دُعائے کمیل بن زیاد علیہ الرحمہ
(یہ بھی مشہور دعاؤں میں سے ہے جس کے بارے میں علامہ مجلسیؒ نے فرمایا ہے کہ یہ بہترین دعا ہے اور اس کا نام دعائے خضر ہے۔ حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے اسے کمیلؒ کو تعلیم فرمایا ہے جو آپ کے مخصوص اصحاب میں تھے۔ اور فرمایا ہے کہ شب نیمۂ شعبان اور شب جمعہ میں اسے پڑھا جائے۔ دشمنوں کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے۔ رزق کی وسعت کے لئے اور گناہوں کی بخشش کے لئے بیحد مفید ہے۔ شیخ طوسیؒ اور سید بن طاؤس ؒ نے اس دعا کو نقل کیا ہے اور اس مقام پراسے مصباح المتہجد سے نقل کیا جا رہا ہے۔)
خدایا میرا سوال اس رحمت کے واسطے سے ہے جو شئے پر محیط ہے۔ اس قوت کے واسطے سے ہے جو ہر چیز پر حاوی ہے اور اس کے لئے ہر شئے خاضع اور متواضع ہے۔ اس جبروت کے واسطے سے ہے جو ہر شئے پر غالب ہے اور عزت کے واسطے سے ہے جس کے مقابلے میں کسی میں تاب مقاومت نہیں ہے۔ اس عظمت کے واسطے سے ہے جس نے ہر چیز کو پُر کر دیا ہے اور اس سلطنت کے واسطے سے ہے جو ہر شئے سے بلند تر ہے۔ اس ذات کے واسطے سے ہے کو ہر شئے کی فنا کے بعد بھی باقی رہنے والی ہے اور ان اسماء مبارکۂ کے واسطے سے ہے جن سے ہر شئے کہ ارکان معمور ہیں۔ اس علم کے واسطے سے ہے جو ہر شئے کا احاطہ کیئے ہوئے ہے اور اس نور ذات کے واسطے سے ہے جس سے ہر شئے روشن ہے۔ اے نور، اے پاکیزہ صفات، اے اولین سے اول اور آخرین سےآخر۔ خدایا میرے گناہوں کو بخش دے جو ناموس کو بٹّہ لگا دیتے ہیں۔ ان گناہوں کو بخش دے جو نزول عذاب کا باعث ہوتے ہیں۔ ان گناہوں کو بخش دے جو نعمتوں کو متغیر کر دیا کرتے ہیں۔ ان گناہوں کو بخش دے جو دعاؤں کو تیری بارگاہ تک پہنچنے سے روک دیتے ہیں۔ ان گناہوں کو بخش دے جو امیدوں کو منقطع کر دیتے ہیں۔ ان گناہوں کو بخش دے جو نزول بلا ءکا سبب ہوتے ہیں۔خدایا میرے تمام گناہوں اور میری خطاؤں کو بخش دے۔ خدایا میں تیری یاد کے ذریعہ تجھ سے قریب ہو رہا ہوں اور تیری ذات ہی کو تیری بارگاہ میں شفیع بنا رہا ہوں تیرے کرم کے سہارے میرا یہ سوال ہے کہ مجھے اپنے سے قریب بنا لے اور اپنے شکر کی توفیق عطا فرما اور اپنے ذکر کا الہام کرامت فرما۔ خدایا میں نہایت درجہ خشوع، خضوع اور ذلت کے ساتھ یہ سوال کر رہا ہوں کہ میرے ساتھ مہربانی فرما۔ مجھ پر رحم کر اور جو کچھ مقدر میں ہے مجھے اسی پر قانع بنا دے۔ مجھے ہر حال میں تواضع اور فروتنی کی توفیق عطا فرما۔ خدایا میرا سوال اس بے نوا جیسا ہے جس کے فاقے شدید ہوں اور جس نے اپنی حاجتیں تیرے سامنے رکھ دی ہوں اور جس کی رغبت تیری بارگاہ میں عظیم ہو۔ خدایا تیری سلطنت عظیم۔ تیری منزلت بلند۔ تیری تدبیر مخفی۔ تیراامر ظاہر۔ تیرا قہر غالب اور تیری قدرت نافذ ہے اور تیری حکومت سے فرار نا ممکن ہے۔ خدایا میرے گناہوں کے لئے بخشنے والا۔ میرے عیوب کے لئے پردہ پوشی کرنے والا، میرے قبیح اعمال کو نیکیوں میں تبدیل کرنے والا تیرے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ تو وحدۂ لا شریک، پاکیزہ صفات اور قابل حمد ہے۔خدایا میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے۔ اپنی جہالت سے جسارت کی ہے اور اس بات پر مطمئن بیٹھا ہوں کہ تو نے مجھے ہمیشہ یا درکھا ہے اور ہمیشہ احسان فرمایا ہے۔ خدایا میرے کتنے ہی عیب ہیں جنھیں تو نے چھپا دیا ہے اور کتنے ہی عظیم بلائیں ہیں جن سے تو نے بچایا ہے۔ کتنی ٹھوکریں ہیں جن سے تونے سنبھالا ہے اور کتنی برائیاں ہیں جنھیں تو نےٹالا ہے۔ کتنی ہی اچھی تعریفیں ہیں جن کا میں اہل نہیں تھا اور تونے میرے بارے میں انھیں نشر کیا ہے۔ خدایا میری مصیبت عظیم ہے۔ میری بدحالی حد سے آگے بڑھی ہوئی ہے۔ میرے اعمال میں کوتاہی ہے۔ مجھے کمزوریوں کی زنجیروں نے جکڑ کر بٹھا دیا ہے اور مجھے دور دراز امیدوں نے فوائد سے روک دیا ہے۔ دنیا نے دھوکہ میں مبتلا رکھا ہے اور نفس نے خیانت اور ٹال مٹو ل میں مبتلا رکھا ہے۔ میرے آقا و مولا ! تجھے تیری عزت کا واسطہ۔ میری دعاؤں کو میری بداعمالیاں روکنے نہ پائیں اور میں اپنے مخفی عیوب کی بنا پر بر سر عام رسوا نہ ہونے پاؤں۔ میں نے تنہائیوں میں جو غلطیاں کی ہیں ان کی سزا فی الفور نہ ملنے پائے۔ چاہے وہ غلطیاں بدعملی کی شکل میں ہو یا بے ادبی کے شکل میں۔ مسلسل کوتاہی ہو یا جہالت یا کثرت خواہشات و غفلت۔ خدایا مجھ پر ہر حال میں مہربانی فرما اور میرے اوپر تمام معاملات میں کرم فرما۔ خدایا پروردگار۔ میرے پاس تیرے علاوہ کون ہے جو میرے نقصانات کو دور کر سکے اور میرے معاملات پر توجہ فرما سکے۔ خدایا۔ مولایا۔ تو نے مجھ پر احکام نافذ کیے اور میں نے خواہش نفس کا اتباع کیا اور اس بات کی پرواہ نہ کی کہ دشمن (شیطان)مجھے فریب دے رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے خواہش کے سہارے مجھے دھوکہ دیا اور میرے مقدر نے بھی اس کا ساتھ دے دیا اور میں نے تیرے احکام کے معاملہ میں حدود سے تجاوز کیا اور تیرے بہت سے احکام کی خلاف ورزی کر بیٹھا۔ اب تیری حجت ہر مسئلہ میں میرے اوپر تمام ہے اور میرے پاس تیرے فیصلہ کے مقابلہ میں اور تیرے حکم و آزمائش کے سامنے کوئی حجت و دلیل نہیں ہے۔ اب میں ان تمام کوتاہیوں اور اپنے نفس پر تمام زیادتیوں کے بعد تیری بارگاہ میں ندامت انکسار، استغفار، انابت، اقرار، اذعان، اعتراف کے ساتھ حاضر ہو رہا ہوں کہ میرے پاس ان گناہوں سے بھاگنے کے لئے کوئی جائے فرار نہیں ہے اور تیری قبولیت معذرت کے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔صرف ایک ہی راستہ ہے کہ تو اپنی رحمت کاملہ میں داخل کر لے۔ لہٰذا پروردگار میرے عذر کو قبول فرما لے۔ میری شدت مصیبت پر رحم فرما۔ مجھے شدید قید و بند سے نجات عطا فرما۔ پروردگار میرے بدن کی کمزوری میری جلد کی نرمی اور میرے استخوا ں کی باریکی پر رحم فرما۔ اے میرے پیدا کرنے والے۔ اے میرے تربیت دینے والے۔ اے نیکی کرنے والے۔ اپنے سابقہ کرم اور گذشتہ احسانات کی بنا پر مجھے معاف فرما دے۔ پروردگار ! کیا یہ ممکن ہے کہ میرے عقیدہ توحید کے بعد بھی تو مجھ پر عذاب ناز ل کرے یا میرے دل میں اپنی معرفت کے باوجود مجھے مورد عذاب قرار دے جب کہ میری زبان پر مسلسل تیرا ذکر اور میرے دل میں برابر تیری محبت جاگزیں رہی ہے۔ میں صدق دل سے تیری ربوبیت کے سامنے خاضع ہوں۔ اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ جسے تو نے پالا ہے اسے برباد بھی کردے۔ جسے تو نے قریب بنایا ہے اسے دور کردے۔ جسے تونے پناہ دی ہے اسے راندہ درگاہ بنادے اور جس پر تو نے مہربانی کی ہے اسے بلاؤں کے حوالے کر دے۔ میرے سردار۔ میرے خدا میرے مولا کاش میں یہ سوچ بھی سکتا کہ جو چہرے تیرے سامنے سجدہ ریز رہے ہیں ان پر بھی تو آگ کو مسلط کر دے گا۔ اور زبانیں صداقت کے ساتھ حرف توحید کو جاری کرتی رہی ہیں اور تیری حمد و ثنا کرتی رہی ہیں یا جن دلوں کو تحقیق کے ساتھ تیری خدائی کا اقرار ہے یا جو ضمیر تیرے علم سے اس طرح معمور ہیں کہ تیرے سامنے خاضع و خاشع ہیں یا جو اعضاء و جوار ح تیرے مراکز عبادت کی طرف ہنسی خوشی سبقت کرنے والے ہیں اور تیرے استغفار کو یقین کے ساتھ اختیار کرنے والے ہیں ان پر بھی تو عذاب کرے گا، ہر گز تیرے بارے میں ایسا خیال بھی نہیں ہے اور نہ تیرے فضل و کرم کے بارےمیں ایسی کوئی اطلاع ملی ہے۔ پروردگارا تو جانتا ہے کہ میں دنیا کی معمولی بلا اور ادنیٰ سختی کو برداشت نہیں کر سکتا اور میرے لئے اس کی ناگواریاں ناقابل تحمل ہیں جب کہ یہ بلائیں قلیل اور ان کی مدت مختصر ہے۔ تو میں ان آخرت کی بلاؤں کو کس طرح برداشت کروں گا جن کی سختیاں عظیم، جن کی مدت طویل اور جن کا قیام دائمی ہے۔ جن میں تخفیف کا بھی کوئی امکان نہیں ہے اس لئے کہ یہ بلائیں تیرے غضب اور انتقام کا نتیجہ ہیں اور ان کی تاب زمین و آسمان نہیں لا سکتے تو میں ایک بندہ ضعیف و ذلیل و حقیر و مسکین و بے چارہ کیا حیثیت رکھتا ہوں۔ خدایا۔ پروردگارا۔ میرے سردار۔ میرے مولا۔ میں کس کس بات کی فریاد کروں اور کس کس کام کے لئے آہ و زاری اور گریہ و بکا کروں قیامت کے دردناک عذاب اور اس کی شدت کے لئے یااس کی طویل مصیبت اور دراز مدت کے لئے کہ اگر تونے ان سزاؤں میں، مجھے اپنے دشمنوں کے ساتھ ملا دیا اور مجھے اہل مصیبت کے ساتھ جمع کر دیا اور میرے اور اپنے احباء و اولیا کے درمیان جدائی ڈال دی۔ تو میرے خدایا۔ میرے پروردگار۔ میرے آقا۔ میرے سردار۔ پھر یہ بھی طے ہے کہ اگر میں تیرے عذاب پرصبر بھی کر لوں تو تیرے فراق پر صبر نہیں کر سکتا۔ اگر آتش جہنم کی گرمی برداشت بھی کرلوں تو تیری کرامت نہ دیکھنے کو برداشت نہیں کر سکتا۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ میں تیری معافی کی امید رکھوں اور پھر میں آتش جہنم میں جلا دیا جاؤں۔ تیری عزت و عظمت کی قسم اے میرے آقا و مولا اگر تونے میری گویائی کو باقی رکھا تو میں اہل جہنم کے درمیان بھی امیدواروں کی طرح فریاد کروں گا اور فریادیوں کی طرح نالہ و شیون کروں گا اور عزیز گم کردہ کی طرح تیری دوری پر آہ وبکا کروں گا اور تو جہاں بھی ہو گا تجھے آواز دوں گا کہ تو مومنین کا سرپرست، عارفین کامرکز امید، فریادیوں کا فریاد رس۔ صادقین کا محبوب اور عاملین کا معبود ہے میرے پاکیزہ صفات، قابل حمد و ثنا پروردگار کیا یہ ممکن ہے کہ تو بندہ مسلمان کو اس کی مخالفت کی بنا پر جہنم میں گرفتار اور معصیت کی بنا پر عذاب کا مزہ چکھنے والا اور جرم و خطا کی بنا پر جہنم کے طبقات کے درمیان کروٹیں بدلنے والا بنا دے اور پھر یہ دیکھے کہ وہ امیدوار رحمت کی طرح فریاد کناں اور اہل توحید کی طرح پکارنے والا، ربوبیت کے وسیلہ سے التماس کرنے والا ہے اور تو اس کی آواز نہیں سنتا ہے۔ خدایا تیرے حلم و تحمل سے آس لگانے والا کس طرح عذاب میں رہے گا اور تیرے فضل وکرم سے امیدیں وابستہ کرنے والا کس طرح جہنم کے الم و رنج کا شکار ہو گا۔ جہنم کی آگ اسے کس طرح جلائے گی جب کی تو اس کی آواز کو سن رہا ہوگا اور اس کی منزل کو دیکھ رہاہوگا جہنم کے شعلے اسے کس طرح اپنی لپیٹ میں لیں گے جب کہ تو اس کی کمزوری کو دیکھ رہا ہو گا۔ وہ جہنم کے طبقات میں کس طرح کروٹیں بدلے گا جب کہ تو اس کی صداقت کوجانتا ہے۔ جہنم کے فرشتے اسے کس طرح جھڑکیں گے جب کہ وہ تجھے آواز دے رہا ہوگا اور اسے جہنم میں کس طرح چھوڑ دے گا جب کہ وہ تیرے فضل وکرم کا امیدوار ہوگا ہرگز تیرے بارے میں یہ خیا ل ا ور تیرے احسانا ت کایہ انداز نہیں ہے۔ تو نے جس طرح اہل توحید کے ساتھ نیک برتاؤ کیا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ میں تویقین کےساتھ کہتا ہوں کہ تو نے اپنے منکروں کے حق میں عذاب کا فیصلہ نہ کر دیا ہوتا اور اپنے دشمنوں کو ہمیشہ جہنم میں رکھنے کا حکم نہ دے دیا ہوتا تو ساری آتش جہنم کو سرد اور سلامتی بنا دیتا اور اس میں کسی کاٹھکانا اور مقام نہ ہوتا۔ لیکن تو نے اپنے پاکیزہ اسماء کی قسم کھائی ہے کہ جہنم کو انسان و جنات کے کافروں سے پر کرے گا اور معاندین کو اس میں ہمیشہ ہمیشہ رکھے گا۔ اور تو نے ابتدا ہی سے یہ کہہ دیا ہے اور اپنے کرم و انعام سے یہ اعلان کردیا ہے کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہو سکتے تو خدایا۔ مولایا۔ میں تیری مقدر کردہ قدرت اور تیری حتمی حکمت و قضاوت اور ہر محفل نفاذ پر غالب آنے والی عظمت کا حوالہ دے کر تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اسی رات میں اور اسی وقت معاف کردے۔ میرے سارے جرائم، سارے گناہ اور ساری ظاہری اور باطنی برائیاں اور ساری جہالتیں جن پر میں خفیہ طریقہ سے یا علی الاعلان چھپا کر یا ظاہر کر کے عمل کیاہے اور میری تمام خرابیاں جنھیں تونے درج کرنے کا حکم کراما ً کاتبین کو دیا ہے جن کو اعمال کے محفوظ کرنے کے لئے معین کیا ہے اور میرے اعضاء و جوارح کے ساتھ ان کو میرے اعمال کا گواہ قرار دیا ہے اور پھر تو خود بھی ان سب کی نگرانی کر رہا ہے اور جو ان سے مخفی رہ جائے اس کا گواہ ہے سب کو معاف فرما دے۔ یہ تو تیری رحمت ہے کہ تو نے انھیں چھپادیا ہے اور اپنے فضل و کرم سے ان عیوب پر پردہ ڈال دیا ہے۔ میرے پروردگار اپنی طرف سے نازل ہونے والے ہر خیر و احسان اور نشر ہونے والی ہر نیکی۔ ہر وسیع رزق۔ ہر بخشے ہوئے گناہ۔ ہر پردہ پوشی عیوب میں سے میرا وافر حصہ قراردے۔ اے میرے رب۔ اے میرے رب۔ اے میرے رب۔ اےمیرے مولا اور آقا۔ اے میری بندگی کے مالک۔ اے میرے مقدر کے صاحب اختیار۔ اے میری پریشانی اور بے نوائی کے جاننے والے۔ اے میرے فقر وفاقہ کی اطلاع رکھنے والے۔ اے میرے پروردگار۔ اے میرے رب۔ اے میرے رب۔ تجھے تیری قدوسیت۔ تیرے حق اور تیرے عظیم ترین اسماء و صفات کا واسطہ دے کر یہ سوال کرتا ہوں کہ دن اور رات میں جملہ اوقات اپنی یاد سے معمور کردے۔ اپنی خدمت کی مسلسل توفیق عطا فرما۔ میرے اعمال کو اپنی بارگاہ میں مقبول قرار دے تاکہ میرے جملہ اعمال اور جملہ اوراد سب فقط تیرے لئے ہوں اور میرے حالات ہمیشہ تیری خدمت کے لئے وقف رہیں۔ میرے مولا۔ میرے مالک۔ جس پر میراا عتماد ہےاور جس سے میں اپنے حالات کی فریاد کرتا ہوں۔ اے رب۔ اے رب۔ اے رب! اپنی خدمت کے لئے میرے اعضاء و جوارح کو مضبوط کر دے اور اپنی طرف رخ کرنے کے لئے میرے ارادہ دل کو مستحکم بنا دے۔ اپنا خوف پیدا کرنے کی کوشش اور اپنی مسلسل خدمت کرنے کا جذبہ عطا فرما تا کہ تیری طرف سابقین کے ساتھ آگے بڑھوں اور تیز افراد کے ساتھ قد،م ملا کر چلوں۔ مشتاقین کے درمیان تیرے قرب کا مشتاق شمار ہوں اور مخلصین کی طرح تیری قربت اختیار کروں۔ صاحبان یقین کی طرح تیرا خوف پیدا کروں اور مومنوں کے ساتھ تیرے جوار میں حاضری دوں۔ خدایا جو بھی کوئی میرے لئے برائی چاہے یا میرے ساتھ کوئی چال چلے تو اسے ویسا ہی بدلہ دینا اور مجھے بہترین حصہ پانے والا قریب ترین منزلت رکھنے والا اور مخصوص ترین قربت کاحامل بندہ قرار دینا کہ یہ کام جودو کرم کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ خدایا میرے اوپر کرم فرما۔ اپنی بزرگی سے رحمت نازل فرما اپنی رحمت سے میرا تحفظ فرما اور میری زبان کو اپنے ذکر سے گویا فرما۔ میرے دل کو اپنی محبت کا عاشق بنا دے اور مجھ پر بہترین قبولیت کے ساتھ احسان فرما۔ میری لغزشوں سے درگذر فرما۔تو نے اپنے بندوں پر عبادت فرض کی ہے۔ انھیں دعا کا حکم دیا ہے اور ان سے قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے۔ اب میں تیری طرف رخ کئے ہوئے ہوں اور تیری بارگاہ میں ہاتھ پھیلائے ہوں۔ اپنی عزت کا واسطہ میری دعا کو قبول فرما مجھے میرئ مراد تک پہنچا دے۔ اپنے فضل وکرم سے میری امیدوں کو منقطع نہ فرمانا۔ مجھے تمام دشمنان جن و انس کے شر سے محفوظ فرمانا۔ اے بہت جلد راضی ہو جانے والے اس بندہ کو بخش دے جس کے اختیار میں سوائے دعا کے کچھ نہیں ہے کہ تو ہی ہرشئے کا صاحب اختیار ہے اے وہ پروردگار جس کانام دوا، جس کی یاد شفا اور جس کی اطاعت مالداری ہے اس بندہ پر رحم فرما جس کا سرمایہ فقط امید اور اس کا اسلحہ فقط گریہ ہے اے کامل نعمتیں دینے والے۔ اے مصیبتوں کو رفع کرنے والے اور تاریکیوں میں وحشت زدوں کو روشنی دینے والے۔ محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما اور میرے ساتھ وہ برتاؤ کر جس کا تو اہل ہے۔ اپنے رسول اور ان کی مبارک آل ائمہ معصومینؑ پر صلوات و سلام فراوان نازل فرما۔
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُكَ بِرَحْمَتِكَ، الَّتِیْ وَسِعَتْ كُلَّ شَیْئٍ،
خدایا میرا سوال اس رحمت کے واسطے سے ہے جو شئے پر محیط ہے۔
وَ بِقُوَّتِكَ الَّتِیْ قَھَرْتَ بِھَا كُلَّ شَیْئٍ،
اس قوت کے واسطے سے ہے جو ہر چیز پر حاوی ہے
وَ خَضَعَ لَھَا كُلُّ شَیْئٍ،
اور اس کے لئے ہر شئے خاضع
وَّ ذَلَّ لَھَا كُلُّ شَیْئٍ،
اور متواضع ہے۔
وَ بِجَبَرُوْتِكَ الَّتِیْ غَلَبْتَ بِھَا كُلَّ شَیْئٍ،
اس جبروت کے واسطے سے ہے جو ہر شئے پر غالب ہے
وَّ بِعِزَّتِكَ الَّتِیْ لَا یَقُوْمُ لَھَا شَیْئٌ،
اور عزت کے واسطے سے ہے جس کے مقابلے میں کسی میں تاب مقاومت نہیں ہے۔
وَّ بِعَظَمَتِكَ الَّتِیْ مَلَاَتْ كُلَّ شَیْءٍ،
اس عظمت کے واسطے سے ہے جس نے ہر چیز کو پُر کردیا ہے
وَّ بِسُلْطَانِكَ الَّذِیْ عَلٰی كُلَّ شَیْءٍ،
اور اس سلطنت کے واسطے سے ہے جو ہر شئے سے بلند تر ہے۔
وَّ بِوَجْھِكَ الْبَاقِیْ بَعْدَ فَنَاۤءِ كُلَّ شَیْءٍ،
اس ذات کے واسطے سے ہے کو ہر شئے کی فنا کے بعد بھی باقی رہنے والی ہے
وَّ بِاَسْمَاۤئِكَ الَّتِیْ مَلَاَتْ اَرْكَانَ كُلِّ شَیْءٍ،
اور ان اسماء مبارکۂ کے واسطے سے ہے جن سے ہر شئے کہ ارکان معمور ہیں۔
وَّ بِعِلْمِكَ الَّذِیْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ،
اس علم کے واسطے سے ہے جو ہر شئے کا احاطہ کیئے ہوئے ہے
وَّ بِنُوْرِ وَجْھِكَ الَّذِیْ اَضَاۤءَلَہٗ كُلُّ شَیْءٍ،
اور اس نور ذات کے واسطے سے ہے جس سے ہر شئے روشن ہے۔
یَا نُوْرُ یَا قُدُّوْسُ،
اے نور، اے پاکیزہ صفات،
یَا اَوَّلَ الْاَوَّلِیْنَ
اے اولین سے اول
وَ یَا اۤخِرَ الْاۤخِرِیْنَ.
اور آخرین سےآخر۔
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوْبَ الَّتِیْ تَھْتِكُ الْعِصَمَ.
خدایا میرے گناہوں کو بخش دے جو ناموس کو بٹّہ لگا دیتے ہیں۔
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیَ الذُّنُوْبَ الَّتِیْ تُنْزِلُ النِّقَمَ.
ان گناہوں کو بخش دے جو نزول عذاب کا باعث ہوتے ہیں۔
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوْبَ الَّتِیْ تُغَیِّرُ النِّعَمَ.
ان گناہوں کو بخش دے جو نعمتوں کو متغیر کردیا کرتے ہیں۔
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوْبَ الَّتِیْ تَحْبِسُ الدُّعَاۤءَ.
ان گناہوں کو بخش دے جو دعاؤں کو تیری بارگاہ تک پہنچنے سے روک دیتے ہیں۔
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوْبَ الَّتِیْ تَقْطَعُ الرَّجَاۤءَ.
ان گناہوں کو بخش دے جو امیدوں کو منقطع کر دیتے ہیں۔
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوْبَ الَّتِیْ تُنْزِلُ الْبَلَاۤءَ.
ان گناہوں کو بخش دے جو نزول بلا ءکا سبب ہوتے ہیں۔
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ كُلَّ ذَنْبٍ اَذْنَبْتُہٗ،
خدایا میرے تمام گناہوں
وَ كُلُّ خَطِۤیْئَۃٍ اَخْطَاْتھَا.
اور میری خطاؤں کو بخش دے۔
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَتَقَرَّبُ اِلَیْكَ بِذِكْرِكَ،
خدایا میں تیری یاد کے ذریعہ تجھ سے قریب ہو رہا ہوں
وَ اَسْتَشْفِعُ بِكَ اِلٰی نَفْسِكَ،
اور تیری ذات ہی کو تیری بارگاہ میں شفیع بنا رہا ہوں
وَ اَسْئَلُكَ بِجُوْدِكَ، اَنْ تُدْنِیَنِیْ مِنْ قُرْبِكَ،
تیرے کرم کے سہارے میرا یہ سوال ہے کہ مجھے اپنے سے قریب بنا لے
وَ اَنْ تُوْزِعَنِیْ شُكْرَكَ،
اور اپنے شکر کی توفیق عطا فرما
وَ اَنْ تُلْھِمَنِیْ ذِكْرَكَ.
اور اپنے ذکر کا الہام کرامت فرما۔
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُكَ سُؤَالَ خَاضِعٍ
خدایا میں نہایت درجہ خشوع،
مُتَذَلِّلٍ خَاشِعٍ،
خضوع اور ذلت کے ساتھ
اَنْ تُسَامِحَنِیْ وَ تَرْحَمَنِیْ
یہ سوال کر رہا ہوں کہ میرے ساتھ مہربانی فرما۔ مجھ پر رحم کر
وَ تَجْعَلَنِیْ بِقِسْمِكَ، رَاضِیًا قَانِعًا
اور جو کچھ مقدر میں ہے مجھے اسی پر قانع بنا دے۔
وَ فِیْ جَمِیْعِ الْاَحْوَالِ مُتَوَاضِعًا.
مجھے ہر حال میں تواضع اور فروتنی کی توفیق عطا فرما۔
اَللّٰھُمَّ وَ اَسْئَلُكَ سُؤَالَ مَنِ اشْتَدَّتْ فَاقَتُہٗ،
خدایا میرا سوال اس بے نوا جیسا ہے جس کے فاقے شدید ہوں
وَ اَنْزَلَ بِكَ عِنْدَ الشَّدَاۤئِدِ حَاجَتَہٗ،
اور جس نے اپنی حاجتیں تیرے سامنے رکھ دی ہوں
وَ عَظُمَ فِیْمَا عِنْدَكَ رَغْبَتُہٗ.
اور جس کی رغبت تیری بارگاہ میں عظیم ہو۔
اَللّٰھُمَّ عَظُمَ سُلْطَانُكَ،
خدایا تیری سلطنت عظیم۔
وَ عَلٰی مَكَانُكَ،
تیری منزلت بلند۔
وَ خَفِیَ مَكْرُكَ،
تیری تدبیر مخفی۔
وَ ظَھَرَ اَمْرُكَ،
تیراامر ظاہر۔
وَ غَلَبَ قَھْرُكَ،
تیرا قہر غالب
وَ جَرَتْ قُدْرَتُكَ،
اور تیری قدرت نافذ ہے
وَ لَا یُمْكِنُ الْفِرَارُ مِنْ حُكُوْمَتِكَ.
اور تیری حکومت سے فرار نا ممکن ہے۔
اَللّٰھُمَّ لَا اَجِدُ لِذُنُوْبِیْ غَافِرًا،
خدایا میرے گناہوں کے لئے بخشنے والا۔
وَ لَا لِقَبَاۤئِحِیْ سَاتِرًا،
میرے عیوب کے لئے پردہ پوشی کرنے والا،
وَّ لَا لِشَیْئٍ مِّنْ عَمَلِیَ الْقَبِیْحِ بِالْحَسَنِ مُبَدِّلًا غَیْرَكَ،
میرے قبیح اعمال کو نیکیوں میں تبدیل کرنے والا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ
تیرے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ تو وحدۂ لا شریک،
سُبْحَانَكَ وَ بِحَمْدِكَ،
پاکیزہ صفات اور قابل حمد ہے۔
ظَلَمْتُ نَفْسِیْ
خدایا میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے۔
وَ تَجَرَّاْتُ بِجَھْلِیْ،
اپنی جہالت سے جسارت کی ہے
وَ سَكَنْتُ اِلٰی قَدِیْمِ ذِكْرِكَ لِیْ وَمَنِّكَ عَلَیَّ.
اور اس بات پر مطمئن بیٹھا ہوں کہ تو نے مجھے ہمیشہ یاد رکھا ہے اور ہمیشہ احسان فرمایا ہے۔
اَللّٰھُمَّ مَوْلَایَ،
خدایا میرے
كَمْ مِنْ قَبِیْحٍ سَتَرْتَہٗ،
کتنے ہی عیب ہیں جنھیں تو نے چھپا دیا ہے
وَ كَمْ مِنْ فَادِحٍ مِنَ الْبَلَاۤءِ اَقَلْتَہٗ،
اور کتنے ہی عظیم بلائیں ہیں جن سے تو نے بچایا ہے۔
وَكَمْ مِنْ عِثَارٍ وَقَیْتَہٗ،
کتنی ٹھوکریں ہیں جن سے تونے سنبھالا ہے
وَ كَمْ مِّنْ مَّكْرُوْہٍ دَفَعْتَہٗ،
اور کتنی برائیاں ہیں جنھیں تو نےٹالا ہے۔
وَ كَمْ مِنْ ثَنَاۤءٍ جَمِیْلٍ لَسْتُ اَھْلًا لَہٗ نَشَرْتَہٗ.
کتنی ہی اچھی تعریفیں ہیں جن کا میں اہل نہیں تھا اور تونے میرے بارے میں انھیں نشر کیا ہے۔
اَللّٰھُمَّ عَظُمَ بَلَاۤئـِیْ،
خدایا میری مصیبت عظیم ہے۔
وَ اَفْرَطَ بِیْ سُوْۤء حَالِیْ،
میری بدحالی حد سے آگے بڑھی ہوئی ہے۔
وَ قَصُرَتْ بِیْ اَعْمَالِیْ،
میرے اعمال میں کوتاہی ہے۔
وَ قَعَدَتْ بِیْ اَغْلَالِیْ،
مجھے کمزوریوں کی زنجیروں نے جکڑ کر بٹھا دیا ہے
وَ حَبَسَنِیْ عَنْ نَفْعِیْ بُعْدُ اَمَلِیْ،
اور مجھے دور دراز امیدوں نے فوائد سے روک دیا ہے۔
وَ خَدَعَتْنِیْ الدُّنْیَا بِغُرُوْرِھَا،
دنیا نے دھوکہ میں مبتلا رکھا ہے
وَ نَفْسِیْ بِجِنَایَتِھَا وَ مِطَالِیْ
اور نفس نے خیانت اور ٹال مٹو ل میں مبتلا رکھا ہے۔
یَا سَیِّدِیْ فَاَسْئَلُكَ بِعِزَّتِكَ
میرے آقا و مولا ! تجھے تیری عزت کا واسطہ۔
اَنْ لَّا یَحْجُبَ عَنْكَ دُعَاۤئـِیْ
میری دعاؤں کو میری
سُوْۤءُ عَمَلِیْ وَ فِعَالِیْ,
بداعمالیاں روکنے نہ پائیں
وَ لَا تَفْضَحْنِیْ بِخَفِیِّ مَا اطَّلَعْتَ عَلَیْہِ مِنْ سِرِّیْ,
اور میں اپنے مخفی عیوب کی بنا پر بر سر عام رسوا نہ ہونے پاؤں۔
وَ لَا تُعَاجِلْنِیْ بِالْعُقُوْبَۃِ عَلٰی مَا عَمِلْتُہٗ فِیْ خَلَوَاتِیْ،
میں نے تنہائیوں میں جو غلطیاں کی ہیں ان کی سزا فی الفور نہ ملنے پائے۔
مِنْ سُوْۤءِ فِعْلِیْ وَ اِسَاۤئَتِیْ،
چاہے وہ غلطیاں بدعملی کی شکل میں ہو یا بے ادبی کے شکل میں۔
وَ دَوَامِ تَفْرِیْطِیْ وَ جَھَالَتِیْ،
مسلسل کوتاہی ہو یا جہالت
وَ كَثْرَۃِ شَھْوَاتِیْ وَ غَفْلَتِیْ،
یا کثرت خواہشات و غفلت۔
وَ كُنِ اللّٰھُمَّ بِعِزَّتِكَ لِیْ
خدایا مجھ پر
فِیْ كُلِّ الْاَحْوَالِ رَؤُوْفًا،
ہر حال میں مہربانی فرما
وَ عَلَیَّ فِیْ جَمِیْعِ الْاُمُوْرِ عَطُوْفًا.
اور میرے اوپر تمام معاملات میں کرم فرما۔
اِلٰھِیْ وَ رَبِّیْ مَنْ لِیْ غَیْرُكَ،
خدایا پروردگار۔ میرے پاس تیرے علاوہ کون ہے جو
اَسْئَلُہٗ كَشْفَ ضُرِّیْ،
میرے نقصانات کو دور کر سکے
وَ النَّظَرَ فِیْ اَمْرِیْ.
اور میرے معاملات پر توجہ فرما سکے۔
اِلٰھِیْ وَ مَوْلَایَ،
خدایا۔ مولایا۔
اَجْرَیْتَ عَلَیَّ حُكْمًانِ
تو نے مجھ پر احکام نافذ کیے
اتَّبَعْتُ فِیْہِ ھَوٰی نَفْسِیْ،
اور میں نے خواہش نفس کا اتباع کیا
وَ لَمْ اَحْتَرِسْ فِیْہِ مِنْ تَزْیِیْنِ عَدُوِّیْ،
اور اس بات کی پرواہ نہ کی کہ دشمن (شیطان)مجھے فریب دے رہا ہے۔
فَغَرَّنِیْ بِمَا اَھْوٰی
نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے خواہش کے سہارے مجھے دھوکہ دیا
وَ اَسْعَدَہٗ عَلٰی ذٰلِكَ الْقَضَاۤءُ،
اور میرے مقدر نے بھی اس کا ساتھ دے دیا
فَتَجَاوَزْتُ بِمَا جَرٰی عَلَیَّ مِنْ ذٰلِكَ بَعْضَ حُدُوْدِكَ،
اور میں نے تیرے احکام کے معاملہ میں حدود سے تجاوز کیا
وَ خَالَفْتُ بَعْضَ اَوَامِرِكَ،
اور تیرے بہت سے احکام کی خلاف ورزی کر بیٹھا۔
فَلَكَ الْحَمْدُ عَلَیَّ فِیْ جَمِیْعِ ذٰلِكَ،
اب تیری حجت ہر مسئلہ میں میرے اوپر تمام ہے
وَ لَا حُجَّۃَ لِیْ فِیْمَا جَرٰی عَلَیَّ فِیْہِ قَضَاۤؤُكَ،
اور میرے پاس تیرے فیصلہ کے مقابلہ میں اور
وَاَلْزَمَنِیْ حُكْمُكَ وَ بَلَاۤؤُكَ،
تیرے حکم و آزمائش کے سامنے کوئی حجت و دلیل نہیں ہے۔
وَ قَدْ اَتَیْتُكَ یَا اِلٰھِیْ
اے میرے خدا میں تیری بارگاہ میں
بَعْدَ تَقْصِیْرِیْ وَ اِسْرَافِیْ عَلٰی نَفْسِیْ،
ان تمام کوتاہیوں اور اپنے نفس پر تمام زیادتیوں کے بعد
مُعْتَذِرًا نَادِمًا،
ندامت
مُنْكَسِرًا مُسْتَقِیْلًا
انکسار،
مُسْتَغْفِرًا مُنِیْبًا،
استغفار، انابت،
مُقِرًّا مُذْعِنًا مُعْتَرِفًا،
اقرار، اذعان، اعتراف کے ساتھ حاضر ہورہا ہوں کہ
لَا اَجِدُ مَفَرًّا مِمَّا كَانَ مِنِّیْ،
میرے پاس ان گناہوں سے بھاگنے کے لئے کوئی جائے فرار نہیں ہے
وَ لَا مَفْزَعًا اَتَوَجَّہُ اِلَیْہِ فِیْ اَمْرِیْ
اور تیری قبولیت معذرت کے علاوہ
غَیْرَ قَبُوْلِكَ عُذْرِیْ،
کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔
وَ اِدْخَالِكَ اِیَّایَ فِیْ سَعَۃِ رَحْمَتِكَ.
صرف ایک ہی راستہ ہے کہ تو اپنی رحمت کاملہ میں داخل کر لے۔
اَللّٰھُمَّ فَاقْبَلْ عُذْرِیْ،
لہٰذا پروردگار میرے عذر کو قبول فرما لے۔
وَارْحَمْ شِدَّۃَ ضُرِّیْ،
میری شدّت مصیبت پر رحم فرما۔
وَ فُكَّنِیْ مِنْ شَدِّ وَثَاقِیْ.
مجھے شدید قید و بند سے نجات عطا فرما۔
یَا رَبِّ ارْحَمْ ضَعْفَ بَدَنِیْ،
پروردگار میرے بدن کی کمزوری
وَ رِقَّۃَ جِلْدِیْ،
میری جلد کی نرمی
وَ دِقَّۃَ عَظْمِیْ.
اور میرے استخواں کی باریکی پر رحم فرما۔
یَا مَنْ بَدَءَخَلْقِیْ وَ ذِكْرِیْ،
اے میرے پیدا کرنے والے۔
وَ تَرْبِیَتِیْ وَ بِرِّیْ وَ تَغْذِیَتِیْ،
اے میرے تربیت دینے والے۔
ھَبْنِیْ لِاِبْتِدَاۤءِ كَرَمِكَ
اے نیکی کرنے والے۔ اپنے سابقہ کرم
وَ سَالِفِ بِرِّكَ بِیْ.
اور گذشتہ احسانات کی بنا پر مجھے معاف فرما دے۔
یَا اِلٰھِیْ وَ سَیِّدِیْ وَ رَبِّیْ،
پروردگار ! اے میرے سید و سردار !
اَ تُرَاكَ مُعَذِّبِیْ بِنَارِكَ بَعْدَ تَوْحِیْدِكَ
کیا یہ ممکن ہے کہ میرے عقیدۂ توحید کے بعد بھی تو مجھ پر عذاب نازل کرے
وَ بَعْدَ مَا انْطَوٰی عَلَیْہِ قَلْبِیْ مِنْ مَعْرِفَتِكَ
یا میرے دل میں اپنی معرفت کے باوجود مجھے مورد عذاب قرار دے
وَ لَھِجَ بِہٖ لِسَانِیْ مِنْ ذِكْرِكَ
جب کہ میری زبان پر مسلسل تیرا ذکر
وَاعْتَقَدَہٗ ضَمِیْرِیْ مِنْ حُبِّكَ
اور میرے دل میں برابر تیری محبت جاگزیں رہی ہے۔
وَ بَعْدَ صِدْقِ اعْتِرَافِیْ وَ دُعَاۤئِـیْ
میں صدق دل سے تیری ربوبیت کے سامنے
خَاضِعًا لِرُبُوْبِیَّتِكَ
خاضع ہوں۔
ھَیْھَاتَ
اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ
اَنْتَ اَكْرَمُ مِنْ اَنْ تُضَیِّعَ مَنْ رَبَّیْتَہٗ،
جسے تو نے پالا ہے اسے برباد بھی کردے۔
اَوْ تُبْعِدَ مَنْ اَدْنَیْتَہٗ،
جسے تو نے قریب بنایا ہے اسے دور کردے۔
اَو ْتُشَرِّدَ مَنْ اٰوَیْتَہٗ،
جسے تونے پناہ دی ہے اسے راندہ درگاہ بنادے
اَوْ تُسَلِّمَ اِلَی الْبَلۤاۤءِ مَنْ كَفَیْتَہٗ وَ رَحِمْتَہٗ،
اور جس پر تو نے مہربانی کی ہے اسے بلاؤں کے حوالے کر دے۔
وَ لَیْتَ شِعْرِیْ یَا سَیِّدِیْ وَ اِلٰھِیْ وَ مَوْلَایَ.
میرے سردار۔ میرے خدا میرے مولا کاش میں یہ سوچ بھی سکتا کہ
اَتُسَلِّطُ النَّارَ عَلٰی وُجُوْہٍ
جو چہرے تیرے سامنے سجدہ ریز رہے ہیں
خَرَّتْ لِعَظَمَتِكَ سَاجِدَۃً
ان پر بھی تو آگ کو مسلط کر دے گا۔
وَ عَلٰی اَلْسُنٍ نَطَقَتْ بِتَوْحِیْدِكَ صَادِقَۃً
اور زبانیں صداقت کے ساتھ حرف توحید کو جاری کرتی رہی ہیں
وَ بِشُكْرِكَ مَادِحَۃً
اور تیری حمد و ثنا کرتی رہی ہیں
وَ عَلٰی قُلُوْبٍ اِعْتَرَفَتْ بِاِلٰھِیَّتِكَ مُحَقِّقَۃً
یا جن دلوں کو تحقیق کے ساتھ تیری خدائی کا اقرار ہے
وَ عَلٰی ضَمَاۤئِرَ حَوَتْ مِنَ الْعِلْمِ بِكَ
یا جو ضمیر تیرے علم سے اس طرح معمور ہیں کہ
حَتّٰی صَارَتْ خَاشِعَۃً
تیرے سامنے خاضع و خاشع ہیں
وَ عَلٰی جَوَارِحَ سَعَتْ اِلٰی اَوْطَانِ تَعَبُّدِكَ طَاۤئِعَۃً
یا جو اعضاء و جوارح تیرے مراکز عبادت کی طرف ہنسی خوشی سبقت کرنے والے ہیں
وَ اَشَارَتْ بِاسْتِغْفَارِكَ مُذْعِنَۃً
اور تیرے استغفار کو یقین کے ساتھ اختیار کرنے والے ہیں ان پر بھی تو عذاب کرے گا،
مَا ھٰكَذَا الظَّنُّ بِكَ،
ہر گز تیرے بارے میں ایسا خیال بھی نہیں ہے
وَ لَا اُخْبِرْنَا بِفَضْلِكَ عَنْكَ
اور نہ تیرے فضل و کرم کے بارےمیں ایسی کوئی اطلاع ملی ہے۔
یَا كَرِیْمُ یَا رَبِّ
پروردگارا
وَ اَنْتَ تَعْلَمُ ضَعْفِیْ عَنْ قَلِیْلٍ مِّنْ بَلَاۤءِ الدُّنْیَا وَ عُقُوْبَاتِھَا،
تو جانتا ہے کہ میں دنیا کی معمولی
وَ مَا یَجْرِیْ فِیْھَا مِنَ الْمَكَارِہِ عَلٰی اَھْلِھَا،
بلا اور ادنیٰ سختی کو برداشت نہیں کرسکتا
عَلٰی اَنَّ ذٰلِكَ بَلَاۤءٌ وَّ مَكْرُوْہٌ
اور میرے لئے اس کی ناگواریاں ناقابل تحمل ہیں
قَلِیْلٌ مَكْثُہٗ،
جب کہ یہ بلائیں قلیل
یَسِیْرٌ بَقَاۤئُہٗ،
اور ان کی مدت
قَصِیْرٌ مُدَّتُہٗ،
مختصر ہے۔
فَكَیْفَ احْتِمَالِیْ لِبَلَاۤءِ الْاٰخِرَۃِ،
تو میں ان آخرت کی بلاؤں کو کس طرح برداشت کروں گا
وَ جَلِیْلِ وُقُوْعِ الْمَكَارِہِ فِیْھَا،
جن کی سختیاں عظیم،
وَ ھُوَ بَلَاۤءٌ تَطُوْلُ مُدَّتُہٗ،
جن کی مدت طویل
وَ یَدُوْمُ مَقَامُہٗ،
اور جن کا قیام دائمی ہے۔
وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْ اَھْلِہٖ،
جن میں تخفیف کا بھی کوئی امکان نہیں ہے
لِاَنَّہٗ لَا یَكُوْنُ اِلَّا عَنْ غَضَبِكَ
اس لئے کہ یہ بلائیں تیرے غضب
وَ انْتِقَامِكَ وَ سَخَطِكَ،
اور انتقام کا نتیجہ ہیں
وَ ھٰذَا مَا لَا تَقُوْمُ لَہُ السَّمٰوَاتُ وَ الْاَرْضُ.
اور ان کی تاب زمین و آسمان نہیں لا سکتے
یَا سَیِّدِیْ فَكَیْفَ لِیْ
اے میرے سید و سردار! میں تو
وَ اَنَا عَبْدُكَ الضَّعِیْفُ الذَّلِیْلُ
ایک بندہ ضعیف و ذلیل و
الْحَقِیْرُ الْمِسْكِیْنُ الْمُسْتَكِیْنُ،
حقیر و مسکین و بے چارہ کیا حیثیت رکھتا ہوں۔
یَا اِلٰھِیْ وَ رَبِّیْ وَ سَیِّدِیْ وَ مَوْلَایَ.
خدایا۔ پروردگارا۔ میرے سردار۔ میرے مولا۔
لِاَیِّ الْاُمُوْرِ اِلَیْكَ اَشْكُوْ
میں کس کس بات کی فریاد کروں
وَ لِمَا مِنْھَا اَضِجُّ وَ اَبْكِیْ
اور کس کس کام کے لئے آہ و زاری اور گریہ و بکا کروں
لِاَلِیْمِ الْعَذَابِ وَ شِدَّتِہٖ
قیامت کے دردناک عذاب اور اس کی شدت کے لئے
اَمْ لِطُوْلِ الْبَلَاۤءِ وَ مُدَّتِہٖ
یااس کی طویل مصیبت اور دراز مدت کے لئے کہ
فَلَئِنْ صَیَّرْتَنِیْ لِلْعُقُوْبَاتِ مَعَ اَعْدَاۤئِكَ،
اگر تونے ان سزاؤں میں، مجھے اپنے دشمنوں کے ساتھ ملا دیا
وَ جَمَعْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اَھْلِ بَلَاۤئِكَ،
اور مجھے اہل مصیبت کے ساتھ جمع کر دیا
وَ فَرَّقْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اَحِبَّاۤئِكَ وَ اَوْلِیَاۤئِكَ،
اور میرے اور اپنے احباء و اولیا کے درمیان جدائی ڈال دی۔
فَھَبْنِیْ یَا اِلٰھِیْ وَ سَیِّدِیْ وَ مَوْلَایَ وَ رَبِّیْ.
تو میرے خدایا۔ میرے پروردگار۔ میرے آقا۔ میرے سردار۔
صَبَرْتُ عَلٰی عَذَابِكَ،
پھر یہ بھی طے ہے کہ اگر میں تیرے عذاب پرصبر بھی کر لوں
فَكَیْفَ اَصْبِرُ عَلٰی فِرَاقِكَ
تو تیرے فراق پر صبر نہیں کر سکتا۔
وَ ھَبْنِیْ صَبَرْتُ عَلٰی حَرِّ نَارِكَ،
اگر آتش جہنم کی گرمی برداشت بھی کرلوں
فَكَیْفَ اَصْبِرُ عَنِ النَّظَرِ اِلٰی كَرَامَتِكَ
تو تیری کرامت نہ دیکھنے کو برداشت نہیں کر سکتا۔
اَمْ كَیْفَ اَسْكُنُ فِیْ النَّارِ وَ رَجَاۤئـِیْ عَفْوُكَ
بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ میں تیری معافی کی امید رکھوں اور پھر میں آتش جہنم میں جلا دیا جاؤں۔
فَبِعِزَّتِكَ یَا سَیِّدِیْ وَ مَوْلَایَ اُقْسِمُ صَادِقًا
تیری عزت و عظمت کی قسم اے میرے آقا و مولا
لَئِنْ تَرَكْتَنِیْ نَاطِقًا،
اگر تونے میری گویائی کو باقی رکھا
لَاَضِجَّنَّ اِلَیْكَ بَیْنَ اَھْلِھَا ضَجِیْجَ الْاٰمِلِیْنَ،
تو میں اہل جہنم کے درمیان بھی امیدواروں کی طرح فریاد کروں گا
وَ لَاَصْرُخَنَّ اِلَیْكَ صُرَاخَ الْمُسْتَصْرِخِیْنَ،
اور فریادیوں کی طرح نالہ و شیون کروں گا
وَ لَاَبْكِیَنَّ عَلَیْكَ بُكَاۤءَالْفَاقِدِیْنَ،
اور عزیز گم کردہ کی طرح تیری دوری پر آہ وبکا کروں گا
وَ لَاُنَادِیَنَّكَ اَیْنَ كُنْتَ یَا وَلِیَّ الْمُؤْمِنِیْنَ
اور تو جہاں بھی ہو گا تجھے آواز دوں گا کہ تو مومنین کا سرپرست،
یَا غَایَۃَ اٰمَالِ الْعَارِفِیْنَ
عارفین کامرکز امید،
یَا غِیَاثَ الْمُسْتَغِیْثِیْنَ
فریادیوں کا فریاد رس۔
یَا حَبِیْبَ قُلُوْبِ الصَّادِقِیْنَ
صادقین کا محبوب
وَ یَا اِلٰہَ الْعَالَمِیْنَ
اور عالمین کا معبود ہے
اَفَتُرَاكَ سُبْحَانَكَ یَا اِلٰھِیْ وَ بِحَمْدِكَ،
میرے پاکیزہ صفات، قابل حمد و ثنا پروردگار
تَسْمَعُ فِیْھَا صَوْتَ عَبْدٍ مُّسْلِمٍ،
کیا یہ ممکن ہے کہ تو بندہ مسلمان کو
سُجِنَ فِیْھَا بِمُخَالَفَتِہٖ،
اس کی مخالفت کی بنا پر جہنم میں گرفتار
وَ ذَاقَ طَعْمَ عَذَابِھَا بِمَعْصِیَتِہٖ،
اور معصیت کی بنا پر عذاب کا مزہ چکھنے والا
وَ حُبِسَ بَیْنَ اَطْبَاقِھَا بِجُرْمِہٖ وَ جَرِیْرَتِہٖ
اور جرم و خطا کی بنا پر جہنم کے طبقات کے درمیان کروٹیں بدلنے والا بنا دے
وَ ھُوَ یَضِجُّ اِلَیْكَ ضَجِیْجَ مُؤَمِّلٍ لِرَحْمَتِكَ،
اور پھر یہ دیکھے کہ وہ امیدوار رحمت کی طرح فریاد کناں
وَ یُنَادِیْكَ بِلِسَانِ اَھْلِ تَوْحِیْدِكَ،
اور اہل توحید کی طرح پکارنے والا،
وَ یَتَوَسَّلُ اِلَیْكَ بِرُبُوْبِیَّتِكَ.
ربوبیت کے وسیلہ سے التماس کرنے والا ہے
یَا مَوْلَایَ، فَكَیْفَ یَبْقٰی فِی الْعَذَابِ
اے میرے مولا! پس کس طرح وہ عذاب میں رہے گا
وَ ھُوَ یَرْجُوْ مَا سَلَفَ مِنْ حِلْمِكَ
خدایا تیرے حلم و تحمل سے آس لگانے والا
اَمْ كَیْفَ تُؤْلِمُہُ النَّارُ
کس طرح جہنم کے الم و رنج کا شکار ہو گا۔
وَ ھُوَ یَاْمُلُ فَضْلَكَ وَ رَحْمَتَكَ.
اور تیرے فضل وکرم سے امیدیں وابستہ کرنے والا
اَمْ كَیْفَ یُحْرِقُہٗ لَھِیْبُھَا
جہنم کی آگ اُسے کس طرح جلائے گی
وَ اَنْتَ تَسْمَعُ صَوْتَہٗ وَ تَرٰی مَكَانَہٗ.
جب کہ تو اس کی آواز کو سن رہا ہوگا اور اس کی منزل کو دیکھ رہا ہوگا
اَمْ كَیْفَ یَشْتَمِلُ عَلَیْہِ زَفِیْرُھَا
جہنم کے شعلے اسے کس طرح اپنی لپیٹ میں لیں گے
وَ اَنْتَ تَعْلَمُ ضَعْفَہٗ.
جب کہ تو اس کی کمزوری کو دیکھ رہا ہو گا۔
اَمْ كَیْفَ یَتَقَلْقَلُ بَیْنَ اَطْبَاقِھَا
وہ جہنم کے طبقات میں کس طرح کروٹیں بدلے گا
وَ اَنْتَ تَعْلَمُ صِدْقَہٗ.
جب کہ تو اس کی صداقت کوجانتا ہے۔
اَمْ كَیْفَ تَزْجُرُہٗ زَبَانِیَّتُھَا
جہنم کے فرشتے اسے کس طرح جھڑکیں گے
وَ ھُوَ یُنَادِیْكَ یَا رَبَّہُ
جب کہ وہ تجھے آواز دے رہا ہوگا
اَمْ كَیْفَ یَرْجُوْ فَضْلَكَ فِیْ عِتْقِہٖ مِنْھَا
یہ کیسے ممکن ہے کہ خلاصی میں تیرے فضل وکرم کا امیدوار ہو
فَتَتْرُكْہٗ فِیْھَا.
اور تو اسے جہنّم میں رہنے گے۔
ھَیْھَاتَ مَا ذٰلِكَ الظَّنُّ بِكَ،
ہرگز نہیں ! تیرے بارے میں یہ خیال نہیں ہوسکتا
وَ لَا الْمَعْرُوْفُ مِنْ فَضْلِكَ،
نہ تیرے فضل کا ایسا تعارف ہے
وَ لَا مُشْبِہٌ لِمَا عَامَلْتَ بِہِ الْمُوَحِّدِیْنَ
تو نے جس طرح اہل توحید کے ساتھ
مِنْ بِرِّكَ وَ اِحْسَانِكَ.
نیک برتاؤ کیا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔
فَبِالْیَقِیْنِ اَقْطَعُ
میں تو یقین کےساتھ کہتا ہوں کہ
لَوْلَا مَا حَكَمْتَ بِہٖ مِنْ تَعْذِیْبِ جَاحِدِیْكَ،
تو نے اپنے منکروں کے حق میں عذاب کا فیصلہ نہ کر دیا ہوتا
وَ قَضَیْتَ بِہٖ مِنْ اِخْلَادِ مُعَانِدِیْكَ،
اور اپنے دشمنوں کو ہمیشہ جہنم میں رکھنے کا حکم نہ دے دیا ہوتا
لَجَعَلْتَ النَّارَ كُلَّھَا بَرْدًا وَّ سَلَامًا،
تو ساری آتش جہنم کو سرد اور سلامتی بنا دیتا
وَ مَا كَانَ لِاَحَدٍ فِیْھَا مَقَرًّا وَّ لَا مُقَامًا،
اور اس میں کسی کاٹھکانا اور مقام نہ ہوتا۔
لٰكِنَّكَ تَقَدَّسَتْ اَسْمَاۤؤُكَ
لیکن تو نے اپنے پاکیزہ اسماء کی قسم کھائی ہے کہ
اَقْسَمْتَ اَنْ تَمْلَاَھَا مِنَ الْكٰفِرِیْنَ
جہنّم کو پُر کرے گا کافروں سے
مِنَ الْجِنَّۃِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ،
جنّات اور انسان کے
وَ اَنْ تُخَلِّدَ فِیْھَا الْمُعَانِدِیْنَ،
اور معاندین کو اس میں ہمیشہ ہمیشہ رکھے گا۔
وَ اَنْتَ جَلَّ ثَنَاۤؤُكَ قُلْتَ مُبْتَدِءًا،
اور تو نے ابتدا ہی سے یہ کہہ دیا ہے
وَ تَطَوَّلْتَ بِالْاِنْعَامِ مُتَكَرِّمًا،
اور اپنے کرم و انعام سے یہ اعلان کردیا ہے کہ
اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا لَا یَسْتَوُوْنَ.
مومن اور فاسق برابر نہیں ہو سکتے
اِلٰھِیْ وَ سَیِّدِیْ،
تو خدایا۔ مولایا۔
فَاَسْئَلُكَ بِالْقُدْرَۃِ الَّتِیْ قَدَّرْتَھَا،
میں تیری مقدر کردہ قدرت
وَ بِالْقَضِیَّۃِ الَّتِیْ حَتَمْتَھَا وَ حَكَمْتَھَا،
اور تیری حتمی حکمت و قضاوت
وَ غَلَبْتَ مَنْ عَلَیْہِ اَجْرَیْتَھَا،
اور ہر محفل نفاذ پر غالب آنے والی عظمت کا حوالہ دے کر
اَنْ تَھَبَ لِیْ فِیْ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃِ
تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اسی رات میں
وَ فِیْ ھٰذِہِ السَّاعَۃِ،
اور اسی وقت معاف کردے۔
كُلَّ جُرْمٍ اَجْرَمْتُہٗ،
میرے سارے جرائم،
وَ كُلَّ ذَنْبٍ اَذْنَبْتُہٗ،
سارے گناہ
وَ كُلَّ قَبِیْحٍ اَسْرَرْتُہٗ،
وہ سب برائیاں جو میں نے چھپائی ہیں
وَ كُلَّ جَھْلٍ عَمِلْتُہٗ،
اور ساری جہالتیں
كَتَمْتُہٗ اَوْ اَعْلَنْتُہٗ،
جن پر میں خفیہ طریقہ سے یا علی الاعلان چھپا کر
اَخْفَیْتُہٗ اَوْ اَظْھَرْتُہٗ،
یا ظاہر کر کے عمل کیا ہے
وَ كُلَّ سَیِّئَۃٍ اَمَرْتَ بِاِثْبَاتِھَا الْكِرَامَ الْكَاتِبِیْنَ،
اور میری تمام خرابیاں جنھیں تونے درج کرنے کا حکم کراماً کاتبین کو دیا ہے
الَّذِیْنَ وَكَّلْتَھُمْ بِحِفْظِ مَا یَكُوْنُ مِنِّیْ،
جن کو اعمال کے محفوظ کرنے کے لئے معین کیا ہے
وَ جَعَلْتَھُمْ شُھُوْدًا عَلَیَّ مَعَ جَوَارِحِیْ،
اور میرے اعضاء و جوارح کے ساتھ ان کو میرے اعمال کا گواہ قرار دیا ہے
وَ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیَّ مِنْ وَّرَاۤئِھِمْ
اور پھر تو خود بھی ان سب کی نگرانی کر رہا ہے
وَالشَّاھِدَ لِمَا خَفِیَ عَنْھُمْ،
اور جو ان سے مخفی رہ جائے اس کا گواہ ہے سب کو معاف فرما دے۔
وَ بِرَحْمَتِكَ اَخْفَیْتَہٗ،
یہ تو تیری رحمت ہے کہ تو نے انھیں چھپادیا ہے
وَ بِفَضْلِكَ سَتَرْتَہٗ،
اور اپنے فضل و کرم سے ان عیوب پر پردہ ڈال دیا ہے۔
وَ اَنْ تُوَفِّرَ حَظِّیْ مِنْ كُلِّ خَیْرٍ اَنْزَلْتَہٗ،
میرے پروردگار اپنی طرف سے نازل ہونے والے
اَوْ اِحْسَانٍ فَضَّلْتَہٗ،
ہر خیر و احسان
اَوْ بِرٍّ نَشَرْتَہٗ،
اور نشر ہونے والی ہر نیکی۔
اَوْ رِزْقٍ بَسَطْتَہٗ،
ہر وسیع رزق۔
اَوْ ذَنْبٍ تَغْفِرُہٗ،
ہر بخشے ہوئے گناہ۔
اَوْخَطَاۤءٍ تَسْتُرُہٗ.
ہر پردہ پوشی عیوب میں سے میرا وافر حصہ قراردے۔
یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا رَبِّ،
اے میرے رب۔ اے میرے رب۔ اے میرے رب۔
یَا اِلٰھِیْ وَ سَیِّدِیْ وَ مَوْلَایَ وَمَالِكَ رِقِّی،ْ
اےمیرے مولا اور آقا۔ اے میری بندگی کے مالک۔ اے میرے مقدر کے صاحب اختیار۔
یَا مَنْ بِیَدِہٖ نَاصِیَتِیْ،
اے میری پریشانی
یَا عَلِیْمًا بِضُرِّیْ وَ مَسْكَنَتِیْ،
اور بے نوائی کے جاننے والے۔
یَا خَبِیْرًا بِفَقْرِیْ وَ فَاقَتِیْ.
اے میرے فقر وفاقہ کی اطلاع رکھنے والے۔
یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا رَبِّ،
اے میرے پروردگار۔ اے میرے رب۔ اے میرے رب۔
اَسْئَلُكَ بِحَقِّكَ وَ قُدْسِكَ
تجھے تیری قدوسیت، تیرے حق
وَ اَعْظَمِ صِفَاتِكَ وَ اَسْمَاۤئِكَ،
اور تیرے عظیم ترین اسماء و صفات کا واسطہ دے کر
اَنْ تَجْعَلَ اَوْقَاتِیْ مِنَ اللَّیْلِ وَ النَّھَارِ،
یہ سوال کرتا ہوں کہ دن اور رات میں جملہ اوقات
بِذِكْرِكَ مَعْمُوْرَۃً،
اپنی یاد سے معمور کردے۔
وَ بِخِدْمَتِكَ مَوْصُوْلَۃً،
اپنی خدمت کی مسلسل توفیق عطا فرما۔
وَ اَعْمَالِیْ عِنْدَكَ مَقْبُوْلَۃً،
میرے اعمال کو اپنی بارگاہ میں مقبول قرار دے
حَتّٰی تَكُوْنَ اَعْمَالِیْ وَ اَوْرَادِیْ كُلّھَا وِرْدًا وَّاحِدًا،
تاکہ میرے جملہ اعمال اور جملہ اوراد سب فقط تیرے لئے ہوں
وَ حَالِیْ فِیْ خِدْمَتِكَ سَرْمَدًا.
اور میرے حالات ہمیشہ تیری خدمت کے لئے وقف رہیں۔
یَا سَیِّدِیْ، یَا مَنْ عَلَیْہِ مُعَوَّلِیْ،
میرے مولا۔ میرے مالک۔ جس پر میرا اعتماد ہے
یَا مَنْ اِلَیْہِ شَكَوْتُ اَحْوَالِیْ.
اور جس سے میں اپنے حالات کی فریاد کرتا ہوں۔
یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا رَبِّ،
اے رب۔ اے رب۔ اے رب!
قَوِّ عَلٰی خِدْمَتِكَ جَوَارِحِیْ،
اپنی خدمت کے لئے میرے اعضاء و جوارح کو مضبوط کر دے
وَ اشْدُدْ عَلَی الْعَزِیْمَۃِ جَوَانِحِیْ،
اور اپنی طرف رخ کرنے کے لئے میرے ارادہ دل کو مستحکم بنا دے۔
وَ ھَبْ لِیَ الْجِدَّ فِیْ خَشْیَتِكَ،
اپنا خوف پیدا کرنے کی کوشش
وَالدَّوٰمَ فِی الْاِتِّصَالِ بِخِدْمَتِكَ،
اور اپنی مسلسل خدمت کرنے کا جذبہ عطا فرما
حَتّٰی اَسْرَحَ اِلَیْكَ فِیْ مَیَادِیْنِ السَّابِقِیْنَ،
تا کہ تیری طرف سابقین کے ساتھ آگے بڑھوں
وَ اُسْرِعَ اِلَیْكَ فِی الْبَارِزِیْنَ،
اور تیز افراد کے ساتھ قدم ملا کر چلوں۔
وَاشْتَاقَ اِلٰی قُرْبِكَ فِی الْمُشْتَاقِیْنَ،
مشتاقین کے درمیان تیرے قرب کا مشتاق شمار ہوں
وَ اَدْنُوَ مِنْكَ دُنُوَّ الْمُخْلِصِیْنَ،
اور مخلصین کی طرح تیری قربت اختیار کروں۔
وَ اَخَافَكَ مَخَافَۃَ الْمُوْقِنِیْنَ،
صاحبان یقین کی طرح تیرا خوف پیدا کروں
وَ اجْتَمِعَ فِیْ جَوَارِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ.
اور مومنوں کے ساتھ تیرے جوار میں حاضری دوں۔
اَللّٰھُمَّ وَ مَنْ اَرَادَ نِیْ بِسُوْۤءٍ فَاَرِدْہُ،
خدایا جو بھی کوئی میرے لئے برائی چاہے یا میرے ساتھ
وَ مَنْ كَادَنِیْ فَكِدْہُ،
کوئی چال چلے تو اسے ویسا ہی بدلہ دینا
وَاجْعَلْنِیْ مِنْ اَحْسَنِ عَبِیْدِكَ نَصِیْبًا عِنْدَكَ،
اور مجھے بہترین حصہ پانے والا
وَ اَقْرَبِھِمْ مَنْزِلَۃً مِّنْكَ،
قریب ترین منزلت رکھنے والا
وَ اَخَصِّھِمْ زُلْفَۃً لَدَیْكَ،
اور مخصوص ترین قربت
فَاِنَّہٗ لَا یُنَالُ ذٰلِكَ اِلَّا بِفَضْلِكَ،
کاحامل بندہ قرار دینا کہ
وَ جُدْ لِیْ بِجُوْدِكَ،
یہ کام جود و کرم کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ خدایا میرے اوپر کرم فرما۔
وَ اعْطِفْ عَلَیَّ بِمَجْدِكَ،
اپنی بزرگی سے رحمت نازل فرما
وَاحْفَظْنِیْ بِرَحْمَتِكَ،
اپنی رحمت سے میرا تحفظ فرما اور میری زبان کو اپنے ذکر سے گویا فرما۔
وَاجْعَلْ لِسَانِیْ بِذِكْرِكَ لَھِجًا،
اور میری زبان کو اپنے ذکر سے گویا فرما۔
وَ قَلْبِیْ بِحُبِّكَ مُتَیَّمًا،
میرے دل کو اپنی محبت کا عاشق بنا دے
وَ مُنَّ عَلَیَّ بِحُسْنِ اِجَابَتِكَ،
اور مجھ پر بہترین قبولیت کے ساتھ احسان فرما۔
وَ اَقِلْنِیْ عَثْرَتِیْ،
میری لغزشوں سے
وَاغْفِرْ زَلَّتِیْ،
درگذر فرما۔
فَاِنَّكَ قَضَیْتَ عَلٰی عِبَادِكَ بِعِبَادَتِكَ،
تو نے اپنے بندوں پر عبادت فرض کی ہے۔
وَ اَمَرْتَھُمْ بِدُعَاۤئِكَ،
انھیں دعا کا حکم دیا ہے
وَ ضَمِنْتَ لَھُمُ الْاِجَابَۃَ،
اور ان سے قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے۔
فَاِلَیْكَ یَارَبِّ نَصَبْتُ وَجْھِیْ،
اب میں تیری طرف رخ کئے ہوئے ہوں
وَ اِلَیْكَ یَا رَبِّ مَدَدْتُ یَدِیْ،
اور تیری بارگاہ میں ہاتھ پھیلائے ہوں۔
فَبِعِزَّتِكَ اسْتَجِبْ لِیْ دُعَاۤئـِیْ،
اپنی عزت کا واسطہ میری دعا کو قبول فرما
وَ بَلِّغْنِیْ مُنَایَ
مجھے میری مراد تک پہنچا دے۔
وَ لَا تَقْطَعْ مِنْ فَضْلِكَ رَجَاۤئـِیْ،
اپنے فضل وکرم سے میری امیدوں کو منقطع نہ فرمانا۔
وَاكْفِنِیْ شَرَّ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ مِنْ اَعْدَاۤئـِیْ،
مجھے تمام دشمنان جن و انس کے شر سے محفوظ فرمانا۔
یَا سَرِیْعَ الرِّضَا،
اے بہت جلد راضی ہو جانے والے
اِغْفِرْ لِمَنْ لَا یَمْلِكُ اِلَّا الدُّعَاۤءَ،
اس بندہ کو بخش دے جس کے اختیار میں سوائے دعا کے کچھ نہیں ہے کہ
فَاِنَّكَ فَعَّالٌ لِمَا تَشَاۤءُ،
تو ہی ہرشئے کا صاحب اختیار ہے
یَا مَنِ اسْمُہٗ دَوَاۤءٌ،
اے وہ پروردگار جس کانام دوا،
وَّ ذِكْرُہٗ شِفَاۤءٌ،
جس کی یاد شفا ،
وَ طَاعَتُہٗ غِنًی،
اور جس کی اطاعت مالداری ہے
اِرْحَمْ مَنْ رَاْسُ مَالِہِ الرَّجَاۤءُ،
اس بندہ پر رحم فرما جس کا سرمایہ فقط امید
وَ سِلَاحُہُ الْبُكَاۤءُ،
اور اس کا اسلحہ فقط گریہ ہے
یَا سَابِغَ النِّعَمِ،
اے کامل نعمتیں دینے والے۔
یَا دَافِعَ النِّقَمِ،
اے مصیبتوں کو رفع کرنے والے
یَا نُوْرَ الْمُسْتَوْحِشِیْنَ فِی الظُّلَمِ،
اور تاریکیوں میں وحشت زدوں کو روشنی دینے والے۔
یَا عَالِمًا لَا یُعَلَّمُ،
اے وہ عالم جسے پڑھایا نہیں گیا
صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ،
محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَافْعَلْ بِیْ مَا اَنْتَ اَھْلُہٗ،
اور میرے ساتھ وہ برتاؤ کر جس کا تو اہل ہے۔
وَ صَلَّی اﷲُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ
اپنے رسول اور ان کی مبارک
وَالْاَئِمَّۃِ الْمَیَامِیْنَ مِنْ اٰلِہٖ،
آل ائمہ معصومینؑ پر صلوات و
وَ سَلَّمَ تَسْلِیْمًا كَثِیْرًا۔
سلام فراوان نازل فرما۔