ENGLISH | اردو | Roman | Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
دعائے حفظ الايمان
(فرمائش کی بنا پر اس دعائے عدیلہ کا پڑھنا اور اس کے معانی کو ذہن میں رکھنا وقت موت کے انحراف حق سے بچنے کے لئے بہترین فائدہ بخش ہے البتہ یہ دعا معصومینؑ کی ہے یاکسی عالم نے اسے مرتب کیا ہے۔ اس سلسلے میں علم حدیث کے ماہر اور روایات و ارشاداتِ معصومینؑ کے جمع کرنے والے عالم خبیر اور صاحب بصیرت محدث ہمارے استاد الحاج مرزا حسین نوری رحمت اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ دعائے عدیلہ معروفہ جعفر ابن علم کی بنائی ہوئی ہے اور نہ کسی معصومؑ سے نقل ہوئی ہےاور نہ حافظان احادیث کی کتابوں میں اس کوئی وجود پا یا جاتا ہے۔البتہ وضح رہے کہ شیخ طوسیؒ نے محمد بن سلیمان دیلمی سے یہ روایت کی ہے کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عر ض کیا کہ آپ کے شیعوں میں یہ بات مشہور ہے کہ ایمان کی دو قسمیں ہیں۔ ایک مستقر و ثابت اور دوسرے زائل ہو جانے کا خطرہ ہے تو آپ مجھے کوئی ایسی دعا تعلیم کرے جس کے پڑھنے کے بعد میرا ایمان زائل نہ ہونے پائے تو آپ نے فرمایا کہ ہر نماز واجب کے بعد یہ دعا پڑھو۔)
رَضِيْتُ بِاللّٰهِ رَبًّا
میں خدا کے رب ہونے،
وَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهِ نَبِيًّا
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کے نبی ہونے،
وَ بِالْاِسْلَامِ دِيْنًا
اسلام کے دین ہونے،
وَ بِالْقُرْاٰنِ كِتَابًا
قرآن کےکتاب ہونے،
وَ بِالْكَعْبَةِ قِبْلَةً
کعبے کا قبلہ ہونے ،
وَ بِعَلِيٍّ وَلِيًّا وَ اِمَامًا
اور حضرت علی علیہ السلام کے ولی امام
وَ بِالْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ
اور حضرت حسنؑ و حسینؑ،
وَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ وَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ
علی بن الحسینؑ، محمؑد بن علیؑ،
وَ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَ مُوْسَى بْنِ جَعْفَرٍ
جعفرؑ بن محمدؑ، موسیٰؑ بن جعفرؑ،
وَ عَلِيِّ بْنِ مُوْسٰى وَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ
علیؑ بن موسیٰؑ، محمد بن علیؑ،
وَ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ وَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ
علیؑ بن محمدؑ، حسنؑ بن علیؑ ،
وَ الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ
اور حجت بن الحسنؑ کے پیشوا
صَلَوَاتُ اللّٰهِ عَلَيْهِمْ اَئِمَّةً
ہونے سے راضی اور مطمئن ہوں۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ رَضِيْتُ بِهِمْ اَئِمَّةً
خدایا میں ان کی امامت سے راضی ہوں تو ان کو
فَارْضَنِيْ لَهُمْ
مجھ سے راضی کر دے کہ
اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدِيْرٌ۔
تو ہر شئے پر قدرت اور اختیار رکھنے والا ہے۔