محمد بن خالد طیاسی نے سیف بن عمیرہ سے روایت کی ہےکہ میں صفوان بن مہران اور اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ نجف کی طرف روانہ ہونے لگا امام صادقؑ کے حیرہ سے مدینہ کی جانب نکلنے کے بعد۔ تو جب زیارت امیرالمومنینؑ سے فارغ ہوا تو صفوان نے اپنا رخ مشہد امام حسینؑ کی طرف کیا اور ہم سے کہا کہ امیرالمومنینؑ کے بالائے سر سے اشارہ کر کے امام حسینؑ کو سلام کرو کہ ایسا عمل امام صادقؑ نے بھی کیا ہے۔ جب میں حضرت کی خدمت میں حاضر تھا۔ سیف کا بیان ہے کہ اس کے بعد صفوان نے وہی زیارت پڑھی جو علقمہ بن محمد حضرمی نے امام محمد باقرؑ سے روز عاشور نقل کی ہے۔ اس کے بعد امیرالمومنینؑ کے بالائے سر دو رکعت نماز ادا کی اور نماز کے بعد امیرالمومنینؑ کو رخصت کیا اور اشارہ کیا قبرِ امام حسینؑ کی طرف اور سلام و زیارت کے بعد حضرت کو بھی وداع کیا اور جو دعائیں پڑھیں ان میں سے ایک دعا یہ بھی تھی۔)
یااللہ یا اللہ یا للہ اےمضطر افراد کی دعا قبول کرنے والے اور رنجیدہ لوگوں کے رنج کو دور کرنے والے فریادیوں کے فریاد رس اور طالبان امداد کے داد رس۔ اے وہ جو رگِ گردن سے زیادہ قریب ہے جو انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ اے وہ جو منظر اعلیٰ اور بلند ترین مقام پر ہے اے وہ جو رحمٰن و رحیم ہے اور عرش پر غالب ہے اور جو آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے رازوں کا جانتا ہے اور اس پر کوئی شئے مخفی نہیں ہے اور آوازیں اس پر مشتبہ نہیں ہوتی ہیں۔ حاجتیں اس کو پریشان نہیں کرتی ہیں۔ لوگوں کا اصرار اسے خستہ حال نہیں بناتا ہے۔ اےہر نکل جانے والے کو گرفت میں لے لینے والے اور ہر پراگندگی کو جمع کرنے والے اور موت کے بعد نفوس کا اٹھانے والے۔ اے وہ جو ہر روز ایک نئی شان رکھتا ہے۔ اے حاجتوں کو پورا کرنے والے، رنج و غم کو دورکرنے والے، مطالبات کو عطا کرنے والے، آرزؤں کے مالک، مہمات میں کافی ہو جانے والے، اے وہ جو ہر شئے سے کافی ہے اور آسمان و زمین میں کوئی شئے اس سے کافی نہیں ہے۔ سوال کرتا ہوں حضرت محمدؐ خاتم النبیین، علیؑ امیرالمومنینؑ، فاطمہؑ بنت رسولؐ اور حسنؑ و حسینؑ کے حق کے واسطہ سے کہ میری توجہ تیری طرف انھیں کے وسیلہ سے ہے اور میں نے انھیں کو ذریعہ اور شفیع قرار دیا ہے۔ میرا سوال انھیں کے حق کے واسطہ سے ہے اور میں تجھے انھیں کے حق کی قسم دیتا ہوں اور اس شان کے وسیلہ سے سوال کر رہاہوں جو انھیں تیری بارگاہ میں حاصل ہے اور جو ان کی قدرو منزلت تیرے نزدیک ہے اور جس شرف کے ذریعہ تو نے انھیں عالمین میں سے افضل بنایا ہے اور اس نام کا واسطہ جس کو ان کے پاس رکھاہے اور اس کے ساتھ انھیں مخصوص بنایا ہے اور اس سے ان کے فضل کو عالمین پراظہار کیا ہے یہاں تک کہ ان کا فضل سارے عالمین سے بالاتر ہو گیا ہے۔ میرا سوال ہے کہ محمدؐو آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما اور میرے ہم و غم و رنج کود ور فرمادے۔ میرے امور میں کافی ہو جا۔ میرے قرض کو ادا کر دے، مجھے فقر و فاقہ سے پناہ دےدے اور اتنا بے نیاز بنا دے کہ مخلوقات سے سوال نہ کر سکوں اور اس امر میں جس کے لئے پریشان ہوں تو کافی ہو جا ہر سختی میں ہر پریشانی میں اور ہر اس شئے سے جس سے خوفزدہ ہوں اور ہر وہ مکر جس سے میں ڈرتا ہوں اور وہ ظلم جس سے میں لرزاں ہوں اور ہر وہ جور جس سے میں پریشان ہوں اور ہر وہ اقتدار جس سے میں خوفزدہ ہوں اور ہر وہ کید و مکر یا ہر وہ طاقت جس سے میں خوفزدہ ہوں سب کے لئے تو کافی ہوجا اور ہر مکار کے مکر اور ہر فریب کار کے فریب کو میری طرف سے پلٹا دے۔ خدایا جو میرے لئے برائی چاہے تو اس کا بدلہ لے لے اور جو مکاری کرے اس کا تو جواب دے دے اور ہر کید ومکر کو ہر سختی کو اور دشمنوں کی ہر آرزو کو میری طرف سے پلٹا دے اور مجھے اس سے بچالے جس طرح تو چاہے۔ خدایا دشمن کو میری طرف سے ایسے فقر میں مشغول کر دے جس کا علاج نہ ہو اور ایسی بلا میں جو چھپ نہ سکے اور ایسے فاقہ میں جس کا علاج نہ ہو اور ایسی بیماری میں جس میں عافیت نہ ہو اور ایسی ذلت میں جس میں عزت نہ ہو اور ایسی مسکنت جس کا مداوا نہ ہو سکے۔ خدایا ذلت کو دشمن کی نگاہ کے سامنے قرار دےدے اور فقر کو اس کے گھر میں داخل کر دے اوور اس کے بدن کو مرض و بیماری میں مبتلا کر دے تا کہ وہ اپنے ہی حال میں مشغول رہے اور اسے میرے لئے فرصت نہ ملے اور اس کے دل سے میری یاد کو اس طرح نکال دینا جس طرح اس نے تجھ کو بھلا دیا ہے اور میری طرف سے زبان، ہاتھ پاؤں، دل اور تمام جوارح کو اپنی گرفت میں لےلے اور سب کو ان بیماریوں میں مبتلا کر دے جن کی شفا نہ ہو سکے تاکہ وہ میری طرف سے اور میری یاد کی طرف سے غافل رہیں۔ اے کافی میرے لئے کافی ہو جا اس لئے کہ تیرے علاوہ کوئی کافی نہیں ہے۔ تو وہ رنج کو دور کرنے والا ہے جس کے علاوہ کوئی ایسا نہیں ہے اور تو وہ فریاد رس ہے جس کے علاوہ کوئی فریاد رس نہیں ہے۔ تو وہ پناہ دینے والا ہےجس کے علاوہ کوئی ایسا نہیں ہےاور تو وہ فریاد رس ہے جس کے علاوہ کوئی فریاد رس نہیں ہے۔ تو وہ پناہ دینے والا ہے جس کے علاوہ کوئی پناہ دینے والا نہیں ہے۔ جو تیرے علاوہ کسی اور کی پناہ میں جائے گا وہ ناکام ہو گا اور جو کسی اور سے فریاد کرے گا یا کسی اور سے پناہ طلب کرے گا یا کسی اور کے پاس بھاگ کر جائے گا یا کہیں اور محل نجات قرار دےگا یا کسی مخلوق کے یہاں نجات حاصل کرنا چاہے گا وہ ناکام ہو گا تو میری امید، میری آرزو، میری پناہ گاہ اور میرا ملجا ء و ماویٰ ہے۔ میں تجھ ہی سے کامیابی اور کشائش حال چاہتا ہوں اور محمدؐ و آل محمدؐ کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوں۔ انھیں کو تیرے لئے وسیلہ اور شفیع بنایا ہے۔ اے اللہ اے اللہ اے اللہ میرا سوال تجھ سے ہے کہ ساری حمد تیرے لئے ہے سار شکر تیرے لئے ہے۔ تیری بارگاہ میں فریاد ہے اور تجھ ہی سے سوال کر رہا ہوں۔ اے اللہ اے اللہ اے اللہ، محمدؐ و آل محمدؐ کا واسطہ سے محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما اور ہمارے ہم و غم اور ہمارے رنج کو اسی وقت دور کر دے۔ جس طرح تو نے پیغمبرؐ کے ہم و غم اور رنج کو دور کیا ہے اور دشمنوں کے مقابلہ میں ان کے لئے کافی ہو گیا ہے۔ مجھ سے بھی مصیبتوں کو برطرف کر دے۔ اس رنج و غم کو دور کر دے جیسے پیغمبرؐ کے لئے کیا ہے اور جس طرح ان کے لئے کافی ہو گیا ہے۔ میرے واسطہ کافی ہو جا۔ اور دشمن کے حول کو دفع کیا ہے۔ میری وہ زحمتیں جن سے میں خائف ہوں ان کے لئے کافی ہو جا اور جس چیز کے لئے پریشان ہوں اس پریشانی کو دور کر دےاور مجھ پر اس کا کوئی بوجھ نہ پڑنے پائے اور جھے واپس کرنا تو حاجتوں کو پورا کرنے کے بعد اور دنیا و آخرت کے مشکلات میں میرے لئے کافی ہو جا۔ اے امیرالمومنینؑ اے ابو عبداللہ آپ پر اللہ کا سلام ہمیشہ۔ جب تک میں باقی رہوں اور روزو شب باقی رہیں۔ اللہ اس زیارت کو آپ کی آخری زیارت نہ قرار دے اور ہمارے اور آپ کے درمیان جدائی نہ ہونے دے ہم کو محمدؐ اور ان کی ذریت کی زندگی اور انھیں کی موت عطا فرمائے۔ انھیں کی ملت پر اٹھائے اور انھیں کے زمرہ میں محشور کرے اور ہمارے ان کے درمیان دنیا و آخرت میں ایک لحظہ کی جدائی نہ ہونے پائے۔ اے امیرالمومنینؑ اور اے ابو عبداللہ میں آپ کا زائر اور آپ کو پروردگار کی بارگاہ میں وسیلہ قرار دے کر اور اس کی طرف آپ کے ذریعہ متوجہ ہو اور آپ کو اپنی حاجت میں شفیع قرار دیتے ہوئے حاضر ہوا ہوں لہٰذا آپ میری شفاعت کردیں کہ آپ کے لئے مقام محمود، مرتبہ عظیم، منزل بلند اور وسیلہ ہے میں آپ سے رخصت ہو رہا ہوں تو اپنی حاجتوں کو پورا ہونے اور اللہ کی بارگاہ سے آپ کی شفاعت کی بنا پر کامیابی کے انتظار میں رہوں گا اب میں مایوس نہ ہوں گا اور نہ میری واپسی ناکامی اور خسارہ کی واپسی ہو گی بلکہ میری واپسی کامیاب، کامران، فرائزالمرام ہو گی جس میں تمام حاجتیں پوری ہو جائیں گی۔ بس آپ اللہ کی بارگاہ میں ہماری سفارش کر دیں۔ میں مشیت خدا کے سہارے پلٹ کر جا رہا ہوں۔ اللہ کے علاوہ کوئی طاقت اور قوت نہیں ہے۔ میرے معاملات سب اسی کے حوالے ہیں اور میرا تکیہ اسی کے کرم پر ہے، میرا بھروسہ اسی پر ہے اور میں کہتا ہوں کہ میرا پروردگار میرے لئے کافی ہے کہ وہ ہر دعا کرنے والے کی سن لیتا ہے۔ میرے لئے اللہ کے علاوہ اور آپ کے علاوہ اے میرے بزرگوارو! کوئی مرکز نہیں ہے۔ جو خدا نے چاہا وہ ہو گیا اور جو نہیں چاہا وہ نہیں ہو سکا۔ اللہ کے علاوہ کوئی قوت اور طاقت نہیں ہے۔ میں آپ دونوں کو خدا کے سپرد کر رہا ہوں۔ اللہ ہماری زیارت نہ قرار دے۔ میرے آقا امیرالمومنینؑ اور میرے مولا ابو عبداللہ! میرا سلام آپ دونوں پر جب تک لیل و نہار برقرار رہیں اور یہ سلام آپ تک مسلسل پہنچتا رہے اور اس کی راہ میں انشاء اللہ کوئی شئے حائل نہ ہو گی میں آپ کے حق کا واسطہ سے مالک سے سوال کرتا ہوں کہ وہ ایسا ہی کر دے کہ وہ حمید بھی ہے اور مجید بھی ہے میرے آقاؤ! میں آپ دونوں کی بارگاہ سے واپس جا رہا ہوں توبہ کرتے ہوئے، حمد و شکر خدا کرتے ہوئے دعاؤں کی قبولیت کی امید رکھتے ہوئے اور میں مایوس نہیں ہوں۔ میں واپس جا رہا ہوں پھر دوبارہ آپ کی زیارت کے لئے واپس آنے کا ارادہ سے۔ نہ آپ سے کنارہ کش ہوں اور نہ آپ کی زیارت سے بلکہ انشاء اللہ پھر واپس آنے والا ہوں۔ کوئی طاقت اور قوت اللہ کے علاوہ نہیں ہے۔ اے میرے آقاؤ! میں نےآپ کی طرف اور آپ کی زیارت کی طرف رغبت کی ہے جب کہ اہلِ دنیا آپ سے کنارہ کش ہو گئے ہیں۔ اللہ ہماری ان امیدوں کو ناامید نہ کر ےجو ہم نے آپ کی زیارت سے وابستہ کی ہیں کہ وہ قریب بھی ہے اور مجیب بھی ہے۔
يَا اَللّٰهُ يَا اَللّٰهُ يَا اَللّٰهُ،
يَا مُجِيْبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّيْنَ،
يَا كَاشِفَ كُرَبِ الْمَكْرُوْبِيْنَ،
يَا غِيَاثَ الْمُسْتَغِيْثِيْنَ،
يَا صَرِيْخَ الْمُسْتَصْرِخِيْنَ،
وَ يَا مَنْ هُوَ اَقْرَبُ اِلَيَّ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ،
وَ يَا مَنْ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهِ،
وَ يَا مَنْ هُوَ بِالْمَنْظَرِ الْاَعْلٰى وَ بِالْاُفِقِ الْمُبِيْنِ،
وَ يَا مَنْ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى،
وَ يَا مَنْ يَّعْلَمُ خَاۤئِنَةَ الْاَعْيُنِ وَ مَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ،
وَ يَا مَنْ لَّا يَخْفٰى عَلَيْهِ خَافِيَةٌ،
يَا مَنْ لَّا تَشْتَبِهُ عَلَيْهِ الْاَصْوَاتُ،
وَ يَا مَنْ لَّا تُغَلِّطُهُ [تُغَلِّظُهُ] الْحَاجَاتُ،
وَ يَا مَنْ لَّا يُبْرِمُهُ اِلْحَاحُ الْمُلِحِّيْنَ،
يَا مُدْرِكَ كُلِّ فَوْتٍ،
وَ يَا جَامِعَ كُلِّ شَمْلٍ،
وَ يَا بَارِئَ النُّفُوْسِ بَعْدَ الْمَوْتِ،
يَا مَنْ هُوَ كُلَّ يَوْمٍ فِي شَأْنٍ،
يَا مُنَفِّسَ الْكُرُبَاتِ،
يَا مُعْطِيَ السُّؤْلَاتِ،
يَا وَلِيَّ الرَّغَبَاتِ،
يَا كَافِيَ الْمُهِمَّاتِ،
يَا مَنْ يَكْفِي مِنْ كُلِّ شَيْءٍ،
وَ لَا يَكْفِيْ مِنْهُ شَيْءٌ فِي السَّمَاوَاتِ وَ الْاَرْضِ،
اَسْاَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ،
وَ عَلِيٍّ اَمِيْرِ الْمُؤْمِنِيْنَ،
وَ بِحَقِّ فَاطِمَةَ بِنْتِ نَبِيِّكَ،
وَ بِحَقِّ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ،
فَاِنِّي بِهِمْ اَتَوَجَّهُ اِلَيْكَ فِي مَقَامِيْ هٰذَا،
وَ بِهِمْ اَتَشَفَّعُ اِلَيْكَ،
وَ بِحَقِّهِمْ اَسْاَلُكَ وَ اُقْسِمُ وَ اَعْزِمُ عَلَيْكَ،
وَ بِالشَّأْنِ الَّذِيْ لَهُمْ عِنْدَكَ،
وَ بِالْقَدْرِ الَّذِيْ لَهُمْ عِنْدَكَ،
وَ بِالَّذِيْ فَضَّلْتَهُمْ عَلَى الْعَالَمِيْنَ،
وَ بِاسْمِكَ الَّذِيْ جَعَلْتَهُ عِنْدَهُمْ،
وَ بِهِ خَصَصْتَهُمْ دُوْنَ الْعَالَمِيْنَ،
وَ اَبَنْتَ فَضْلَهُمْ مِنْ فَضْلِ الْعَالَمِيْنَ،
حَتّٰى فَاقَ فَضْلُهُمْ فَضْلَ الْعَالَمِيْنَ جَمِيْعًا،
اَسْاَلُكَ اَنْ تُصَلِّيَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ،
وَ اَنْ تَكْشِفَ عَنِّيْ غَمِّيْ
وَ تَكْفِيَنِي الْمُهِمَّ مِنْ اُمُوْرِيْ،
وَ تَقْضِيَ عَنِّيْ دَيْنِيْ،
وَ تُجِيْرَنِيْ مِنَ الْفَقْرِ
وَ تُجِيْرَنِيْ مِنَ الْفَاقَةِ،
وَ تُغْنِيَنِيْ عَنِ الْمَسْاَلَةِ اِلَى الْمَخْلُوْقِيْنَ،
وَ تَكْفِيَنِيْ هَمَّ مَنْ اَخَافُ هَمَّهُ،
وَ عُسْرَ مَنْ اَخَافُ عُسْرَهُ،
وَ حُزُوْنَةَ مَنْ اَخَافُ حُزُوْنَتَهُ،
وَ شَرَّ مَنْ [مَا] اَخَافُ شَرَّهُ،
وَ مَكْرَ مَنْ اَخَافُ مَكْرَهُ،
وَ بَغْيَ مَنْ اَخَافُ بَغْيَهُ،
وَ جَوْرَ مَنْ اَخَافُ جَوْرَهُ،
وَ سُلْطَانَ مَنْ اَخَافُ سُلْطَانَهُ،
وَ كَيْدَ مَنْ اَخَافُ كَيْدَهُ،
وَ مَقْدُرَةَ مَنْ اَخَافُ مَقْدُرَتَهُ عَلَيَّ،
وَ تَرُدَّ عَنِّيْ كَيْدَ الْكَيَدَةِ،
اَللّٰهُمَّ مَنْ اَرَادَنِيْ فَاَرِدْهُ،
وَ مَنْ كَادَنِيْ فَكِدْهُ،
وَ اصْرِفْ عَنِّيْ كَيْدَهُ وَ مَكْرَهُ
وَ بَأْسَهُ وَ اَمَانِيَّهُ،
وَ امْنَعْهُ عَنِّيْ كَيْفَ شِئْتَ وَ اَنَّى شِئْتَ.
اَللّٰهُمَّ اشْغَلْهُ عَنِّيْ
وَ بِبَلَاۤءٍ لَا تَسْتُرُهُ،
وَ بِفَاقَةٍ لَا تَسُدُّهَا،
وَ بِسُقْمٍ لَا تُعَافِيْهِ،
وَ بِمَسْكَنَةٍ لَا تَجْبُرُهَا.
اَللّٰهُمَّ اضْرِبْ بِالذُّلِّ نَصْبَ عَيْنَيْهِ،
وَ اَدْخِلْ عَلَيْهِ الْفَقْرَ فِيْ مَنْزِلِهِ،
وَ الْعِلَّةَ وَ السُّقْمَ فِيْ بَدَنِهِ،
حَتّٰى تَشْغَلَهُ عَنِّيْ بِشُغْلٍ شَاغِلٍ لَا فَرَاغَ لَهُ،
وَ اَنْسِهِ ذِكْرِيْ كَمَاۤ اَنْسَيْتَهُ ذِكْرَكَ،
وَ خُذْ عَنِّيْ بِسَمْعِهِ وَ بَصَرِهِ
وَ اَدْخِلْ عَلَيْهِ فِيْ جَمِيْعِ ذٰلِكَ السُّقْمَ،
وَ لَا تَشْفِهِ حَتّٰى تَجْعَلَ ذٰلِكَ لَهُ شُغْلًا شَاغِلًا بِهِ
وَ اكْفِنِيْ يَا كَافِيَ مَا لَا يَكْفِيْ سِوَاكَ،
فَاِنَّكَ الْكَافِيْ لَا كَافِيَ سِوَاكَ،
وَ مُفَرِّجٌ لَا مُفَرِّجَ سِوَاكَ،
وَ مُغِيْثٌ لَا مُغِيْثَ سِوَاكَ،
وَ جَارٌ لَا جَارَ سِوَاكَ،
خَابَ مَنْ كَانَ جَارُهُ سِوَاكَ،
وَ مَفْزَعُهُ اِلٰى سِوَاكَ،
وَ مَهْرَبُهُ اِلٰى سِوَاكَ،
وَ مَلْجَؤُهُ اِلٰى غَيْرِكَ،
وَ مَنْجَاهُ مِنْ مَخْلُوْقٍ غَيْرِكَ،
فَاَنْتَ ثِقَتِيْ وَ رَجَاۤئِي
وَ مَفْزَعِيْ وَ مَهْرَبِيْ
وَ مَلْجَئِيْ وَ مَنْجَايَ،
وَ بِمُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ
اَتَوَجَّهُ اِلَيْكَ، وَ اَتَوَسَّلُ وَ اَتَشَفَّعُ،
فَاَسْاَلُكَ يَاۤ اَللّٰهُ يَاۤ اَللّٰهُ يَاۤ اَللّٰهُ،
فَلَكَ الْحَمْدُ وَ لَكَ الشُّكْرُ،
وَ اِلَيْكَ الْمُشْتَكٰى وَ اَنْتَ الْمُسْتَعَانُ،
فَاَسْاَلُكَ يَاۤ اَللّٰهُ يَاۤ اَللّٰهُ يَاۤ اَللّٰهُ،
بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ،
اَنْ تُصَلِّيَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ،
وَّ اَنْ تَكْشِفَ عَنِّيْ غَمِّيْ وَ هَمِّيْ وَ كَرْبِيْ
كَمَا كَشَفْتَ عَنْ نَبِيِّكَ هَمَّهُ وَ غَمَّهُ وَ كَرْبَهُ،
وَ كَفَيْتَهُ هَوْلَ عَدُوِّهِ،
فَاكْشِفْ عَنِّيْ كَمَا كَشَفْتَ عَنْهُ،
وَ فَرِّجْ عَنِّيْ كَمَا فَرَّجْتَ عَنْهُ،
وَ اكْفِنِيْ كَمَا كَفَيْتَهُ،
وَ اصْرِفْ عَنِّيْ هَوْلَ مَاۤ اَخَافُ هَوْلَهُ،
وَ مَئُوْنَةَ مَاۤ اَخَافُ مَئُوْنَتَهُ،
وَ هَمَّ مَاۤ اَخَافُ هَمَّهُ،
بِلَا مَئُوْنَةٍ عَلٰى نَفْسِيْ مِنْ ذٰلِكَ،
وَ اصْرِفْنِيْ بِقَضَاۤءِ حَوَاۤئِجِيْ،
وَ كِفَايَةِ مَا اَهَمَّنِيْ هَمُّهُ
مِنْ اَمْرِ اٰخِرَتِيْ وَ دُنْيَايَ،
يَاۤ اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ،
وَ يَاۤ اَبَا عَبْدِ اللّٰهِ،
عَلَيْكُمَا مِنِّيْ سَلَامُ اللّٰهِ اَبَدًا،
مَّا بَقِيْتُ وَ بَقِيَ اللَّيْلُ وَ النَّهَارُ،
وَ لَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اٰخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِيَارَتِكُمَا،
وَ لَا فَرَّقَ اللّٰهُ بَيْنِيْ وَ بَيْنَكُمَا.
اَللّٰهُمَّ اَحْيِنِيْ حَيَاةَ مُحَمَّدٍ وَّ ذُرِّيَّتِهِ،
وَ اَمِتْنِيْ مَمَاتَهُمْ،
وَ تَوَفَّنِيْ عَلٰى مِلَّتِهِمْ،
وَ احْشُرْنِيْ فِيْ زُمْرَتِهِمْ،
وَ لَا تُفَرِّقْ بَيْنِيْ وَ بَيْنَهُمْ
فِيْ الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ،
يَاۤ اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ
وَ يَاۤ اَبَا عَبْدِ اللّٰهِ،
وَ مُتَوَسِّلًا اِلَى اللّٰهِ رَبِّيْ وَ رَبِّكُمَا،
وَ مُتَوَجِّهًا اِلَيْهِ بِكُمَا،
وَ مُسْتَشْفِعًا بِكُمَا اِلَى اللّٰهِ تَعَالٰى فِيْ حَاجَتِيْ هٰذِهِ،
فَاِنَّ لَكُمَا عِنْدَ اللّٰهِ الْمَقَامَ الْمَحْمُوْدَ،
وَ الْمَنْزِلَ الرَّفِيْعَ وَ الْوَسِيْلَةَ،
اِنِّيۤ اَنْقَلِبُ عَنْكُمَا،
مُنْتَظِرًا لِتَنَجُّزِ الْحَاجَةِ،
وَ قَضَاۤئِهَا وَ نَجَاحِهَا مِنَ اللّٰهِ،
بِشَفَاعَتِكُمَا لِيۤ اِلَى اللّٰهِ فِي ذٰلِكَ،
وَ لَا يَكُوْنُ مُنْقَلَبِيْ مُنْقَلَبًا خَاۤئِبًا خَاسِرًا،
بَلْ يَكُوْنُ مُنْقَلَبِيْ مُنْقَلَبًا رَاجِحًا
رَاجِيًا مُفْلِحًا مُنْجِحًا مُسْتَجَابًا،
بِقَضَاۤءِ جَمِيْعِ حَوَاۤئِجِيْ،
وَ تَشَفَّعَا لِيْ اِلَى اللّٰهِ.
انْقَلَبْتُ عَلٰى مَا شَاۤءَ اللّٰهُ،
وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ،
مُفَوِّضًا اَمْرِيْ اِلَى اللّٰهِ،
مُلْجِئًا ظَهْرِيْ اِلَى اللّٰهِ،
مُتَوَكِّلًا عَلَى اللّٰهِ،
وَ اَقُوْلُ حَسْبِيَ اللّٰهُ وَ كَفٰى
سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ دَعَا،
لَيْسَ لِي وَرَاۤءَ اللّٰهِ
وَ وَرَاۤءَكُمْ، يَا سَادَتِيْ مُنْتَهًى،
مَا شَاۤءَ رَبِّيْ كَانَ،
وَ مَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ،
وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ،
اَسْتَوْدِعُكُمَا اللّٰهَ،
وَ لَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اٰخِرَ الْعَهْدِ مِنِّيۤ اِلَيْكُمَا،
اِنْصَرَفْتُ يَا سَيِّدِيْ يَاۤ اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ مَوْلَايَ
وَ اَنْتَ يَاۤ اَبَا عَبْدِ اللّٰهِ يَا سَيِّدِيْ،
وَ سَلَامِيْ عَلَيْكُمَا مُتَّصِلٌ
مَا اتَّصَلَ اللَّيْلُ وَ النَّهَارُ،
وَاصِلٌ ذٰلِكَ اِلَيْكُمَا
غَيْرُ مَحْجُوْبٍ عَنْكُمَا سَلَامِيۤ
وَ اَسْاَلُهُ بِحَقِّكُمَا اَنْ يَّشَاۤءَ ذٰلِكَ وَ يَفْعَلَ،
فَاِنَّهُ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ،
اِنْقَلَبْتُ يَا سَيِّدَيَّ عَنْكُمَا،
تَاۤئِبًا حَامِدًا لِلّٰهِ،
شَاكِرًا رَاجِيًا لِلْاِجَابَةِ
غَيْرَ اٰيِسٍ وَ لَا قَانِطٍ،
اۤئِبًا عَاۤئِدًا رَاجِعًا اِلٰى زِيَارَتِكُمَا
غَيْرَ رَاغِبٍ عَنْكُمَا، وَ لَا مِنْ زِيَارَتِكُمَا،
بَلْ رَاجِعٌ عَاۤئِدٌ اِنْ شَاۤءَ اللّٰهُ،
وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ،
يَا سَادَتِيْ رَغِبْتُ اِلَيْكُمَا وَ اِلٰى زِيَارَتِكُمَا،
بَعْدَ اَنْ زَهِدَ فِيْكُمَا، وَ فِيْ زِيَارَتِكُمَا اَهْلُ الدُّنْيَا.
فَلَا خَيَّبَنِيَ اللّٰهُ مَا رَجَوْتُ، وَ مَاۤ اَمَّلْتُ فِيْ زِيَارَتِكُمَا.
اِنَّهُ قَرِيْبٌ مُجِيْبٌ۔