EN اردو Roman AZ
🌐
English اردو Roman Azerbaijani
🏠 🔍
0:00
دعائے افتتاح
ماہ رمضان کی ہر شب میں یہ دعا پڑھے جو امام زمانہؑ سے نقل کی گئی ہے۔ )
اَللّٰهُمَّ اِنّيْ اَفْتَتِحُ الثَّنَاۤءَ بِحَمْدِكَ،
<font color="#480607">خدایا میں تیری ثنا کا آغاز تیری حمد سے کرتا ہوں اور توہی عمل خیر کے لئے اپنے احسان سے مدد کرنے والا ہے اور مجھے معلوم ہے کہ تو معافی اور رحمت کی منزل میں بہترین رحم کرنے والا ہے اور عذاب و انتقام کے موقع پر سخت ترین عذاب کرنے والا ہے۔ کبریائی و عظمت کی منزل میں عظیم ترین صاحبِ جبروت ہے۔ خدایا تو نے مجھے اپنی ذات سے دعا کرنے اور سوال کرنے کی اجازت دی ہے تو اسے سننے والے اب میری مدحت کو سن لے اور میری دعا کو قبول کر لے۔ میری لغزشوں کو معاف کر دے۔ کہ کتنے ہی رنج تھے جن کو تو نے دور کیا ہے اور کتنے ہی ہم و غم ہیں جن کو تو نے زائل کیا ہے۔ کتنی ہی لغزشوں میں تو نے سنبھالا ہے اور کتنی ہی رحمتوں کو تو نے پھیلایا ہے اور کتنی ہی بلاؤں کی زنجیروں کو کھول دیا ہے۔ ساری حمد اس اللہ کے لئے ہے جس نے نہ کسی کو زوجہ بنایا ہے نہ فرزند۔ نہ اس کا کوئی شریکِ مملکت ہے اور نہ اس کا کوئی معاونِ کمزوری۔ ہر ایک کو اسی کی تکبیر کرنی چاہئے۔ ساری حمداللہ کے لئے ہے اس کے تمام اوصاف کے ساتھ اور اس کی تمام نعمتوں پر۔ ساری حمد اس اللہ کے لئے ہے جس کی مملکت میں اس کا کوئی مخالف اور اس کے معاملات میں اس سے کوئی جھگڑا کرنے والا ہے نہیں ہے۔ ساری حمد اس اللہ کے لئے ہےجس کی تخلیق میں کوئی اس کا شریک نہیں ہےاور اس کی عظمت میں کوئی اس کا مثل نہیں ہے۔ ساری حمد اس اللہ کے لئے ہے جس کا امر اور اس کی حمد مخلوقات میں نمایاں ہے اور جس اس کے دونوں ہاتھ بخشش کے لئے کھلے ہوئے ہیں۔ اس کے خزانوں میں کمی نہیں ہے اور کثرتِ عطا سے اس کے یہاں سوائے جودوکرم کے کسی بات کا اضافہ نہیں ہوتا ہے۔ وہی عزیز بھی ہے اور وہی عطا کرنے والا بھی ہے۔ خدایا میں تجھ سے بہت سی حاجتوں میں سے تھوڑا ہی طلب کر رہاہوں اگرچہ میری حاجت بہت عظیم ہے اور تو ہمیشہ سے اس سے بےنیاز ہے۔ میری نظر میں وہ بہت ہے لیکن تیرے لئے بہت آسان ہے۔ خدایا تیری طرف سے میرے گناہوں کو معاف کر دینا، میری خطاؤں سے درگذر کرنا، میرے ظلم کو نظر انداز کرنا، میری برائیوں پر پردہ ڈال دینا، میرے جرائم کو برداشت کر لینا چاہے خطا ہو یا عمد کی منزل میں ہو۔ اِن تمام باتوں نے مجھ میں طمع پیدا کرائی کہ میں ان باتوں کا سوال کروں جن کا میں حقدار نہیں ہوں اور جن کو تو نے اپنی رحمت سے دے دیا ہے یا اپنی قدرت سے دکھلا دیا ہےیا اپنی قبولیت سے آشنا بنادیا ہے تو اب میں بڑے اطمینان کے ساتھ تجھے پکار رہا ہوں اور بڑے انس کے ساتھ تجھ سے سوال کر رہاہوں۔ نہ خوفزدہ ہوں نہ لرزاں ہوں اپنے ارادوں میں۔ تجھ سے اصرار کر رہا ہوں اور اگر تیری قبولیت میں دیر ہوتی ہے تو میں نادانی کی بنا پر تجھ سے ناراضگی کا اظہار کر دیتا ہوں حالانکہ جانتا ہوں کہ میرے لئے خیر اس تاخیر میں ہے۔ اس لئے کہ تو تمام امور کے انجام سے باخبر ہے۔ میں نے تیرا جیسا کوئی کریم مولا نہیں دیکھا ہے جو مجھ جیسے ذلیل بندہ کو برداشت کر سکے۔ میرا حال تو یہ ہے کہ تو مجھے پکارتا ہے تو منھ پھیر لیتا ہوں۔ تو مجھ سے محبت کرتا ہے تو میں نفرت کا مظاہرہ کرتا ہوں۔تو میری طرف کھنچتا ہے تو میں اسے قبول بھی نہیں کرتا ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے میراہی تیرے اوپر کوئی احسان ہے مگر اس کے بعد بھی میری حرکتوں نے نہ تجھے احسان سے روکا ہے نہ رحمت سے روکا اور نہ فضل و کرم اور جودو عطا سے روکا ہے۔ لہٰذا پروردگار تو اپنے جاہل بندہ پر رحم فرما اور اپنے فضل و احسان سے اس پر کرم کر کہ تو جواد بھی ہے اور کریم بھی ہے۔ ساری حمد اس اللہ کے لئے ہے جو مالک الملک ہے کشتیوں کا چلانے والا ہے، ہواؤں کا مسخر کرنے والا ہے، صبح کا روشن کرنے والا ہے جزاؤں کا دینے والا ہے اور عالمین کا پروردگار ہے۔ ساری حمد اس اللہ کےلئے ہے کہ وہ علم کے بعد بھی حلم رکھتا ہے۔ ساری حمد اللہ کے لئے ہے کہ وہ قدرت کے بعد بھی معاف کرتا ہے۔ ساری حمد اللہ کے لئے ہے کہ وہ غضب کے باوجود دیر تک برداشت کرنے والا ہے حالانکہ وہ جو چاہے وہ کر سکتا ہے۔ ساری حمد اللہ کے لئے ہے جو مخلوقات کا خالق، رزق کا وسیع کرنے والا۔ دامن شب کو چاک کر کے صبح کا نور نکالنے والا۔ صاحب جلال و اکرام اور صاحبِ فضل و انعام ہے۔ جو اتنادور ہے کہ نظر نہیں آتا ہے اور اتنا قریب ہے کہ ہر راز کا گواہ ہے۔ وہ بابرکت بھی ہے اور بلند تر بھی ہے۔ ساری حمد اللہ کے لئے ہے جس کا کوئی مثل نہیں ہے کہ جھگڑا کر سکے۔ کوئی ہم شکل نہیں ہے کہ شبیہ بن سکے۔ کوئی مددگار نہیں ہے جو ساتھ دے سکے۔ وہ اپنی عزت سے ہر صاحبِ عزت پر غالب اور اپنی عظمت سے ہر صاحب عظمت کو جھکائے ہوئے ہے۔ وہ اپنی قدرت سے ہر کام انجام دے سکتا ہے۔ ساری حمد اس اللہ کے لئے ہے جس کو پکارتا ہوں تو قبول کر لیتا ہے اور میں گناہ کرتا ہوں لیکن وہ ہر برائی پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ وہ عظیم نعمتیں دیتا ہے تو میں اس کا بدلہ نہیں دے سکتا ہوں۔ کتنی ہی خوشگوار نعمتیں ہیں جو اس نے عطا کی ہیں اور کتنے ہی ہولناک خوف تھے جن سے اس نے بچا لیا ہے۔ کتنے ہی حسین ترین منظر تھے جو اس نے دکھا دیئے ہیں۔ میں اس کی حمدو ثنا کر رہاہوں اور اس کی تسبیح سے اسے یاد کر رہاہوں۔ ساری حمد اس اللہ کے لئے ہے جس کا حجاب نور اٹھایا نہیں جا سکتا ہے اور اس کا دروازۂ کرم بند نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس کا سائل پلٹایا نہیں جاتا ہے اور اس کا امیدوار مایوس نہیں ہوتا ہے۔ ساری حمد اس اللہ کے لئے ہے جو خوفزدہ کو امان، صالحین کونجات، کمزوروں کو بلندی، متکبروں کو ذلت دیتا ہے اور بادشاہوں کو ہلاک کر کے ان کی جگہ پر دوسروں کو لے آتا ہے۔ ساری حمداللہ کے لئے ہے جو جابروں کی کمر توڑنے والا۔ ظالموں کو تباہ کرنے والا۔ بھاگنے والوں کو پکڑ لینے والا۔ ظالمین کو سزا دینے والا۔ فریادیوں کا فریاد رس۔ طالبان حاجت کاموردامید اور صاحبانِ ایمان مرکز ااعتمادہے۔ ساری حمد اس ا للہ کے لئے ہےجس کے خوف سے آسمان اور اہلِ آسمان لرزتے ہیں اور زمین اور اہل زمین کانپتے ہیں۔ دریاؤں میں موجیں پیدا ہوئی ہیں اور جو اس کی گہرائیوں میں پیرنے والے ہیں وہ بھی لرزتے ہیں۔ ساری حمد اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں اس دین کی ہدایت دی ہے حالانکہ اس کی ہدایت کے بغیر ہمیں تو پتہ بھی نہیں چل سکتا تھا۔ ساری حمد اس اللہ کے لئے جو خالق ہے مخلوق نہیں ہے۔ رازق ہے مرزوق نہیں ہے۔ کھلانے والا خود نہیں کھاتا ہے۔ زندوں کو موت دینے والا اور مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور خود ایسا زندہ ہے جس کے لئے موت نہیں ہے۔ اس کے ہاتھ میں سارا خیر ہے اور وہی ہر شے پر قادر ہے۔ خدایا حضرت محمدؐ پر رحمت نازل فرما جو تیرے بندے اور رسول، امین، منتخب، حبیب اور مخلوقات میں پسندیدہ ہیں۔ تیرے امین راز اور تیرے پیغام کے پہنچانے والے ہیں۔ بہترین، افضل، احسن، اجمل، اکمل،پاکیزہ، بلند ترین، طیب و طاہر، عظیم اور کثیر صلوات و برکت و رحمت و لطف و کرم اور سلام جو تو نے اپنے کسی بندے یا نبی یا رسول یا منتخب یا کسی صاحب کرامت مخلوق پر نازل کیا ہے۔ خدایا رحمت نازل فرما علیؑ پر جو مومنین کے امیر اور رسول رب العالمین کے وصی ہیں۔ تیرے بندے، تیرے ولی، تیرے نبی کے بھائی مخلوقات پر تیری حجت، تیری عظیم نشانی اور تیری باعظمت خبر ہیں۔ اور رحمت نازل فرما صدیقۂ طاہرہ فاطمہ زہراؑ سیدۂ نساء العالمین پر۔ رحمت نازل فرما سبطین رحمت و امام ہدایت حسنؑ و حسینؑ پر جو سردارانِ جوانانِ اہل جنت ہیں۔ رحمت نازل فرما ائمہ مسلمین علیؑ بن الحسینؑ۔ محمدؑ بن علیؑ۔ جعفرؑ بن محمدؑ۔ موسیٰؑ بن جعفرؑ۔ علیؑ بن موسیٰؑ۔ محمدؑ بن علیؑ۔ علیؑ بن محمدؑ۔ حسنؑ بن علیؑ اور حضرت خلف ہادی مہدی پر جو سب کے سب بندوں پر تیری حجت اور شہروں میں تیرے امین ہیں۔ بے شمار صلوات جو ہمیشہ رہنے والی ہے۔ خدایا رحمت نازل فرما اپنے ولی امر پر جو تیرے امر سے قیام کرنے والے ہیں اور جن سے امیدیں وابستہ ہیں جن کی آمد کا انتظار ہے انھیں اپنے ملائکہ مقربین کے حلقہ میں رکھ دے اور روح القدس کے ذریعہ ان کی تائید فرما۔ اے عالمین کے پروردگار۔ خدیا انھیں اپنی کتاب کی طرف دعوت دینے والا۔ اپنے دین کے ساتھ قیام کرنے والا بنا دے۔ اپنی زمین میں ویسا ہی خلیفہ قرار دیدے جیسے تو نے ان سے پہلے والوں کو بنایا ہے۔ اپنے اس دین کو غالب بنا دے جس کو تو نے ان کے لئے پسند کیا ہے اور ان کے خوف کو امن میں تبدیل کر دے تا کہ لوگ اس طرح عبادت کریں جس میں کسی طرح کا شرک نہ ہو۔ خدایا انھیں عزت دے اور ان کے ذریعہ سے ہم کو بھی عزت دے۔ ان کی مدد فرما اور ان کے ذریعہ سے ہمارا بھی انتقام لے لے۔ انھیں عزیز ترین امداد عطا فرما اور ان کی فتح کو آسان بنا دے اپنے پاس سے ان کو اقتدار عطا فرما جس کا تو امداد گر ہو۔ خدایا ان کے ذریعہ اپنے دین کو اور اپنے رسولؐ کی سنت کو غالب بنا دے تاکہ حق کی کوئی بات مخلوقات کے خوف سے مخفی نہ رہنے پائے۔ خدایا ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں اس باعظمت حکومت کا جس سے اسلام اور اہل اسلام کو عزت ملے اور نفاق اور اہل نفاق کو ذلت نصیب ہو۔ ہمیں اس حکومت میں اپنی اطاعت کا طرفدار اور اپنے راستہ کا قائد بنا دے اور اس کے ذریعہ ہمیں دنیا اور آخرت کی کرامت عنایت فرما۔ خدایا جو حق تو نے دکھلا دیا ہے اس کو اٹھانے کی قوت عطا فرما اور جو ہم تک نہیں پہنچا ہے اسے ہم تک پہنچا دے۔ خدایا امام ؑ کے ذریعہ ہماری پراگندگی کو دور فرما، ہمارے انتشار کو مجتمع کر دے ہمارے باہمی شگاف کو زائل فرما دے۔ ہماری قلت کو کثرت بنا دے۔ ہماری ذلت کو عزت بنادے۔ ہماری غربت کو مالداری بنا دے۔ ہمارے قرض کو ادا کر دے۔ ہمارے فقر کا علاج فرما۔ ہماری حاجتوں کو پورا فرما۔ ہماری دشواریوں کو آسان فرما۔ ہمارے چہروں کو روشن بنا دے ہماری گرفتاریوں کو دور فرما۔ ہماری حاجتوں کو عطا فرما۔ ہمارے وعدوں کو پورا فرما۔ ہماری دعاؤں کو قبول فرما۔ ہمارے مطلوب کو عطا فرما اور ہمیں دنیا و آخرت کی امیدوں تک پہنچا دے اور ان کے طفیل میں ہمیں ہماری ضرورت سے زیادہ عنایت فرما۔ اے بہترین وہ ذات جس سے سوال کیا جائے اور اے وسیع ترین عطا کرنے والے۔ ان کے ذریعہ ہمارے سینوں کے درد کو شفا دے ہمارے دلوں کے رنج کو دورفرما اور ہمیں اس حق کی ہدایت فرما جس میں اختلاف پیدا کر دیئے گئے ہیں کہ تو جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دے سکتا ہے۔ ان کے ذریعہ ہمیں اپنے اور ہمارے دشمنوں پر غلبہ عطا فرما اے خدائے برحق آمین۔ خدایا ہم تجھ سے فریاد کرتے ہیں کہ نبیؐ دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ امامؑ غیبت میں ہیں۔ دشمنوں کی کثرت ہے اور ہمارے عدد کی قلت ہے۔ فتنوں کا زور ہے اور زمانہ نے ہمارے خلاف اتحاد کر لیا ہے۔ لہٰذا محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما اور ان حالات میں فوری فتح کے ذریعہ ہماری امداد فرما اور ہمارے رنج کو دور فرما دے۔ ہمیں نصرت و عزت عطا فرما اور وہ سلطنت حق دیدے جس کے ذریعہ سے غلبہ عطا فرما دے اور وہ رحمت جس سے جلالت ملے۔ وہ عافیت جو ہمارے شامل حال ہو جائے اپنی رحمت سے اے ارحم الراحمین۔
وَاَنْتَ مُسَدِّدٌ لِلصَّوَابِ بِمَّنِكَ،
(ماہِ رمضان کی ہر رات میں یہ دعا پڑھے)
وَاَيْقَنْتُ اَنَّكَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِيْنَ
<font color="#480607">خدایا اپنی رحمت سے ہمیں صالحین میں داخل فرما دے۔ علیین میں بلند مرتبہ بنا دے اور اپنے چشمۂ شیریں سلسبیل سے سیراب کر دے۔ اپنی رحمت سے حورالعین سے ہمارا عقد کرا دے او رجنت کے دائمی غلمانوں کو جو پوشیدہ موتیوں جیسے ہیں ہمار ا خدمت گذار بنا دے۔ جنت کے پھل اور پرندوں کے کوشت کی غذا عطا فرما۔ سندس و ریشم و استبرق کے لباس پہنا دے۔ شب قدر، حج بیت اللہ اور راہ خدا میں شہادت کی توفیق عطا فرما۔ بہترین دعا اور بہترین سوال کو قبول فرما لے۔ جب روز قیامت اولین و آخرین کا اجتماع ہو تو ہم پر رحم کرنا اور ہمارے لئے جہنم سے برأت لکھ دینا۔ ہمیں جہنم میں اسیر نہ کرنا اور اپنے عذاب اور ذلت میں مبتلا نہ کرنا ہمیں زقوم اور جہنمی گھاس کی غذا نہ دینا اور شیاطین کے ساتھ قرار نہ دینا۔ ہمیں جہنم میں منھ کے بھل نہ ڈال دینا اور جہنم کے لباس یا قطران کی پوشاک نہ پہنا دینا۔ ہمیں ہر برائی سے نجات دینا۔ اے وہ خدا جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تجھے تیری ہی وحدانیت کاواسطہ۔ </font>
فِيْ مَوْضِعِ الْعَفْوِ وَالرَّحْمَةِ،
وَاَشَدُّ الْمُعَاقِبِيْنَ فِيْ مَوْضِعِ النَّكَالِ وَالنَّقِمَةِ،
وَاَعْظَمُ الْمُتَجَبِّرِيْنَ
فِيْ مَوْضِعِ الْكِبْريَاۤءِ وَالْعَظَمَةِ،
اَللّٰهُمَّ اَذِنْتَ لِيْ فِيْ دُعَآئِكَ وَمَسْاَلَتِكَ،
فَاسْمَعْ يَا سَمِيْعُ مِدْحَتِيْ،
وَاَجِبْ يَا رَحِيْمُ دَعْوَتِيْ،
وَاَقِلْ يَا غَفُوْرُ عَثْرَتِيْ،
فَكَمْ يَا اِلٰهِيْ مِنْ كُرْبَةٍ قَدْ فَرَّجْتَهَا
وَهُمُوْمٍ قَدْ كَشَفْتَهَا،
وَعَثْرَةٍ قَدْ اَقَلْتَهَا،
وَرَحْمَةٍ قَدْ نَشَرْتَهَا،
وَحَلْقَةِ بَلَاۤءٍ قَدْ فَكَكْتَهَا،
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا،
وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيْكٌ فِيْ الْمُلْكِ،
وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِىٌّ مِنَ الذُّلِّ،
وَكَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا،
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ بِجَمِيْعِ مَحَامِدِهِ كُلِّهَا،
عَلٰى جَمِيْعِ نِعَمِهِ كُلِّهَا.
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَا مُضَآدَّ لَهُ فِيْ مُلْكِهِ،
وَلَا مُنَازِعَ لَهُ فِيْ اَمْرِهِ.
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَا شَرِيْكَ لَهُ فِيْ خَلْقِهِ،
وَلَا شَبِيْهَ لَهُ فِيْ عَظَمَتِهِ.
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الْفَاشِيْ فِيْ الْخَلْقِ اَمْرُهُ وَحَمْدُهُ،
الظَّاهِرِ بِالْكَرَمِ مَجْدُهُ،
الْبَاسِطِ بِالْجُوْدِ يَدَهُ،
الَّذِيْ لَا تَنْقُصُ خَزَآئِنُهُ،
وَلَا تَزِيْدُهُ كَثْرَةُ الْعَطَاۤءِ اِلَّا جُوْدًا وَكَرَمًا،
اِنَّهُ هُوَ الْعَزِيْزُ الْوَهَّابُ.
اَللّٰهُمَّ اِنّي اَسْاَلُكَ قَلِيْلًا مِنْ كَثِيْرٍ،
مَعَ حَاجَةٍ بِيْ اِلَيْهِ عَظِيْمَةٍ،
وَغِنَاكَ عَنْهُ قَدِيْمٌ،
وَهُوَ عِنْدِيْ كَثِيْرٌ،
وَهُوَ عَلَيْكَ سَهْلٌ يَسِيْرٌ.
اَللّٰهُمَّ اِنَّ عَفْوَكَ عَنْ ذَنْبِيْ،
وَتَجَاوُزَكَ عَنْ خَطِيْـئَتِيْ،
وَصَفْحَكَ عَنْ ظُلْمِيْ،
وَسِتْرَكَ عَنْ قَبِيْحِ عَمَلِيْ،
وَحِلْمَكَ عَنْ كَثِيْرِ جُرْمِيْ،
عِنْدَ مَا كَانَ مِنْ خَطَئٰي وَعَمْدِيْ،
اَطْمَعَنِيْ فِيْ اَنْ اَسْاَلَكَ مَا لَا اَسْتَوْجِبُهُ مِنْكَ،
الَّذِيْ رَزَقْتَنِيْ مِنْ رَحْمَتِكَ،
وَاَرَيْتَنِيْ مِنْ قُدْرَتِكَ،
وَعَرَّفْتَنِيْ مِنْ اِجابَتِكَ،
فَصِرْتُ اَدْعُوْكَ اٰمِنًا،
وَاَسْاَلُكَ مُسْتَاْنِسًا،
لَا خَاۤئِفًا وَلَا وَجِلًا،
مُدِلًّا عَلَيْكَ فِيْمَا قَصَدْتُ فِيْهِ اِلَيْكَ.
فَاِنْ اَبْطَاَ عَنِّي عَتَبْتُ بِجَهْلِيْ عَلَيْكَ،
وَلَعَلَّ الَّذِيْ اَبْطَاَ عَنِّي هُوَ خَيْرٌ لِيْ
لِعِلْمِكَ بِعَاقِبَةِ الْاُمُوْرِ،
فَلَمْ اَرَ مَوْلًا كَرِيْمًا
اَصْبَرَ عَلٰى عَبْدٍ لَئِيْمٍ مِنْكَ عَلَيَّ
يَا رَبِّ، اِنَّكَ تَدْعُوْنِي فَاُوَلِّي عَنْكَ،
وَتَتَحَبَّبُ اِلَيَّ فَاَتَبَغَّضُ اِلَيْكَ،
وَتَتَوَدَّدُ اِلَىَّ فَلَا اَقْبَلُ مِنْكَ،
كَاَنَّ لِيَ التَّطَوُّلَ عَلَيْكَ،
فَلَمْ يَمْنَعْكَ ذٰلِكَ مِنَ الرَّحْمَةِ لِيْ،
وَالْاِحْسَانِ اِلَىَّ،
وَالتَّفَضُّلِ عَلَيَّ بِجُوْدِكَ وَكَرَمِكَ.
فَارْحَمْ عَبْدَكَ الْجَاهِلَ
وَجُدْ عَلَيْهِ بِفَضْلِ اِحْسَانِكَ
اِنَّكَ جَوَادٌ كَرِيْمٌ.
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ مَالِكِ الْمُلْكِ،
مُجْرِيْ الْفُلْكِ،
مُسَخِّرِ الرِّيَاحِ،
فَالِقِ الْاِصْبَاحِ،
دَيَّانِ الدِّيْنِ،
رَبِّ الْعَالَمِيْنَ.
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلىٰ حِلْمِهِ بَعْدَ عِلمِهِ،
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰى عَفْوِهِ بَعْدَ قُدْرَتِهِ،
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلى طُوْلِ اَنَاتِهِ فِيْ غَضَبِهِ،
وَهُوَ قَادِرٌ عَلىٰ مَا يُرِيْدُ.
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ خَالِقِ الْخَلْقِ،
بَاسِطِ الرِّزْقِ،
فَالِقِ الْاِصْبَاحِ
ذِي الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ
وَالْفَضْلِ وَالْاِنْعَامِ،
الَّذِيْ بَعُدَ فَلَا يُرٰى،
وَقَرُبَ فَشَهِدَ النَّجْوٰى،
تَبَارَكَ وَتَعَالٰى.
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَيْسَ لَهُ مُنَازِعٌ يُعَادِلُهُ،
وَلَا شَبِيْهٌ يُشَاكِلُهُ،
وَلَا ظَهِيْرٌ يُعَاضِدُهُ،
قَهَرَ بِعِزَّتِهِ الْاَعِزَّاۤءَ،
وَتَوَاضَعَ لِعَظَمَتِهِ الْعُظَمَاۤءُ،
فَبَلَغَ بِقُدْرَتِهِ مَا يَشَاۤءُ.
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ يُجِيْبُنِيْ حِيْنَ اُنَادِيْهِ،
وَيَسْتُرُ عَلَيَّ كُلَّ عَوْرَةٍ وَاَنَا اَعْصِيْهِ،
وَيُعَظِّمُ الْنِّعْمَةَ عَلَىَّ فَلَا اُجَازِيْهِ.
فَكَمْ مِنْ مَوْهِبَةٍ هَنِيْئَةٍ قَدْ اَعْطَانِيْ،
وَعَظِيْمَةٍ مَخُوْفَةٍ قَدْ كَفَانِيْ،
وَبَهْجَةٍ مُوْنِقَةٍ قَدْ اَرَانِيْ،
فَاُثْنِيْ عَلَيْهِ حَامِدًا،
وَاَذْكُرُهُ مُسَبِّحًا.
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَا يُهْتَكُ حِجَابُهُ،
وَلَا يُغْلَقُ بَابُهُ،
وَلَا يُرَدُّ سَآئِلُهُ،
وَلَا يُخَيَّبُ اٰمِلُهُ.
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ يُؤْمِنُ الْخَآئِفِيْنَ،
وَيُنَجِّى الصَّالِحِيْنَ،
وَيَرْفَعُ الْمُسْتَضْعَفِيْنَ،
وَيَضَعُ الْمُسْتَكْبِرِيْنَ،
وَيُهْلِكُ مُلُوكًا وَيَسْتَخْلِفُ اٰخَرِيْنِ.
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ قَاصِمِ الجَبَّارِيْنَ،
مُبِيْرِ الظَّالِمِيْنَ،
مُدْرِكِ الْهَارِبِيْنَ،
نَكَالِ الظَّالِمِيْنَ،
صَرِيْخِ الْمُسْتَصْرِخِيْنَ،
مَوْضِعِ حَاجَاتِ الطَّالِبِيْنَ،
مُعْتَمَدِ الْمُؤْمِنِيْنَ.
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ مِنْ خَشْيَتِهِ تَرْعَدُ السَّمَاۤءُ وَسُكَّانُهَا،
وَتَرْجُفُ الْاَرْضُ وَعُمَّارُهَا،
وَتَمُوْجُ الْبِحَارُ وَمَنْ يَسْبَحُ فِيْ غَمَرَاتِهَا.
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ هَدَانَا لِهٰذَا
وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا اَنْ هَدَانَا اللّٰهُ.
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ يَخْلُقُ، وَلَمْ يُخْلَقْ،
وَيَرْزُقُ وَلَا يُرْزَقُ،
وَيُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ،
وَيُمِيْتُ الْاَحْيَاۤءَ،
وَيُحْيِيْ الْمَوْتىٰ،
وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوْتُ،
بِيَدِهِ الْخَيْرُ،
وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ.
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُوْلِكَ،
وَاَمِيْنِكَ وَصَفِيِّكَ، وَحَبِيْبِكَ
وَخِيَرَتِكَ مَنْ خَلْقِكَ،
وَحَافِظِ سِرِّكَ،
وَمُبَلِّغِ رِسَالَاتِكَ،
اَفْضَلَ وَاَحْسَنَ وَاَجْمَلَ
وَاَكْمَلَ وَاَزْكٰى وَاَنْمٰى،
وَاَطْيَبَ وَاَطْهَرَ وَاَسْنٰى،
وَاَكْثَرَ مَا صَلَّيْتَ وَبَارَكْتَ وَتَرَحَّمْتَ وَتَحَنَّنْتَ،
وَسَلَّمْتَ عَلى اَحَدٍ مِنْ عِبَادِكَ وَاَنْبِيَاۤئِكَ،
وَرُسُلِكَ وَصِفْوَتِكَ،
وَاَهْلِ الْكَرَامَةِ عَلَيْكَ مِنْ خَلْقِكَ،
اَللّٰهُمَّ وَصَلِّ عَلٰى عَلِيٍّ اَمِيْرِ الْمُؤْمِنِيْنَ،
وَوَصِيِِّ رَسُوْلِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ،
عَبْدِكَ وَوَليِّكَ، وَاَخِيْ رَسُوْلِكَ،
وَحُجَّتِكَ عَلٰى خَلْقِكَ،
وَاٰيَتِكَ الْكُبْرٰى،
وَالنَّبَاِ الْعَظِيْمِ،
وَصَلِّ عَلَى الصِّدِّيْقَةِ الطَّاهِرَةِ
فَاطِمَةَ سَيِّدَةِ نِسَاۤءِ الْعَالَمِيْنَ،
وَصَلِّ عَلٰى سِبْطَيِ الرَّحْمَةِ
وَاِمامَيِ الْهُدٰى،
اَلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ
سَيِّدَيْ شَبابِ اَهْلِ الْجَّنَةِ،
وَصَلِّ عَلٰى اَئِمَّةِ الْمُسْلِمِيْنَ،
عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ،
وَمُحَمَّدِ ابْنِ عَلِيٍّ،
وَجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ،
وَمُوْسَى بْنِ جَعْفَرٍ،
وَعَلِيِّ بْنِ مُوسٰى،
وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ،
وَعَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ،
وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِىٍّ،
وَالْخَلَفِ الْهَادِي الْمَهْدِيِّ،
حُجَجِكَ عَلٰى عِبَادِكَ،
وَاُمَنَآئِكَ فِيٓ بِلَادِكَ
صَلَاةً كَثِيْرَةً دَآئِمَةً.
اَللّٰهُمَّ وَصَلِّ عَلٰى وَلِىِّ اَمْرِكَ
الْقَآئِمِ الْمُؤَمَّلِ،
وَالْعَدْلِ الْمُنْتَظَرِ،
وَحُفَّهُ بِمَلَآئِكَتِكَ الْمُقَرَّبِيْنَ،
وَاَيِّدْهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ
يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ.
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ الدَّاعِيَ اِلٰى كِتَابِكَ،
وَالْقَاۤئِمَ بِدِيْنِكَ،
اِسْتَخْلِفْهُ فِيْ الْاَرْضِ
كَمَا اسْتَخْلَفْتَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِ،
مَكِّنْ لَهُ دِيْنَهُ، الَّذِي ارْتَضَيْتَهُ لَهُ،
اَبْدِلْهُ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِ اَمْنًا
يَعْبُدُكَ لَا يُشْرِكُ بِكَ شَيْئًا.
اَللّٰهُمَّ اَعِزَّهُ وَاَعْزِزْ بِهِ،
وَانْصُرْهُ وَانْتَصِرْ بِهِ،
وَانْصُرْهُ نَصْرًا عَزِيْزًا،
وَاْفتَحْ لَهُ فَتْحًا يَسِيْرًا،
وَاجْعَلْ لَهُ مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيْرًا،
اَللّٰهُمَّ اَظْهِرْ بِهِ دِيْنَكَ، وَسُنَّةَ نَبِيِّكَ،
حَتّٰى لَا يَسْتَخْفِيَ بِشَىْءٍ مِّنَ الْحَقِّ،
مَخَافَةَ اَحَدٍ مِنَ الْخَلْقِ.
اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَرْغَبُ اِلَيْكَ فِي دَوْلَةِ كَرِيمَةٍ،
تُعِزُّ بِهَا الْاِسْلَامَ وَاَهْلَهُ،
وَتُذِلُّ بِهَا النِّفَاقَ وَاَهْلَهُ،
وَتَجْعَلُنَا فِيْهَا مِنَ الدُّعَاةِ اِلٰى طَاعَتِكَ،
وَالْقادَةِ اِلٰى سَبِيْلِكَ،
وَتَرْزُقُنَا بِهَا كَرَامَةَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ.
اَللّٰهُمَّ مَا عَرَّفْتَنَا مِنَ الْحَقِّ فَحَمِّلْنَاهُ،
وَمَا قَصُرْنَا عَنْهُ فَبَلِّغْنَاهُ،
اَللّٰهُمَّ الْمُمْ بِهِ شَعَثَنَا،
وَاشْعَبْ بِهِ صَدْعَنَا،
وَارْتُقْ بِهِ فَتْقَنَا،
وَكَثِّرْبِهِ قِلَّتَنَا،
وَاَعْزِزْ بِهِ ذِلَّتَنَا،
وَاَغْنِ بِهِ عَآئِلَنَا،
وَاَقْضِ بِهِ عَنْ مَغْرَمِنَا،
وَاجْبُرْبِهِ فَقْرَنَا،
وَسُدَّ بِهِ خَلَّتَنَا،
وَيَسِّرْ بِهِ عُسْرَنَا،
وَبَيِّضْ بِهِ وُجُوْهَنَا،
وَفُكَّ بِهِ اَسْرَنَا،
وَاَنْجِحْ بِهِ طَلِبَتَنَا،
وَاَنْجِزْ بِهِ مَوَاعِيْدَنَا،
وَاسْتَجِبْ بِهِ دَعْوَتَنَا،
وَاَعْطِنَا بِهِ سُؤْلَنَا،
وَبَلِّغْنَا بِهِ مِنَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ اٰمَالَنَا،
وَاَعْطِنَا بِهِ فَوْقَ رَغْبَتِنَا.
يَا خَيْرَ الْمَسْؤُوْلِيْنَ،
وَاَوْسَعَ الْمُعْطِيْنَ،
اِشْفِ بِهِ صُدُوْرَنَا،
وَاَذْهِبْ بِهِ غَيْظَ قُلُوْبِنَا،
وَاهْدِنَا بِهِ لِمَا اخْتُلِفَ فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِكَ،
اِنَّكَ تَهْدِيْ مَنْ تَشَاۤءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُسْتَقِيْمٍ،
وَانْصُرْنَا بِهِ عَلٰى عَدُوِّكَ وَعَدُوِّنَا
اِلٰـهَ الْحَقِّ اٰمِيْنَ،
اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَشْكُوْ اِلَيْكَ
فَقْدَ نَبِيِّنَا صَلَوٰاتُكَ عَلَيْهِ وَاٰلِهِ،
وَغَيْبَةَ وَلِيِّنَا،
وَكَثْرَةَ عَدُوِّنَا،
وَقِلَّةَ عَدَدِنَا،
وَشِدَّةَ الْفِتَنِ بِنَا،
وَتَظَاهُرَ الزَّمَانِ عَلَيْنَا.
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَاٰلِهِ،
وَاَعِنَّا عَلىٰ ذٰلِكَ بِفَتْحٍ مِنْكَ تُعَجِّلُهُ،
وَبِضُرٍّ تَكْشِفُهُ،
وَنَصْرٍ تُعِزُّهُ،
وَسُلْطانِ حَقٍّ تُظْهِرُهُ،
وَرَحْمَةٍ مِنْكَ تَجَلِّلُنَاهَا،
وَعَافِيَةٍ مِنْكَ تُلْبِسُنَاهَا،
بِرَحْمَتِكَ يآ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔