(مؤ لف کا بیان ہے کہ شیخ کفعمیؒ نے بلد الامین میں ایک مفصل دعا نقل کی ہے جس کا نام ہے دعائے فرج اور یہ دعائے توسل اسی کے ضمن میں نقل کی گئی ہے اور میرا خیال ہے کہ خواجہ نصیر الدینؒ کےدواز داہ امام بھی اسی دعائے توسل سے ماخوذ ہیں جن کو اس صلوات کے ساتھ جمع کر دیا گیاہے جو ایک بلیغ خطبہ میں ہے اور جس کو کفعمیؒ نے مصباح کے آخر میں نقل کیا ہے اور مرحوم سید علی خاں نے کلم طیب میں قبس المصباح شیخ صہرشتی سے یہ دعائے توسل اس شرح کے ساتھ نقل کی ہے جس کی اس مقام پر گنجائش نہیں ہے۔ بہرحال وہ دعائے فرج یہ ہے۔)
پروردگار رحمت نازل فرما حضرت محمدؐ اور ان کی دختر اور ان کے دونوں فرزندوں پر۔ میں انھیں کے وسیلہ سے دعا کرتا ہوں کہ اپنی اطاعت اور اپنی مرضی کے حصول میں میری مدد فرما اور مجھے اس عظیم منزل تک پہنچا دے جہاں تو نے اپنے کسی بھی ولی کوپہنچایا ہے اس لئے کہ تو ہی جواد بھی ہے اور کریم بھی ہے۔ خدایا میں تجھ سے امیرالمومنین علیؑ بن ابی طالب علیہ السلام کے حق کے واسطے سے دعا کرتا ہوں کہ میرے اوپر ظلم کرنے والوں اور مجھے دھوکہ اور اذیت دینے والوں اور مجھ سے بغض رکھنے والوں سے میرا نتقام لے لینا اور ہر ایک کے شر سے مجھے محفوظ رکھنا اے بہترین رحم کرنے والے۔ خدایا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ولی علیؑ بن الحسین علیہ السلام کے حق کے واسطے سے کہ تو مجھے سرکش شیطان اور دشمن سلطان کے شر سے بچا لینا جو مجھ پر کسی طرح بھی حملہ کر سکتا ہے اور اپنے لشکروں کو میرے خلاف کھڑ اکر سکتا ہے اس لئے کہ تو جواد و کریم بھی ہے اور عطا کرنے والا بھی ہے۔ خدایا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں حضرت محمدؑ بن علیؑ اور جعفرؑ بن محمدؑ علیہ السلام کے حق کے واسطے سے کے میری مدد فرما۔ میرے امور آخرت میں اپنی اطاعت اور مرضی کے ذریعے۔ اور مجھے اپنی منزل رضا تک پہنچا دینا کہ تو جو چاہے وہ کر سکتا ہے۔ خدایا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ولی موسیٰ بن جعفر علیہ السلام کے حق کے واسطے سے کہ مجھے تمام اعضاء و جوارح میں ظاہر و باطن سب میں عافیت فرما، اے جواد اے کریم۔ خدایا میں ےتجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ولی علیؑ بن موسیٰ الرضاؑ کے حق کے واسطے سے کہ مجھے صحرا میں، دریا میں، پہاڑ پر، بیابانوں میں، وادیوں میں، ہر جگہ ہر سفر میں ان تمام چیزوں سے محفوظ بنائے رکھنا جن کا خوف میرے دل میں پایا جاتا ہے۔ اس لئے کے تو مہربان بھی ہے اور کرم کرنے والا بھی ہے۔ خدایا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ولی حضرت محمدؑ بن علی علیہ السلام کے حق کے واسطے سے کے اپنے فضل و کرم سے مجھ پر مہربانی فرمانا اور وسعت رحمت عنایت فرمانا۔ میرے رزق کو وسیع بنا دینا۔ اپنے علاوہ سب سے بے نیاز بنا دینا۔ میری حاجتوں اور ان کی برآوری کو اپنے ہی ذمہ رکھنا کہ تو جو چاہے وہ کر سکتا ہے۔ خدایا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ولی حضرت علی بن محمد علیہ السلام کے حق کے واسطے سے کے میرے مدد کرنا فرائض کو ادا کرنے میں اور برادران مومن کے ساتھ نیک برتاؤ کرنے میں، ان مسائل کو میرے لئے آسان کر دے اور مجھے خیر عطا فرما اپنی اطاعت پر اپنے فضل سے میری مدد فرما اے مہربانی کرنے والے۔ خدایا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ولی حضرت حسنؑ بن علی علیہ السلام کے حق کے واسطے سے کہ تو امور آخرت میں میری مدد فرما، اپنی اطاعت اور رضا کے ذریعے اور مجھے آخرت میں اپنی رحمت سے سرور عطا فرما اے بہترین رحم کرنے والے۔ خدایا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ولی صاحب الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے حق کے واسطے سے کہ میری تمام امور میں مدد کرنا اور مجھے ہر موذی طاغی و باغی کے شر سے محفوظ رکھنا اور میری مدد کرنا کہ میں بے پناہ خستہ حال ہو چکا ہوں اور مجھے ہر دشمن، ہر ہم وغم اور ہر مرض سے بچا لینا اور مجھ سے اور میری اولاد سے اور میرے تمام اہل اور برادران سے اور جن کے مسائل کا میں ذمہ دار ہوں اور جو میرے خواص ہیں سب سے ظالموں کے شر کو دور فرما دینا۔ آمین یا رب العالمین۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى اِبْنَتِهِ وَعَلٰى اِبْنَيْهَا
پروردگار رحمت نازل فرما حضرت محمدؐ اور ان کی دختر اور ان کے دونوں فرزندوں پر۔
وَاَسْئَلُكَ بِهِمْ اَنْ تُعِيْنَنِىْ عَلٰى طَاعَتِكَ وَرِضْوَانِكَ
میں اُنھیں کے وسیلہ سے دعا کرتا ہوں کہ اپنی اطاعت اور اپنی مرضی کے حصول میں میری مدد فرما
وَاَنْ تُبَلِّغَنِىْ بِهِمْ اَفْضَلَ مَا بَلَّغْتَ اَحَدًا مِنْ اَوْلِيَاۤئِكَ
اور مجھے اس عظیم منزل تک پہنچا دے جہاں تو نے اپنے کسی بھی ولی کو پہنچایا ہے
اِنَّكَ جَوَادٌ كَرِيْمٌ
اس لیے کہ تو ہی جواد بھی ہے اور کریم بھی ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَسْئَلُكَ بِحَقِّ اَمِيْرِالْمُؤْمِنِيْنَ
خدایا میں تجھ سے دعا کرتا ہوں امیرالمومنینؑ
عَلِىِّبْنِاَبِيْطَالِبٍ عَلَيْهَالسَّلَامُ
علیؑ بن ابی طالب علیہ السلام کے حق کے واسطے سے
اِلَّا انْتَقَمْتَ بِهِ مِمَّنْ ظَلَمَنِىْ وَغَشَمَنِىْ
کہ میرا انتقام لے لینا میرے اوپر ظلم کرنے والوں اور مجھے دھوکہ
وَاٰذَانِىْ وَانْطَوٰى عَلٰى ذٰلِكَ
اور اذیت دینے والوں اور مجھ سے بُغض رکھنے والوں سے
وَكَفَيْتَنِىْ بِهِ مَؤُنَةَ كُلِّ اَحَدٍ
اور ہر ایک کے شر سے مجھے محفوظ رکھنا
يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
اے بہترین رحم کرنے والے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَسْئَلُكَ بِحَقِّ وَلِيِّكَ
خدایا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ولی
عَلِىِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ
علیؑ بن الحسین علیہ السلام کے حق کے واسطے سے کہ
اِلَّا كَفَيْتَنِىْ بِهِ مَؤُنَةَ كُلِّ شَيْطَانٍ مَرِيْدٍ
تو مجھے بچا لینا سرکش شیطان
وَسُلْطَانٍ عَنِيْدٍ
اور دشمن سلطان کے شر سے
يَتَقَوّٰى عَلَىَّ بِبَطْشِهِ
جو مجھ پر کسی طرح بھی حملہ کر سکتا ہے
وَيَنْتَصِرُ عَلَىَّ بِجُنْدِهِ
اور اپنے لشکروں کو میرے خلاف کھڑا کرسکتا ہے
اِنَّكَ جَوَادٌ كَرِيْمٌ
اس لیے کہ تو جواد و کریم بھی ہے
يَا وَهَّابُ۔
اور عطا کرنے والا بھی ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَسْئَلُكَ بِحَقِّ وَلِيَّيْكَ
خدایا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں
مُحَمَّدٍ بْنِ عَلِيٍّ وَجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ
حضرت محمدؑ بن علیؑ اور جعفرؑ بن محمدؑ علیہما السلام کے حق کے واسطے سے کے میری مدد فرما۔
اِلَّا اَعَنْتَنِىْ بِهِمَا عَلٰى اَمْرِ اٰخِرَتِىْ
میرے امور آخرت میں
بِطَاعَتِكَ وَرِضْوَانِكَ
اپنی اطاعت اور مرضی کے ذریعے۔
وَبَلَّغْتَنِىْ بِهِمَا مَا يُرْضِيْكَ
اور مجھے اپنی منزل رضا تک پہنچا دینا کہ
اِنَّكَ فَعَّالٌ لِمَا تُرِيْدُ۔
تو جو چاہے وہ کر سکتا ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّى اَسْئَلُكَ بِحَقِّ وَلِيِّكَ
خدایا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ولی
مُوْسَى بْنِ جَعْفَرٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ
موسیٰ بن جعفر علیہ السلام کے حق کے واسطے سے کہ
اِلَّا عَافَيْتَنِىْ بِهِ فِىْ جَمِيْعِ جَوَارِحِىْ
مجھے تمام اعضاء و جوارح میں
مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَابَطَنَ
ظاہر و باطن سب میں عافیت فرما،
يَا جَوَادُ يَا كَرِيْمُ۔
اے جواد اے کریم۔
اَللّٰهُمَّ اِنّى اَسْئَلُكَ بِحَقِّ وَلِيِّكَ
خدایا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ولی
الرِّضَا عَلِىِّ بْنِ مُوْسٰى عَلَيْهِ السَّلَامُ
علیؑ بن موسیٰ الرضاؑ کے حق کے واسطے سے کہ
اِلَّا سَلَّمْتَنِىْ بِهِ فِىْ جَمِيْعِ اَسْفَارِىْ
ہر سفر میں ان تمام چیزوں سے محفوظ بنائے رکھنا
فِى الْبَرَارِىْ وَالْبِحَارِ
جو صحرا میں، دریا میں،
وَالْجِبَالِ والْقِفَارِ
پہاڑ پر، بیابانوں میں،
وَالْاَوْدِيَةِ وَالْغِيَاضِ
وادیوں میں، جنگل میں
مِنْ جَمِيْعِ مَا اَخَافُهُ وَاَحْذَرُهُ
ہر جگہ جن کا خوف میرے دل میں پایا جاتا ہے۔
اِنَّكَ رَؤُفٌ رَحِيْمٌ۔
اس لیے کے تو مہربان بھی ہے اور کرم کرنے والا بھی ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَسْئَلُكَ بِحَقِّ وَلِيِّكَ
خدایا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ولی
مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ
حضرت محمدؑ بن علی علیہ السلام کے حق کے واسطے سے کہ
اِلَّا جُدْتَ بِهِ عَلَىَّ مِنْ فَضْلِكَ
اپنے فضل و کرم سے مجھ پر مہربانی فرمانا
وَتَفَضَّلْتَ بِهِ عَلىَّ مِنْ وُسْعِكَ
اور وسعت رحمت عنایت فرمانا۔
وَوَسَّعْتَ عَلَىَّ رِزْقَكَ
میرے رزق کو وسیع بنا دینا۔
وَاَغْنَيْتَنِىْ عَمَّنْ سِوَاكَ
اپنے علاوہ سب سے بے نیاز بنا دینا۔
وَجَعَلْتَ حَاجَتِىْ اِلَيْكَ
میری حاجتوں
وَقَضَاهَا عَلَيْكَ
اور ان کی برآوری کو اپنے ہی ذمہ رکھنا کہ
اِنَّكَ لِمَا تَشَاۤءُ قَدِيْرٌ۔
تو جو چاہے وہ کر سکتا ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَسْئَلُكَ بِحَقِّ وَلِيِّكَ
خدایا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ولی
عَلِىِّ بْنِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ
حضرت علی بن محمد علیہ السلام کے حق کے واسطے سے کہ
اِلَّا اَعَنْتَنِىْ بِهِ عَلٰى تَاْدِيَةِ فُرُوْضِكَ
میری مدد کرنا فرائض کو ادا کرنے میں
وَبِرِّ اِخْوَانِىَ الْمُؤْمِنِيْنَ
اور برادرانِ مومن کے ساتھ نیک برتاؤ کرنے میں،
وَسَهِّلْ ذٰلِكَ لِىْ وَاقْرُنْهُ بِالْخَيْرِ
ان مسائل کو میرے لئے آسان کر دے
وَاَعِنِّىْ عَلٰى طَاعَتِكَ
اور مجھے خیر عطا فرما اپنی اطاعت پر
بِفَضْلِكَ يَا رَحِيْمُ۔
اپنے فضل سے میری مدد فرما اے مہربانی کرنے والے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَسْئَلُكَ بِحَقِّ وَلِيِّكَ
خدایا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ولی
الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ
حضرت حسنؑ بن علی علیہ السلام کے حق کے واسطے سے کہ
اِلَّا اَعَنْتَنِىْ بِهِ عَلٰى اَمْرِ اٰخِرَتِىْ
تو امور آخرت میں میری مدد فرما،
بِطَاعَتِكَ وَرِضْوَانِكَ
اپنی اطاعت اور رضا کے ذریعے
وَسَرَرْتَنِىْ فِىْ مُنْقَلَبِىْ وَمَثْوَاىَ
اور مجھے آخرت میں اپنی رحمت سے سرور عطا فرما
بِرَحْمَتِكَ يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ ۔
اپنی رحمت سے اے بہترین رحم کرنے والے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَسْئَلُكَ بِحَقِّ وَلِيِّكَ وَحُجَّتِكَ
خدایا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ولی
صَاحِبِ الزَّمَانِ عَلَيْهِ السَّلَامُ
صاحب الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے حق کے واسطے سے کہ
اِلَّا اَعَنْتَنِىْ بِهِ عَلٰى جَمِيْعِ اُمُوْرِىْ
میری تمام امور میں مدد کرنا
وَكَفَيْتَنِىْ بِهِ مَؤُنَةَ كُلِّ مُوْذٍ وَطَاغٍ وَبَاغٍ
اور مجھے ہر موذی طاغی و باغی کے شر سے محفوظ رکھنا
وَاَعَنْتَنِىْ بِهِ فَقَدْ بَلَغَ مَجْهُوْدِى
اور میری مدد کرنا کہ میں بے پناہ خستہ حال ہو چکا ہوں
وَكَفَيْتَنِىْ بِهِكُلَّ عَدُوٍّ
اور مجھے ہر دشمن،
وَهَمٍّوَغَمٍّ وَدَيْنٍ
ہر ہم وغم اور ہر مرض سے بچا لینا
وَعَنِّىْ وَعَنْوُلْدِىْ وَ جَمِيْعِاَهْلِىْ وَاِخْوَانِىْ
اور مجھ سے اور میری اولاد سے اور میرے تمام اہل اور برادران سے
وَمَنْ يَعْنِيْنِىْ اَمْرُهُ وَخَآصَّتِىْ
اور جن کے مسائل کا میں ذمّہ دار ہوں اور جو میرے خواص ہیں سب سے ظالموں کے شر کو دور فرما دینا۔
اٰمِيْنَ رَبَّ الْعَالَمِيْنَ۔
آمین یا رب العالمین۔