ENGLISH | اردو | Roman | Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
دعائے ندبہ
امر اوّل دعائے ندبہ جس کو چاروں عیدوں میں پڑھنا مستحب ہے۔ عید فطر، عید قربان، عید غدیر اور روز جمعہ۔ )
(وہ دعا یہ ہے۔)
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
ساری تعریف اللہ کے لئے ہے جو عالمین کا پروردگار ہے اور خدا رحمت نازل کرےہمارے سردار اور پیغمبر حضرت محمدؐاور ان کی آل پر اور ان پر سلام ہو۔ خدایا تیری حمد ان تمام فیصلوں پر جو تیرے اولیاء کے بارے میں جاری ہوئے ہیں۔ جن کو تو نے اپنے لئے خالص اور منتخب قرار دیا ہے اور اپنے دین کے لئے چن لیاہے جب کہ تو نے ان کے لئے ان بہترین اور دائمی نعمتوں کو اختیار کیا ہے جو تیری بارگاہ میں ہیں اور ان کے لئے ان بہترین اور دائمی نعمتوں کو اختیار کیا ہے جو تیری بارگاہ میں ہیں اور ان کے لئے ان بہترین اور دائمی نعمتوں کو اختیار کیا ہے جو تیری بارگاہ میں ہیں اور ان کے لئے کوئی زوال اور اضمحلال نہیں ہے اس کے بعد کہ تو نے ان سے ان دنیائے دنی کے درجات میں اور اس کی آرائش و زیبائش کے سلسلہ زہد کی شرط کر لی اور انھوں نے تجھ سے اس بات کا وعدہ کر لیا اور تجھے معلوم تھا کہ وہ اپنے وعدہ کو وفا کریں گے۔ تو تو نے انھیں قبول کر لیا اور اپنے سے قریب تر بنا لیا اور ان کے لئے بلند ترین ذکر اور واضح تعریف کو پیش کر دیا اور ان کےیہاں اپنے ملائکہ کو اتار دیا اور انھیں اپنی وحی کے ذریعہ محترم بنا دیا۔ اور اپنے علم سے نواز دیا اور انھیں اپنی بارگاہ کے لئے ذریعہ اور اپنی رضا کے لئے وسیلہ قرار دے دیا۔ ان میں سے بعض کو اپنی جنت میں ساکن بنایا اور پھر انھیں وہاں سے رخصت کر کے دنیا میں بھیج دیا۔ اور بعض کو اپنی کشتی میں سوار کر کے انھیں اور ان کے ساتھیوں کو ہلاکت سے اپنی رحمت کے ذریعہ نجات دے دی اور بعض کو اپنے لئے خلیل بنا لیا۔ اور انھوں نے آخری دور میں صداقت کی زبان کا سوال کیا تو تو نے ان کی دعا کو قبول کر لیا اور اسے بلند و بالا قرار دے دیا اور بعض سے درخت کے ذریعہ کلام کیا اور ان کے لئے ان کے بھائی کو پشت پناہ اور بوجھ ہٹانے والا قرار دے دیا اور بعض کو بغیر باپ کے پیدا کر دیا۔ اور انھیں واضح نشانیاں عطا کر دیں اور روح القدس کے ذریعہ ان کی تائید کر دی اور ہر ایک کے لئے ایک شریعت اور ایک طریقہ حیات مقرر کر دیا اور ان کے لئے اولیاء منتخب کیا۔ جو ایک کے بعد ایک دین کے محافظ ہے ایک مدت سے دوسری مدت تک اپنے دین کو قائم کرنے اور اپنے بندوں پر اپنی حجت کو تمام کرنے کے لئے اور اس لئے کہ حق اپنے مرکز سے ہٹنے نہ پائے اور باطل اہل حق پر غالب نہ آنے پائے اور کوئی شخص یہ نہ کہنے پائےکہ تو نے ہماری طرف ڈرانے والا رسول کیوں نہ بھیج دیا اور ہمارے لئے نشان ہدایت کیوں نہ قائم کر دیا۔ کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے تیری آیتوں کا اتباع کر لیتے یہاں تک کہ تیرے امر کا سلسلہ تیرے حبیب تیرے شریف بندے محمد مصطفیٰؐ تک پہنچ گیا خدا ان پر اور ان کی آل پر رحمت نازل کرے وہ ویسے ہی شریف تھے جیسے تو نے انھیں بنایا تھا تمام مخلوقات کے سردار اور تمام منتخب بندوں میں منتخب اور تمام چنے ہوئے بندوں سے افضل اور تمام معتبر افراد مکرم و محترم تو نے انھیں تمام انبیاء پر مقدم قرار دیا اور انھیں تمام انس و جن کی طرف مبعوث کیا اور ان کے لئے تمام مشرق و مغرب کو ہموار کر دیا اور براق کو مسخر کر دیا اور انھیں اپنے آسمان کی بلندیوں تک لے گیا اور تمام ماضی اور مستقبل کے علوم کا خزانہ دار بنا دیا اور دنیا کے خاتمہ تک اس کے بعد رعب و خوف کے ذریعہ ان کی مدد کی اور جبرئیل ومیکائیل اور ان تمام فرشتوں کے ذریعہ محفوظ بنا دیا جن پر تیری نمائندگی کی نشانیاں تھیں اور تو نے ان سے وعدہ کیا کہ ان کے دین کو تمام ادیان پر غالب بنائے گا چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار گزرے اور یہ سب اس وقت ہوا جب تو نے انھیں صداقت کے مرکز پر مستقر کر دیا اور ان کے لئے اور ان کے اہل کے لئے اس پہلے گھر کو قرار دیا جسے تمام انسانوں کے لئے بنایا گیا ہے اور جو مکہ میں ہے اور بابرکت اور عالمین کے لئے ہدایت ہے اس میں کھلی ہوئی نشانیاں اور مقام ابراہیم ہے اور جو اس میں داخل ہو جائے وہ محفوظ ہو جاتا ہے اور تو نے اعلان کر دیا ہے اے اہلبیتؑ اللہ کا ارادہ بس یہ ہے کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور تمھیں اس طرح پاک و پاکیزہ قرار دے جو پاکیزگی کا حق ہے اس کے بعد تو نے مرکز رحمت محمدؐ و آل محمدؐ کا اجر اپنی کتاب میں ان کی مودت کو قرار دے کراعلان کر دیا اے پیغمبرؐ کہہ دو کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا علاوہ اس کے کہ میرے قرابت داروں سے محبت کرو اور تو نے کہہ دیاکہ میں نے جو اجر مانگا ہے وہ تمہارے فائدہ کے لئے ہے اور کہہ دیا کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا مگر وہ شخص کہ جو اللہ کی طرف راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔ تو یہ سب تیری بارگاہ کے لئے راہِ ہدایت اور تیری رضا کے لئے بہترین مسلک بن گئے پھر جب ان کے دن تمام ہو گئے تو انھوں نے اپنے ولی علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو قوم کا ہادی مقرر کر دیا اس لئے خود عذابِ الٰہی سے ڈرانے والے تھےاور ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہے۔ انھوں نے مجمع عام کے سامنے اعلان کر دیاجس کا میں مولا ہوں اس کا یہ علی بھی مولا ہے۔ خدایا جو اسے دوست رکھے اسے دوست رکھ اور جو اسے دشمن کرے اسے دشمن رکھ اور جو اس کی مدد کرے اس کی مدد کر اور جو ا س کو چھوڑ دے اسے نظر انداز کر اور رسولؐ نے اعلان کیا کہ جس کا میں نبی ہوںاس کے علی امیر ہیں ار فرمایا کہ میں اور علیؑ ایک ہی شجر سے ہیں اور تمام لوگ مختلف شجروں سے ہیں اور علیؑ کو موسیٰ کے لئے ہارونؑ کی منزل پر قرار دیا اور ان سے کہا کہ تم میرے لئے ویسے ہی ہو جیسے موسیٰ کے لئے ہارون تھے صرف میرے بعد نبی نہ ہو گا اور پھر اپنی بیٹی سردار نساء عالمین کا ان سے عقد کر دیا اور ان کے لئے مسجد میں وہ سب حلال کر دیا جو خود ان کے لئے حلال تھا اور ان کے دروازے کے علاوہ سب کے دروازے بند کر دیئے پھر انھیں علم و حکمت کا خزانہ دار بنا دیا اور اعلان کیا کہ میں شہر علم ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ ہے تو جو شہر میں داخل ہونا چاہے اسے دروازہ پر آنا چاہیئے پھر فرمایا کہ یا علیؑ تم میرے بھائی، وصی اور وارث ہو۔ تمہارا گوشت میرے گوشت سے تمہارا خون میرے خون سے ہے تمہاری صلح میری صلح ہے اور تمہاری جنگ میری جنگ ہے۔ اور ایمان تمہارے گوشت اور خون میں اس طرح پیوست ہے جس طرح میرے گوشت اور خون میں ہےاور تم کل حوض کوثر پر میرے جانشین ہو گے اور تم میرے قرض کو ادا کرو گے۔ اور میرے وعدوں کو پورا کرو گے۔ اور تمہارے شیعہ نور کے منبر پر ہوں گے ان کے چہرے تابناک ہوں گے وہ میرے گروہ جنت میں میرے ہمسایہ ہوں گے۔ اور اے علیؑ اگر تم نہ ہوتے تو میرے بعد مومنین کی شناخت کبھی نہ ہو سکتی اور وہ پیغمبر کے بعد گمراہی میں ہدایت اور تاریکی میں نور اللہ کی مضبوط ریسمان ہدایت اور اس کا سیدھا راستہ تھے۔ان سے کوئی آگے نہیں بڑھ سکتا نہ رشتہ داری کی قرابت میں اور نہ دین کے سوابق میںاور کوئی ان کو ان کے مناقب میں پا بھی نہیں سکتا ہے وہ ہر امر میں رسولؐ اکرم کے نقش قدم پر تھے ان دونوں اور ان کی اولاد پر رحمت نازل کرے۔اور وہ تاویل قرآن یہ اس شان سے جہاد کرتے تھے کہ اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں تھی۔ انھوں نے اس راہ میں عرب کے سرداروں کو زیر کیا ان کے بہادروں کو قتل کیا ان کے بھیڑیوں کو فنا کر دیا تو ان کے دلوں میں بدر اور خیبر اور حنین وغیرہ کے کینے ذخیرہ ہو گئے اور انھوں نے ان کی عداوت پر اتفاق کر لیا اور ان سے مقابلہ پر سر جوڑ کر متحد ہوگئے یہاں تک کہ بیعت توڑنے والوں، دشمنانِ اسلام کو مقابلہ پر لانے والوں اور دین سے نکل جانے والوں کو قتل کر دیااور جب اپنی مدت حیات پوری کر لی اور انھیں دور آخر کے بدترین انسان نے قتل کر دیا دور قدیم کے بدترین انسان کا تابع تھا تو پھر رسولؐ اکرم کے حکم کی ہدایت کرنے والوں کے بارے میں ایک کے بعد ایک مخالفت ہوتی رہی اور امت ان کی ناراضگی پرمصر اور ان سے تعلقات قطع کرلینے اور ان کی اولاد کو دور کر دینے پر متفق رہی علاوہ ان چند افراد کے جنھوں نے آل رسولؐ کے بارے میں حق کی رعایت کے لئے وفاداری سے کام لیا تو جو قتل کئے گئے وہ قتل کر دیئے گئے اور جو گرفتار کئے گئے وہ گرفتار کر لئے گئےاور جو دربدر کر دیئے گئے اوران کے حق میں فیصلہ الٰہی اس طرح جاری ہوا جس میں بہترین ثواب کی امید کی جاتی ہے۔ اس لئے کہ زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں کو جس کو چاہتا ہے اس کا وارث قرار دیتا ہے اور آخرت صرف صاحبانِ تقویٰ کے لئے ہے۔ اور ہمارا پروردگار پاک و بے نیاز ہے۔ اس کا وعدہ بہرحال پورا ہونے والا ہے وہ ہرگز اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا اور وہ صاحبِ عزت اور صاحبِ حکمت ہے تو اب حضرت محمدؐ و علیؑ کے اہلبیتؑ کے پاکیزہ کردار افراد (خدا ان دونوں اور ان کی اولاد پر رحمت نازل کرے)پر رونے والوں کو رونا چاہیئے اور انھیں پر ندبہ کرنے والوں کو ندبہ کرنا چاہیئے اور انھیں جیسے افراد کے مصائب پر آنسو بہانا چاہیئے اور فریاد کرنے والوں کو فریاد کرنا چاہیئے اور نالہ و شیون کرنے والوں کو نالہ و شیون اور شور گریہ بلند کرنا چاہیئے۔ کہاں ہیں حسنؑ اور کہاں حسینؑ۔ کہاں ہیں اولاد حسینؑ نیک کردار کے بعد نیک کردار صادق کے بعد صادق کہاں ہے راہ ہدایت کے بعد دوسرا راہ ہدایت کہاں ہے ایک منتخب کے بعد دوسرا منتخب روز گار کہاں ہے طلوع کرتے ہوئے آفتاب کہاں ہیں چمکتے ہوئے ماہتاب کہاں ہیں روشن ستارے کہاں ہیں دین کے لہراتے ہوئے آفتاب کہاں ہیں چمکتے ہوئے ماہتاب کہاں ہیں روشن ستارے کہاں ہیں دین کے لہراتے ہوئے پر چم اور علم کے مستحکم ستون کہاں ہے وہ بقیۃ اللہ جس سے ہدایت کرنے والی عترت پیغمبرؐ سے دنیا خالی نہیں ہو سکتی کہاں ہے وہ جسے سلسلہ ظلم کو قطع کرنے کے لئے مہیّا کیا گیاکہاں ہے جس کاکجی اور انحراف کو درست کرنے کے لئے انتظار کر رہا ہے۔ کہاں ہے وہ جس سے ظلم و تعدی کو زائل کرنے کی امیدیں وابستہ ہیں۔ کہاں ہے وہ جسےفرائض و سنن کی تجدید کے لئے ذخیرہ کیا گیا ہے۔ کہاں ہے وہ جسے مذاہب اور شریعت کو دوبارہ منظر عام پر لانے کے لئے منتخب کیا گیا۔کہاں ہے وہ جس سےکتاب اور خدا اور اس کے حدود کی زندگی کی امیدیں وابستہ ہیں۔ کہاں ہے دین اور اہل دین کے آثار کا زندہ کرنے والا کہاں ہے اہل ستم کی شوکت کی کمر توڑنے والا کہاں ہے شرک و نفاق کی کی عمارت کو منہدم کرنے والا کہاں ہے فسق و معصیت اور سر کشی کرنے والوں کو تباہ کرنے والاکہاں ہے گمراہی اور اختلاف کی شاخوں کا کاٹ دینے والا کہاں ہے انحراف اور خواہشات کے آثار کو محو کر دینے والا کہاں ہے کذب اورافترا پردازیوں کی رسیوں کو کاٹ دینے والا کہاں ہے سرکشوں اور باغیوں کو ہلاک کر نے والا کہاں ہے عناد و الحاد و گمراہی کے ذمہ داروں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینے والا کہاں ہے دوستوں کو عزت دینے والا اور دشمنوں کو ذلیل کرنے والا کہاں ہے تمام کلمات کو تقویٰ پر جمع کرنے والا کہاں ہےوہ دروازہ فضل خدا جس سے اس کی بارگاہ میں حاضرہوا جاتا ہے کہاں ہے وہ جو اللہ جس کی طرف اس کے دوست متوجہ ہوتے ہیں کہاں ہے وہ سلسلہ جو زمین و آسمان کا اتصال قائم کرنے والا ہے۔ کہاں ہے وہ جو روز فتح کا مالک ہے اور پر چم ہدایت کا لہرانے والا ہے کہاں ہے وہ جو نیکی اور رضا کے منتشر اجزاء کو جمع کرنے والا ہےکہاں ہے انبیاء اور اولاد انبیاء کے خون ناحق کا بدلہ لینے والاکہاں ہے شہید کربلا کے خونِ ناحق کا مطالبہ کرنے والا کہاں وہ جس کی ظلم اور افترا کرنے والے کے مقابلہ میں مدد کی جانے والی ہےکہاں ہے وہ مضطر جس کی دعا مستجاب ہونے والی ہے وہ جب بھی دعا کرے کہاں ہے ساری مخلوقات کا سربراہ صاحب صلاح و تقویٰ کہاں ہے رسول مصطفےٰؐ کا فرزند اور علی مرتضیٰ کا دلبر اور خدیجہ کا نور نظر اور فاطمہ کبریٰ کا لخت جگر تجھ پر میرے ماں باپ قربان اور میرا نفس تیرے لئے سپر اور محافظ ہے اے مقرب سرداروں کے فرزند اے مکرم اشراف کے فرزند اے ہدایت یافتہ ہدایت کرنے والوں کے فرزند اے مہذب اور پاکیزہ خصال منتخب افراد کے فرزند اے شریف ترین بزرگوں کے فرزنداے پاکیزہ اور طیب حضرات کے فرزند اے منتخب روزگار سرداروں کے فرزنداے مکرم اور محترم ہدایت کے مناروں کے فرزند اے چمکتے ہوئے ماہتابوں کے فرزند اے روشن چراغوں کے فرزند اے ضو دیتے ہوئے شہابوں کے فرزند اے تابناک ستاروں کے فرزند اے واضح راہ ہائے ہدایت کے فرزند۔ اے روشن پرچم ہائے دین کے فرزند اے کامل علوم کے فرزند اے سنن کے فرزند۔ اے ماثور آثار و دین کے فرزند اے موجود معجزات کے فرزند اے واضح دلائل کے فرزند اے صراطِ مستقیم کے فرزند اے ضیاء عظیم کے فرزند اے اس کے فرزند جو کتاب خدا میں خدا کے نزدیک علی اور حکیم ہے۔ اے آیات و بیّنات کے فرزند۔ اے ظاہر اور روشن دلائل کے فرزند اے واضح اور ظاہر برہانوں کےفرزند اے کامل دلیلوں کے فرزند اے وسیع ترین نعمتوں کے فرزند اے طٰہٰ و محکمات کے فرزند اے یٰسٓ اور ذاریات کے فرزند اے طور اور عادیات کے فرزند اے اس کے فرزند جو قرب خدا میں اس قدر بڑھاکہ دو کمانوں کا یا اس سے کم فاصلہ رہ گیا اور وہ خدائےعلی اعلیٰ سے قریب تر ہوتا چلا گیا اے کاش مجھے معلوم ہوتا کہ تیرا مستقر اور مرکز دوری نے کہاں پایا ہے اور کس زمین نے تجھے بسا رکھا ہے مقام رضویٰ ہے یا کوئی خط ارض یا مقام طویٰ ہے میرے لئے یہ بہت سخت ہے کہ دنیا کو دیکھوں اور تو نظر نہ آئےاور نہ تیری آواز سنوں نہ تیری گفتگو۔ میرے لئے یہ بہت سخت ہے کہ بلائیں احاطہ کئے رہیں اور تجھ تک نہ میری فریاد پہنچے اور نہ شکایت میری جان قربان تو ایسا غائب ہے جو کبھی مجھ سے الگ نہیں ہوا میری جان قربان تو ایسا بعید ہے جو کبھی ہم سے دور نہیں ہوا میری جان قربان تو ہر مشتاق کی آرزو ہے وہ مومن مرد یا عورت جس نے تجھے یاد کیا اور تجھ سے اظہار محبت کیا۔میری جان قربان تجھ عزت کے پاسبان پر جس کی برابری نہیں ہو سکتی میری جان قربان تجھ بزرگی کے بنیادی حصہ دار پر جس کا مقابلہ ممکن نہیں میری جان قربان تجھ نعمتوں کے قدیم ترین مرکز پر جس کی مماثلت نہیں ہو سکتی میری جان قربان تجھ شرف کے برابر کے شریک پر جس کی کوئی برابری نہیں کر سکتا۔ میرے مولا کب تک آپ کے بارے میں حیران و سرگرداں رہوں گا اور کس انداز سے تیرے بارے میں خطاب کروں گا اور کیسے راز و نیاز کروں گا میرے لئے یہ بہت سخت بات ہے کہ سب کا جواب سنوں اور تیرا جواب نہ سنوں۔ یہ بڑی سخت منزل ہے کہ میں گریہ کروں اور دنیا تجھے نظر انداز کر دے۔میرے لئے یہ بہت سخت بات ہے کہ سارے حالات و مصائب صرف تجھ ہی پر گزرتے رہیں یا کوئی میرا مددگار ہے جس کے ساتھ مل کر گریہ و زاری کروں یا کوئی فریادی ہے جس کی تنہائی میں اس کی مساعدت کروں کیا کوئی اور آنکھ ہے جس میں خش و خاشاک ہوں تو میں اس کا بے چینی میں ساتھ دے سکوں کیا فرزند رسول کیا کوئی تیرا کوئی راستہ ہے جو تیری منزل تک پہنچا سکے اور کیا ہمارا آج کے دن اپنے کل سےمتصل ہو گاکہ ہم اس سے استفادہ کر سکیں آخر ہم کب آپ کے سیراب کرنے والے چشموں پر وارد ہوں گے اور کب آب شیریں سے سیراب ہوں گے کہ اب پیاس کا عرصہ بہت طویل ہو گیا آخر کب ہماری صبح و شام آپ کی خدمت میں ہو گی کہ ہم اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کر سکیں کب آپ ہمیں اور ہم آپ کو دیکھیں گے کہ آپ نصر ت الٰہی کے پرچم کو لہرا رہے ہیں کب آپ دیکھیں گے کہ ہم آپ کے گرد حاضر ہیں اور آپ قوم کی قیادت کر رہے ہوں اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیا ہو اور دشمنوں کو ذلت اور عذاب کا مزہ چکھا دیا ہو اور سرکشوں اور حق کے منکروں کو ہلاک کر دیا ہو اور مغروروں کے سلسلہ کو قطع کر دیا ہو اور ظالموں کی جڑوں کو اکھا ڑ دیا ہو اور ہم کہہ رہے ہوں کہ ساری تعریف اللہ کے لئے ہے جو رب العالمین ہے خدایا رنج و غم او ربلاؤں کو دور کرنے والا ہے اور تجھ سے فریاد کرتےہیں کہ تیرے پاس مددکا سارا سامان ہے اور تو آخرت اور دنیا دونوں کا مالک ہے تو اے فریاد کرنے والوں کی فریاد رسی کرنے والے اپنے مصیبت زدہ بندے کی مدد کر اور اے مستحکم طاقت والے اسے اس کے مولا کی زیارت کرا دے اور اس کے رنج و غم اور درد تکلیف کو زائل کردے اور اس کی تشنگی کورفع کر دے اور اےوہ خدا جو عرش کا حاکم ہے اور جس کی طرف سب کی بازگشت اور انتہا ہے خدایا ہم تیرے بندے ہیں تیرے ولی کی زیارت کے مشتاق جو تجھے اور تیرے نبی کو یاد دلانے والا ہے اور جس کو تو نے ہمارے لئے پناہ گاہ اور سہارا بتایا ہے اور ہمارے لئے قیام کا ذریعہ اور پناہ کا سہارا بنا کر قائم کیا اور ہم میں کے صاحبان ایمان کے لئے امام بنایا تو اب ہماری طرف سے تحیت اور سلام پہنچا دے اور اس طرح ہمارے اعزاز میں اضافہ فرما اور ان کے مرکز کو ہمارا مرکز اور ہماری منزل قرار دے اور اپنی نعمت کواس طرح مکمل کر دے کہ انھیں ہمارے سامنے منظر عام پر لے آ یہاں تک کہ ہمیں اپنی جنت میں وارد کر دے اور اپنے مخلص شہیدوں کی رفاقت نصیب کر خدایا محمدؐ و آل محمدؐ پررحمت نازل کر اور صلوات نازل فرما حضرت محمد پر جو ان کے جد اور تیرے رسول سردار اکبر ہیں اور ان کے باپ پر جو سردار اصغر ہیں۔ اور ان کی جدہ ماجدہ جو صدیقہ کبریٰ فاطمہ بنت محمد ہیں اور جن کو بھی تو نے ان کے نیک کردار آباءو اجداد میں منتخب قرار دیا ہے۔ اور خودان پر بھی بہترین مکمل ترین تام تمام دائم و قائم اور کثیر و وافر صلوات جو تو نے کسی منتخب مختار اور چنے ہوئے بندے پر نازل کی ہے اور ان پروہ رحمت نازل کر جس کے عدد کے حد نہیں ہے اور جس کی مدت کی انتہا نہیں ہے اور جس کی وسعت کا خاتمہ نہیں ہے خدایا ان کے ذریعہ حق کا قائم کر اور باطل کو فنا کر دے۔ اپنے دوستوں کو بلندی عطا فرما اور اپنے دشمنوں کو ذلیل و رسوا کر اور ہمارے اور ان کے درمیان اس طرح کا رابطہ قائم کردے کہ اس کے نتیجہ میں ہمیں ان کے بزرگوں کی رفاقت حاصل ہو اور ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جوان کے دامن سے وابستہ ہوں اور ان کے سایہ میں پناہ لے سکیں۔ اور ہماری مدد کر کہ ہم ان کے حقوق کو ادا کر سکیں اور ان کی اطاعت کی کوشش کریں اوران کی نافرمانی سے پرہیز کریں۔ اور ہم پر یہ احسان کر کہ ان کی رضا حاصل ہو جائے۔ اور ہمیں ان کی مہربانی اور رحمت اور دعا اور خیر عطا فرما کہ جس سے ہم تیری وسیع رحمتوں کو حاصل کر سکیں اور تیرے نزدیک کامیاب ہو سکیں اور ہماری نماز کو ان کے ذریعہ مقبول بنا دے اور ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہماری دعا کومستجاب قرار دے اور ہمارے رزق کو وسعت عطا فرما اور ہمارے رنج و غم میں ہماری کفایت فرما اور ہماری حاجتوں کو پوری فرما اور ہماری طرف اپنے صاحب کرم چہرے سے توجہ فرما اور ہمارے تقرب کو قبول فرما اور ہماری طرف ایسی نظر کرم فرما جس کے ذریعہ ہم تیری بارگاہ میں عزت کی تکمیل کر سکیں اور اس کے بعد اپنے جود و کرم کے رخ کو ہماری طرف سے موڑنا اور ہمیں ان کے جد کے جام کوثر اور ان کے دست کرم سے مکمل طور پر سیراب فرما جس کے بعد پھر تشنگی نہ پیدا ہو اے سب سے زیادہ رحم و کرم کرنے والے۔
وَ صَلَّی اﷲُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ نَبِیِّهٖ
(پھر نماز زیارت بجا لائے جس طرح سے گذری اور جو چاہے دعا کرے۔انشہ تع پوری ہو گی۔)
وَ اٰلِهٖ وَ سَلَّمَ تَسْلِیْمًا
اَللّٰھُمَّ لَكَ الْحَمْدُ
عَلٰی مَا جَرٰی بِهٖ قَضَاۤئُكَ
فِیۤ اَوْلِیَاۤئِكَ الَّذِیْنَ اسْتَخْلَصْتَھُمْ لِنَفْسِكَ وَ دِیْنِكَ
اِذِ اخْتَرْتَ لَھُمْ جَزِیْلَ مَا عِنْدَكَ
مِنَ النَّعِیْمِ الْمُقِیْمِ
الَّذِیْ لَا زَوَالَ لَهٗ وَ لَا اضْمِحْلَالَ
بَعْدَ اَنْ شَرَطْتَ عَلَیْھِمُ الزُّھْدَ
فِیْ دَرَجَاتِ ھٰذِهِ الدُّنْیَا الدَّنِیَّۃِ
وَ زُخْرُفِھَا وَ زِبْرِجِھَا
فَشَرَطُوْا لَكَ ذٰلِكَ
وَ عَلِمْتَ مِنْھُمُ الْوَفَاۤءَبِهٖ
فَقَبِلْتَھُمْ وَ قَرَّبْتَھُمْ
وَ قَدَّمْتَ لَھُمُ الذِّكْرَ الْعَلِیَّ
وَ الثَّنَاۤءَالْجَلِیَّ
وَ اَھْبَطْتَ عَلَیْھِمْ مَلٰۤئِكَتِكَ
وَ كَرَّمْتَھُمْ بِوَحْیِكَ
وَ رَفَدْتَھُمْ بِعِلْمِكَ
وَ جَعَلْتَھُمُ الذَّرِیْعَۃَ اِلَیْكَ
وَالْوَسِیْلَۃَ اِلٰی رِضْوَانِكَ
فَبَعْضٌ اَسْكَنْتَهٗ جَنَّتَكَ
اِلٰیۤ اَنْ اَخْرَجْتَهٗ مِنْھَا
وَ بَعْضٌ حَمَلْتَهٗ فِیْ فُلْكِكَ
وَ نَجَّیْتَهٗ وَ مَنْ اٰمَنَ مَعَهٗ
مِنَ الْھَلَكَۃِ بِرَحْمَتِكَ
وَ بَعْضٌ اِتَّخَذْتَهٗ لِنَفْسِكَ خَلِیْلًا
وَ سَئَلَكَ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ فَاَجَبْتَهٗ
وَ جَعَلْتَ ذٰلِكَ عَلِیًّا
وَ بَعْضٌ كَلَّمْتَهٗ مِنْ شَجَرَۃٍ تَكْلِیْمًا
وَ جَعَلْتَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ رِدْءًا وَّ وَزِیْرًا
وَ بَعْضٌ اَوْلَدْتَهٗ مِنْ غَیْرِ اَبٍ
وَ اٰتَیْتَهٗ الْبَیِّنَاتِ
وَ اَیَّدْتَهٗ بِرُوْحِ الْقُدُسِ
وَ كُلٌّ شَرَعْتَ لَهٗ شَرِیْعَۃً
وَ نَھَجْتَ لَهٗ مِنْھَاجًا
وَ تَخَیَّرْتَ لَهٗ اَوْصِیَاۤءَ
مُسْتَحْفِظًا بَعْدَ مُسْتَحْفِظٍ
مِنْ مُدَّۃِ اِلٰی مُدَّۃٍ
اِقَامَۃً لِدِیْنِكَ
وَ حُجَّۃً عَلٰی عِبَادِكَ
وَ لِئَلَّا یَزُوْلَ الْحَقُّ عَنْ مَقَرِّهٖ
و َیَغْلِبَ الْبَاطِلُ عَلٰیۤ اَھْلِهٖ
وَ لَا یَقُوْلَ اَحَدٌ
لَوْلَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا مُّنْذِرًا
وَ اَقَمْتَ لَنَا عَلَمًا ھَادِیًا
فَنَتَّبِعَ اٰیَاتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَذِلَّ وَ نَخْزٰیۤ
اِلٰیۤ اَنِ انْتَھَیْتَ بِالْاَمْرِ اِلٰی حَبِیْبِكَ وَ نَجِیْبِكَ مُحَمَّدٍ
صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِ وَ اٰلِهٖ
فَكَانَ كَمَا انْتَجَبْتَهٗ
سَیِّدَ مَنْ خَلَقْتَهٗ
وَ صَفْوَۃَ مَنِ اصْطَفَیْتَهٗ
وَ اَفْضَلَ مَنِ اجْتَبَیْتَهٗ
وَ اَكْرَمَ مَنِ اعْتَمَدْتَهٗ
قَدَّمْتَهٗ عَلٰیۤ اَنْبِیَاۤئِكَ
وَ بَعَثْتَهٗ اِلٰی الثَّقَلَیْنِ مِنْ عِبَادِكَ
وَ اَوْطَاْتَهٗ مَشَارِقَكَ وَ مَغَارِبَكَ
وَ سَخَّرْتَ لَهُ الْبُرَاقَ
وَ عَرَجْتَ بِهٖ اِلٰی سَمَاۤئِكَ
وَ اَوْدَعْتَهٗ عِلْمَ مَا كَانَ
وَ مَا یَكُوْنُ اِلَی انْقِضَاۤءِ خَلْقِكَ
ثُمَّ نَصَرْتَهٗ بِالرُّعْبِ
وَ حَفَفْتَهٗ بِجَبْرَئِیْلَ وَ مِیْكَائِیْلَ
وَالْمُسَوِّمِیْنَ مِنْ مَلٰۤئِكَتِكَ
وَ وَعَدْتَهٗ اَنْ تُظْھِرَ دِیْنَهٗ عَلَی الدِّیْنِ كُلِّهٖ
وَ لَوْكَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ
وَ ذٰلِكَ بَعْدَ اَنْ بَوَّئْتَهٗ مُبْوَّءَصِدْقٍ مِنْ اَھْلِهٖ
وَ جَعَلْتَ لَهٗ وَ لَھُمْ اَوَّلَ بَیْتٍ
وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَكَّۃَ
مُبَارَكًا وَ ھُدًی لِّلْعَالَمِیْنَ
فِیْهِ اٰیَاتٌ بَیِّنَاتٌ
مَقَامُ اِبْرَاھِیْمَ
وَ مَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا
وَ قُلْتَ اِنَّمَا یُرِیْدُ اﷲُ لِیُذْھِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ
اَھْلَ الْبَیْتِ
وَ یُطَھِّرَكُمْ تَطْھِیْرًا
ثُمَّ جَعَلْتَ اَجْرَ مُحَمَّدٍ
صَلَوَاتُكَ عَلَیْهِ وَ اٰلِهٖ
مَوَدَّتَھُمْ فِیْ كِتَابِكَ
فَقُلْتَ قُلْ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا
اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی
وَ قُلْتَ مَا سَئَلْتُكُمْ مِنْ اَجْرٍ فَھُوَ لَكُمْ
وَ قُلْتَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ
اِلَّا مَنْ شَاۤءَاَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰی رَبِّهٖ سَبِیْلًا
فَكَانُوْا ھُمُ السَّبِیْلَ اِلَیْكَ
وَ الْمَسْلَكَ اِلٰی رِضْوَانِكَ
فَلَمَّا انْقَضَتْ اَیَّامُهٗ
اَقَامَ وَلِیَّهٗ عَلِیَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ
صَلَوٰتُكَ عَلَیْھِمَا وَ اٰلِھِمَا ھَادِیًا
اِذْ كَانَ ھُوَ الْمُنْذِرُ
وَ لِكُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ
فَقَالَ وَالْمَلَاُ اَمَامَهٗ
مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ
فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ
اَللّٰھُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ
وَ عَادِ مَنْ عَادَاهُ
وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهٗ
وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهٗ
وَ قَالَ مَنْ كُنْتُ اَنَا نَبِیَّهٗ فَعَلِیٌّ اَمِیْرُهٗ
وَ قَالَ اَنَا وَ عَلِیٌّ مِنْ شَجَرَۃٍ وَاحِدَۃٍ
وَ سَاۤئِرُ النَّاسِ مِنْ شَجَرٍ شَتّٰی
وَ اَحَلَّهٗ مَحَلَّ ھَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی
فَقَالَ لَهٗ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ھَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی
اِلَّاۤ اَنَّهٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ
وَ زَوَّجَهٗ ابْنَتَهٗ سَیِّدَۃَ نِسَاۤءِ الْعَالَمِیْنَ
وَ اَحَلَّ لَهٗ مِنْ مَسْجِدِهٖ مَا حَلَّ لَهٗ
وَ سَدَّ الْاَبْوَابَ اِلَّا بَابَهٗ
ثُمَّ اَوْدَعَهٗ عِلْمَهٗ وَ حِكْمَتَهٗ
فَقَالَ اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَ عَلِیٌّ بَابُھَا
فَمَنْ اَرَادَ الْمَدِیْنَۃَ وَ الْحِكْمَۃَ
فَلْیَاْتِھَا مِنْ بَابِھَا
ثُمَّ قَالَ اَنْتَ اَخِیْ وَ وَصِیِّیْ وَ وَارِثِیْ
لَحْمُكَ مِنْ لَحْمِیْ
وَ دَمُكَ مِنْ دَمِیْ
وَ سِلْمُكَ سِلْمِیْ
وَ حَرْبُكَ حَرْبِیْ
وَ الْاِیْمَانُ مُخَالِطٌ لَحْمَكَ وَ دَمَكَ
كَمَا خَالَطَ لَحْمِیْ وَدَمِیْ
وَ اَنْتَ غَدًا عَلَی الْحَوْضِ خَلِیْفَتِیْ
وَ اَنْتَ تَقْضِیْ دَیْنِیْ
وَ تُنْجِزُ عِدَاتِیْ
وَ شِیْعَتُكَ عَلٰی مَنَابِرَ مِنْ نُوْرٍ
مُبْیَضَّۃً وُجُوْھُھُمْ حَوْلِیْ فِی الْجَنَّۃِ
وَ ھُمْ جِیْرَانِیْ
وَ لَوْلَاۤ اَنْتَ یَا عَلِیُّ
لَمْ یُعْرَفِ الْمُؤْمِنُوْنَ بَعْدِیْ
وَ كَانَ بَعْدَهٗ ھُدًی مِنَ الضَّلَالِ
وَ نُوْرًا مِّنَ الْعَمٰی
وَ حَبْلَ ﷲِ الْمَتِیْنَ
وَ صِرَاطَهُ الْمُسْتَقِیْمَ
لَا یُسْبَقُ بِقَرَابَۃٍ فِیْ رَحِمٍ
وَ لَا بِسَابِقَۃٍ فِیْ دِیْنٍ
وَ لَا یُلْحَقُ فِیْ مَنْقَبَۃٍ مِنْ مَنَاقِبِهٖ
یَحْذُوْ حَذْوَ الرَّسُوْلِ
صَلَّی اﷲُ عَلَیْھِمَا وَ اٰلِھِمَا
وَ یُقَاتِلُ عَلَی التَّاْوِیْلِ
وَ لَا تَاخُذُهٗ فِی اﷲِ لَوْمَتُ لَاۤئِمٍ
قَدْ وَتَرَ فِیْهِ صَنَادِیْدَ الْعَرَبِ
وَ قَتَلَ اَبْطَالَھُمْ
وَ نَاوَشَ ذُؤْبَانَھُمْ
فَاَوْدَعَ قُلُوْبَھُمْ اَحْقَادًا
بَدْرِیَّۃً وَّ خَیْبَرِیَّۃً وَّ حُنَیْنِیَّۃً وَ غَیْرَ ھُنَّ
فَاَضَبَّتْ عَلٰی عَدَاوَتِهٖ
وَ اَكَبَّتْ عَلٰی مُنَابَذَتِهٖ
حَتّٰی قَتَلَ النَّاكِثِیْنَ وَ الْقَاسِطِیْنَ وَ الْمَارِقِیْنَ
وَ لَمَّا قَضٰی نَحْبَهٗ
وَ قَتَلَهٗ اَشْقَی الْاٰخِرِیْنَ یَتْبَعُ اَشْقَی الْاَوَّلِیْنَ
لَمْ یُمْتَثَلْ اَمْرُ رَسُوْلِ اﷲِ
صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِ وَ اٰلِهٖ
فِی الْھَادِیْنَ بَعْدَ الْھَادِیْنَ
وَ الْاُمَّۃُ مُصِرَّۃٌ عَلٰی مَقْتِهٖ
مُجْتَمِعَۃٌ عَلٰی قَطِیْعَۃِ رَحِمِهٖ
وَاِقْصَاءِ وُلْدِهٖ
اِلَّا الْقَلِیْلَ مِمَّنْ وَفٰی لِرِعَایَۃِ الْحَقِّ فِیْھِمْ
فَقُتِلَ مَنْ قُتِلَ
وَ سُبِیَ مَنْ سُبِیَ
وَ اُقْصِیَ مَنْ اُقْصِیَ
وَ جَرَی الْقَضَاۤءُ لَھُمْ
بِمَا یُرْجٰی لَهٗ حُسْنُ الْمَثُوْبَۃِ
اِذْ كَانَتِ الْاَرْضُ لِلّٰهِ
یُوْرِثُھَا مَنْ یَشَاۤءُ مِنْ عِبَادِهٖ
وَ الْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ
وَ سُبْحَانَ رَبِّنَاۤ
اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا
وَ لَنْ یُّخْلِفَ اﷲُ وَعْدَهٗ
وَ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
فَعَلَی الْاَطَاۤئِبِ مِنْ اَھْلِ بَیْتِ مُحَمَّدٍ وَ عَلِیٍّ
صَلَّی اﷲُ عَلَیْھِمَا وَ اٰلِھِمَا
فَلْیَبْكِ الْبَاكُوْنَ
وَ اِیَّاھُمْ فَلْیَنْدُبِ النَّادِبُوْنَ
وَ لِمِثْلِھِمْ فَلْتَذْرِفِ الدُّمُوْعُ
وَ الْیَصْرُخِ الصَّارِخُوْنَ
وَ یَضِجَّ الضَّآجُّوْنَ
وَ یَعِجَّ الْعَآجُّوْنَ
اَیْنَ الْحَسَنُ اَیْنَ الْحُسَیْنُ
اَیْنَ اَبْنَاۤءُ الْحُسَیْنِ
صَالِحٌ بَعْدَ صَالِحٍ
وَ صَادِقٌ بَعْدَ صَادِقٍ
اَیْنَ السَّبِیْلُ بَعْدَ السَّبِیْلِ
اَیْنَ الْخِیَرَۃُ بَعْدَ الْخِیَرَۃِ
اَیْنَ الشُّمُوْسُ الطَّالِعَۃُ
اَیْنَ الْاَقْمَارُ الْمُنِیْرَۃُ
اَیْنَ الْاَنْجُمُ الزَّاھِرَۃُ
اَیْنَ اَعْلَامُ الدِّیْنِ
وَ قَوَاعِدُ الْعِلْمِ
اَیْنَ بَقِیَّۃُ اﷲِ
الَّتِیْ لَا تَخْلُوْ مِنَ الْعِتْرَۃِ الْھَادِیَۃِ
اَیْنَ الْمُعَدُّ لِقَطْعِ دَابِرِ الظَّلَمَۃِ
اَیْنَ الْمُنْتَظَرُ لِاِقَامَۃِ الْاَمْتِ وَ الْعِوَجِ
اَیْنَ الْمُرْتَجٰی لِاِزَالَۃِ الْجَوْرِ وَ الْعُدْوَانِ
اَیْنَ الْمُدَّخَرُ لِتَجْدِیْدِ الْفَرَاۤئِضِ وَالسُّنَنِ
اَیْنَ الْمُتَخَیَّرُ لِاِعَادَۃِ الْمِلَّۃِ وَ الشَّرِیْعَۃِ
اَیْنَ الْمُؤَمَّلُ لِاِحْیَاۤءِ الْكِتَابِ وَ حُدُوْدِهٖ
اَیْنَ مُحْیِیْ مَعَالِمِ الدِّیْنِ وَ اَھْلِهٖ
اَیْنَ قَاصِمُ شَوْكَۃِ الْمُعْتَدِیْنَ
اَیْنَ ھَادِمُ اَبْنِیَۃِ الشِّرْكِ وَ النِّفَاقِ
اَیْنَ مُبِیْدُ اَھْلِ الْفُسُوْقِ
وَ الْعِصْیَانِ وَ الطُّغْیَانِ
اَیْنَ حَاصِدُ فُرُوْعِ الْغَیِّ وَ الشِّقَاقِ
اَیْنَ طَامِسُ اٰثَارِ الزَّیْغِ وَ الْاَھْوَاۤءِ
اَیْنَ قَاطِعُ حَبَاۤئِلِ الْكِذْبِ وَ الْاِفْتِرَاۤءِ
اَیْنَ مُبِیْدُ الْعُتَاۃِ وَ الْمَرَدَۃِ
اَیْنَ مُسْتَاْصِلُ اَھْلِ الْعِنَادِ وَ التَّضْلِیْلِ وَالْاِلْحَادِ
اَیْنَ مُعِزُّ الْاَوْلِیَاۤءِ وَ مُذِلُّ الْاَعْدَاۤءِ
اَیْنَ جَامِعُ الْكَلِمَۃِ عَلَی التَّقْوٰی
اَیْنَ بَابُ اﷲِ الَّذِیْ مِنْهُ یُؤْتٰی
اَیْنَ وَجْهُ اﷲِ الَّذِیۤ اِلَیْهِ یَتَوَجَّهُ الْاَوْلِیَاۤءُ
اَیْنَ السَّبَبُ الْمُتَّصِلُ بَیْنَ الْاَرْضِ وَ السَّمَاۤءِ
اَیْنَ صَاحِبُ یَوْمِ الْفَتْحِ
وَ نَاشِرُ رَایَۃِ الْھُدٰی
اَیْنَ مُؤَلِّفُ شَمْلِ الصَّلَاحِ وَ الرِّضَاۤ
اَیْنَ الطَّالِبُ بِذُحُوْلِ الْاَنْبِیَاۤءِ وَ اَبْنَاۤءِ الْاَنْبِیَاۤءِ
اَیْنَ الطَّالِبُ بِدَمِ الْمَقْتُوْلِ بِكَرْبَلَاۤءَ
اَیْنَ الْمَنْصُوْرُ عَلٰی مَنِ اعْتَدٰی عَلَیْهِ وَافْتَرٰیۤ
اَیْنَ الْمُضْطَرُّ الَّذِیْ یُجَابُ اِذَا دَعَاۤ
اَیْنَ صَدْرُ الْخَلَاۤئِقِ ذُوالْبِرِّ وَ التَّقْوٰیۤ
اَیْنَ ابْنُ النَّبِیِّ الْمُصْطَفٰی
وَابْنُ عَلِیِّ نِ الْمُرْتَضٰی
وَ ابْنُ خَدِیْجَۃَ الْغَرَّاۤءِ
وَابْنُ فَاطِمَۃَ الْكُبْرٰی
بِاَبِیۤ اَنْتَ وَ اُمِّیْ
وَ نَفْسِیْ لَكَ الْوِقَاۤءُ وَ الْحِمٰی
یَابْنَ السَّادَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ
یَابْنَ النُّجَبَاۤءِ الْاَكْرِمِیْنَ
یَابْنَ الْھُدَاۃِ الْمَھْدِیِّیْنَ
یَابْنَ الْخِیَرَۃِ الْمُھَذَّبِیْنَ
یَابْنَ الْغَطَارِفَۃِ الْاَنْجَبِیْنَ
یَابْنَ الْاَطَاۤئِبِ الْمُطَھَّرِیْنَ
یَابْنَ الْخَضَارِمَۃِ الْمُنْتَجَبِیْنَ
یَابْنَ الْقَمَاقِمَۃِ الْاَكْرَمِیْنَ
یَابْنَ الْبُدُوْرِ الْمُنِیْرَۃٍ
یَابْنَ السُّرُجِ الْمُضِیۤئَۃِ
یَابْنَ الشُّھُبِ الثَّاقِبَۃِ
یَابْنَ الْاَنْجُمِ الزَّاھِرَۃِ
یَابْنَ السُّبُلِ الْوَاضِحَۃِ
یَابْنَ الْاَعْلَامِ الْلَاۤئِحَۃِ
یَابْنَ الْعُلُوْمِ الْكَامِلَۃِ
یَابْنَ السُّنَنِ الْمَشْھُوْرَۃِ
یَابْنَ الْمَعَالِمِ الْمَاْثُوْرَۃِ
یَابْنَ الْمُعْجِزَاتِ الْمَوْجُوْدَۃِ
یَابْنَ الدَّلَاۤئِلِ الْمَشْھُوْدَۃِ
یَابْنَ الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِیْمِ
یَابْنَ النَّبَاۤءِ الْعَظِیْمِ
یَابْنَ مَنْ ھُوَ فِیۤ اُمِّ الْكِتَابِ لَدَی اﷲِ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ
یَابْنَ الْاٰیَاتِ وَ البَیِّنَاتِ
یَابْنَ الدَّلَاۤئِلِ الظَّاھِرَاتِ
یَابْنَ الْبَرَاھِیْنِ الْوَاضِحَاتِ الْبَاھِرَاتِ
یَابْنَ الْحُجَجِ الْبَالِغَاتِ
یَابْنَ النِّعَمِ السَّابِغَاتِ
یَابْنَ طٰهٰ وَ الْمُحْكَمَاتِ
یَابْنَ یٰسٓ وَ الذَّارِیَاتِ
یَابْنَ الطُّوْرِ وَ الْعَادِیَاتِ
یَابْنَ مَنْ دَنٰی فَتَدَلّٰی
فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی
دُنُوًّا وَ اقْتِرَابًا مِنَ الْعَلِیِّ الْاَعْلٰی
لَیْتَ شِعْرِیۤ اَیْنَ اسْتَقَرَّتْ بِكَ النَّوٰی
بَلْ اَیُّ اَرْضٍ تُقِلُّكَ اَوْ ثَرٰیۤ
اَبِرَضْوٰیۤ اَوْ غَیْرِھَاۤ اَمْ ذِیْ طُوٰی
عَزِیْزٌ عَلَیَّ اَنْ اَرَی الْخَلْقَ وَ لَا تُرَی
وَ لَاۤ اَسْمَعُ لَكَ حَسِیْسًا وَ لَا نَجْوٰی
عَزِیْزٌ عَلَیَّ اَنْ تُحِیْطَ بِكَ دُوْنَیِ الْبَلْوٰی
وَلَا یَنَالُكَ مِنِّیْ ضَجِیْجٌ وَلَا شَكْوٰی
بِنَفْسِیۤ اَنْتَ مِنْ مُغَیَّبٍ لَمْ یَخْلُ مِنَّا
بِنَفْسِیۤ اَنْتَ مِنْ نَازِحٍ مَا نَزَحَ عَنَّا
بِنَفْسِیۤ اَنْتَ اُمْنِیَّۃُ شَاۤئِقٍ یَتَمَنّٰی
مِنْ مُؤْمِنٍ وَ مُؤْمِنَۃٍ ذَكَرٰی فَحَنَّا
بِنَفْسِیۤ اَنْتَ مِنْ عَقِیْدِ عِزٍّ لَا یُسَامٰی
بِنَفْسِیۤ اَنْتَ مِنْ اَثِیْلِ مَجْدٍ لَا یُجَارٰی
بِنَفْسِیۤ اَنْتَ مِنْ تِلَادِ نِعَمٍ لَا تُضَاھٰی
بِنَفْسِیۤ اَنْتَ مِنْ نَصِیْفِ شَرَفٍ لَا یُسَاوٰی
اِلٰی مَتٰی اَحَارُ فِیْكَ یَا مَوْلَايَ وَ اِلٰی مَتٰی
وَ اَیَّ خِطَابٍ اَصِفُ فِیْكَ وَ اَیَّ نَجْوٰی
عَزِیْزٌ عَلَیَّ اَنْ اُجَابَ دُوْنَكَ وَ اُنَاغٰی
عَزِیْزٌ عَلَیَّ اَنْ اَبْكِیَكَ وَ یَخْذُلَكَ الْوَرٰی
عَزِیْزٌ عَلَیَّ اَنْ یَجْرِیَ عَلَیْكَ دُوْنَھُمْ مَاجَرٰی
ھَلْ مِنْ مُعِیْنٍ فَاُطِیْلَ مَعَهُ الْعَوِیْلَ وَ الْبُكَاۤءَ
ھَلْ مِنْ جَزُوْعٍ فَاُسَاعِدَ جَزَعَهٗ اِذَا خَلَا
ھَلْ قَذِیَتْ عَیْنٌ فَسَاعَدَتْھَا عَیْنِیْ عَلَی الْقَذٰی
ھَلْ اِلَیْكَ یَابْنَ اَحْمَدَ سَبِیْلٌ فَتُلْقٰی
ھَلْ یَتَّصِلُ یَوْمُنَا مِنْكَ بِعِدَۃِ فَنَحْظٰی
مَتٰی نَرِدُ مَنَاھِلَكَ الرَّوِیَّۃَ فَنَرْوٰی
مَتٰی نَنْتَقِعُ مِنْ عَذْبِ مَاۤئِكَ
فَقَدْ طَالَ الصَّدٰی
مَتٰی نُغَادِیْكَ وَ نُرَاوِحُكَ فَنُقِرُّ عَیْنًا
مَتٰی تَرَانَا وَ نَرَاكَ وَ قَدْ نَشَرْتَ لِوَاۤءَالنَّصْرِ تُرٰی
اَتَرَانَا نَحُفُّ بِكَ وَ اَنْتَ تَاُمُّ الْمَلَاَ
وَ قَدْ مَلَاْتَ الْاَرْضَ عَدْلًا
وَ اَذَقْتَ اَعْدَاۤئَكَ ھَوَانًا وَ عِقَابًا
وَ اَبَرْتَ الْعُتَاۃَ وَ جَحَدَۃِ الْحَقِّ
وَ قَطَعْتَ دَابِرَ الْمُتَكَبِّرِیْنَ
وَ اجْتَثَثْتَ اُصُوْلَ الظَّالِمِیْنَ
وَ نَحْنُ نَقُوْلُ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
اَللّٰھُمَّ اَنْتَ كَشَّافُ الْكُرَبِ وَ الْبَلْوٰی
وَ اِلَیْكَ اَسْتَعْدِیْ فَعِنْدَكَ الْعَدْوٰی
وَ اَنْتَ رَبُّ الْاٰخِرَۃِ وَ الدُّنْیَا
فَاَغِثْ یَا غِیَاثَ الْمُسْتَغِیْثِیْنَ عُبَیْدَكَ الْمُبْتَلٰی
وَ اَرِهٖ سَیِّدَهٗ یَا شَدِیْدَ الْقُوٰی
وَاَزِلْ عَنْهُ بِهِ الْاَسٰی وَ الْجَوٰی
وَ بَرِّدْ غَلِیْلَهٗ یَا مَنْ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی
وَ مَنْ اِلَیْهِ الرُّجْعٰی وَالْمُنْتَھٰی
اَللّٰھُمَّ وَ نَحْنُ عَبِیْدُكَ التَّاۤئِقُوْنَ اِلٰی وَلِیِّكَ
الْمُذَكِّرِ بِكَ وَ بِنَبِیِّكَ
خَلَقْتَهٗ لَنَا عِصْمَۃً وَّ مَلَاذًا
وَ اَقَمْتَهٗ لَنَا قِوَامًا وَ مَعَاذًا
وَ جَعَلْتَهٗ لِلْمُؤْمِنِیْنَ مِنَّاۤ اِمَامًا
فَبَلِّغْهُ مِنَّا تَحِیَّۃً وَّ سَلَامًا
وَ زِدْنًا بِذٰلِكَ یَا رَبِّ اِكْرَامًا
وَاجْعَلْ مُسْتَقَرَّهٗ لَنَا مُسْتَقَرًّا وَ مُقَامًا
وَ اَتْمِمْ نِعْمَتَكَ بِتَقْدِیْمِكَ اِیَّاهُ اَمَامَنَا
حَتّٰی تُوْرِدَنَا جِنَانَكَ
وَ مُرَافَقَۃَ الشُّھَدَاۤءِ مِنْ خُلَصَاۤئِكَ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ
وَصَلِّ عَلٰی مَحَمَّدٍ جَدِّهٖ وَ رَسُوْلِكَ
السَّیِّدِ الْاَكْبَرِ
وَعَلٰیۤ اَبِیْهِ السَّیِّدِ الْاَصْغَرِ
وَ جَدَّتِهِ الصِّدِّیْقَۃِ الْكُبْرٰی
فَاطِمِۃَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ
صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِ وَ اۤلِهٖ
وَ عَلٰی مَنِ اصْطَفَیْتَ مِنْ اٰبَاۤئِهِ الْبَرَرَۃِ
وَ عَلَیْهِ اَفْضَلَ وَ اَكْمَلَ
وَ اَتَمَّ وَ اَدْوَمَ
وَ اَكْثَرَ وَ اَوْفَرَ
مَا صَلَّیْتَ عَلٰیۤ اَحَدٍ مِّنْ اَصْفِیَاۤئِكَ
وَ خِیَرَتِكَ مِنْ خَلْقِكَ
وَ صَلِّ عَلَیْهِ صَلٰوۃً لَا غَایَۃَ لِعَدَدِھَا
وَلَا نِھَایَۃَ لِمَدَدِھَا
وَ لَا نَفَادَ لِاَمَدِھَا
اَللّٰھُمَّ وَ اَقِمْ بِهِ الْحَقَّ
وَ اَدْحِضْ بِهِ الْبَاطِلَ
وَ اَدِلْ بِهٖ اَوْلِیَاۤئَكَ
وَ اَذْلِلْ بِهٖ اَعْدَاۤئَكَ
وَ صِلِ اللّٰھُمَّ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهٗ
وُصْلَۃً تُؤَدِّیۤ اِلٰی مُرَافَقَتِ سَلَفِهٖ
وَاجْعَلْنَا مِمَّنْ یَاْخُذُ بِحُجْزَتِھِمْ
وَ یَمْكُثُ فِیْ ظِلِّھِمْ
وَ اَعِنَّا عَلٰی تَاْدِیَۃِ حُقُوْقِهٖۤ اِلَیْهِ
وَالْاِجْتِھَادِ فِیْ طَاعَتِهٖ
وَاجْتِنَابِ مَعْصِیَتِهٖ
وَامْنُنْ عَلَیْنَا بِرِضَاهُ
وَ ھَبْ لَنَا رَاْفَتَهٗ وَ رَحْمَتَهٗ
وَ دُعَاۤئَهٗ وَ خَیْرَهٗ
مَا نَنَالُ بِهٖ سَعَۃً مِّنْ رَحْمَتِكَ
وَ فَوْزًا عِنْدَكَ
وَاجْعَلْ صَلٰوتَنَا بِهٖ مَقْبُوْلَۃً
وَ ذُنُوْبَنَا بِهٖ مَغْفُوْرَۃً
وَ دُعَاۤئَنَا بِہٖ مُسْتَجَابًا
وَاجْعَلْ اَرْزَاقَنَا بِهٖ مَبْسُوْطَۃً
وَ ھُمُوْمَنَا بِهٖ مَكْفِیَّۃً
وَ حَوَاۤئِجَنَا بِهٖ مَقْضِیَّۃً
وَ اَقْبِلْ اِلَیْنَا بِوَجْھِكَ الْكَرِیْمِ
وَاقْبَلْ تَقَرُّبَنَا اِلَیْكَ
وَانْظُرْ اِلَیْنَا نَظْرَۃً رَحِیْمَۃً
نَسْتَكْمِلُ بِھَا الْكَرَامَۃِ عِنْدَكَ
ثُمَّ لَا تَصْرِفْھَا عَنَّا بِجُوْدِكَ
وَاسْقِنَا مِنْ حَوْضِ جَدِّهٖ
صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِ وَ اۤلِهٖ
بِكَاْسِهٖ وَ بِیَدِهٖ
رَیًّا رَوِیًّا
ھَنِیْۤئًا سَاۤئِغًا
لَا ظَمَأَ بَعْدَهٗ
یَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔