اَنْ تُصَلِّىَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ اَنْ تَفْعَلَ بِىْ كَذَا وَ كَذَا۔۔
تو رحمت فرما سرکار محمدؐ و آلؑ محمدؐپر اور میری یہ اور یہ حاجت پوری فرما
يَا مَنْ تَجَبَّرَ فَلَا عَيْنٌ تَرَاهُ
اے خدائے صاحبِ جبروت تجھے کوئی آنکھ دیکھ نہیں سکتی۔
يَا مَنْ تَعَظَّمَ فَلَا تَخْطُرُ الْقُلُوْبُ بِكُنْهِهِ
تو اتنا عظیم ہے کہ اس کی حقیقت کا تصوّر بھی نہیں ہوسکتا۔
يَا حَسَنَ الْمَنِّ
اے بہترین احسان کرنے والا
يَا حَسَنَ التَّجَاوُزِ
اے بہترین درگذر کرنے والا،
يَا حَسَنَ الْعَفْوِ
اے بہترین معاف کرنے والا،
يَا جَوَادُ يَا كَرِيْمُ
اے بہترین جواد و کریم،
يَا مَنْ لَا يُشْبِهُهُ شَىْءٌ مِّنْ خَلْقِهِ
اے وہ جس کی شبیہ دنیا کی کوئی شئی نہیں۔
يَا مَنْ مَنَّ عَلٰى خَلْقِهِ بِاَوْلِيَاۤئِهِ
اے وہ خدا جس نے اپنی مخلوقات پر اپنے اولیاء کے ذریعہ احسان کیا
اِذِارْتَضَيْهُمْ لِدِيْنِهِ
جس میں دین کے لیے منتخب لیا،
وَ اَدَّبَ بِهِمْ عِبَادَهُ
ان کے ذریعہ بندوں کی تادیب کی
وَ جَعَلَهُمْ حُجَجًا مَّنًّا مِّنْهُ عَلٰى خَلْقِهِ
اور انھیں اپنی حجّت قرار دیا۔
اَسْئَلُكَ بِحَقِّ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ
میں حسینؑ بن علیؑ کے واسطے سے
عَلَيْهِمَا السَّلَامُ
درود و سلام ہو ان پر
السِّبْطِ التَّابِعِ لِمَرْضَاتِكَ
جو تیری مرضی کے تابع
وَ النَّاصِحِ فِىْ دِيْنِكَ
اور تیرے دین کے لیے نافع
وَالدَّلِيْلِ عَلٰى ذَاتِكَ
اور تیری ذات کے لیے دلیل ہیں
اَسْئَلُكَ بِحَقِّهِ
ان کے واسطے سے اور ان کے حق کے واسطے سے سوال کرتا ہوں
وَ اُقَدِّمُهُ بَيْنَ يَدَىْ حَوَاۤئِجِىْ
اور اپنی حاجتوں میں انھیں مقدّم کرتا ہوں کہ