(۵)سید بن طاؤس ؒ میں مہج الدعوات میں سلیمانؓ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم سے حاصل کئے ہوئے کلام کی تعلیم دی کہ اسے صبح و شام پڑھا جائے اور فرما یا کہ اگر چاہتے ہو کہ کبھی بخار نہ آئے تو اس دعا کو پابندی سے پڑھا کرو۔)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بنام خدائے رحمان و رحیم
بِسْمِ اللهِ النُّوْرِ
اللہ کے نام سے جو نور ہے،
بِسْمِ اللهِ نُوْرِ النُّوْرِ
اللہ کے نام سے جو نور الانوار ہے۔
بِسْمِ اللهِ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ
اللہ کے نام سے جو نور علیٰ نور ہے
بِسْمِ اللهِ الَّذِىْ هُوَ مُدَبِّرُ الْاُمُوْرِ
اللہ کے نام سے جو امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔
بِسْمِ اللهِ الَّذِىْ خَلَقَ النُّوْرَ مِنَ النُّوْرِ
اللہ کے نام سے جس نے نور کو نور بنایا ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ خَلَقَ النُّوْرَ مِنَ النُّوْرِ
ساری حمد اس اللہ کے لئے ہے جس نے نور کو نور بنایا
وَاَنْزَلَ النُّوْرَ عَلىَ الطُّوْرِ
اور نور کو طور پر اُتارا۔
فِىْ كِتَابٍ مَسْطُوْرٍ
کتاب توریت کی شکل میں
فِىْ رَقٍّ مَنْشُوْرٍ
جو پھیلے ہوئے صحیفہ میں تھی
بِقَدَرٍ مَقْدُوْرٍ
اور مخصوص مقدار کے ساتھ تھی
عَلٰى نَبِيٍّ مَحْبُوْرٍ
اور اس کا اپنے نیک پیغمبر موسیٰؑ پر اتارا۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ هُوَ بِالْعِزِّ مَذْكُوْرٌ
ساری حمد اس اللہ کے لیے ہے جس کا ذکر عزت کے ساتھ ہوتا ہے
وَبِالْفَخْرِ مَشْهُوْرٌ
اور جس کی شہرت فخر کے ساتھ ہے۔
وَعَلَى السَّرَّاۤءِ وَالضَّرَّاۤءِ مَشْكُوْرٌ
وہ ہر سہولت اور پریشانی میں قابل شکر ہے۔
وَصَلَّى اللهُ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَاٰلِهِ الطَّاهِرِيْنَ۔
اللہ ہمارے آقا حضرت محمدؐ اور ان کی آل طاہرین پر رحمت نازل کرے۔