میں مرجاؤں تو مجھ کو اپنی جنّت کی طرف لوٹا دینا اپنی رحمتِ کاملہ سے
اَللّٰهُمَّ اِنِّيۤ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ
خدایا میں تیری پناہ چاہتا ہوں تیری نعمت کے زائل ہونے سے
وَ مِنْ تَحْوِيْلِ عَافِيَتِكَ
اور تیری عافیت کے تبدیل ہوجانے سے
وَ مِنْ حُلُوْلِ نَقِمَتِكَ
اور بلا کے وارد ہونے
وَ مِنْ نُزُوْلِ عَذَابِكَ
اور عذاب کے نازل ہونے سے
وَ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاۤءِ
اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں بلا کی سختی
وَ دَرَكِ الشَّقَاۤءِ
اور بدبختی کے پانے
وَ مِنْ سُوْۤءِ الْقَضَاۤءِ
اور برے فیصلے
وَ شَمَاتَةِ الْاَعْدَاۤءِ
اور دشمنوں کی شماتت
وَ مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاۤءِ
اور ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے
وَ مِنْ شَرِّ مَا فِيْ الْكِتَابِ الْمُنْزَلِ
اور ان تمام برائیوں سے جو نازل شدہ کتاب میں ہیں۔
اَللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلْنِيْ مِنَ الْاَشْرَارِ
خدایا مجھ کو بُرے لوگوں میں نہ قرار دینا
وَ لَا مِنْ اَصْحَابِ النَّارِ،
اور نہ جہنّم والوں میں
وَ لَا تَحْرِمْنِيْ صُحْبَةَ الْاَخْيَارِ
اور مجھ کو نیک لوگوں کی صحبت سے محروم نہ کرنا
وَ اَحْيِنِيْ حَيَاةً طَيِّبَةً
اور مجھ کو پاکیزہ زندگی عطا کرنا
وَ تَوَفَّنِيْ وَفَاةً طَيِّبَةً تُلْحِقُنِيْ بِالْاَبْرَارِ
اور مجھے بہترین موت دینا جو مجھ کو نیک لوگوں سے ملحق کردے
وَ ارْزُقْنِيْ مُرَافَقَةَ الْاَنْبِيَاۤءِ
اور مجھ کو انبیاء کی رفاقت میں سچّائی کے مقام پر
فِيْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيْكٍ مُقْتَدِرٍ
اقتدار والے بادشاہ کے دربار میں جگہ عنایت فرما۔
اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلٰى حُسْنِ بَلَاۤئِكَ وَ صُنْعِكَ
خدایا تیرے ہی لیے حمد ہے تیرے حسنِ امتحان اور حسنِ سلوک کی بناپر
وَ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى الْاِسْلَامِ وَ اتِّبَاعِ السُّنَّةِ
اور تیری ہی حمد ہے اسلام اور سنّت کے اتباع پر
يَا رَبِّ كَمَا هَدَيْتَهُمْ لِدِيْنِكَ
جس طرح تو نے ان کو ہدایت دی ہے اپنے دین کی
وَ عَلَّمْتَهُمْ كِتَابَكَ فَاهْدِنَا وَ عَلِّمْنَا
اور ان کو اپنی کتاب کی تعلیم دی ہے ہماری بھی ہدایت فرما اور ہم کو بھی تعلیم دے
وَ لَكَ الْحَمْدُ عَلٰى حُسْنِ بَلَاۤئِكَ وَ صُنْعِكَ عِنْدِيْ خَآصَّةً
تیرے لیے حمد ہے تیرے حسنِ امتحان اور حسنِ سلوک پر جو خاص طور پر میرے ساتھ کیا ہے
كَمَا خَلَقْتَنِيْ فَاَحْسَنْتَ خَلْقِيْ
جس طرح کہ تو نے مجھ کو پیدا کیا تو مجھے بہترین مخلوق بنایا
وَ عَلَّمْتَنِيْ فَاَحْسَنْتَ تَعْلِيْمِيْ
اور مجھ کو تعلیم دی تو بہترین تعلیم دی
وَ هَدَيْتَنِيْ فَاَحْسَنْتَ هِدَايَتِيْ
اور ہدایت دی تو بہترین ہدایت دی۔
فَلَكَ الْحَمْدُ عَلٰۤى اِنْعَامِكَ عَلَيَّ قَدِيْمًا وَ حَدِيْثًا
تیرے ہی لیے حمد ہے تیرے قدیم و جدید انعام پر جو مجھے عنایت کیے ہیں
فَكَمْ مِنْ كَرْبٍ يَا سَيِّدِيْ قَدْ فَرَّجْتَهُ
کہ کتنے ہی غم و الم کو تو نے مجھ سے دور کیا
وَ كَمْ مِنْ غَمٍّ يَا سَيِّدِيْ قَدْ نَفَّسْتَهُ
اور کتنے ہی غم کو تو نے زائل کردیا
وَ كَمْ مِنْ هَمٍّ يَا سَيِّدِيْ قَدْ كَشَفْتَهُ
اور کتنی ہی تکلیف کو اے میرے سردار تو نے ختم کیا
وَ كَمْ مِنْ بَلَاۤءٍ يَا سَيِّدِيْ قَدْ صَرَفْتَهُ
اور کتنی ہی بلاؤں کو برطرف کیا
وَ كَمْ مِنْ عَيْبٍ يَا سَيِّدِيْ قَدْ سَتَرْتَهُ،
اور کتنے ہی عیوب کو چھپا دیا
فَلَكَ الْحَمْدُ عَلٰى كُلِّ حَالٍ
تو تیری حمد ہے ہر حال میں،
فِيْ كُلِّ مَثْوًى وَ زَمَانٍ
ہر مقام اور ہر زمانہ میں،
وَ مُنْقَلَبٍ وَ مَقَامٍ
سفر اور حضر میں،
وَ عَلٰى هَذِهِ الْحَالِ وَ كُلِّ حَالٍ
موجودہ حال میں اور ہر حال میں۔
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيْ مِنْ اَفْضَلِ عِبَادِكَ نَصِيْبًا
خدایا مجھ کو اپنے ان بندوں میں قرار دے دے جو سب سے بہتر نصیب والے ہیں
فِيْ هٰذَا الْيَوْمِ مِنْ خَيْرٍ تَقْسِمُهُ
اس خیر میں جس کو تو آج تقسیم کرے گا
اَوْ ضُرٍّ تَكْشِفُهُ
یا جس نقصان کو دور کرے گا
اَوْ سُوْۤءٍ تَصْرِفُهُ
یا جس برائی کو برطرف کرے گا
اَوْ بَلَاۤءٍ تَدْفَعُهُ
اور جس بلاء کو دفع کرے گا
اَوْ خَيْرٍ تَسُوْقُهُ
یا جس نیکی کو بھیج دے گا
اَوْ رَحْمَةٍ تَنْشُرُهَا
یا جس رحمت کو پھیلا دے گا
اَوْ عَافِيَةٍ تُلْبِسُهَا
یا جس لباسِ عافیت کو پنھادے گا
فَاِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ
بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے
وَ بِيَدِكَ خَزَاۤئِنُ السَّمَاوَاتِ وَ الْاَرْضِ
اور تیرے ہی قبضہ میں آسمانوں اور زمین کا خزانہ ہے،
وَ اَنْتَ الْوَاحِدُ الْكَرِيْمُ الْمُعْطِيْ
تو ایک ہے، کریم ہے، عطا کرنے والا ہے
الَّذِيْ لَا يُرَدُّ سَاۤئِلُهُ
جس سے سوال کرنے والا واپس نہیں لوٹایا جاتا ہے
وَ لَا يُخَيَّبُ اٰمِلُهُ
اور جس سے امید لگانے والا گھاٹا نہیں اُٹھاتا ہے
وَ لَا يَنْقُصُ نَاۤئِلُهُ
اور جس کی عطا کم نہیں ہوتی ہے
وَ لَا يَنْفَدُ مَا عِنْدَهُ
اور جس کا خزانہ کم نہیں ہوتا ہے
بَلْ يَزْدَادُ كَثْرَةً وَ طِيْبًا
بلکہ زیادتی ہی ہوتی رہتی ہے کثرت اور پاکیزگی
وَ عَطَاۤءً وَ جُوْدًا
اور عطا و جود میں
وَ ارْزُقْنِيْ مِنْ خَزَاۤئِنِكَ الَّتِيْ لَا تَفْنٰى
مجھ کو اپنے خزانہ سے رزق دے جو فنا نہیں ہوتا ہے
وَ مِنْ رَحْمَتِكَ الْوَاسِعَةِ
اور اپنی وسیع رحمت سے بھی کہ
اِنَّ عَطَاۤءَكَ لَمْ يَكُنْ مَحْظُوْرًا
بے شک تیری عطا رد کی نہیں جاسکتی ہے
وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ
اور تو ہر چیز پر قادر ہے
بِرَحْمَتِكَ يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
اپنی رحمت کے سہارے اے سب سے بڑے رحم کرنے والے۔
اَللّٰهُمَّ مَنْ تَعَبَّاَ وَ تَهَيَّاَ
خدایا اگر کسی نے بھی تیاری کی ہے
وَ اَعَدَّ وَ اسْتَعَدَّ
یا آمادگی کی ہے یا اہتمام اور انتظام کیا ہے
لِوِفَادَةٍ اِلٰى مَخْلُوْقٍ
کسی مخلوق کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے لیے
رَجَاۤءَ رِفْدِهِ
تا کہ اس کے عطیہ اور اس کے جائزہ
وَ طَلَبَ نَاۤئِلِهِ وَ جَاۤئِزَتِهِ
و انعام کو حاصل کرلے
فَاِلَيْكَ يَا رَبِّ تَعْبِيَتِيْ وَ اسْتِعْدَادِيْ
تو میں تیری بارگاہ کی طرف تیاری اور اہتمام کے ساتھ حاضر ہورہا ہوں۔
رَجَاۤءَ عَفْوِكَ
تیری معافی کا امیدوار
وَ طَلَبَ نَاۤئِلِكَ وَ جَاۤئِزَتِكَ
اور تیرے جائزہ و انعام کا طلبگار ہوں،
فَلَا تُخَيِّبْ دُعَاۤئِي
خدایا میری دعاؤں کو ناامید نہ کرنا
يَا مَنْ لَا يَخِيْبُ عَلَيْهِ سَاۤئِلٌ [السَّاۤئِلُ]
تیری بارگاہ میں کوئی سائل نا امید نہیں ہوتا ہے
وَ لَا يَنْقُصُهُ نَاۤئِلٌ
اور تیری جزا کم نہیں ہوتی ہے۔
فَاِنِّيْ لَمْ اٰتِكَ ثِقَةً بِعَمَلٍ صَالِحٍ عَمِلْتُهُ
میں کسی نیک عمل کے بھروسے
وَ لَا لِوِفَادَةِ مَخْلُوْقٍ رَجَوْتُهُ
یا کسی مخلوق کی سفارش کے سہارے حاضر نہیں ہوا ہوں
اَتَيْتُكَ مُقِرًّا عَلٰى نَفْسِيْ بِالْاِسَاۤءَةِ وَ الظُّلْمِ،
بلکہ میں اپنے نفس کے بارے میں برائی اور گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے
مُعْتَرِفًا بِاَنْ لَّا حُجَّةَ لِيْ وَ لَا عُذْرَ
اس اعتراف کے ساتھ حاضر ہوا ہوں کہ میرے پاس نہ کوئی دلیل ہے اور نہ کوئی عذر ہے۔
اَتَيْتُكَ اَرْجُوْ عَظِيْمَ عَفْوِكَ
تیری عظیم معافی کا امیدوار ہوں جس کے ذریعہ تو نے
الَّذِيْ عَفَوْتَ [عَلَوْتَ] بِهِ [عَلٰى] عَنِ الْخَاۤطِئِيْنَ [الْخَطَّاۤئِيْنَ]
خطاکاروں کو معاف کیا ہے اور
فَلَمْ يَمْنَعْكَ طُوْلُ عُكُوْفِهِمْ عَلٰى عَظِيْمِ الْجُرْمِ
گنہگاروں کا مسلسل بڑے بڑے جرم کرتے رہنا تجھے اس بات سے روک نہیں سکا ہے
اَنْ عُدْتَ عَلَيْهِمْ بِالرَّحْمَةِ
کہ تو ان پر مہربانی کرے
فَيَا مَنْ رَحْمَتُهُ وَاسِعَةٌ
اے وہ خدا جس کی رحمت وسیع ہے
وَ عَفْوُهُ عَظِيْمٌ
اور جس کی مغفرت عظیم ہے۔
يَا عَظِيْمُ يَا عَظِيْمُ يَا عَظِيْمُ
اے میرے عظیم، اے میرے بزرگ خدا، اے میرے باعظمت خدا
لَا يَرُدُّ غَضَبَكَ اِلَّا حِلْمُكَ
تیرے غضب کو سوائے تیرے حلم کے کوئی روک نہیں سکتا ہے
وَ لَا يُنْجِيْ مِنْ سَخَطِكَ اِلَّا التَّضَرُّعُ اِلَيْكَ
اور تیری ناراضگی سے سوائے فریاد کے کوئی بچا نہیں سکتا ہے۔
فَهَبْ لِيْ يَاۤ اِلٰهِيْ فَرَجًا
مجھے اپنی قدرتِ کاملہ سے سکون عطا فرما
بِالْقُدْرَةِ الَّتِيْ تُحْيِيْ بِهَا مَيْتَ الْبِلَادِ،
جس کے ذریعہ تو مردہ شہروں کو زندہ کرتا ہے
وَ لَا تُهْلِكْنِيْ غَمًّا حَتّٰى تَسْتَجِيْبَ لِيْ
اور مجھے کسی غم سے ہلاک نہ کردینا
وَ تُعَرِّفَنِي الْاِجَابَةَ فِي دُعَاۤئِي
یہاں تک کہ تو میری دعا قبول کرلے
وَ اَذِقْنِيْ طَعْمَ الْعَافِيَةِ اِلٰى مُنْتَهٰى اَجَلِيْ
اور مجھے اس قبولیت کو دکھلادے مجھے تمام زندگی عافیت کا ذائقہ عطا فرمانا
وَ لَا تُشْمِتْ بِيْ عَدُوِّيْ
اور دشمنوں کو طعنے دینے کا موقع نہ دینا،
وَ لَا تُسَلِّطْهُ عَلَيَّ
نہ انھیں میری گردن پر
وَ لَا تُمَكِّنْهُ مِنْ عُنُقِيْ
مسلّط کرنا۔
اَللّٰهُمَّ [اِلٰهِيْ] اِنْ وَضَعْتَنِيْ فَمَنْ ذَا الَّذِيْ يَرْفَعُنِي
میرے خدا اگر تونے مجھے گرادیا تو اٹھانے والا کوئی نہیں ہے
وَ اِنْ رَفَعْتَنِيْ فَمَنْ ذَا الَّذِيْ يَضَعُنِيْ
اور اگر تونے بلند کردیا تو کوئی مجھے گرا نہیں سکتا ہے۔
وَ اِنْ اَهْلَكْتَنِيْ فَمَنْ ذَا الَّذِيْ يَعْرِضُ لَكَ فِي عَبْدِكَ
اگر تو نے ہلاک کردیا تو کون ہے جو تجھ سے میرے بارے میں سفارش کرے
اَوْ يَسْاَلُكَ عَنْ اَمْرِهِ،
یا میرے معاملہ کے بارے میں سوال کرے
وَ قَدْ عَلِمْتُ اَنَّهُ لَيْسَ فِي حُكْمِكَ ظُلْمٌ
میں جانتا ہوں کہ تیرے فیصلہ میں کوئی ظلم نہیں ہوتا ہے
وَ لَا فِي نَقِمَتِكَ عَجَلَةٌ
اور تیرے عذاب میں جلدی نہیں ہوتی ہے
وَ اِنَّمَا يَعْجَلُ مَنْ يَخَافُ الْفَوْتَ
کہ جلدی وہ کرتا ہے جسے قبضہ سے نکل جانے کا خطرہ ہوتا ہے
وَ اِنَّمَا يَحْتَاجُ اِلَى الظُّلْمِ الضَّعِيْفُ
اور ظلم وہ کرتا ہے جو خود کمزور ہوتا ہے ۔
وَ قَدْ تَعَالَيْتَ يَاۤ اِلٰهِيْ عَنْ ذٰلِكَ عُلُوًّا كَبِيرًا
تیری ذات ان باتوں سے بہت زیادہ بلند و بالا ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُ بِكَ فَاَعِذْنِيْ
خدایا میں تیری پناہ چاہتا ہوں مجھے پناہ دے دے۔
وَ اَسْتَجِيْرُ بِكَ فَاَجِرْنِيْ
میں امان کا طلبگار ہوں مجھے امان دے دے
وَ اَسْتَرْزِقُكَ فَارْزُقْنِيْ
روزی چاہتا ہوں مجھے روزی عطا فرما۔
وَ اَتَوَكَّلُ عَلَيْكَ فَاكْفِنِيْ
میں تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں تو میرے لیے کافی ہوجا
وَ اَسْتَنْصِرُكَ عَلٰى عَدُوِّيْ [عَدُوِّكَ] فَانْصُرْنِيْ
میں دشمن کے مقابلہ میں تجھ سے مدد چاہتا ہوں لہٰذا میری مدد فرما۔
وَ اَسْتَعِيْنُ بِكَ فَاَعِنِّيْ
میں اعانت کا طلبگار ہوں لہٰذا اعانت فرما
وَ اَسْتَغْفِرُكَ يَاۤ اِلٰهِيْ فَاغْفِرْ لِيْ
میں تجھ سے استغفار کرتا ہوں لہٰذا مجھے معاف کردے۔
اٰمِيْنَ اٰمِيْنَ اٰمِيْنَ۔
آمین آمین آمین