ENGLISH | اردو | Roman | Azerbaijani
🏠 🔍
زیارت جامعہ ائمۃ المومنینؑ
(زیارت جامعہ ائمۃ المومنین ہے جس کے ذریعہ ہر وقت اور ہر زمانہ میں ہر امام کی زیارت کی جا سکتی ہے۔ اس زیارت کو سید بن طاؤسؒ نے مصباح الزائر میں ائمہ علیہم السلام سے روایت کی ہے چند مقدمات کے ساتھ جن میں دعا و نماز وقت سفرشامل ہے۔ اس کے بعد فرمایاہے کہ غسل زیارت کرتے وقت یہ دعا پڑھو۔)
بِسْمِ اللّٰهِ وَ بِاللّٰهِ وَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ عَلٰى مِلَّةِ رَسُوْلِ اللّٰهِ اَللّٰهُمَّ اغْسِلْ عَنِّيْ دَرَنَ الذُّنُوْبِ وَ وَسَخَ الْعُيُوْبِ وَ طَهِّرْنِيْ بِمَاۤءِ التَّوْبَةِ وَ اَلْبِسْنِيْ رِدَاۤءَ الْعِصْمَةِ وَ اَيِّدْنِيْ بِلُطْفٍ مِنْكَ يُوَفِّقُنِيْ لِصَالِحِ الْاَعْمَالِ اِنَّكَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ
اللہ کے نام سے، اللہ کے سہارے، اس کی راہ میں اور اس کے رسولؐ کے راستہ پر۔ خدایا ہم سے گناہوں کے میل کو اور عیبوں کی کثافت کو صاف کر دے۔ ہمیں توبہ کے پانی سے پاک بنا دے۔ ہمیں عصمت کی ردا اڑھا دے اپنے لطف و کرم سے ہماری تائید فرما۔ میرے نیک اعمال کی توفیق حاصل ہو کہ تو عظیم فضل کرنے والا ہے۔
(اس کے بعد جب حرم مطہر کے نزدیک پہنچے تو کہے)
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَفَّقَنِيْ لِقَصْدِ وَلِيِّهِ وَ زِيَارَةِ حُجَّتِهِ وَ اَوْرَدَنِيْ حَرَمَهُ وَ لَمْ يَبْخَسْنِيْ حَظِّيْ مِنْ زِيَارَةِ قَبْرِهِ وَ النُّزُوْلِ بِعَقْوَةِ مُغَيَّبِهِ وَ سَاحَةِ تُرْبَتِهِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَسِمْنِيْ بِحِرْمَانِ مَاۤ اَمَّلْتُهُ وَ لَا صَرَفَ عَنِّيْ مَا رَجَوْتُهُ وَ لَا قَطَعَ رَجَاۤئِيْ فِيْمَا تَوَقَّعْتُهُ بَلْ اَلْبَسَنِيْ عَافِيَتَهُ وَ اَفَادَنِيْ نِعْمَتَهُ وَ اٰتَانِيْ كَرَامَتَهُ۔
ساری حمد اللہ کے لئے ہے جس نے اپنے ولی اور اپنی حجت کی زیارت کی توفیق دی ہے اور ان کے حرم تک پہنچا دیا ہے اور زیارت قبر میں میرے حصہ کو کم نہیں کیا ہے۔ میں اس عظیم بارگاہ میں نازل ہو گیا۔ حمد ہے اس اللہ کے لئے جس نے ہمیں اپنی امیدوں کی محرومی سے نامزد نہیں کیا اور ہمارے آرزؤں کو ہم سے موڑ نہیں دیا اور ہماری امیدوں کو اور توقعات کو ہم سے قطع نہیں کیا۔ بلکہ ہمیں عافیت کا لباس پہنایااور نعمتیں عطا کیں اور کرامت مرحمت فرمائی
(اس کے بعد جب وارد حرم ہو جائے تو ضریح کے سامنے کھڑے ہو کر یوں کہے)
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ اَئِمَّةَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ سَادَةَ الْمُتَّقِيْنَ وَ كُبَرَاۤءَ الصِّدِّيْقِيْنَ وَ اُمَرَاۤءَ الصَّالِحِيْنَ وَ قَادَةَ الْمُحْسِنِيْنَ وَ اَعْلَامَ الْمُهْتَدِيْنَ وَ اَنْوَارَ الْعَارِفِيْنَ وَ وَرَثَةَ الْاَنْبِيَاۤءِ وَ صَفْوَةَ الْاَوْصِيَاۤءِ وَ شُمُوْسَ الْاَتْقِيَاۤءِ وَ بُدُوْرَ الْخُلَفَاۤءِ وَ عِبَادَ الرَّحْمٰنِ وَ شُرَكَاۤءَ الْقُرْاٰنِ وَ مَنْهَجَ الْاِيْمَانِ وَ مَعَادِنَ الْحَقَاۤئِقِ وَ شُفَعَاۤءَ الْخَلَاۤئِقِ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ اَشْهَدُ اَنَّكُمْ اَبْوَابُ اللّٰهِ وَ مَفَاتِيْحُ رَحْمَتِهِ وَ مَقَالِيْدُ مَغْفِرَتِهِ وَ سَحَاۤئِبُ رِضْوَانِهِ وَ مَصَابِيْحُ جِنَانِهِ وَ حَمَلَةُ فُرْقَانِهِ وَ خَزَنَةُ عِلْمِهِ وَ حَفَظَةُ سِرِّهِ وَ مَهْبِطُ وَحْيِهِ وَ عِنْدَكُمْ اَمَانَاتُ النُّبُوَّةِ وَ وَدَاۤئِعُ الرِّسَالَةِ اَنْتُمْ اُمَنَاۤءُ اللّٰهِ وَ اَحِبَّاؤُهُ وَ
سلام ہوآپ پر اے مومنین کے امامو! اور متقین کے سردارو! اور صدیقین کے بزرگو! اور صالحین کے امیرو! نیک کرداروں کئ قائدو! اور ہدایت یافتہ لوگوں کے نشان منزل، عارفین کے انوار، انبیاء کے ورثہ، اولیاء کے مخلصین۔ اتقیاء کے آفتاب، خلفاء کے ماہتاب، اللہ کے نیک بندہ۔ رقرآن کے شریک، ایمان کے منہج۔ حقائق کے معدن، مخلوقات کی شفاعت کرنے والے۔(اللہ کی رحمت و برکت آپ کے لئے ہے)میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ بابِ ہدایت الٰہی مفتاح رحمت پروردگار کلیہ مغفرت خدا، سحاب رضائےالٰہی چراغ جنت حامل قرآن، خانۂ علم، حافظ سرِ خدا، منزل وحی الٰہی ہیں آپ کےپاس نبوت کی امانتیں اور رسالت کے اسرار ہیں۔ آپ اللہ کے امین، اس کے دوست، اس کے بندہ، اس کے مخلص، اس کی توحید کے انصار اس کی تمجید کے ارکان، اس کی کتابوں کی طرف دعوت دینے والے اس کی مخلوقات کے محافظ، اس کی امانتوں کے بچانے والےہیں۔ اخلاص و خشوع میں ملائکہ ثنا بھی آپ سے آگے نہیں جا سکتی ہے اور کوئی دعا کرنے والا اور خضوع رکھنے والا آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔ آپ کے قلوب وہ ہیں جن کی تربیت خوف و رضا کے ساتھ اللہ نے کی ہےاور جن کو شکر و ثنا کا ظرف بنا دیا ہے اور تمام غفلت کے عوارض سے محفوظ کیا اور سستی سے پاکیزہ بنا دیا ہے۔ اہل آسمان آپ کی محبت اور آپ کے دشمنوں سے بیزاری کے ذریعہ قرب خدا چاہتے ہیں اور آپ کے غم میں مسلسل روتے رہتے ہیں آپ شیعوں اور دوستوں کے لئے استغفار کرتے ہیں۔ میں خدائے خالق کو گواہ بنا کر اور ملائکہ و انبیاء اور آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں آپ کی ولایت پر ایمان رکھنے والا آپ کی امامت کا معتقد، آپ کی خلافت کا معترف۔ آپ کی ولایت پرایمان رکھنے والا آپ کی امامت کا معتقد، آپ کی خلافت کا معترف، آپ کی منزلت کا عارف، آپ کی عصمت کا یقین رکھنے والا، آپ کی ولایت کے لئے خاضع اور آپ کی محبت اور آپ کے دشمنوں سے عداوت کے ذریعہ قرب الٰہی کا طلبگار رہوں۔ میں جانتا ہوں کہ اللہ نے آپ کو ہر ظاہر و باطن برائی سے پاک رکھا ہے شبہ اور ہر نجاست ہر پستی ہر پلیدگی اور رجس سے محفوظ رکھا ہے آپ کو وہ رایت حق دیا ہے جس سے آگے بڑھنے والا گمراہ اور پیچھے رہ جانے والا بہکا ہوا ہے اور اُس نے آپ کی اطاعت کو ہر سیاہ و سفید پر واجب کر دیا ہے اور میں گواہی دیتاہوں کہ آپ نے عہد خدا کو پورا کیا اور ہر شرط کو مکمل کیا جو اس نےکتاب ہی میں آپ کے ذمہ لکھ دی تھی وفا کر دیا۔ اس کی راہ کی دعوت دی اور اپنی طاقت کو اس کی مرضی میں خرچ کر دیا مخلوقات کو نبوت و رسالت کے راستہ پر چلا یا اور اس راہ میں خود سیرت انبیاء اور راہ اولیاء پر چلے۔ مگر لوگوں نے آپ کے امر کی اطاعت نہیں کی آپ کی بات پر کان نہیں دھرا اللہ آپ کے ارواح و اجسام پر رحمت نازل کرے۔
عِبَادُهُ وَ اَصْفِيَاۤؤُهُ وَ اَنْصَارُ تَوْحِيْدِهِ وَ اَرْكَانُ تَمْجِيْدِهِ وَ دُعَاتُهُ اِلٰى كُتُبِهِ وَ حَرَسَةُ خَلاۤئِقِهِ وَ حَفَظَةُ وَدَاۤئِعِهِ لَا يَسْبِقُكُمْ ثَنَاۤءُ الْمَلَاۤئِكَةِ فِي الْاِخْلَاصِ وَ الْخُشُوْعِ، وَ لَا يُضَآدُّكُمْ ذُوْ ابْتِهَالٍ وَ خُضُوْعٍ اَنّٰى وَ لَكُمُ الْقُلُوْبُ الَّتِيْ تَوَلَّى اللّٰهُ رِيَاضَتَهَا بِالْخَوْفِ وَ الرَّجَاۤءِ وَ جَعَلَهَا اَوْعِيَةً لِلشُّكْرِ وَ الثَّنَاۤءِ وَ اٰمَنَهَا مِنْ عَوَارِضِ الْغَفْلَةِ وَ صَفَّاهَا مِنْ سُوْۤءِ [شَوَاغِلِ‏] الْفَتْرَةِ بَلْ يَتَقَرَّبُ اَهْلُ السَّمَاۤءِ بِحُبِّكُمْ وَ بِالْبَرَاۤءَةِ مِنْ اَعْدَاۤئِكُمْ وَ تَوَاتُرِ الْبُكَاۤءِ عَلٰى مُصَابِكُمْ وَ الْاِسْتِغْفَارِ لِشِيْعَتِكُمْ وَ مُحِبِّيْكُمْ فَاَنَا اُشْهِدُ اللّٰهَ خَالِقِيْ وَ اُشْهِدُ مَلَاۤئِكَتَهُ وَ اَنْبِيَاۤءَهُ وَ اُشْهِدُكُمْ يَا مَوَالِيَّ اَنِّيْ مُؤْمِنٌ
علیٰ ارواحکم و اجسادکم
بِوِلَايَتِكُمْ مُعْتَقِدٌ لِاِمَامَتِكُمْ مُقِرٌّ بِخِلَافَتِكُمْ عَارِفٌ بِمَنْزِلَتِكُمْ مُوْقِنٌ بِعِصْمَتِكُمْ خَاضِعٌ لِوِلَايَتِكُمْ، مُتَقَرِّبٌ اِلَى اللّٰهِ بِحُبِّكُمْ وَ بِالْبَرَاۤءَةِ مِنْ اَعْدَاۤئِكُمْ عَالِمٌ بِاَنَّ اللّٰهَ قَدْ طَهَّرَكُمْ مِنَ الْفَوَاحِشِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ مِنْ كُلِّ رِيْبَةٍ وَ نَجَاسَةٍ وَ دَنِيَّةٍ وَ رَجَاسَةٍ وَ مَنَحَكُمْ رَايَةَ الْحَقِّ الَّتِيْ مَنْ تَقَدَّمَهَا ضَلَّ وَ مَنْ تَاَخَّرَ عَنْهَا زَلَّ وَ فَرَضَ طَاعَتَكُمْ عَلٰى كُلِّ اَسْوَدَ وَ اَبْيَضَ وَ اَشْهَدُ اَنَّكُمْ قَدْ وَفَيْتُمْ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ ذِمَّتِهِ وَ بِكُلِّ مَا اشْتَرَطَ [اشْتَرَطَهُ‏] عَلَيْكُمْ فِيْ كِتَابِهِ وَ دَعَوْتُمْ اِلٰى سَبِيْلِهِ وَ اَنْفَذْتُمْ طَاقَتَكُمْ فِيْ مَرْضَاتِهِ وَ حَمَلْتُمُ الْخَلَاۤئِقَ عَلٰى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ وَ مَسَالِكِ
(اس کے بعد قبر سے لپٹ کر کہے)
الرِّسَالَةِ وَ سِرْتُمْ فِيْهِ بِسِيْرَةِ الْاَنْبِيَاۤءِ وَ مَذَاهِبِ الْاَوْصِيَاۤءِ فَلَمْ يُطَعْ لَكُمْ اَمْرٌ وَ لَمْ تُصْغَ اِلَيْكُمْ اُذُنٌ فَصَلَوَاتُ اللّٰهِ عَلٰۤى اَرْوَاحِكُمْ وَ اَجْسَادِكُمْ۔ بِاَبِيْۤ اَنْتَ وَ اُمِّيْ يَا حُجَّةَ اللّٰهِ لَقَدْ اُرْضِعْتَ بِثَدْيِ الْاِيْمَانِ وَ فُطِمْتَ بِنُوْرِ الْاِسْلَامِ وَ غُذِّيْتَ بِبَرْدِ الْيَقِيْنِ وَ اُلْبِسْتَ حُلَلَ الْعِصْمَةِ وَ اصْطُفِيْتَ وَ وُرِّثْتَ عِلْمَ الْكِتَابِ وَ لُقِّنْتَ فَصْلَ الْخِطَابِ وَ اُوْضِحَ بِمَكَانِكَ مَعَارِفُ التَّنْزِيْلِ وَ غَوَامِضُ التَّأْوِيْلِ وَ سُلِّمَتْ اِلَيْكَ رَايَةُ الْحَقِّ وَ كُلِّفْتَ هِدَايَةَ الْخَلْقِ وَ نُبِذَ اِلَيْكَ عَهْدُ الْاِمَامَةِ وَ اُلْزِمْتَ حِفْظَ الشَّرِيْعَةِ وَ اَشْهَدُ يَا مَوْلَايَ اَنَّكَ وَفَيْتَ بِشَرَاۤئِطِ الْوَصِيَّةِ وَ قَضَيْتَ مَا لَزِمَكَ مِنْ حَدِّ الطَّاعَةِ وَ نَهَضْتَ
میرے ماں باپ قربان آپ پر اے حجت پروردگار آپ کو ایمان کے سینہ سے دودھ ملا اور اسلام کے نور سے دودھ بڑھائی ہوئی اور خنکی یقین کی غذا دی گئی اور عصمت کا لباس بنایا گیا اور آپ کو منتخب بنا کر وارث کتاب بنایا گیا اور خطاب فاصل اور حرف آخر کی تلقین کی گئی آپ کی منزل علم کی بنا پر تنزیل کے مصارف اور تاویل کے مضمرات کو واضح کیا گیا رایت حق آپ کے حوالہ کر دیا گیا اور ہدایت خلق کا ذمہ دار آپ کو بنایا گیا عہد امامت آپ کے سپرد کیا گیا اور حفظ شریعت کا ذمہ دار آپ کو بنایا گیا میں گواہی دیتا ہوں کہ مولا آپ نے شرایط وصیت کو پورا کیا اورجو آپ کے ذمہ حدّ اطاعت تھی اسے اداکر دیا۔ امامت کا بارلے کر اٹھے اور صبر و اجتہاد و نصیحت و اخلاص میں نبوت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے غصہ کو برداشت کیا اور لوگوں کو معاف کیا مخلوقات میں عدل کا عزم کیا اور فیصلوں کو بربنائے عدالت انجام دیا امت پر سچے دلائل اور ناطق شریعت کے ساتھ اتمام حجت کیا اور لوگوں کو خداکی طرف حسیِن موعظہ اور بلیغ حکمت کے ذریعہ دعوت دی مگر آپ کو کجی کو سیدھا کرنے، رخنہ کو پُر کرنے، فاسد امور کی اصلاح کرنے دشمنان دین کی شوکت کوتوڑنے، سنتوں کو زندہ کرنے اور بدعتوں کو مردہ کرنے سے روک دیا گیا یہاں تک کہ آپ شہید ہو کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور رسول اکرمؐ سے قابل ستائش حالات میں ملاقات کی۔ اللہ کی صلوات آپ پر مسلسل اور مزید ہوتی رہے۔
بِاَعْبَاۤءِ الْاِمَامَةِ وَ احْتَذَيْتَ مِثَالَ النُّبُوَّةِ فِيْ الصَّبْرِ وَ الْاِجْتِهَادِ وَ النَّصِيْحَةِ لِلْعِبَادِ وَ كَظْمِ الْغَيْظِ وَ الْعَفْوِ عَنِ النَّاسِ وَ عَزَمْتَ عَلَى الْعَدْلِ فِي الْبَرِيَّةِ وَ النَّصَفَةِ فِيْ الْقَضِيَّةِ وَ وَكَّدْتَ الْحُجَجَ عَلَى الْاُمَّةِ بِالدَّلَاۤئِلِ الصَّادِقَةِ وَ الشَّرِيْعَةِ النَّاطِقَةِ، وَ دَعَوْتَ اِلَى اللّٰهِ بِالْحِكْمَةِ الْبَالِغَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ فَمُنَعْتَ مِنْ تَقْوِيْمِ الزَّيْغِ وَ سَدِّ الثُّلَمِ وَ اِصْلَاحِ الْفَاسِدِ وَ كَسْرِ الْمُعَانِدِ وَ اِحْيَاۤءِ السُّنَنِ وَ اِمَاتَةِ الْبِدَعِ حَتّٰى فَارَقْتَ الدُّنْيَا وَ اَنْتَ شَهِيْدٌ وَ لَقِيْتَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ وَ اَنْتَ حَمِيْدٌ صَلَوَاتُ اللّٰهِ عَلَيْكَ تَتَرَادَفُ وَ تَزِيْدُ۔
(اس کے بعد پائینتی کی طرف جا کر یوں کہے)
اے میرے آقاؤ! اے اولاد رسول۔ میں آپ کے ذریعہ پروردگار کا قرب چاہتا ہوں ان لوگوں کی مخالفت کے حوالہ سے جنھوں نے آپ سے غداری کی اور آپ کی بیعت کو توڑ دیا۔ آپ کی ولایت کا انکار کیا، آپ کی منزلت کو پہچانا، آپ کی اطاعت کا طوق گردن سے اتار دیا، آپ کی محبت کے اسباب کو ترک کر دیا اور اپنے فرعونوں سے تقرب حاصل کیا آپ سے برائت اور کنارہ کشی کے ذریعہ اور آپ کو روک دیا حدود الٰہی کے قائم کرنے، انکار کے فنا کرنے تفرقوں کو دور کرنے، پراگندگی کو جمع کرنے اور خلل کی اصلاح کر کے کجی کو سیدھا کرنے اور احکام کو نافذ کرنے اور اسلام کو آراستہ کرنے اور گناہوں کے قلع قمع کرنے سے۔ آپ کے خلاف جنگ اور فتنوں کی دھول آنکھوں میں جھونک دی اور آپ کے خلاف کینہ کی تلواریں نیام سے نکال لیں احترام کے پردوں کو چاک کر دیا۔ آپ کے خمس سے شراب خریدی، مسکینوں کے صدقات کو مسخروں پر صرف کیااور یہ وہ چیز تھی جس کا راستہ ان کے لئے گمراہ فاسقوں اورباغی حاسدوں نے ہموار کیا تھا جو بیعت شکن، غدار، مکار اور مشرک کی نجاست سے بدبودار دلوں والے اور کفر کی غلاضت سے بھرے ہوئے جسموں والےتھے۔جنھوں نے نفاق پر اجتماع کر لیا اور افتراق کے تمام وسائل کو جمع کر لیا۔ اس کے بعد جن پیغمبرؐ دنیا سےگذر گئے تواس اچانک غفلت کے موقع سے فائدہ اٹھایا اور موقع کو غنیمت جانا۔ حرمتوں کو برباد کیا اور پیغمبرؐ کو بسترِ موت پر چھوڑ کر تیزی سے دوڑ پڑے تا کہ آپ کی بیعت کو توڑ دیں اور جن عہدوں کو تاکید کی گئی تھی ان کی مخالفت کریں اور اس امانت میں خیانت کریں جس کو مستحکم پہاڑوں پر پیش کیا گیا تو انھوں نے اس کا بار اٹھانے سے انکار کر دیا او رانسان نے اٹھالیا کہ وہ ظالم جاہل اور افتراق پیدا کرنے والا اور دردناک گناہوں کے مسئلہ میں اکڑ جانے والا اور بہترین عافیت کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرنے والا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صحرائی پست فطرت لوگ اور پرانے کفر کے بچے ہوئے احزاب سب جمع ہو کر نبوت و رسالت کے گھر وحی اور ملائکہ کے نزول کی جگہ سلطنت ولایت کے مستقر اور وصایت و خلافت و امامت کے معدن کی طرف دوڑ پڑے یہاں تک کہ پیغمبرؐ کے عہد کو ان کے اس بھائی کے بارے میں توڑ دیا جو ہدایت کا نشانہ تھا اور راہ نجات کو راہ ہلاکت سے الگ کرنے والا تھا۔ان لوگوں نے پیغمبرؐ کے جگر کو مجروح کیا ان کی بیٹی پرظلم کر کے، اور ان چہیتی دختر پر ستم ڈھا کر اور آپ کی عزیز بیٹی کو ذلیل کرکے جو آپ کے قلب و جگر کا ٹکڑا تھی اور اس کے شوہر کو چھوڑ دیا، اس کی منزلت کوحقیر بنا دیا، اس کے بارے میں حرام کو حلال کر دیا،اس کے احترام کو ضائع کر دیا، اس کے رشتہ کو قطع کر دیا،اس کی اخوت کا انکار کر دیا اور غلاموں میں ان کی خلافت کی لالچ پیدا کر دی اور انھیں اپنی بیعت کے لئے یوں کھینچ کے لائے کہ تلواریں کھینچی ہوئی تھیں اور نیزے بلند کئے ہوئے تھے جب کہ وہ دل سے اس بیعت سے ناراض اور اس پر غضبناک تھے مگر وہ انتہائی صبر کرنے والے اور غصہ کو پی جانے والے تھے۔ لوگ انھیں اپنی اس بیعت کی طرف دعوت دے رہے تھے جس کی نحوست سارے عالم اسلام پر چھا گئی تھی اور جس نے بیعت کی طرف دعوت دے رہے تھے جس کی نحوست سارے عالم اسلام پر چھا گئی تھی اور جس نے بیعت کرنے والوں کے دلوں میں گناہوں کا بیج بودیا۔ اس بیعت نےسلمان پر جبرکیا۔ مقداد کو نکال باہر کیا۔ابوذر کو شہر بدر کیا اور عمار کے شکم کو پارہ کر دیا۔ قرآن کی تحریف کی احکام کو بدل دیا۔ منزلیں تبدیل کر دیں۔ خمس کو آزاد کردہ غلاموں کے لئے مباح کر دیا اور ملعونوں کی اولاد کو مسلمانوں کی جان اور آبرو پر مسلط کر دیا۔ حلال کو حرام سے مخلوط کر دیا۔ ایمان و اسلام کو رسوا کیا۔ کعبہ کو منہدم کیا اورروز حراء مدینہ رسولؐ پر حملہ کر دیا مہاجرین و انصار کی بیٹیوں کو ظلم و ستم کے لئے گھروں سے باہر نکال لیا اور انھیں عار و فضیحت کالباس پہنا دیا۔ اہل شبہ کو اجازت دےدی کہ اہل بیت پیغمبر کو قتل کریں۔ ان کی نسل کوتباہ کریں۔ انھیں جڑسےاکھاڑ کے پھینک دیں۔ ان کے حرم کو قیدی بتائیں۔ ان کے انصار کو قتل کریں۔ ان کے منبر کو توڑ دیں ان کے مفاخر کو الٹ دیں۔ ان کے دین کو چھپا دیں۔ میرے آقاؤ! اگر پیغمبرؐآپ کو اس حال میں دیکھ لیتے کہ امت کے تیر آپ کے جگر میں پیوست ہیں اور ان کے نیزے آپ کی گردنوں میں در آئے ہیں۔ ان کی تلواریں آپ کے خون میں ڈوبی ہوئی ہیں اور زنا زادے آپ کے ورع سے اپنے فسق کی پیاس کو بجھا رہےہیں اور اپنے کفر کے غصہ کو آپ کے ایمان کے مقابلہ میں ٹھنڈا کر رہے ہیں اور آپ اس عالم میں ہیں کہ کوئی محراب میں پڑا ہوا ہے تلوار نے اس کے سر کو شگافتہ کر دیا کوئی ایسا شہید ہےجس کے جنازہ پر کفن کو تیروں سے چاک کیا گیاہے۔ کوئی صحرا میں شہید پڑا ہوا ہے اور اس کا سر نوک نیزہ پر اٹھایا گیا ہے کوئی قید خانہ میں قیدی ہے کہ جس کے اعضاء لوہے سے رگڑ گئے ہیں کوئی وہ شہید زہر ہے جس کے جگر کو زہر نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے آپ کی جماعت یوں منتشر ہو گئی ہے کہ اس کا غلام اور غلام زادے فنا کر رہے ہیں میرے آقاؤ! رنج ومحن صرف وہ ہیں جو آپ کے ساتھ پیش آئے اور کھڑکھڑانے والی اذیتیں صرف وہ ہیں جوآپ کے دروازہ پرآئیں۔ اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور اس کی صلوات آپ کے ارواح و اجسام پر۔
يَا سَادَتِيْ يَاۤ اٰلَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اِنِّيْ بِكُمْ اَتَقَرَّبُ اِلَى اللّٰهِ جَلَّ وَ عَلَا بِالْخِلَافِ عَلَى الَّذِيْنَ غَدَرُوْا بِكُمْ وَ نَكَثُوْا بَيْعَتَكُمْ وَ جَحَدُوْا وِلَايَتَكُمْ وَ اَنْكَرُوْا مَنْزِلَتَكُمْ وَ خَلَعُوْا رِبْقَةَ طَاعَتِكُمْ وَ هَجَرُوْۤا اَسْبَابَ مَوَدَّتِكُمْ وَ تَقَرَّبُوْۤا اِلٰى فَرَاعِنَتِهِمْ بِالْبَرَاۤءَةِ مِنْكُمْ وَ الْاِعْرَاضِ عَنْكُمْ وَ مَنَعُوْكُمْ مِنْ اِقَامَةِ الْحُدُوْدِ وَ اسْتِيْصَالِ الْجُحُوْدِ وَ شَعْبِ الصَّدْعِ وَ لَمِّ الشَّعَثِ وَ سَدِّ الْخَلَلِ وَ تَثْقِيْفِ الْاَوَدِ وَ اِمْضَاۤءِ الْاَحْكَامِ وَ تَهْذِيْبِ الْاِسْلَامِ وَ قَمْعِ الْاٰثَامِ وَ اَرْهَجُوْا عَلَيْكُمْ نَقْعَ الْحُرُوْبِ وَ الْفِتَنِ وَ اَنْحَوْا عَلَيْكُمْ سُيُوْفَ الْاَحْقَادِ وَ هَتَكُوْا مِنْكُمُ السُّتُوْرَ وَ ابْتَاعُوْا بِخُمْسِكُمُ الْخُمُوْرَ وَ صَرَفُوْا صَدَقَاتِ الْمَسَاكِيْنِ اِلَى الْمُضْحِكِيْنَ وَ السَّاخِرِيْنَ وَ ذٰلِكَ بِمَا طَرَّقَتْ لَهُمُ الْفَسَقَةُ الْغُوَاةُ، وَ الْحَسَدَةُ الْبُغَاةُ اَهْلُ النَّكْثِ وَ الْغَدْرِ وَ الْخِلَافِ وَ الْمَكْرِ وَ الْقُلُوْبِ الْمُنْتِنَةِ مِنْ قَذَرِ الشِّرْكِ وَ
(اس کے بعد قبر منور کو بوسہ دے اور یوں کہے)
الْاَجْسَادِ الْمُشْحَنَةِ مِنْ دَرَنِ الْكُفْرِ الَّذِيْنَ اَضَبُّوْا عَلَى النِّفَاقِ وَ اَكَبُّوْا عَلٰى عَلَاۤئِقِ الشِّقَاقِ فَلَمَّا مَضَى الْمُصْطَفٰى صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ اخْتَطَفُوْا الْعِزَّةَ وَ انْتَهَزُوْا الْفُرْصَةَ وَ انْتَهَكُوْا الْحُرْمَةَ وَ غَادَرُوْهُ عَلٰى فِرَاشِ الْوَفَاةِ وَ اَسْرَعُوْا لِنَقْضِ الْبَيْعَةِ وَ مُخَالَفَةِ الْمَوَاثِيْقِ الْمُؤَكَّدَةِ وَ خِيَانَةِ الْاَمَانَةِ الْمَعْرُوْضَةِ عَلَى الْجِبَالِ الرَّاسِيَةِ وَ اَبَتْ اَنْ تَحْمِلَهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ الظَّلُوْمُ الْجَهُوْلُ ذُوْ الشِّقَاقِ وَ الْعِزَّةِ بِالْاٰثَامِ الْمُوْلِمَةِ وَ الْاَنَفَةِ عَنِ الْاِنْقِيَادِ لِحَمِيْدِ الْعَاقِبَةِ، فَحُشِرَ سِفْلَةُ الْاَعْرَابِ وَ بَقَايَا الْاَحْزَابِ اِلٰى دَارِ النُّبُوَّةِ وَ الرِّسَالَةِ وَ مَهْبِطِ الْوَحْيِ وَ الْمَلَاۤئِكَةِ وَ مُسْتَقَرِّ سُلْطَانِ الْوِلَايَةِ وَ مَعْدِنِ الْوَصِيَّةِ وَ الْخِلَافَةِ وَ الْاِمَامَةِ حَتّٰى نَقَضُوْا عَهْدَ الْمُصْطَفٰى فِيْۤ اَخِيْهِ عَلَمِ الْهُدٰى وَ الْمُبَيِّنِ طَرِيْقَ النَّجَاةِ مِنْ طُرُقِ الرَّدٰى وَ جَرَحُوْا كَبِدَ خَيْرِ الْوَرٰى فِيْ ظُلْمِ ابْنَتِهِ
اے اولاد رسولؐ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان۔ ہمارے اختیار میں صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے مشاہد کے گرد طواف کریں اور آپ کی ارواح کو تعزیت پیش کریں ان عظیم مصائب پر جو آپ کے گھروں پر وارد ہوئے اور ان عظیم آفتوں پر جو آپ کے صحن خانہ میں نازل ہوئیں، جنھوں نے آپ کے شیعوں کے دلوں کو مجروح کر دیا اور ان کے جگر میں زخم پیدا کر دیئے ان کے سینوں میں رنج و غم کے بیج بو دیئے ہم خدا کو گواہ بنا کر کہہ رہے ہیں کہ ہم آپ کے اولیاء اور آپ کے انصار کے ساتھ ہیں جو بیعت شکن ظالم اور دین سے نکل جانے والوں کے خون بہانےکی راہ میں آگے بڑھے اور جنھوں نے حضرت ابوعبداللہ سردار جوانانِ اہل جنت کے قاتلوں سے روز کربلا مقابلہ کیا۔ اپنی نیتوں کے ساتھ اور اپنے دلوں کے ساتھ اور اس افسوس کے ساتھ کہ ہم ان مواقع پر نہ رہ سکے جن میں وہ لوگ آپ کی نصرت کےلئے حاضر ہوئے۔ آپ سب پر ہماری طرف سے سلام اور اللہ کی رحمت و برکت۔
وَ اضْطِهَادِ حَبِيْبَتِهِ وَ اهْتِضَامِ عَزِيْزَتِهِ بِضْعَةِ لَحْمِهِ وَ فِلْذَةِ كَبِدِهِ وَ خَذَلُوْا بَعْلَهَا وَ صَغَّرُوْا قَدْرَهُ وَ اسْتَحَلُّوْا مَحَارِمَهُ وَ قَطَعُوْا رَحِمَهُ وَ اَنْكَرُوْۤا اُخُوَّتَهُ وَ هَجَرُوْا مَوَدَّتَهُ وَ نَقَضُوْا طَاعَتَهُ وَ جَحَدُوْا وِلَايَتَهُ، وَ اَطْمَعُوْا الْعَبِيْدَ فِيْ خِلَافَتِهِ وَ قَادُوْهُ اِلٰى بَيْعَتِهِمْ مُصْلِتَةً سُيُوْفَهَا مُقْذِعَةً [مُشْرِعَةً] اَسِنَّتَهَا وَ هُوَ سَاخِطُ الْقَلْبِ هَاۤئِجُ الْغَضَبِ شَدِيْدُ الصَّبْرِ كَاظِمُ الْغَيْظِ يَدْعُوْنَهُ اِلٰى بَيْعَتِهِمُ الَّتِيْ عَمَّ شُوْمُهَا الْاِسْلَامَ وَ زَرَعَتْ فِيْ قُلُوْبِ اَهْلِهَا الْاٰثَامَ وَ عَقَّتْ [وَ عَنَّفَتْ‏] سَلْمَانَهَا وَ طَرَدَتْ مِقْدَادَهَا وَ نَفَتْ جُنْدُبَهَا وَ فَتَقَتْ بَطْنَ عَمَّارِهَا وَ حَرَّفَتِ الْقُرْاٰنَ وَ بَدَّلَتِ الْاَحْكَامَ وَ غَيَّرَتِ الْمَقَامَ وَ اَبَاحَتِ الْخُمْسَ لِلطُّلَقَاۤءِ وَ سَلَّطَتْ اَوْلَادَ اللُّعَنَاۤءِ عَلَى الْفُرُوْجِ وَ الدِّمَاۤءِ وَ خَلَطَتِ الْحَلَالَ بِالْحَرَامِ وَ اسْتَخَفَّتْ بِالْاِيْمَانِ وَ الْاِسْلَامِ وَ هَدَمَتِ الْكَعْبَةَ، وَ اَغَارَتْ عَلٰى دَارِ الْهِجْرَةِ
(اس کے بعد قبر شریف کو اپنے اور قبلہ کے درمیان قرار دے کر یوں کہے)
يَوْمَ الْحَرَّةِ وَ اَبْرَزَتْ بَنَاتِ الْمُهَاجِرِيْنَ وَ الْاَنْصَارِ لِلنَّكَالِ وَ السَّوْرَةِ [وَ السَّوْءَةِ] وَ اَلْبَسَتْهُنَّ ثَوْبَ الْعَارِ وَ الْفَضِيْحَةِ وَ رَخَّصَتْ لِاَهْلِ الشُّبْهَةِ فِيْ قَتْلِ اَهْلِ بَيْتِ الصَّفْوَةِ وَ اِبَادَةِ نَسْلِهِ وَ اسْتِيْصَالِ شَأْفَتِهِ وَ سَبْيِ حَرَمِهِ وَ قَتْلِ اَنْصَارِهِ وَ كَسْرِ مِنْبَرِهِ وَ قَلْبِ مَفْخَرِهِ وَ اِخْفَاۤءِ دِيْنِهِ وَ قَطْعِ ذِكْرِهِ يَا مَوَالِيَّ فَلَوْ عَايَنَكُمُ الْمُصْطَفٰى وَ سِهَامُ الْاُمَّةِ مُغْرَقَةٌ فِيْۤ اَكْبَادِكُمْ وَ رِمَاحُهُمْ مُشْرَعَةٌ فِيْ نُحُوْرِكُمْ وَ سُيُوْفُهَا مُوْلَغَةٌ فِيْ دِمَاۤئِكُمْ يَشْفِيْۤ اَبْنَاۤءُ الْعَوَاهِرِ غَلِيْلَ الْفِسْقِ مِنْ وَرَعِكُمْ وَ غَيْظَ الْكُفْرِ مِنْ اِيْمَانِكُمْ، وَ اَنْتُمْ بَيْنَ صَرِيْعٍ فِي الْمِحْرَابِ قَدْ فَلَقَ السَّيْفُ هَامَتَهُ وَ شَهِيْدٍ
اے خدا اے وہ صاحب قدرت جس کی قدرت سے علم پیدا ہوا اور جس کے سایۂ عظمت میں اس کی تخلیق ہوئی اور اس کی صنعت کے شواہد کل عالم میں گویا ہو گئے کہ تو وہ اللہ ہے جس کے علاوہ کوئی اللہ نہیں ہے۔ تو ہی ایجاد کرنے والا، چیز خلق کرنے والا اور لا شئی سے شئی پر اور نہ کسی شئی میں اور نہ کسی وحشت کی بنا پر جو تیرے دل میں رہی ہو کہ اس وقت جب کوئی اور نہ تھا اور نہ کسی حاجت کی بنا پر جو اس کی ایجاد میں پیش آئی ہو اور نہ بعد کی تخلیقات کے لئے مدد لینے کے لئے بلکہ تو نے کائنات کو پیدا کیا تاکہ اس بات کی دلیل بنے کہ تو مخلوقات سے الگ ہے۔ عقل سے انصاف کرنے والا تیرا انکار نہیں کر سکتا ہے اور صحیح معرفت رکھنے والا تجھ سےمنکر نہیں ہو سکتا ہے میرا سوال تجھ سے اخلاص و توحید کے شرف کے واسطہ سے اور تیری کتاب کے تعلق حرمت سے اور تیرے اہلبیتؑ نبی کے واسطے یہ ہے کہ تو رحمت نازل فرما آدمؑ پر جو تیری جدید ترین مخلوق اور تیری پہلی حجت تھے۔ تیری قدرت کی زبان اور مخلوقات میں تیرے خلیفہ تھے اور حضرت محمدؐ پر جو تیرے مخلصین بندہ تھے تیری معرفت کی وضاحت کرنے والے اور تیرے دریائے حکمت کے شناور تھے جنھیں تیرے غیبی اسرار کا امین بنایا گیا تھا ان نعمتوں کی بنا پر جو تو نے انھیں اپنی امداد سے عنایت فرمائیں اور مجھے ان دونوں کے درمیان آنے والے تمام انبیاء محترم افراد، اوصیاء اور صدیقین پر اس امام کے طفیل میں مجھ پر عنات فرما۔
فَوْقَ الْجِنَازَةِ قَدْ شُكَّتْ اَكْفَانُهُ بِالسِّهَامِ وَ قَتِيْلٍ بِالْعَرَاۤءِ قَدْ رُفِعَ فَوْقَ الْقَنَاةِ رَأْسُهُ وَ مُكَبَّلٍ فِيْ السِّجْنِ قَدْ رُضَّتْ بِالْحَدِيْدِ اَعْضَاۤؤُهُ وَ مَسْمُوْمٍ قَدْ قُطِّعَتْ بِجُرَعِ السَّمِّ اَمْعَاۤؤُهُ وَ شَمْلُكُمْ عَبَادِيْدُ تُفْنِيْهِمُ الْعَبِيْدُ وَ اَبْنَاۤءُ الْعَبِيْدِ فَهَلِ الْمِحَنُ يَا سَادَتِيْ اِلَّا الَّتِيْ لَزِمَتْكُمْ وَ الْمَصَاۤئِبُ اِلَّا الَّتِيْ عَمَّتْكُمْ وَ الْفَجَاۤئِعُ اِلَّا الَّتِيْ خَصَّتْكُمْ وَ الْقَوَارِعُ اِلَّا الَّتِيْ طَرَقَتْكُمْ صَلَوَاتُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ عَلٰۤى اَرْوَاحِكُمْ وَ اَجْسَادِكُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ۔
(اس کے بعد رخساروں کو ضریح سے مس کر کے کہے)
خدایا اس آقا کے مرتبہ کا واسطہ جو تیری اطاعت میں ہے اور اس کی منزلت کا واسطہ جو تیرے نزدیک ہے میری موت ناگہانی نہ ہو اور مجھے توبہ سے محروم نہ رکھنا۔ مجھے توفیق دے کہ دین و دنیا میں محرمات سے پرہیز کروں اور طلب دنیا کے بجائے آخرت میں مشغول رہوں اور مجھے توفیق کے جو تیرا محبوب اور پسندیدہ عمل ہو وہ انجام دوں اور مجھے محفوظ رکھنا خواہشات کی اتباع اور باطل امور غلط تمناؤں کے فریب سے خدایا میرے قول میں راستی، میرے عمل میں درستگی اور میرے ضمانت اور وعدہ میں صداقت و وفا عطا فرما اور مجھے حفاظت و انس عطا فرما جو میرے عہد اور وعدہ سے ملے ہوئے ہوں۔ نیکی اور احسان کو میرے اخلاق میں قرار دےاور سلامتی کو میرے شامل حال کر دے عافیت کو مجھ پر محیط بنا دے اپنی بہترین عنایت اور اعانت کو میری طرف موڑ دے اور اپنے حسن توفیق اور سہولت عمل کو میرے لئے وافر بنا دے۔ مالک مجھے زندہ رکھنا سعادت کے ساتھ اور اٹھا لینا شہادت کے ساتھ۔ مجھے موت اور اس کے بعد کے لئے پاک و پاکیزہ بنا دے۔ خدایا صحت و نور کو میری سماعت و بصارت میں، نیکی اور خیر کو میرےراستوں میں، ہدایت و بصیرت کو میرے دین و مذہب میں قرار دے دے۔ میزان اعمال ہمیشہ میرے پیش نظر رہے۔ ذکر و موعظہ میرا شعار و طریقۂ حیات رہے۔ فکر و عبرت میرے لئے وسیلہ انس رہے اور یقین کو میرے قلب میں ثابت بنا دے اور اسےمیرے نفس میں مستحکم ترین شئی قرار دے۔ اے میری رائے اور عزم پر غالب بنا دے۔ میرے عمل میں ہدایت عطا فرما دے اور تیرے سامنے سپردگی اور تسلیم کو میرا سہارا بنا دے۔ تیرے قضا و قدر سے راضی رہنے کو میری ہمتوں کی آخری منزل بنا دے تا کہ میں تیرے علاوہ اپنے دین میں کسی سے خوفزدہ نہ ہوں اور آخرت کےعلاوہ کسی چیز کا طلبگار نہ ہوں اور لوگوں سے مدح و ثنا کی خواہش نہ کروں اور پروردگار میری عاقبت کو بہترین عاقبت اور میرے انجام کو بہترین انجام میری زندگی کو لذیذ ترین زندگی اور میری ہدایت کو بہترین ہدایت اور میرے حصہ کو وافی ترین حصہ اور میرے نصیب کو عظیم ترین مقدر قرار دےدے۔ خدایا تو میرے لئے ہر برائی میں ولی بن جا۔ہر خیر کا دلیل و قائد اور ہر باغی و حاسد کےمقابلہ میں میرا مددگار ہو جا۔ خدایا میری آمادگی، میری حفاظت، میرا اعتبار، میری توفیق، میری قوت و طاقت، سب تیرے ذریعہ ہے۔ میری موت و حیات تیرے لئے ہے میرے حرکت و سکون تیرے قبضہ میں ہیں۔ میں تیری ریسمان محکم سے متمسک ہوں اور وابستہ ہوں اور میرے جملہ امور میں میرا اعتماد و توکل صرف تیرے اوپر ہے۔ عذاب جہنم اور سفر سے نجات اخلاص کا طلبگار ہوں اور دار امن و کرامت میں اپنی آخری منزل چاہتا ہوں۔ میرے آقاؤں اور مولاؤں اولاد مصطفیٰ کے ہاتھوں میری کامیابی اور میرا سکون ہے۔ خدایا محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما اور تمام مومنین و مومنات اور مسلمین و مسلمات کو معاف کردے۔ مجھے میرے ماں باپ، اولاد، اہل خانہ، ہمسایہ اور جس نے بھی مومنین و مومنات سے مجھ پر کوئی احسان کیا ہے سب کی مغفرت فرما کہ تو عظیم فضل والا ہے۔
بِاَبِيْۤ اَنْتُمْ وَ اُمِّيْ يَا اٰلَ الْمُصْطَفٰىۤ اِنَّا لَا نَمْلِكُ اِلَّا اَنْ نَطُوْفَ حَوْلَ مَشَاهِدِكُمْ وَ نُعَزِّيَ فِيْهَاۤ اَرْوَاحَكُمْ عَلٰى هٰذِهِ الْمَصَاۤئِبِ الْعَظِيْمَةِ الْحَآلَّةِ بِفِنَاۤئِكُمْ وَ الرَّزَايَا الْجَلِيْلَةِ النَّازِلَةِ بِسَاحَتِكُمُ الَّتِيْۤ اَثْبَتَتْ فِيْ قُلُوْبِ شِيْعَتِكُمُ الْقُرُوْحَ وَ اَوْرَثَتْ اَكْبَادَهُمُ الْجُرُوْحَ وَ زَرَعَتْ فِيْ صُدُوْرِهِمُ الْغُصَصَ فَنَحْنُ نُشْهِدُ اللّٰهَ اَنَّا قَدْ شَارَكْنَا اَوْلِيَاۤءَكُمْ وَ اَنْصَارَكُمُ الْمُتَقَدِّمِيْنَ فِيْۤ اِرَاقَةِ دِمَاۤءِ النَّاكِثِيْنَ وَ الْقَاسِطِيْنَ وَ الْمَارِقِيْنَ وَ قَتَلَةِ اَبِيْ عَبْدِ اللّٰهِ سَيِّدِ شَبَابِ اَهْلِ الْجَنَّةِ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَوْمَ كَرْبَلَاۤءَ بِالنِّيَّاتِ وَ الْقُلُوْبِ وَ التَّاَسُّفِ عَلٰى فَوْتِ تِلْكَ الْمَوَاقِفِ الَّتِيْ حَضَرُوْا لِنُصْرَتِكُمْ وَ عَلَيْكُمْ مِنَّا السَّلَامُ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ۔
اَللّٰهُمَّ يَا ذَا الْقُدْرَةِ الَّتِيْ صَدَرَ عَنْهَا الْعَالَمُ مُكَوَّنًا مَبْرُوْۤءًا عَلَيْهَا مَفْطُوْرًا تَحْتَ ظِلِّ الْعَظَمَةِ فَنَطَقَتْ شَوَاهِدُ صُنْعِكَ فِيْهِ بِاَنَّكَ اَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ مُكَوِّنُهُ وَ بَارِئُهُ وَ فَاطِرُهُ ابْتَدَعْتَهُ لَا مِنْ شَيْ‏ءٍ وَ لَا عَلٰى شَيْ‏ءٍ وَ لَا فِي شَيْ‏ءٍ وَ لَا لِوَحْشَةٍ دَخَلَتْ عَلَيْكَ اِذْ لَا غَيْرُكَ وَ لَا حَاجَةٍ بَدَتْ لَكَ فِيْ تَكْوِيْنِهِ وَ لَا لِاِسْتِعَانَةٍ مِنْكَ عَلَى الْخَلْقِ بَعْدَهُ بَلْ اَنْشَأْتَهُ لِيَكُوْنَ دَلِيْلًا عَلَيْكَ بِاَنَّكَ بَایِنٌ مِنَ الصُّنْعِ فَلَا يُطِيْقُ الْمُنْصِفُ لِعَقْلِهِ اِنْكَارَكَ وَ الْمَوْسُوْمُ بِصِحَّةِ الْمَعْرِفَةِ جُحُوْدَكَ اَسْاَلُكَ بِشَرَفِ الْاِخْلَاصِ فِيْ تَوْحِيْدِكَ، وَ حُرْمَةِ التَّعَلُّقِ بِكِتَابِكَ وَ اَهْلِ بَيْتِ نَبِيِّكَ اَنْ تُصَلِّيَ عَلٰۤى اٰدَمَ بَدِيْعِ فِطْرَتِكَ وَ بِكْرِ حُجَّتِكَ وَ لِسَانِ قُدْرَتِكَ وَ الْخَلِيْفَةِ فِيْ بَسِيْطَتِكَ وَ عَلٰى مُحَمَّدٍ ۟اِلْخَالِصِ مِنْ صَفْوَتِكَ وَ الْفَاحِصِ عَنْ مَعْرِفَتِكَ وَ الْغَاۤئِصِ الْمَأْمُوْنِ عَلٰى مَكْنُوْنِ سَرِيْرَتِكَ بِمَاۤ اَوْلَيْتَهُ مِنْ نِعْمَتِكَ بِمَعُوْنَتِكَ وَ عَلٰى مَنْ بَيْنَهُمَا مِنَ النَّبِيِّيْنَ وَ الْمُكَرَّمِيْنَ وَ الْاَوْصِيَاۤءِ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ وَ اَنْ تَهَبَنِيْ لِاِمَامِيْ هٰذَا۔
اَللّٰهُمَّ بِمَحَلِّ هٰذَا السَّيِّدِ مِنْ طَاعَتِكَ وَ بِمَنْزِلَتِهِ عِنْدَكَ لَا تُمِتْنِيْ فُجَاۤءَةً وَ لَا تَحْرِمْنِيْ تَوْبَةً وَ ارْزُقْنِيْ الْوَرَعَ عَنْ مَحَارِمِكَ دِيْنًا وَ دُنْيَا وَ اشْغَلْنِيْ بِالْاٰخِرَةِ عَنْ طَلَبِ الْاُوْلٰى وَ وَفِّقْنِيْ لِمَا تُحِبُّ وَ تَرْضٰى وَ جَنِّبْنِيْ اتِّبَاعَ الْهَوٰى وَ الْاِغْتِرَارَ بِالْاَبَاطِيْلِ وَ الْمُنٰى اَللّٰهُمَّ اجْعَلِ السَّدَادَ فِيْ قَوْلِيْ وَ الصَّوَابَ فِيْ فِعْلِيْ وَ الصِّدْقَ وَ الْوَفَاۤءَ فِيْ ضَمَانِيْ وَ وَعْدِيْ وَ الْحِفْظَ وَ الْاِيْنَاسَ مَقْرُوْنَيْنِ بِعَهْدِيْ وَ وَعْدِيْ وَ الْبِرَّ وَ الْاِحْسَانَ مِنْ شَأْنِيْ وَ خُلُقِيْ وَ اجْعَلِ السَّلَامَةَ لِيْ شَامِلَةً وَ الْعَافِيَةَ بِيْ مُحِيْطَةً مُلْتَفَّةً وَ لَطِيْفَ صُنْعِكَ وَ عَوْنِكَ مَصْرُوْفًا اِلَيَّ وَ حُسْنَ تَوْفِيْقِكَ وَ يُسْرِكَ مَوْفُوْرًا عَلَيَّ وَ اَحْيِنِيْ يَا
رَبِّ سَعِيْدًا، وَ تَوَفَّنِيْ شَهِيْدًا وَ طَهِّرْنِيْ لِلْمَوْتِ وَ مَا بَعْدَهُ اَللّٰهُمَّ وَ اجْعَلِ الصِّحَّةَ وَ النُّوْرَ فِيْ سَمْعِيْ وَ بَصَرِيْ وَ الْجِدَةَ وَ الْخَيْرَ فِيْ طُرُقِيْ وَ الْهُدٰى وَ الْبَصِيْرَةَ فِيْ دِيْنِيْ وَ مَذْهَبِيْ وَ الْمِيْزَانَ اَبَدًا نَصْبَ عَيْنِيْ وَ الذِّكْرَ وَ الْمَوْعِظَةَ شِعَارِيْ وَ دِثَارِيْ وَ الْفِكْرَةَ وَ الْعِبْرَةَ اُنْسِيْ وَ عِمَادِيْ وَ مَكِّنِ الْيَقِيْنَ فِيْ قَلْبِيْ وَ اجْعَلْهُ اَوْثَقَ الْاَشْيَاۤءِ فِيْ نَفْسِيْ وَ اغْلِبْهُ عَلٰى رَأْيِيْ وَ عَزْمِيْ وَ اجْعَلِ الْاِرْشَادَ فِيْ عَمَلِيْ وَ التَّسْلِيْمَ لِاَمْرِكَ مِهَادِيْ وَ سَنَدِيْ وَ الرِّضَا بِقَضَاۤئِكَ وَ قَدَرِكَ اَقْصٰى عَزْمِيْ وَ نِهَايَتِيْ وَ اَبْعَدَ هَمِّيْ وَ غَايَتِيْ حَتّٰى لَاۤ اَتَّقِيَ اَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ بِدِيْنِيْ وَ لَاۤ اَطْلُبُ بِهِ غَيْرَ اٰخِرَتِيْ وَ لَاۤ اَسْتَدْعِيَ مِنْهُ اِطْرَاۤئِيْ وَ مَدْحِيْ وَ اجْعَلْ خَيْرَ الْعَوَاقِبِ عَاقِبَتِيْ، وَ خَيْرَ الْمَصَاۤئِرِ مَصِيْرِيْ وَ اَنْعَمَ الْعَيْشِ عَيْشِيْ وَ اَفْضَلَ الْهُدٰى هُدَايَ وَ اَوْفَرَ الْحُظُوْظِ حَظِّيْ وَ اَجْزَلَ الْاَقْسَامِ قِسْمِيْ وَ نَصِيْبِيْ وَ كُنْ لِيْ
يَا رَبِّ مِنْ كُلِّ سُوْۤءٍ وَلِيًّا وَ اِلٰى كُلِّ خَيْرٍ دَلِيْلًا وَ قَاۤئِدًا وَ مِنْ كُلِّ بَاغٍ وَ حَسُوْدٍ ظَهِيْرًا وَ مَانِعًا اَللّٰهُمَّ بِكَ اعْتِدَادِيْ وَ عِصْمَتِيْ وَ ثِقَتِيْ وَ تَوْفِيْقِيْ وَ حَوْلِيْ وَ قُوَّتِيْ وَ لَكَ مَحْيَايَ وَ مَمَاتِيْ وَ فِيْ قَبْضَتِكَ سُكُوْنِيْ وَ حَرَكَتِيْ وَ اِنَّ بِعُرْوَتِكَ الْوُثْقَى اسْتِمْسَاكِيْ وَ وُصْلَتِيْ وَ عَلَيْكَ فِيْ الْاُمُوْرِ كُلِّهَا اعْتِمَادِيْ وَ تَوَكُّلِيْ وَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَ مَسِّ سَقَرَ نَجَاتِيْ وَ خَلَاصِيْ وَ فِيْ دَارِ اَمْنِكَ وَ كَرَامَتِكَ مَثْوَايَ وَ مُنْقَلَبِيْ وَ عَلٰۤى اَيْدِيْ سَادَتِيْ وَ مَوَالِيَّ اٰلِ الْمُصْطَفٰى فَوْزِيْ وَ فَرَجِيْۤ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ وَ الْمُسْلِمِيْنَ وَ الْمُسْلِمَاتِ وَ اغْفِرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيَّ وَ مَا وَلَدَا وَ اَهْلِ بَيْتِيْ وَ جِيْرَانِيْ وَ لِكُلِّ مَنْ قَلَّدَنِيْ يَدًا مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ اِنَّكَ ذُوْ فَضْلٍ عَظِيْمٍ۔